Farjam e Shireen Urdu novel cover
161.4kViews
#1633Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan

By Novelistan

Rate this novel

دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟

Sneak

"جس آدمی نے دو سال کی منگنی توڑ کر مجھے سرِعام ٹھکرا دیا... اب اُسی کے بھائی سے شادی کر لوں؟"۔ عرشیہ نفرت سے بولی۔۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔۔ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھے اس کے باپ، شفیق احمد نے انتہائی بےبسی اور کرب سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔۔ عرشیہ ان کی بےحد لاڈلی بیٹی تھی، جسے شفیق احمد خواب میں بھی تکلیف دینے کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ "عرشیہ میری بچی... ہوش کے ناخن لو، جذبات میں آکر اپنی زندگی برباد مت کرو"۔ شفیق صاحب التجا بھرے لہجے میں بولے۔۔ "ابھی تو ہوش میں آئی ہوں، ڈیڈ! میں کوئی کھلونا نہیں ہوں کہ ایک بھائی کا دل بھر گیا تو دوسرے کو دے دیا جائے۔ میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں، کٹھ پتلی نہیں! میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آپ اکیلے نہیں کر سکتے"۔ وہ غصے سے لال بھبھوکا ہوتی چیخی۔۔ قریب ہی صوفے پر بیٹھی دادی نے نخوت سے عرشیہ کے تیور ملاحظہ کیے۔۔ وہ باپ بیٹی کے معاملے میں دخل نہیں دینا چاہتی تھیں، ورنہ اپنے بیٹے سے سخت نالاں تھیں کہ اس نے بیٹی کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔۔۔ "عرشیہ، وہ زاویار۔۔۔"۔ شفیق احمد ابھی اتنا ہی بولے تھے کہ عرشیہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور ان کی بات کاٹ گئی۔۔۔ "زاویار! زاویار، تنگ آچکی ہوں میں اس شخص سے ، شدید نفرت کرتی ہوں، شدید نفرت!"۔ وہ غصے سے کانپتی ہوئی بولی۔۔ وہ پہلے ہی زاویار سکندر سے کھار کھاتی تھی، کیونکہ یہی شخص احمر سے اس کی منگنی کے سخت مخالف تھا۔۔ مگر حقیقت اس کے وہم و گمان کے بھی پرے تھی۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا منگیتر احمر ایک شرابی انسان تھا۔ اور عریشہ کو احمر سے بچانے والا اسکا اپنا بھائی زاویار سکندر تھا۔ مگر احمر اتنی آسانی سے یہ بات ہضم نہیں کرے گا اسلئے زاویار نے عریشہ کیلئے رشتہ بھیجا تھا مگر وہ تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی۔۔۔ "زاویار بہت اچھا بچہ ہے، عرشیہ۔ احمر سے کہیں بڑھ کر وجیہہ، نیک اور صالح انسان ہے۔ اس نے خود آگے بڑھ کر"۔ دادی جان نے بالآخر مداخلت کی۔عرشیہ کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔ دل چاہا عرشیہ زاویار سکندر کا قتل کر دے، جو کسی ناگہانی آفت کی طرح اس کی زندگی میں نازل ہوگیا تھا۔۔۔ "خود آگے بڑھ کر مجھ پر احسان کیا ہے نا؟کیا میری کوئی عزتِ نفس نہیں ہے، بابا؟ انہوں نے میری زندگی کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے"۔  عرشیہ نے دادی کی بات کاٹتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہا۔۔ وہ بولتے بولتے خاموش ہوئی تو دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔۔۔ وہ احمر سے بےحد جڑ چکی تھی۔ دن رات اس کے ساتھ سنہرے مستقبل کے خواب دیکھے تھے، اور پھر احمر نے یوں منگنی توڑ کر نہ صرف اس کا دل توڑا تھا بلکہ اس کی عزت نفس بھی مجروح کردی تھی۔۔۔ شفیق صاحب کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔ وہ کیسے بتاتے کہ جس احمر کے لیے عرشیہ آنسو بہا رہی تھی، وہ ایک شرابی اور گھٹیا انسان تھا۔۔۔ جو شادی کے بعد اس کی زندگی جہنم بنا دیتا۔ وہ تو زاویار سکندر کا احسان مان رہے تھے جس نے نہ صرف اپنے بھائی کی حقیقت ان پر کھولی۔۔۔ بلکہ عرشیہ سے نکاح کی خواہش کا برملا اظہار کیا تھا۔۔۔ "بیٹا، تم نہیں جانتی... تم حقائق سے ناواقف ہو۔ وہ دو سالہ منگنی تمہارے لیے ایک سراب تھا۔ جو ہوا، تمہاری بہتری کے لیے ہوا"۔ شفیق صاحب نے اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا، مگر عرشیہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔۔ اس کے بابا اس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ اس کی آواز رندھ گئی۔۔۔ "کون سی بہتری، بابا؟ وہ دو سال تک مجھے بیوقوف بناتا رہا! اور اس کا بھائی بھی اسی جیسا ہے ڈیڈ مطلبی، خودغرض! دونوں بھائی ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں"۔  عرشیہ نے نفرت سے کہا۔۔ "آج پورا شہر مجھ پر ہنس رہا ہے کہ میری شادی ٹوٹ گئی، اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں اس گھر میں دلہن بن کر جاؤں جہاں میری تذلیل ہوئی تھی؟ زاویار سکندر کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟ اپنی بڑائی؟  مجھے اس کی جھوٹی ہمدردی نہیں چاہیے"۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔۔ "یہ ہمدردی نہیں ہے عرشیہ ، میں تمہارا باپ ہوں، تمہارا برا کبھی نہیں چاہوں گا۔ تم کل رات تک اپنے دماغ سے یہ خناس نکال دو، کیونکہ زاویار کا رشتہ میں قبول کر چکا ہوں"۔ شفیق احمد اٹل لہجے میں بولے، اگر وہ اس کے ساتھ نرمی برتیں گے تو وہ ایسے ہی واویلا مچاتی رہتی۔۔۔ یہ سننا تھا کہ عرشیہ کے قدموں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ اس نے بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھا جو فیصلہ سنا کر رخ پھیر چکے تھے۔۔۔ "میں مر جاؤں گی بابا، لیکن اس زاویار سکندر کی بیوی ہرگز نہیں بنوں گی۔ میرا بھی یہ آخری فیصلہ ہے"۔ وہ درشتی سے کہتی ہوئی دھپ دھپ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔۔ شفیق صاحب وہیں کھڑے رہ گئے۔۔ 
@@@@@@@
شام ہر سو اتر آئی تھی۔۔۔ سیاہ لباس میں ملبوس زاویار سکندر گلاس وال کے پاس کھڑا آسمان تک رہا تھا۔۔ وہ شہر کا مشہور و معروف بزنس مین تھا۔۔ تبھی دروازے پر دستک دئیے بنا سائقہ اندر داخل ہوئی۔۔۔ "کیا میں سمجھوں زاویار سکندر کو دل کا مرض لاحق ہوگیا ہے؟ جو چاند میں کسی کا چہرہ تلاش کیا جا رہا ہے؟"۔ سائقہ نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔ زاویار نے پلٹ کر اسے دیکھا، لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔ "تمہیں دستک دے کر کمرے میں آنا چاہیے تھا، ڈیئر کزن"۔ وہ مخصوص سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ اتنا فرینک نہیں ہوتا تھا، مگر سائقہ اس کی پھوپھو کی بیٹی تھی، اسی لیے اسے کچھ رعایت دے دیتا تھا۔۔ کیونکہ وہ سائقہ کو اپنی بہن کی طرح سمجھتا تھا۔ سکندر صاحب کے صرف دو بچے تھے، بڑا زاویار اور اس کے بعد احمر۔۔۔ "اگر میں دستک دے کر آتی تو زاویار سکندر کو یوں چاند کو گھورتے ہوئے آہیں بھرتے کیسے دیکھتی؟"۔ وہ معنی خیز انداز میں بولی۔ زاویار نے آنکھیں سکیڑ کر اسے گھورا، مگر نگاہوں میں اسی حسینہ کا سراپا گھوم گیا۔۔۔ وہ لڑکی زاویار سکندر کی رگ رگ میں لہو بن کر دوڑنے لگی تھی۔۔ "ویسے آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آپ کی پسندیدہ عورت نے صاف انکار آپ کے منہ پر دے مارا ہے، زاویار"۔ سائقہ نے آبرو اچکا کر سرد لہجے میں کہا تو زاویار چونک کر پلٹا۔۔۔ "واٹ ربش!"۔ وہ جبڑے بھینچ کر ضبط سے بولا۔۔ کوئی کیسے زاویار سکندر جیسے شخص کو انکار کر سکتا تھا؟ خوبرو، وجیہہ، بےتحاشا دولت اور اتنا بڑا بزنس۔۔ سائقہ نے دل ہی دل میں سوچا۔۔ "زاویار، اس کے ڈیڈ کی کال آئی تھی ماموں جان کے پاس۔ احمر کی غلطی کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑے گا۔ ایک تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آخر احمر نے منگنی کیوں توڑ دی!"۔ سائقہ جھنجھلا کر بولی۔۔ حالانکہ احمر اس سے محبت کا دعویدار تھا۔احمر بری صحبت کا شکار تھا، انہی کے بہکاوے میں آکر اس نے عرشیہ کو کال کرکے منگنی توڑ دی۔ نشہ اترا تو وہ عرشیہ کو حاصل کرنے کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔۔ "تم اپنے ننھے دماغ پر زیادہ زور مت ڈالو، جسٹ ریلیکس۔ میرے نکاح کے چھوارے کھانے کی تیاری کرو، بس"۔زاویار نے انتہائی سنجیدگی سے انکشاف کیا۔۔ "مطلب؟"۔ سائقہ ناسمجھی سے اسے تکتی رہ گئی۔۔۔ "زاویار سکندر مطلب نہیں سمجھاتا، عمل کرکے دکھاتا ہے۔ گاٹ اٹ"۔ وہ کہہ کر گاڑی کی چابی اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ "کاش زاویار سے میری شادی ہوجاتی۔۔۔ کتنا کول لگتا ہے یہ بندہ"۔ سائقہ نے اداسی سے زیرِ لب کہا۔
@@@@@@
رات کا پچھلا پہر تھا اور شہر کی ویران سڑکوں پر ہو کا عالم طاری تھا۔۔۔ رات کے سناٹے میں سڑک تقریباً سنسان تھی۔ عرشیہ ایک ہاتھ میں سامان سے بھرا بیگ تھامے تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی۔۔ حسین چہرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ "سمجھتا کیا ہے خود کو یہ زاویار سکندر؟"۔ وہ دانت پیستے ہوئے، غصے سے بھن کر بولی۔۔ سادہ بلو شرٹ اور جینز میں وہ بےحد دلکش لگ رہی تھی۔۔وہ گاہے بگاہے خوفزدہ نگاہوں سے سڑک کے اطراف میں دیکھ لیتی۔۔ گھر میں ڈیڈ اور دادی کے مسلسل دباؤ نے اسے اس قدر تنگ کر دیا تھا کہ آخرکار وہ غصے اور ضد میں گھر چھوڑنے جیسا بڑا قدم اٹھا بیٹھی تھی۔۔۔ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر اتنا بڑا سنگین قدم اٹھا چکی تھی۔۔۔۔ "میں... اور اس مغرور، بدتمیز اور اکڑو آدمی سے شادی کر لوں؟ ویری فنی! کیا پوری دنیا میں صرف وہی ایک شخص رہ گیا ہے میرے لیے؟"۔وہ تلخی سے ہنسی۔۔ چند فاصلے پر موجود ہوڈی میں ملبوس شخص کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اُف! اس کے خطرناک تیور۔۔۔ زاویار سکندر اس پر فدا ہوا تھا اس وقت۔۔ "وہ آخری مرد بھی رہ گیا تو میں اس سے شادی نہیں کروں گی!"۔ وہ بیزاری سے ہاتھ جھلاتے ہوئے بولی۔۔ زاویار سکندر نے خشمگیں نظروں سے نیم تاریکی میں اس کی پشت کو گھورا۔۔ احمر کے باعث اس نے عرشیہ کی سکیورٹی سخت کر رکھی تھی، اسی کے گارڈ نے اطلاع دی تھی کہ میڈم آدھی رات کو فرار کا شوق پورا کرنے نکلی ہیں۔۔ اگلے ہی لمحے اس کی بھاری، گھمبیر آواز رات کے سناٹے میں گونجی۔۔۔ "مجھ سے شادی تو تمہارے فرشتے بھی کریں گے، عرشیہ ملک۔۔۔"۔ عرشیہ ساکت رہ گئی۔ اپنی پشت پر سانسوں کی حدت بخوبی محسوس کر سکتی تھی، جبکہ دل کی دھڑکنیں بےقابو ہوکر سینے میں دھڑکنے لگیں۔۔ وہ پتھر کی مورت بنی ہنوز کھڑی تھی۔۔ "میرا جنون کہتا ہے کہ میں تمہیں اس دنیا سے چھین کر اپنا بنا لوں۔۔۔ پھر تم اتنی نازک سی دوشیزہ ہو، تم سے مقابلہ بےحد دلچسپ ہوگا، مائی گرل"۔ وہ دھیرے دھیرے سرگوشی کرتا عرشیہ کی جان نکال گیا۔ وہ اس کی قربت محسوس کرکے کانپ اٹھی۔۔۔ "یوں سانسیں روک کر کیوں میرا دل بند کر رہی ہو، میری ہونے والی منکوحہ؟"

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

https://www.mediafire.com/file/mk2g9noei6ma8vj/Farjaam+e+Shireen+-+complete.pdf/file

**فرجامِ شیریں** ایک رومانی اور جذباتی اردو ناول ہے جس کی کہانی عرشیہ ملک اور زاویار سکندر کے گرد گھومتی ہے۔ ایک طرف دو سالہ منگنی ٹوٹنے کا دکھ، محبت میں ملنے والی ٹھوکر اور مجروح عزتِ نفس ہے تو دوسری طرف ایک ایسا دولت مند اور بااثر بزنس مین ہے جو عرشیہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

عرشیہ ملک اپنے منگیتر احمر سے بےحد محبت کرتی تھی۔ دو سال کی منگنی کے دوران اس نے احمر کے ساتھ ایک خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھے تھے، مگر احمر اچانک منگنی توڑ کر اسے شدید صدمے سے دوچار کر دیتا ہے۔

عرشیہ کے لیے یہ صرف ایک رشتے کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی محبت، اعتماد اور عزتِ نفس کی شکست ہوتی ہے۔

ابھی وہ اس صدمے سے سنبھل بھی نہیں پاتی کہ اس کے سامنے ایک اور حیران کن فیصلہ رکھ دیا جاتا ہے۔

اس کے والد شفیق احمد چاہتے ہیں کہ عرشیہ کی شادی احمر کے بڑے بھائی زاویار سکندر سے کر دی جائے۔

زاویار سکندر شہر کا مشہور اور کامیاب بزنس مین ہے۔ خوبصورت شخصیت، بےپناہ دولت اور بااثر حیثیت رکھنے والا یہ شخص اپنے سنجیدہ اور مغرور مزاج کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔

مگر عرشیہ اسے پہلے ہی ناپسند کرتی ہے، کیونکہ زاویار ابتدا ہی سے احمر کے ساتھ اس کی منگنی کا مخالف تھا۔

عرشیہ کو معلوم نہیں کہ جس شخص کو وہ اپنے دکھ کا ذمہ دار سمجھ رہی ہے، اسی نے اس کے والد کے سامنے احمر کی اصل حقیقت ظاہر کی تھی۔ احمر بری صحبت اور شراب نوشی میں مبتلا ہے، جبکہ زاویار نہیں چاہتا کہ عرشیہ اس کے بھائی کے ساتھ ایک تکلیف دہ ازدواجی زندگی گزارے۔

دوسری طرف زاویار کے دل میں عرشیہ کے لیے غیر معمولی جذبات موجود ہیں۔ وہ اس سے نکاح کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے اور عرشیہ کے انکار کے باوجود اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عرشیہ اپنے والد اور دادی کے مسلسل اصرار سے تنگ آ کر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ رات کے سناٹے میں وہ اپنا سامان اٹھائے سنسان سڑک پر نکل آتی ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ زاویار پہلے ہی اس کی حفاظت کے لیے اپنے آدمیوں کو مامور کر چکا ہے۔

اور پھر اسی ویران سڑک پر زاویار سکندر اس کے سامنے آ جاتا ہے۔

عرشیہ کی شدید نفرت اور زاویار کا اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا جنون ایک ایسے تصادم کو جنم دیتا ہے جہاں محبت، ضد، انا اور اختیار کی کشمکش نمایاں ہونے لگتی ہے۔

کیا عرشیہ کبھی اس شخص کی حقیقت سمجھ سکے گی جسے وہ اپنے دکھوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے؟ کیا زاویار کا جنون اس کے دل میں موجود نفرت کو ختم کر سکے گا؟ اور احمر اپنے بھائی کے اس فیصلے پر کیا ردعمل ظاہر کرے گا؟

Summary — Urdu

**فرجامِ شیریں** عرشیہ ملک کی کہانی ہے، جس کی دو سالہ منگنی اس وقت اچانک ختم ہو جاتی ہے جب اس کا منگیتر احمر اسے ٹھکرا دیتا ہے۔

عرشیہ اس صدمے سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے کہ اس کے والد شفیق احمد اس کے سامنے احمر کے بڑے بھائی زاویار سکندر سے شادی کا فیصلہ رکھ دیتے ہیں۔

زاویار ایک کامیاب، دولت مند اور بااثر بزنس مین ہے، مگر عرشیہ اسے شدید ناپسند کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ زاویار اس کی زندگی میں مداخلت کرکے اس کی عزتِ نفس کو مزید مجروح کر رہا ہے۔

حقیقت اس کی سوچ سے مختلف ہے۔

احمر بری صحبت اور نشے کا شکار ہے، جبکہ زاویار اپنے بھائی کی حقیقت جانتا ہے۔ وہ عرشیہ کو اس رشتے سے بچانے کے ساتھ خود بھی اسے اپنی شریکِ حیات بنانا چاہتا ہے۔

عرشیہ اس فیصلے کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔ جب اس کے والد بھی زاویار کا رشتہ قبول کر لیتے ہیں تو وہ غصے اور بےبسی میں گھر چھوڑ کر نکل جاتی ہے۔

مگر رات کی سنسان سڑک پر زاویار سکندر اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

عرشیہ کی نفرت اور زاویار کی ضد کے درمیان شروع ہونے والی یہ کشمکش دونوں کی زندگیوں کو کس رخ پر لے جائے گی؟

Related Keywords

Farjam e Shireen Novel, Farjam e Shireen Urdu Novel, Farjam e Shireen PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan?

Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.

Where can I read Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *