Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed
Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed
By Ayesha Majeed
چار سال بعد عابص خان اپنے گھر واپس آیا تو پورا خاندان خوشی سے اس کا استقبال کر رہا تھا۔ ابیہا بھی دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔ جب سب نے پوچھا کہ وہ اپنی بیوی کے لیے کیا تحفہ لایا ہے تو عابص نے مسکرا کر ایک خوبصورت غیر ملکی لڑکی کو اپنے پاس بلایا اور اسے ابیہا کی سوتن قرار دے دیا۔ یہ انکشاف سنتے ہی ابیہا بے ہوش ہو گئی۔ ہسپتال میں ہوش آنے پر اس نے اپنے والد اور دا جان سے طلاق دلوانے کی درخواست کی۔ لیکن عابص وہاں بھی پہنچ گیا اور سب کے احتجاج کے باوجود کمرہ خالی کروا کر دروازہ اندر سے بند کر دیا۔
Sneak
"اپنی بیوی کیلئے کیا گفٹ لائے ہو ؟"سب کے پوچھنے پر اس نے مسکراتی آنکھوں سے ابیھا کو دیکھا۔وہ سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی پہلے ہی اس ستمگر نے بہت ستایا تھا اسے۔"بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔اور ہاں سب کے سامنے دوں گا، بے فکر رہیں۔" اس کے ہنسنے پر ابیھا کا دل زور سے دھڑکا۔زبردستی دونوں کے ساتھ ہوئی تھی پھر بھی وہ سزا اسے دے رہا تھا قصور وار اس کو ٹھہراتا رہا تھا۔"یہ رہا تمہارا گفٹ مسز عاصم خان۔ تمہاری سوتن! "اچانک ماحول ساکت ہو گیا۔ سب کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے ۔ چار سال بعد آیا تھا وہ بھی خالی ہاتھ نہیں۔اس کے پہلو میں خوبصورت لڑکی ساتھ کھڑی مسکراتی سب کو دیکھ رہی تھی۔ابیھا کو لگا اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔پہلے ہی کم ظلم ہوتا رہا گھر میں جو اب شوہر کی طرف سے یہ تحفہ ملا۔اس کے جسم میں جان نہیں رہی اور پھر وہ لہراتی زمین پر گری۔ عاصم کے چہرے کے زاویے مزید سخت ہوئے وہ۔۔۔ "بڑی دیر بعد آئے ہو کچھ لائے ہو کیا ہمارے لیے؟" اس کے کزن نے آگے بڑھتے ٹہوکا کروا کر گلے سے لگتے سوال کیا تو وہ دلکشی سے قہقہہ لگا گیا! "آف کورس سب کے لیے لایا ہوں!" وہ بولا تو اس کی آواز ابیہا کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی! چار سالوں بعد وہ اس کو سن رہی تھی! انجانے میں وہ ستون کی اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی جس کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا! اس کے یوں منظرِ عام پر آنے پہ سب کزنز نے ہوٹنگ کرتے اگلا سوال داغا۔۔ "اپنی بیوی کے لیے کیا گفٹ لائے ہو عابص؟" سب کے پوچھنے پر اس نے اپنے لبوں پر راسرار مسکراہٹ سجائی اور اپنی چمکتی، مسکراتی آنکھوں سے ستون کے پاس کھڑی ابیہا کو دیکھا۔ ابیہا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ بالکل سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی، اس ستمگر نے پہلے ہی اسے بہت ستایا تھا اب کہ وہ اس سے تھوڑی نرمی چاہتی تھی۔۔ یہ جانے بغیر کہ وہ کیا قہر ڈھانے والا ہے اس پہ۔۔ "بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔" عابص نے طنزیہ مگر گہرے لہجے میں کہتے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔ اس کی نظروں میں استحقاق تھا! "ہمیں بھی دیکھاؤ گے کہ نہیں؟" ایک چچی نے شریر آواز میں پوچھا تو عابص کے لبوں کی مسکان گہری ہوئی! "ہاں بالکل۔! سب کے سامنے دوں گا بے فکر رہیں۔" اس کے اس طرح ہنسنے پر ابیہا کا دل زور سے دھڑکا۔ کاش یہ مسکراہٹ اس کے لیے ہوتی! مگر وہ تو اس سے سیدھے منہ بھی بات نہیں کر پایا تھا کبھی! زبردستی تو اس رات دونوں کے ساتھ ہوئی تھی، حالات کی قربانی تو دونوں نے دی تھی، پھر بھی وہ مسلسل اس کی سزا صرف ابیہا کو کیوں دے رہا تھا؟ قصور وار ہمیشہ اسی کو کیوں ٹھہراتا تھا؟ عابص نے تھوڑا سا مڑ کر اپنی گاڑی کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور بلند اور سرد آواز میں پکارا! "باہر آ جاؤ ہنی" اس کے لہجے کی مٹھاس محسوس کرتے ابیہا کا دل سکڑا تھا! جب کہ باقی سب بھی نا سمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے! یہ کون تھا جس کو وہ اتنے پیار سے بلا رہا تھا؟ گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت غیر ملکی لڑکی باہر نکلی۔ وہ مسکراتی ہوئی عابص کے بالکل پہلو میں آ کر کھڑی ہو گئی اور وہاں موجود تمام دم بخود لوگوں کو بڑی بے نیازی اور مسکراہٹ سے دیکھنے لگی۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ، مسز عابص خان۔۔ تمہاری سوتن!" اس کے الفاظ ابیہا کے دل میں کسی خنجر کی طرح لگے! یہاں تک کہ وہاں موجود پورا ہجوم بالکل ساکت ہو گیا، سب کے منہ حیرت اور صدمے سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خوشیوں سے چہکتا ہوا گھر لمحوں میں خاموشی کی دوزخ میں بدل گیا۔ چار سال بعد وہ واپس آیا تھا، لیکن خالی ہاتھ نہیں تھا! ابیہا اس ظلم پہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس کا گریبان پکڑ کر سوال کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس شخص کو مار دینا چاہتی تھی جو جدائی سنانے کے بعد بھی اس کی زندگی میں کو اس جہنم میں دھکیل گیا تھا! وہ اتنا چیخنا چاہتی تھی کہ سب کے دل پھٹ جائیں مگر اس کی چیخ اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ پہلے کیا کم ظلم ہوتا تھا اس گھر میں جو اب شوہر نے واپس لوٹ کر یہ بے رحم تحفہ دیا تھا۔ ابیہا کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی، اس کے گھٹنے جواب دے گئے اس کے قدموں تلے زمین بری طرح لہرانے لگی اور پھر اگلے ہی پل وہ بے جان ہوتی فرش پہ ڈھلک گئی۔۔ "ابیہا۔۔۔" آخری منظر کو اس نے دیکھا تھا وہ عابص کا اپنی طرف بھاگنا تھا اور پھر اس کے بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی! کچھ وقت پہلے۔۔۔ ان چار سالوں میں پورے خاندان کا رویہ تو ابیہا کے ساتھ معمول کے مطابق ہی رہا، لیکن فرزانہ بیگم کی نفرت اور بغض دن بہ دن بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ اپنے اکلوتے لاڈلے بیٹے کی دور بھاگنے کی تمام تر ذمہ داری ابیہا کے سر ہی ڈالتی تھیں۔ ان کے نزدیک ابیہا ایک منحوس لڑکی تھی جس نے ان کے بیٹے کی زندگی میں قدم رکھتے ہی ان کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا۔ گھر کی تمام چھوٹی بڑی ذمہ داریاں، طعنے اور سخت رویے ابیہا کا مقدر بن چکے تھے۔ وہ خاموشی سے ہر ظلم برداشت کرتی، اپنے آنسو پیتی جیتی رہتی اور پھر وہ دن آ ہی گیا جس کا پورے خان ہاؤس کو سالوں سے انتظار تھا۔ چار سال کچھ عرصے بعد بالآخر عابص خان نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ اس خبر کا ملنا تھا کہ خان ہاؤس میں جیسے عید کا سماں بن گیا۔ پورا گھر دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا۔ قیمتی فانوس، تازہ پھولوں کی لڑیوں اور خوشبوؤں سے ہر کونہ مہک رہا تھا۔ گھر کا لاڈلا، مغرور اور اکلوتا چشم و چراغ واپس لوٹ رہا تھا۔ ہر فرد کے چہرے پر ایک انوکھی خوشی اور بے تابی تھی۔ فرزانہ بیگم خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں، جبکہ ابیہا کا دل کسی ان جانے خوف سے مسلسل ڈوب رہا تھا۔ اس کا سارا وجود کانپ رہا تھا اسے عابص کا آخری جملہ حرف بحرف یاد تھا! "اب جب ہماری اگلی ملاقات ہوگی تو حالات بہت مختلف ہوں گے۔۔۔" وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ طوفان اس کی زندگی کو کس سمت لے جائے گا۔ کچھ دیر بعد آخرکار اس کی گاڑی بنگلے کے پورچ میں آ کر رکی جس کا سب کو انتظار تھا۔ پورا خاندان ہال روم کے مرکزی دروازے اور صحن میں جمع ہو چکا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور چار سال بعد عابص خان نے اپنے آبائی گھر کی زمین پر قدم رکھا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ وجیہ، مغرور اور پروقار دکھائی دے رہا تھا، لیکن ایک چیز جو پرانی تھی وہ تھی اس کی آنکھوں میں موجود سرد مہری اور تلخی۔۔ فرزانہ بیگم نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا۔۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے! سب باری باری اس سے مل رہے تھے، مبارکبادیں دی جا رہی تھیں اور ہر طرف ایک شور برپا تھا۔ ابیہا ہجوم سے تھوڑا فاصلے پر، ایک ستون کی اوٹ میں خاموش اور ساکت کھڑی، سانس روکے اس ستمگر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل سینے میں زبردست انداز میں دھڑک رہا تھا، مقابل کی نظر اس پہ نہیں پڑی تھی مگر وہ ابیہا کو دیکھے بغیر بھی اس کی موجودگی کو اپنے اردگرد محسوس کر رہا تھا۔ تبھی خاندان کے چند کزنز اور تائی جان نے مسکراتے ہوئے عابص سے پوچھا۔ "بڑی دیر بعد آئے ہو کچھ لائے ہو کیا ہمارے لیے؟" اس کے کزن نے آگے بڑھتے ٹہوکا کروا کر گلے سے لگتے سوال کیا تو وہ دلکشی سے قہقہہ لگا گیا! "آف کورس سب کے لیے لایا ہوں!" وہ بولا تو اس کی آواز ابیہا کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی! چار سالوں بعد وہ اس کو سن رہی تھی! انجانے میں وہ ستون کی اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی جس کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا! اس کے یوں منظرِ عام پر آنے پہ سب کزنز نے ہوٹنگ کرتے اگلا سوال داغا۔۔ "اپنی بیوی کے لیے کیا گفٹ لائے ہو عابص؟" سب کے پوچھنے پر اس نے اپنے لبوں پر راسرار مسکراہٹ سجائی اور اپنی چمکتی، مسکراتی آنکھوں سے ستون کے پاس کھڑی ابیہا کو دیکھا۔ ابیہا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ بالکل سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی، اس ستمگر نے پہلے ہی اسے بہت ستایا تھا اب کہ وہ اس سے تھوڑی نرمی چاہتی تھی۔۔ یہ جانے بغیر کہ وہ کیا قہر ڈھانے والا ہے اس پہ۔۔ "بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔" عابص نے طنزیہ مگر گہرے لہجے میں کہتے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔ اس کی نظروں میں استحقاق تھا! "ہمیں بھی دیکھاؤ گے کہ نہیں؟" ایک چچی نے شریر آواز میں پوچھا تو عابص کے لبوں کی مسکان گہری ہوئی! "ہاں بالکل۔! سب کے سامنے دوں گا بے فکر رہیں۔" اس کے اس طرح ہنسنے پر ابیہا کا دل زور سے دھڑکا۔ کاش یہ مسکراہٹ اس کے لیے ہوتی! مگر وہ تو اس سے سیدھے منہ بھی بات نہیں کر پایا تھا کبھی! زبردستی تو اس رات دونوں کے ساتھ ہوئی تھی، حالات کی قربانی تو دونوں نے دی تھی، پھر بھی وہ مسلسل اس کی سزا صرف ابیہا کو کیوں دے رہا تھا؟ قصور وار ہمیشہ اسی کو کیوں ٹھہراتا تھا؟ عابص نے تھوڑا سا مڑ کر اپنی گاڑی کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور بلند اور سرد آواز میں پکارا! "باہر آ جاؤ ہنی" اس کے لہجے کی مٹھاس محسوس کرتے ابیہا کا دل سکڑا تھا! جب کہ باقی سب بھی نا سمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے! یہ کون تھا جس کو وہ اتنے پیار سے بلا رہا تھا؟ گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت غیر ملکی لڑکی باہر نکلی۔ وہ مسکراتی ہوئی عابص کے بالکل پہلو میں آ کر کھڑی ہو گئی اور وہاں موجود تمام دم بخود لوگوں کو بڑی بے نیازی اور مسکراہٹ سے دیکھنے لگی۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ، مسز عابص خان۔۔ تمہاری سوتن!" اس کے الفاظ ابیہا کے دل میں کسی خنجر کی طرح لگے! یہاں تک کہ وہاں موجود پورا ہجوم بالکل ساکت ہو گیا، سب کے منہ حیرت اور صدمے سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خوشیوں سے چہکتا ہوا گھر لمحوں میں خاموشی کی دوزخ میں بدل گیا۔ چار سال بعد وہ واپس آیا تھا، لیکن خالی ہاتھ نہیں تھا! ابیہا اس ظلم پہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس کا گریبان پکڑ کر سوال کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس شخص کو مار دینا چاہتی تھی جو جدائی سنانے کے بعد بھی اس کی زندگی میں کو اس جہنم میں دھکیل گیا تھا! وہ اتنا چیخنا چاہتی تھی کہ سب کے دل پھٹ جائیں مگر اس کی چیخ اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ پہلے کیا کم ظلم ہوتا تھا اس گھر میں جو اب شوہر نے واپس لوٹ کر یہ بے رحم تحفہ دیا تھا۔ ابیہا کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی، اس کے گھٹنے جواب دے گئے اس کے قدموں تلے زمین بری طرح لہرانے لگی اور پھر اگلے ہی پل وہ بے جان ہوتی فرش پہ ڈھلک گئی۔۔ "ابیہا۔۔۔" آخری منظر کو اس نے دیکھا تھا وہ عابص کا اپنی طرف بھاگنا تھا اور پھر اس کے بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی! ہسپتال کے کمرے میں پھیلی ڈرپ کی سنسناہٹ اور مانیٹر کی مدہم بیپ کے درمیان جب ابیہا نے بوجھل پلکیں کھولیں، تو سب سے پہلے اس کی نظر سفید چھت اور اپنے ہاتھ میں لگی سوئی پر پڑی۔ جسم بخار سے ٹوٹ رہا تھا، لیکن دل کے اندر جو درد بیدار ہوا تھا، وہ اس جسمانی تکلیف سے ہزار گنا زیادہ شدید اور جان لیوا تھا۔ کمرے میں اس کے والد سجاد صاحب، والدہ شائستہ بیگم، اور دا جان (دادا سائیں) خاموش اور نڈھال سے کھڑے تھے۔ ابیہا نے دھندلی نظروں سے ان سب کو دیکھا اور پھر اچانک جیسے اس کے حافظے میں وہ تمام تر ذلت، وہ الفاظ اور وہ چہرہ واپس لوٹ آیا۔۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ۔۔۔ تمہاری سوتن!" ایک شدید سسکی ابیہا کے حلق سے نکلی اور پھر وہ رو پڑی۔ وہ محض رو نہیں رہی تھی، بلکہ اس کے وجود سے ایک ایسا دردناک ماتم ابھرا کہ کمرے میں موجود ہر شخص کا کلیجہ کٹ کر رہ گیا۔ "بابا۔۔۔!" وہ بستر پر اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے سسکی، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، "بابا خدا کے لیے مجھے بچا لیں۔۔۔ مجھے اس جہنم سے نکال لیں بابا!" سجاد صاحب آگے بڑھے اور تڑپ کر بیٹی کا ہاتھ تھاما، ان کی اپنی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔ وہ باپ اپنی بیٹی کی تکلیف پہ رو رہا تھا جس بیٹی نے آج پہلی بار انہیں اپنی حفاظت کے لیے پکارا تھا "بابا! آپ تو کہتے تھے نہ کہ بیٹی کی عزت اور خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا؟" ابیہا نے اپنے والد کے آگے کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے، اس کے آنسو گالوں پر بہتے ہوئے چادر میں جذب ہو رہے تھے، "مجھے طلاق دلوائیں بابا! میں اب ایک سیکنڈ بھی اس شخص کے نام کے ساتھ نہیں جی سکتی۔۔۔ مجھے نہیں چاہیے ایسا شوہر، مجھے نہیں چاہیے ایسا رشتہ! مجھے آزاد کروا دیں بابا، خدا کے لیے مجھے طلاق دلوائیں!" شائستہ بیگم نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو سینے سے لگانا چاہا، لیکن ابیہا نے روتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی پکڑ لیا، "امی۔۔۔ آپ تو ماں ہیں نہ؟ آپ تو میری تکلیف سمجھتی ہیں؟ آپ کیوں خاموش ہیں امی؟ آپ نے کیوں نہیں روکا اپنے سسر اور شوہر کو اس دن؟ آپ اپنی بیٹی پہ ترس کیوں نہیں کھاتیں؟ دیکھیں کیا کر دیا اس شخص نے میرے ساتھ! چار سال کا انتظار اور بدلے میں یہ ذلت؟ امی، میں مر جاؤں گی۔۔۔ میں واقعی مر جاؤں گی اگر مجھے اس کی قید سے نہ نکالا!" دا جان نے دکھ اور ندامت سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ان کا سراپا، جو ہمیشہ رعب اور دبدبے کا مظہر ہوا کرتا تھا، آج اپنی ہی پوتی کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ "ابیہا بیٹا۔۔۔ حوصلہ کرو، اپنے آپ کو سنبھالو۔۔۔" شائستہ بیگم نے روتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کی کوشش کی، مگر ابیہا مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ وہ اپنے دا جان کی طرف مڑی، اس کی آواز میں التجا اور درد کا طوفان تھا۔ "دا جان۔۔۔ آپ نے اپنی عزت بچانے کے لیے میری قربانی دی تھی نہ؟ بولیں نہ دا جان! آج کہاں گئی وہ عزت؟ آج جب وہ مجھے رسوا کر کے میرے پہ سوتن لے آیا ہے تب آپ کی عزت بچ گئی؟ میں نے آپ کے ایک حکم پر اپنا آپ مار دیا تھا دا جان۔۔۔ اب مجھے اس کی سزا سے معافی دے دیں، مجھے طلاق دلوائیں!" سب لوگ نظریں چرا رہے تھے، کسی کے پاس اس کی چیخوں اور سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کمرے میں صرف ابیہا کے رونے اور سسکنے کی آوازیں گونج رہی تھیں کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ عابص خان اندر داخل ہوا اس کے چہرے پر سپاٹ اور سرد تاثرات تھے، مگر اس کی گہری آنکھوں میں ابیہا کی بدحالی دیکھ کر عجیب سی بے چینی بھری ہوئی تھی! عابص کو سامنے دیکھتے ہی ابیہا کا روپ دم بھر میں بدل گیا۔ اس کے اندر جیسے خوف اور درد کی جگہ شدید نفرت نے لے لی۔ وہ بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، اس کا پورا وجود غصے سے کانپنے لگا۔ "تم۔۔۔! تم یہاں کیوں آئے ہو؟" وہ چیخی، اس کی آواز حلق سے پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، "باہر نکالو اس شخص کو! بابا۔۔۔ دا جان۔۔۔ اسے باہر نکالیں! میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی! مجھے اس سے نفرت ہے، مجھے اس کی موجودگی سے گھٹن ہو رہی ہے! باہر نکالو اسے!"۔وہ ہاتھوں میں لگی ڈرپ کو نوچنے کی کوشش کرنے لگی۔ شائستہ بیگم نے گھبرا کر اس کے ہاتھ تھامے۔ "عابص، تم ابھی باہر جاؤ۔۔۔ دیکھ رہے ہو اس کی حالت؟" سجاد صاحب نے سخت لہجے میں کہا آج ان کی آواز میں غصہ اور تکالیف واضح تھیں۔ مگر عابص نے کسی کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ اس کے قدم بے باکی سے بستر کی طرف بڑھے۔ اس کی نظریں ابیہا کے سرخ اور آنسوؤں سے بھیگے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ "آپ سب لوگ باہر جائیں مجھے اس سے بات کرنی ہے" اس کا لہجہ دو ٹوک تھا! ابیہا نے نفی میں سر ہلایا! "کوئی نہیں جائے گا! بابا اس سے کہیں یہ چلا جائے! اگر یہ یہاں سے نہیں گیا تو میں اپنی رگیں کاٹ لوں گی!" ابیہا کی چیخوں میں دیوانگی شامل ہو چکی تھی، وہ مسلسل عابص کو پیچھے ہٹنے کے اشارے کر رہی تھی۔ عابص نے ایک گہری سانس لی اور گردن موڑ کر کمرے میں موجود تمام لوگوں کو دیکھا۔ اس کا لہجہ دو ٹوک اور سرد تھا۔ " سب لوگ باہر جائیے۔۔۔ مجھے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔ ابھی کے ابھی۔" "عابص! یہ کیا بدتمیزی ہے؟" دا جان کی آواز میں سختی لوٹ آئی، "لڑکی کی حالت دیکھ رہے ہو؟ تم نے پہلے ہی۔۔۔" "میں نے کہا آپ سب باہر جائیے۔" عابص نے ان کی بات کاٹتے ہوئے انتہائی دھیمے مگر مضبوط لہجے میں دہرایا۔۔ اس کی آنکھوں میں جمود تھا کہ سجاد صاحب اور دا جان بھی لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک گئے۔ "نہیں! امی خدا کے لیے مت جائیں۔۔۔ بابا، اسے کہیں یہ باہر جائے!" ابیہا نے تڑپ کر اپنی ماں کا آنچل تھامنا چاہا، مگر عابص کے لہجے اور ماحول کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے، سجاد صاحب نے دکھ سے ابیہا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ "ہم باہر ہی ہیں ابیہا۔۔۔" سجاد صاحب نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا اور شائستہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر کی طرف لے جانے لگے، دا جان بھی ایک گہری، بوجھل سانس بھرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ "بابا! دا جان! مت جائیں۔۔۔!" ابیہا کی التجا دروازے کے بند ہونے کے ساتھ ہی اندر ہی گھٹ کر رہ گئی۔ کمرے میں اب صرف وہ دونوں تھے۔ عابص نے آگے بڑھ کر دروازے کو اندر سے لاک کیا اور مڑ کر ابیہا کو دیکھا، جو بستر کے کونے میں خود کو سمیٹے، نفرت اور خوف سے جلتی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**دل بس تیرا ہوا** از عائشہ مجید ایک دوسری شادی، زبردستی کے نکاح، شوہر کی بے رخی، سوتن کی آمد اور جذباتی خاندانی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار عابص خان اور ابیہا ہیں۔
ابیہا ایک ایسی لڑکی ہے جس کی زندگی کا اہم فیصلہ خاندانی مجبوری کے تحت کیا گیا تھا۔ چار سال پہلے اس کا نکاح عابص خان سے ہوا، لیکن اس رشتے کی بنیاد ایسے حالات میں رکھی گئی جنہیں دونوں اپنی مرضی کا فیصلہ نہیں سمجھتے تھے۔
عابص اس نکاح کا قصوروار ابیہا کو ٹھہراتا رہا اور پھر اس سے دور چلا گیا۔
ان چار سالوں میں ابیہا خان ہاؤس میں رہتے ہوئے مسلسل ذہنی اذیت اور خاندانی دباؤ برداشت کرتی رہی۔
گھر کے دوسرے افراد کا رویہ اس کے ساتھ معمول کے مطابق رہا، مگر عابص کی والدہ فرزانہ بیگم کی ناراضی اور نفرت وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔
فرزانہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے کی دوری کا ذمہ دار ابیہا کو سمجھتی تھیں۔
ان کے نزدیک ابیہا کی آمد نے ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا تھا۔
گھر کی ذمہ داریاں، طعنے اور سخت رویے ابیہا کی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔
پھر ایک دن خبر ملتی ہے کہ عابص خان چار سال بعد پاکستان واپس آ رہا ہے۔
پورے خان ہاؤس میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
گھر کو پھولوں، قیمتی فانوسوں اور خوبصورت سجاوٹ سے آراستہ کیا جاتا ہے۔
فرزانہ بیگم اپنے بیٹے کی واپسی پر بے حد خوش ہوتی ہیں، لیکن ابیہا کے دل میں ایک انجانا خوف موجود ہوتا ہے۔
اسے عابص کے وہ آخری الفاظ یاد آتے ہیں جن میں اس نے کہا تھا کہ اگلی ملاقات پر حالات بہت مختلف ہوں گے۔
آخرکار عابص خان کی گاڑی گھر کے پورچ میں آ کر رکتی ہے۔
چار سال بعد وہ پہلے سے زیادہ وجیہ اور پروقار دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں سرد مہری اب بھی موجود ہوتی ہے۔
سب گھر والے خوشی سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔
ابیہا ایک ستون کی اوٹ میں خاموش کھڑی اپنے شوہر کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔
اس کے دل میں بے شمار جذبات ہوتے ہیں۔
جب خاندان کے افراد عابص سے پوچھتے ہیں کہ وہ سب کے لیے کیا تحفے لایا ہے تو وہ مسکرا کر جواب دیتا ہے کہ سب کے لیے کچھ نہ کچھ لایا ہے۔
پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے کیا لایا ہے۔
ابیہا دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے جواب کا انتظار کرتی ہے۔
اسے امید ہوتی ہے کہ شاید چار سال کی دوری کے بعد عابص کے رویے میں کچھ نرمی آئی ہو۔
لیکن عابص سب کے سامنے ایک خاص تحفہ دینے کا اعلان کرتا ہے۔
وہ اپنی گاڑی سے ایک خوبصورت غیر ملکی لڑکی کو بلاتا ہے۔
وہ لڑکی مسکراتے ہوئے عابص کے پہلو میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
پھر عابص سب کے سامنے ابیہا کو بتاتا ہے کہ یہ اس کی سوتن ہے۔
یہ اعلان سنتے ہی پورے گھر میں خاموشی چھا جاتی ہے۔
ابیہا کے لیے یہ انکشاف ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔
جس شوہر کی واپسی کا اس نے چار سال انتظار کیا تھا، وہ اس کے سامنے دوسری عورت کو اپنی بیوی کے طور پر پیش کر رہا ہوتا ہے۔
اس صدمے سے ابیہا کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑتی ہے۔
عابص اسے گرتے دیکھ کر اس کی طرف بھاگتا ہے۔
بعد میں ابیہا کو ہسپتال میں ہوش آتا ہے۔
اس کے والد سجاد صاحب، والدہ شائستہ بیگم اور دا جان اس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔
ہوش میں آتے ہی ابیہا کو عابص کا اعلان یاد آ جاتا ہے اور وہ شدت سے رونے لگتی ہے۔
وہ اپنے والد سے درخواست کرتی ہے کہ اسے اس رشتے سے آزاد کروایا جائے۔
ابیہا واضح طور پر طلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔
وہ اپنی والدہ اور دا جان سے بھی سوال کرتی ہے کہ خاندان کی عزت بچانے کے لیے اس کی زندگی کی قربانی کیوں دی گئی تھی۔
دا جان اس کی تکلیف دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
اسی دوران عابص ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔
اسے دیکھتے ہی ابیہا شدید خوف اور غصے کا اظہار کرتی ہے اور اسے باہر نکالنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
لیکن عابص سب کو کمرے سے باہر جانے کا حکم دیتا ہے۔
ابیہا اپنے والدین سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اسے اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں۔
اس کے باوجود خاندان کے افراد باہر چلے جاتے ہیں۔
عابص دروازہ اندر سے بند کرکے ابیہا کی طرف دیکھتا ہے۔
یہیں فراہم کردہ کہانی کا حصہ ختم ہوتا ہے۔
**دل بس تیرا ہوا** میں چار سالہ جدائی، دوسری شادی کے انکشاف، خاندانی عزت کے نام پر کیے گئے فیصلوں، ایک عورت کی بے بسی اور اس کے طلاق کے مطالبے کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کیا ابیہا اس رشتے سے آزادی حاصل کر سکے گی؟ عابص اس سے تنہائی میں کیا کہنا چاہتا ہے؟ اور اس کی دوسری شادی کے بعد دونوں کی زندگی کس رخ پر جائے گی؟
ان سوالات کے جواب کہانی کے اگلے واقعات میں سامنے آئیں گے۔
Summary — Urdu
**دل بس تیرا ہوا** از عائشہ مجید ایک دوسری شادی اور جذباتی ازدواجی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار عابص خان اور ابیہا ہیں۔
چار سال پہلے عابص اور ابیہا کا نکاح خاندانی مجبوری کے تحت ہوا تھا۔
عابص اس رشتے سے خوش نہیں تھا اور ابیہا کو حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔
وہ اس سے دور چلا گیا، جبکہ ابیہا خان ہاؤس میں رہتے ہوئے اپنی ساس فرزانہ بیگم کے طعنے اور سخت رویے برداشت کرتی رہی۔
چار سال بعد عابص کی پاکستان واپسی کی خبر ملتی ہے تو پورے گھر میں خوشی کا ماحول بن جاتا ہے۔
ابیہا بھی اپنے شوہر کو دیکھنے کے لیے بے چین ہوتی ہے، لیکن اسے اس کے سابقہ رویے کی وجہ سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔
جب عابص گھر پہنچتا ہے تو خاندان کے افراد اس سے تحفوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے کیا لایا ہے۔
عابص سب کے سامنے ایک خوبصورت غیر ملکی لڑکی کو بلاتا ہے اور اسے ابیہا کی سوتن قرار دیتا ہے۔
یہ اعلان ابیہا کے لیے شدید صدمے کا باعث بنتا ہے۔
وہ بے ہوش ہو کر گر جاتی ہے۔
ہسپتال میں ہوش آنے کے بعد ابیہا اپنے والد سجاد صاحب اور دا جان سے طلاق دلوانے کی درخواست کرتی ہے۔
وہ خاندان کی عزت کے نام پر اپنی قربانی اور چار سال کی اذیت کا حساب مانگتی ہے۔
اسی دوران عابص ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔
ابیہا اسے دیکھ کر خوف اور نفرت کا اظہار کرتی ہے، مگر عابص سب کو باہر بھیج کر اس سے تنہائی میں بات کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
وہ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیتا ہے۔
کیا ابیہا اپنے فیصلے پر قائم رہ سکے گی؟ اور عابص اس سے کیا بات کرنا چاہتا ہے؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed?
Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed is written by Ayesha Majeed.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Emotional Drama.
Where can I read Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed?
The reading content is available in the Read online section of this page.