- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Noo e Man By Sumyia Baloch
Tawaif Base | Rude Hero | Romantic Hero
“کتنا چاہا تھا۔میں نے تمہیں۔یہاں تک کہ میں آپنے آپ تک کو بھولا بیٹھا تھا۔مجھے اگر کسی چیز کا ہوش تھا۔تو وہ صرف تم سے عشق کرنا۔تمہیں بے انتہا دیوانوں کی طرح چاہنا۔اور تم نے بدلے میں مجھے کیا دیا۔بے تحاشا نفرت۔”
سختی سے اُس کے جبڑے سے پکڑے شعلہ اگلتی نگاہیں اُس کے چہرے پر گاڑے غم و غصّے سے بولا تھا۔دلکش نے آج اُسے پہلی بار اتنے غصے میں دیکھا تو وہ ڈر کے مارے بری طرح سے کانپنے لگی تھی۔
“اب تمہیں میری ایک ایک اذیت کا حساب دینا ہوگا۔کل رات جو تمہاری وجہ سے میں اُس غلیظ سلاکوں کے پیچھے گزار کر آیا ہو ناں۔وہ میں کبھی بھول نہیں سکوں گا۔”
غصے سے سرخ انگارا ہوتی آنکھیں اُس کے خوف اور پسینے سے شرابور چہرے پر گاڑے نفرت انگیز لہجے میں بولا۔تو اُسکے نفرت سے کہنے پر دلکش کی آنکھیں دہشت کے مارے پھیلنے لگیں۔
“میں جو پہلے سے اتنا بکھرا ہوا تھا۔ تم نے میرے حصے میں یہ رسوائیاں دے کر مجھے ٹوڑ کر رکھ دیا۔
کیوں کیا تم نے ایسا ہاں کیوں۔کس بات کا بدلا لیا ہے۔ تم نے مجھ سے دلکش بی بی.؟؟
ازیت اور غصے کی وجہ سے سرخ ہوتی نگاہیں وہ اُس کی جانب اٹھاتے ہوئے بولا تھا۔دلکش جو ساکت نظریں لیے اُسے دیکھ رہی تھی،تکلیف کے مارے رونے لگی۔
“کوئی فائدہ نہیں مس دلکش اب اِن آنسوؤں کا۔کیونکہ اب مجھے اِن آنسوؤں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔یہ دل اب تمہارے لیے صرف سنگدل بن چکا ہے۔اِس دل میں اب صرف تمہارے لیے نفرت ہے۔بے تحاشا نفرت۔اب تم پچھتاؤ گی۔بہت زیادہ۔کہ کیونکر تم نے مجھے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔”
بے دردی سے اُسکے چہرے کو دبوچ کر وہ نفرت سے بول رہا تھا۔کہ اچانک سے دلکش نے اپنے دانت اسکے ہاتھ پر گاڑ دیے۔
“محبت تم سے مائے فٹ۔میں اور تم سے محبت۔ارے میں تو تمہیں اپنے نفرت کے بھی قابل نہ سمجھوں۔اور کیا کہہ رہے تھے تم۔کہ میں پچھتاؤ گی۔پچھتاؤ گے تو اب تم جنگلی انسان۔جب تم خود کو ٹی وی کی سرخیوں میں دیکھو گے۔”
اپنا کچھ لمحے پہلے والا سارا خوف بھلائے وہ نفرت سے بولی۔کہ شازم اُسکی بات پر خود کو انگاروں پر جلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔
“بہت شوق ہے ناں۔تمہیں مجھے خبروں کی سرخیوں میں دیکھنے کا۔تو ٹھیک ہے۔۔ابھی اِسی وقت ساری ٹی وی چینلز کی سرخیوں میں ہماری خبریں چلے گی۔”
اُسے اپنی جانب کھینچ کر شدید غصے سے خود سے لگا کر وہ خطرناک حد تک سرد لہجے میں بولا تھا۔کہ دلکش اُسکے سخت گرفت اور اُسکی قربت سے بلبلا کر رہ گئیں تھی۔