Second Marriage Based
Mohabbat Jaag Jaati Hai By Shaheen Sajjad Novel 20917
کبھی کبھی محبت کا سب سے بڑا دکھ انکار نہیں ہوتا...
بلکہ اس شخص کے الفاظ ہوتے ہیں جس کے لیے دل دھڑکتا ہو۔
..."اس نے صرف رشتہ نہیں ٹھکرایا تھا... اس نے ایک دھڑکتے ہوئے دل کو سب کے سامنے توڑ دیا تھا۔"
وہ چاہتا تو خاموشی سے انکار کر سکتا تھا...
مگر اس نے اس کی شخصیت، اس کی عادتوں اور اس کے وجود تک کو مذاق بنا دیا۔
وہ مسکراتی ہوئی لڑکی پہلی بار اپنے ہی کمرے میں ٹوٹ کر بکھر گئی...
اور اسی لمحے ایک محبت خاموشی سے دفن ہو گئی۔۔
Dil Ki Girah By Fatima Malik Novel20898
"تم آج تک شائستہ کو سگی بیوی کا درجہ نہیں دے سکے۔ بیوی صرف نام کی نہیں، احساس اور حق کی بھی ہوتی ہے۔ کمرہ اور بستر شیئر کرنے سے نہ روحیں قریب آتی ہیں، نہ دل۔ شائستہ نے سب کو محبت دی مگر کبھی سگی بیوی یا سگی ماں کا مقام نہ پا سکی، پھر بھی اس نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔
Dair Andher Novel by Asia Razzaqi Novel20867
عمر بھر شوخ، شرارتی اور بے فکر رہنے والی ہیروئن نے اپنا بچپن ہنسی مذاق اور اپنے کزنز کے ساتھ خوشیوں میں گزارا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن اس کی زندگی ایسا رخ اختیار کرے گی جہاں ہر مسکراہٹ چھن جائے گی۔
اس کی پھپھو، جو ہمیشہ سے اسے ناپسند کرتی تھی، اولاد نہ ہونے پر اپنی ازدواجی زندگی بچانے کے لیے اسے اپنے ہی شوہر کی دوسری بیوی بنا کر گھر لے آئی۔ مگر یہ قربانی دینے کے باوجود وہ کبھی اسے اپنی سوتن سے بڑھ کر نہ دیکھ سکی۔
شادی کے بعد ہیروئن کی زندگی ظلم اور اذیت کا دوسرا نام بن گئی۔ جب حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو اس کا کزن اسے اس جہنم سے نکالنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا، اور یہی فیصلہ محبت، قربانی اور خاندانی رنجشوں سے بھرے ایک نئے سفر کی ابتدا بن گیا۔
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Adal Aur Jaza Complete by Nayab Jeelani Novel20847
عدل بچپن کے ایک بھولے بسرے نکاح کو محض ماضی کی بات سمجھ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا، مگر جزا آج بھی اسی رشتے کو اپنی قسمت مان کر ہر ظلم سہہ رہی تھی۔ نانی کے انتقال کے بعد مامی کے مظالم اس کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں اور آخرکار وہ ایک رات سب کچھ چھوڑ کر عدل کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ وہ گھر جہاں عدل اب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ نئی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی چھت تلے ماضی، حال، محبت، فرض اور انصاف آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی لمحہ اس کہانی کو ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ کسی نہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔
Husna Aur Husn Ara by Umera Ahmed Novel20834
پینتیس سال تک دلشاد نے اپنے شوہر صوفی صاحب کے ساتھ محبت، وفاداری اور اعتماد کا ایسا رشتہ نبھایا جس پر اسے کبھی شک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا، جب صوفی صاحب نمازِ عشاء سے واپس آئے تو ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی تھی، اور چند لمحوں بعد انہوں نے خاموش لہجے میں اعلان کر دیا کہ وہ ان کی دوسری بیوی حسن آراء ہے۔ یہ خبر دلشاد کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ برسوں کی رفاقت، اعتماد اور محبت ایک ہی لمحے میں بکھر کر رہ گئی۔ دوسری طرف حسن آراء بھی اس اجنبی گھر میں قدم رکھتے ہی خود کو ایسے ماحول میں پاتی ہے جہاں ہر نگاہ اس سے سوال کرتی ہے۔ ایک طرف پہلی بیوی کا ٹوٹا ہوا دل، دوسری طرف نئی دلہن کی خاموش بے بسی اور درمیان میں صوفی صاحب کا ایسا فیصلہ جو پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ محبت، قربانی، حسد، صبر، رشتوں کی نزاکت اور عورت کے دل کی خاموش چیخوں سے بھرپور یہ ناول قاری کو ابتدا ہی سے اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور ہر صفحہ ایک نئے جذباتی امتحان کی طرف لے جاتا ہے۔
Rait Ki Deewar by Misbah Khalid Novel20826
ریت کی دیوار ایک ایسی دردناک کہانی ہے جہاں حسد اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ایک معصوم لڑکی برسوں ظلم سہتی رہتی ہے۔ جب آخرکار سچ سامنے آتا ہے تو نیاز کو احساس ہوتا ہے کہ جس پر وہ بھروسہ کرتا رہا، اصل قصوروار وہی تھی۔ ایک ہی لمحے میں رشتوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں، فیصلے بدل جاتے ہیں اور ہر کردار اپنے اعمال کے انجام سے روبرو ہوتا ہے۔