Sahibe Ada Novel21063 Urdu novel cover
447.0kViews
#1114Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan

By Novelistan

Rate this novel

ازلان کی دادی نے اپنی ساری زمین اس کے نام کر دی اور اسے اپنی یتیم، طلاق یافتہ نواسی کا خیال رکھنے کو کہا۔ ازلان کو صرف زمین چاہیے تھی تاکہ اسے فروخت کرکے اپنا کاروبار شروع کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے دادی کی نواسی سے نکاح کر لیا، مگر بیوی کا چہرہ دیکھے بغیر شہر چلا گیا۔ ایک ہفتے بعد واپس آیا تو اپنے کمرے میں بیس سال کی نازک سی لڑکی کو اپنے کپڑے استری کرتے دیکھا۔ وہ غصے میں اسے کمرے سے نکلنے کا حکم دینے لگا۔ مگر لڑکی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کا بھی کمرہ ہے۔ اس جواب پر ازلان حیران رہ گیا۔

Sneak

"بیٹا! میں نے اپنی ساری زمین تمہارے نام کر دی ہے، اب اس یتیم بچی کا خیال رکھنا اس نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔" دادی جان نے ملتجی لہجے میں ازلان سے کہا۔ ازلان نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا لیکن اس کا کوئی ارادہ نا تھا ایک طلاق یافتہ لڑکی کو بیوی بنانے کا۔ اسے تو بس بزنس کے لیے دادی کی زمین چاہیے تھی جسے بیچ کر وہ اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا تھا۔ اسی زمین کے لیے اس نے دادی کی طلاق یافتہ نواسی سے نکاح کر لیا۔
نکاح کے بعد وہ بنا بیوی کی شکل دیکھے شہر چلا گیا۔ ہفتے بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بیس سالہ نازک سی لڑکی اسکے کپڑے استری کر رہی تھی۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں گھس کر میرے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔" وہ طنش سے بولا۔
"نہیں جاؤں گی یہ میرا بھی کمرہ ہے۔" اسکی بات پر ازلان نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر اسکی طرف دیکھا جو۔۔۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**صاحبِ ادا** ایک دوسری شادی، طلاق یافتہ ہیروئن، خودغرضی پر مبنی نکاح اور جذباتی خاندانی کشمکش کی کہانی ہے، جس کا مرکزی کردار ازلان ہے۔

یہ کہانی ایک ایسی نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو پہلے ہی زندگی میں بہت سے دکھ برداشت کر چکی ہوتی ہے۔ وہ یتیم اور طلاق یافتہ ہے، جبکہ اس کی دادی چاہتی ہیں کہ اسے زندگی میں کسی کا سہارا مل جائے۔

دوسری طرف ازلان ایک ایسا شخص ہے جو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے۔

اس کے لیے اسے رقم کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ اپنی دادی کی زمین کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ایک دن دادی جان ازلان سے کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی ساری زمین اس کے نام کر دی ہے۔

وہ ازلان سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ ان کی یتیم نواسی کا خیال رکھے، کیونکہ اس لڑکی نے زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں۔

ازلان خاموشی سے دادی کی بات پر سر ہلا دیتا ہے۔

لیکن اس کے دل میں کچھ اور ہی منصوبہ ہوتا ہے۔

وہ کسی طلاق یافتہ لڑکی کو اپنی بیوی بنانے کا خواہش مند نہیں ہوتا۔

اس کی دلچسپی صرف دادی کی زمین میں ہوتی ہے۔

ازلان چاہتا ہے کہ وہ زمین فروخت کرکے اپنا کاروبار شروع کرے۔

اسی مقصد کے لیے وہ دادی کی طلاق یافتہ نواسی سے نکاح کر لیتا ہے۔

اس نکاح کے پیچھے اس کی نیت محبت یا ازدواجی زندگی شروع کرنا نہیں بلکہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہوتی ہے۔

نکاح کے بعد ازلان اپنی بیوی کا چہرہ دیکھے بغیر شہر چلا جاتا ہے۔

وہ اپنی نئی زندگی اور ازدواجی ذمہ داریوں کو اہمیت نہیں دیتا۔

ایک ہفتہ گزر جاتا ہے۔

جب ازلان واپس آتا ہے تو اپنے کمرے میں ایک نوجوان لڑکی کو دیکھتا ہے۔

وہ تقریباً بیس سال کی نازک سی لڑکی ہوتی ہے جو اس کے کپڑے استری کر رہی ہوتی ہے۔

ازلان اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر سخت ناراض ہو جاتا ہے۔

وہ غصے سے پوچھتا ہے کہ اس نے اس کے کمرے میں داخل ہونے اور اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے کی۔

پھر وہ اسے فوراً وہاں سے نکل جانے کا حکم دیتا ہے۔

لیکن لڑکی اس کے حکم کے سامنے خاموش نہیں رہتی۔

وہ صاف کہتی ہے کہ وہ کہیں نہیں جائے گی کیونکہ یہ اس کا بھی کمرہ ہے۔

اس کا جواب سن کر ازلان حیران رہ جاتا ہے۔

وہ آنکھیں پھیلا کر لڑکی کی طرف دیکھتا ہے۔

یہاں Sneak ختم ہو جاتا ہے۔

ازلان نے جس لڑکی سے صرف زمین حاصل کرنے کے لیے نکاح کیا تھا، اب وہی لڑکی اس کے سامنے اپنے حق کی بات کر رہی ہوتی ہے۔

**صاحبِ ادا** کے اس حصے میں ایک مفاد پرستانہ نکاح، طلاق یافتہ نوجوان لڑکی کی زندگی، دادی کی خواہش اور ازلان کے سخت رویے کو نمایاں کیا گیا ہے۔

کیا ازلان اپنی بیوی کو پہچان پائے گا؟ کیا اسے اپنے کیے ہوئے نکاح کی ذمہ داری کا احساس ہوگا؟ اور کیا وہ اس لڑکی کو اپنے گھر اور زندگی میں اس کا جائز مقام دے گا؟

یہ سوالات کہانی کے اگلے حصے کے لیے تجسس پیدا کرتے ہیں۔

Summary — Urdu

**صاحبِ ادا** ایک دوسری شادی اور جذباتی خاندانی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کا مرکزی کردار ازلان ہے۔

ازلان کی دادی اپنی ساری زمین اس کے نام کر دیتی ہیں اور اس سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ ان کی یتیم اور طلاق یافتہ نواسی کا خیال رکھے۔

ازلان کا مقصد اس زمین کو فروخت کرکے اپنا کاروبار شروع کرنا ہوتا ہے۔

وہ دادی کی بات پر خاموشی سے رضامندی ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا کسی طلاق یافتہ لڑکی کو بیوی بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔

اس کے باوجود وہ زمین حاصل کرنے کے لیے دادی کی نواسی سے نکاح کر لیتا ہے۔

نکاح کے بعد وہ اپنی بیوی کا چہرہ دیکھے بغیر شہر چلا جاتا ہے۔

ایک ہفتے بعد واپس آتا ہے تو اپنے کمرے میں تقریباً بیس سال کی ایک نازک سی لڑکی کو اپنے کپڑے استری کرتے دیکھتا ہے۔

ازلان اسے دیکھ کر غصے میں آ جاتا ہے۔

وہ لڑکی کو اپنے کمرے میں آنے اور کپڑوں کو ہاتھ لگانے پر ڈانٹتا ہے اور وہاں سے نکل جانے کا حکم دیتا ہے۔

لیکن لڑکی اس کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔

وہ جواب دیتی ہے کہ یہ اس کا بھی کمرہ ہے، اس لیے وہ کہیں نہیں جائے گی۔

اس کا جواب سن کر ازلان حیرت سے اسے دیکھنے لگتا ہے۔

کیا ازلان کو اپنی بیوی کی حقیقت اور اس کے حقوق کا احساس ہوگا؟ اور کیا یہ مفاد پرستی سے شروع ہونے والا رشتہ کبھی بدل سکے گا؟

Related Keywords

Sahibe Ada Novel21063 Novel, Sahibe Ada Novel21063 Urdu Novel, Sahibe Ada Novel21063 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan?

Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Marriage of Convenience.

Where can I read Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *