Gurya by Naina Gondal Novel20453
Gurya by Naina Gondal
Childhood trauma | Domestic Violence | Abusive relationships | Forced marriage |Marital Rape & Forced Pregnancy |
Sexual Abuse & Harrassment| Urdu Novel
” میں پہلے ہی پی بیٹھی ہوں۔ مردوں کو اللہ نے طلاق کا حق دیا ہے نا، تو وہ حق استعمال کریں۔
جانوروں کی طرح بیٹنے کا حق تو نہیں دیا۔ نا جانے یہ لوگ کب تک گھر یلو تشدد جیسے حساس معاملات کو اسلام کا نام لے کر اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے ۔ ” ماتھے پر بل ، چہرے پر ناگوار تاثرات، جتنی تیزی سے ہاتھ ہلا رہی تھی، اس سے دوگنی رفتار سے زبان۔ وہ بھری بیٹھی تھی۔ اسے ایسے موضوعات پر چھیڑنے کی دیر ہوتی تھی، وہ پھر شروع ہو جاتی تھی۔ یہ حقوق نسواں کی ایک تنظیم تھی۔ اس وقت کمرے میں چار خواتین موجود تھیں۔ باقی سن ہی رہی تھیں کیوں کہ جب وہ بولنا شروع ہوتی تھی تو دل کی بھڑاس نکالے بغیر رکتی نہیں تھی۔ عبایا اور حجاب کرسی کی پشت پر رکھا تھا، اور کالے گھنگریالے بال کھلے ہوئے تھے۔ بھوری مائل سانولی رنگت، وہی جسے عام پاکستانی زبان میں کالی رنگت کہا جاتا ہے اور کالی آنکھیں، جنہیں دھوپ میں بھوری دکھتی ہیں، کہا جاتا ہے۔ اس کا چہرا ایک مانوس سا عکس تھا، جیسے آپ کے گرد موجود سب سے کالی رنگت والی پاکستانی عورت۔
میرا خون ابل رہا ہے۔ مجھے ایسے لوگوں سے شدید قسم کی چڑ ہے۔ میں تو یہ سوچتی ہوں کسی ایسے اوچھی اور گری ہوئی سوچ کے مالک انسان سے شادی ہو جائے تو میں تو نہیں برداشت کروں گی۔ میرے ساتھ رہنا ہے تو انسان کا بچہ بن کے رہے گا ورنہ اللہ کاش ہے گا ورنہ اللہ کا شکر ہے، اللہ نے طلاق کسی وجہ سے ہی حلال کی ہے۔ نا پسندیدہ عمل ہے ، مگر کوئی تو عمل اس قدر نا پسندیدہ ہو گا نا کہ طلاق کو حرام
نہیں، حلال قرار دیا گیا۔ چار شادیوں کے نام پر چار جگہ منہ مار رہے ہوتے ہیں، ہر گری سے گری ہوئی حرکت کرتے ہوئے یاد نہیں آتا کہ اللہ کے نزدیک دھوکہ ، تشدد، زنا، یہ سب بھی ناپسندیدہ ہے لیکن طلاق کی باری یاد آجائے گا۔ ” سر جھٹک کر فون تھاما۔ انٹر نیٹ پر لوگوں کی عجیب قسم کی سوچ پڑھ کر اپنا دن خراب کرنے کی اسے عادت تھی۔ معلوم تھا تشدد کی کسی بھی وضاحت کو سمہ نہیں سکتی، لیکن پھر بھی انٹر نیٹ بند نہیں کرے گی۔ سوشل میڈیا اس کی ذہنی صحت پر جتنا بھی منفی اثر ڈالتا، چھوڑنا نہیں تھا۔
” سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اور یہ کیا بات ہوئی کہ ۔۔۔”
” تمہیں دیر ہو رہی ہے۔ ” ابھی وہ مزید بولتی کہ دانین نے اسے ٹوکا۔ اسے معلوم تھا یہ آسانی سے چپ نہیں کرے گی۔ ایک جملہ کی بات کو دس میں کرنا کوئی اس سے سیکھے۔ اس نے فون پر وقت دیکھا۔ شام کے سات بج رہے تھے۔ واقعی، اسے چلنا چاہیے۔ اس نے مڑ کر اپنا عبایا پہننا شروع کیا اور بال باندھ کر حجاب لیا۔ ان سب سے مل کر وہ وہاں سے نکلی۔ گاڑی چلاتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی پہلے بابا سے ملنے جائے یا گھر ۔ ان سے ملنا تو تھا ہی، لیکن گھر جاتی تو ان کے لیے کچھ بنوا کر لے جاتی لیکن تب تک دیر ہو جاتی۔ وہ انتظار کر رہے ہوں گے۔ انہیں وہ پچھلی ملاقات میں کہہ کر آئی تھی کہ جمعرات کو شام سات تک ملنے آئے گی۔ بالآخر اس نے گاڑی جیل پہنچ کر رو کی۔ پہلے بابا سے ملنے کا فیصلہ ہوا۔
