Second Marriage Based
Hamain Mar Gai Teri Berukhi By Hamda Novel21009
محبت میں ملنے والی بے وفائی اور دل توڑ دینے والا صدمہ، اولاد کی خواہش میں رشتوں کی قربانی، ایک عورت کی عزت اور خودداری کی جنگ، شوہر کی دوسری شادی اور سسرال کے دباؤ کی تلخ حقیقت، تنہائی میں ماں بننے والی سونیا کی درد بھری زندگی، محبت کے نام پر کیے گئے وعدوں کا ٹوٹ جانا، جدائی کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد، اور ایسے فیصلے جو رشتوں کی پوری دنیا بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
Yeh Eid Kitni Saeed Hai by Sehrish Bano Novel20961
"مجھ سے شادی کا اتنا ہی شوق تھا تو خود مجھ سے کہتی، سنی کو استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی۔"
"سنی کو میں نے نہیں، آپ نے استعمال کیا مجھ سے شادی کرنے کے لیے۔"
"مجھ میں ایسی کوئی کمی نہیں جو مجھے شادی کرنے کے لیے کسی کا سہارا لینا پڑے۔"
"سنی اپنی ماما سے کہو اب انہیں مزید جاب کرنے کی ضرورت نہیں۔"
"سنی اپنے پاپا سے کہو میں پہلے بھی یہ جاب کرتی تھی، اب بھی کروں گی۔"
"پہلے کی بات اور تھی، اب وہ کوئی الہڑ دوشیزہ نہیں، شادی شدہ خاتون ہے۔"
"سنی اپنی ماما سے کہو مجھے بحث پسند نہیں، اینڈ دیٹس اٹ۔"
"وہ اسے حکم دینا چاہتا تھا، مگر وہ بھی اس کے حکم ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔"
Khamosh Pukaar By Bint e Ahmed Shaikh Novel20951
کہانی میں شافع اور فاطمہ کی ملاقات ایک جذباتی اور طنزیہ مکالمے کے ذریعے دکھائی گئی ہے، جہاں فاطمہ شافع کی حرام کمائی اور ماضی کے رویے پر کھل کر تنقید کرتی ہے، جبکہ شافع ہر تلخ بات کو محبت اور نرمی سے برداشت کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان موجود فاصلے، ناراضگیاں اور غلط فہمیاں ہر گفتگو میں نمایاں ہوتی ہیں، مگر اس کے باوجود شافع اپنی بیوی اور اس کے ہاتھ کے کھانے سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ فاطمہ اپنی عزتِ نفس پر قائم رہتی ہے، جبکہ شافع اسے اپنی زندگی، اپنی عزت اور اپنی اولاد کی ماں قرار دے کر اس کے مقام کو بلند کرتا ہے۔ یہ اقتباس محبت، ندامت، معافی، اسلامی اقدار اور ازدواجی تعلق میں دوبارہ اعتماد پیدا ہونے کی خوبصورت جھلک پیش کرتا ہے۔
Tu Sukoon Mera By Fatima Atta Ul Mustafa Novel20950
کہانی کا آغاز مینال اور احمر کے درمیان ایک جذباتی اور تناؤ سے بھرپور گفتگو سے ہوتا ہے، جہاں احمر اپنے ہونے والے رشتے کا حق جتاتا ہے جبکہ مینال اس سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ مینال اندر ہی اندر خود کو منحوس سمجھتی ہے اور اسی احساسِ جرم کی وجہ سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتی۔ دوسری طرف میرال دونوں کے تعلق کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچتی رہتی ہے، جبکہ احمر بھی اپنے رویے پر کشمکش کا شکار ہے۔ اس کا دل مینال کو تکلیف نہ دینے کا کہتا ہے مگر ماضی کے زخم اور غلط فہمیاں اسے سخت رویہ اپنانے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے کہانی میں جذبات، محبت اور اندرونی جدوجہد نمایاں ہو جاتی ہے۔
Shiddat E Tishnagi Ishqam By Umme Aasma Saeed Novel20948
"آپ نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ہے... میرے کردار پر۔"
"بات اتنی پُراعتماد لہجے میں کہی تھی کہ یشلہ شاہ کو اس کی آنکھوں میں کچھ محسوس ہوا تھا۔"
"میں اپنی غلطی کو ٹھیک کر دوں گی... لیکن میرا نام یشلہ شاہ ہے، میں شاہ جی نہیں ہوں۔"
"آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں۔ دو منٹ میں اپنا حلیہ ٹھیک کریں، اور باقی تین منٹ میں نیوز آ جانی چاہیے۔"
"وہ جو کسی ٹھہرے ہوئے سمندر کی طرح خاموش طبعیت کا مالک تھا، آج اس کے اندر غصے کا طوفان اٹھا ہوا تھا۔"
Mahtab E Siyah By Kinza Maqbool Novel20942
"تمہیں یاد آگیا تم کون ہو؟" ایک شکوہ تھا جو نا چاہتے ہوئے بھی وہ کر گیا۔
"مجھے تو یاد تھا ہمیشہ سے ہی ہے بھی اور رہے گا، مگر صرف تمہارا انتظار تھا کہ تم کب اس حقیقت کو تسلیم کرو گی۔"
"میں ڈرتی ہوں نئی شروعات سے، اس رشتے سے۔"
"میں تھک گئی ہوں ان وحشتوں میں رہتے رہتے، میں تھک گئی ہوں بھاگتے بھاگتے۔"
"میں رکنا چاہتی ہوں، اپنی زندگی کو جینا چاہتی ہوں… آپ کے ساتھ۔"
"مجھے تمہاری ضرورت ہے ہانیہ۔"
Man E Azizam By Parishy Baig Novel20940
"چھوڑیں مجھے، بہت برے ہیں آپ۔۔۔ بہت بہت برے!"
"اگر میں نے چھوڑ دیا تو پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گا۔"
"جب میں یہاں موجود تھا تو تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں کچھ ہونے دیتا؟"
"آپ تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ میں مر جاؤں۔"
"آپ برے ہیں، میں آج سچ میں مر جاتی۔"
"میں ان لبوں پر صرف ہمارے بارے میں سننے اور کہنے کا خواہشمند ہوں۔"
Mohabbat Jaag Jaati Hai By Shaheen Sajjad Novel 20917
کبھی کبھی محبت کا سب سے بڑا دکھ انکار نہیں ہوتا...
بلکہ اس شخص کے الفاظ ہوتے ہیں جس کے لیے دل دھڑکتا ہو۔
..."اس نے صرف رشتہ نہیں ٹھکرایا تھا... اس نے ایک دھڑکتے ہوئے دل کو سب کے سامنے توڑ دیا تھا۔"
وہ چاہتا تو خاموشی سے انکار کر سکتا تھا...
مگر اس نے اس کی شخصیت، اس کی عادتوں اور اس کے وجود تک کو مذاق بنا دیا۔
وہ مسکراتی ہوئی لڑکی پہلی بار اپنے ہی کمرے میں ٹوٹ کر بکھر گئی...
اور اسی لمحے ایک محبت خاموشی سے دفن ہو گئی۔۔
Dil Ki Girah By Fatima Malik Novel20898
"تم آج تک شائستہ کو سگی بیوی کا درجہ نہیں دے سکے۔ بیوی صرف نام کی نہیں، احساس اور حق کی بھی ہوتی ہے۔ کمرہ اور بستر شیئر کرنے سے نہ روحیں قریب آتی ہیں، نہ دل۔ شائستہ نے سب کو محبت دی مگر کبھی سگی بیوی یا سگی ماں کا مقام نہ پا سکی، پھر بھی اس نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔