Possessive Hero
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
ایک ماں کی زندگی بچانے کی خاطر میرب نے حسام وجدان کی وہ شرط قبول کر لی تھی جس نے اس کی اپنی زندگی کا رخ بدل دیا۔ حسام کے لیے یہ شادی شاید ایک معاہدہ تھی، مگر وقت نے اس سفاک اور مغرور شخص کو اسی رشتے کے سامنے بےبس لا کھڑا کیا۔ ہسپتال کی سرد راہداری میں آج نہ اس کی دولت کام آ رہی تھی، نہ طاقت اور نہ ہی اس کا غرور۔ ایک طرف میرب کی زندگی خطرے میں تھی اور دوسری جانب تین ننھی جانوں کی سانسیں۔ جس شخص نے کبھی میرب کی مجبوری کی پروا نہیں کی تھی، آج وہی اس کی ایک سانس کے لیے دعا مانگ رہا تھا۔ مگر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کے پیچھے تقدیر نے ان سب کے لیے کیا فیصلہ کر رکھا تھا؟
Ehsaas E Dillbaram By Wahiba Ashqam Novel21020
تیز بارش میں یونیورسٹی کے باہر تنہا کھڑی حورب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے سخت مزاج پروفیسر سے لی گئی ایک معمولی سی لفٹ اس کی پوری زندگی بدل دے گی۔ ایک غلط فہمی، ایک غیر متوقع نکاح اور پھر حنان کا ایسا فیصلہ جس نے حورب کے لیے واپسی کے تمام راستے مشکل بنا دیے۔ مگر وہ ابھی اس حقیقت سے لاعلم تھی کہ جس شخص کو وہ محض اپنا کھڑوس پروفیسر سمجھ رہی ہے، اس کے رویے کے پیچھے ایک ایسی وجہ پوشیدہ ہے جس کا تعلق شاید آج سے نہیں تھا۔
Junoon E Janam By Habiba Writes Novel21017
ازکی نے صرف دوستوں کے کہنے پر حمدان سہگل کو چھیڑنے کے لیے بیوی کی فکر نہ ہونے کا شکوہ کیا تھا، مگر اسے کیا خبر تھی کہ ایس پی حمدان اس بات کو دل پر لے بیٹھے گا۔ رات کے اندھیرے میں اچانک اپنے کمرے میں حمدان کو دیکھ کر ازکی کے اوسان خطا ہو گئے، جبکہ وہ اپنی بیوی کو منانے کے لیے اتنی دور آنے پر بھی بالکل شرمندہ نہیں تھا۔ ازکی نے اسے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی تو حمدان نے الٹا اس کے چاروں بھائیوں کو بلا کر لانے کا چیلنج دے دیا۔ اب ایک طرف ازکی کے غصے کی انتہا تھی اور دوسری طرف حمدان کی بےفکری، جس نے اس مذاق کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
Junon E Raqasam By Anushy Ahmed Novel21005
پانچ سال کی جدائی کے بعد دوبارہ ملنے والے دو ایسے دل، جن کے درمیان محبت بھی ہے اور دشمنی بھی۔
خاندانوں کی دشمنی، بدلے کی آگ اور ایک ایسا رشتہ جو نفرت کے باوجود دل سے ختم نہیں ہو پاتا۔
کیا حداد کی نفرت کے پیچھے چھپی محبت عترت کو کبھی نظر آ سکے گی؟
Taqaza E Ishq By Aiman Ansari Novel20999
"موت دہلیز پر کھڑی تھی اور محبت دستک دے گئی تھی۔"
"عزوہ! خدا کے لیے ہوش میں رہو۔"
"غلط وقت پر، غلط انسان سے محبت کا ادراک ہوا تھا۔"
"جان سے زیادہ اس خیال نے اُس کی سانسوں پر دباؤ ڈالا تھا۔"
"محبت امرت بن کر نہیں برسی تھی، اس کے بوندوں نے تو روح پر آگاہی دی تھی۔"
"عزوہ، ہوش مت کھونا!"
Inteqam E Mohabbat By Zarish Noor Novel20994
یہ کہانی محبت، رشتوں اور جذبات کی ایسی الجھی ہوئی داستان ہے جہاں زہرہ کے لیے حازم خان کا گھر ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ حازم کا اپنی بیوی کے لیے کھل کر حق جتانا، گھر والوں کی مخالفت اور دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کہانی کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ کیا زہرہ اس نئے رشتے کو دل سے قبول کر پائے گی یا خاندان کی سازشیں ان کے درمیان فاصلے پیدا کر دیں گی؟
Sard E Mohabbat By Umaima Mukaram Novel20990
مجھے آپ کی بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں ضرور نوکری کروں گی!" نین تارا نے دوٹوک لہجے میں کہا تو دلاور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ "اگر بیوی کا غیر محرم سے بات کرنا اتنا برا لگتا ہے نا، تو میرے پاس تو آپشن نہیں تھا دلاور۔۔۔ پر آپ کے پاس تو آپشن ہے نا، طلاق کا۔۔۔ طلاق دے دیں مجھے!" اس کی بات پر دلاور کے غصے کی شدت بڑھ گئی، مگر حقیقت سامنے آنے کے بعد اس کے اپنے رویے پر شرمندگی حاوی ہونے لگی۔ بیک یارڈ میں گھٹنوں میں سر دیے روتی ہوئی نین تارا کو دیکھ کر اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے اپنی ہی بیوی کو کتنی تکلیف دی تھی۔ "غلطی اس نے کی تھی تو معافی مانگنا تو ضروری تھی!" وہ خود سے کہتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، مگر نین تارا نے اس کی موجودگی محسوس کرنے کے باوجود سر نہ اٹھایا۔
Junoon E Ghairat By PC Novel20980
"اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔"
"میں آپ کے سارے کام کر دوں گی، بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔"
"چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔"
"مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں۔"
"وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی… اور اس کی عزت کی حفاظت اب ارقم کی غیرت بن چکی تھی۔"
"میرم کو یقین تھا کہ وہ خرید لی گئی ہے، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ارقم اسے خریدنے نہیں، بچانے آیا تھا۔۔