Ishq Ka Rang Novel21046 Urdu novel cover
756.1kViews
#501Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan

By TK Novels

Rate this novel

مائرہ شاہ اپنی شادی کے دن خوش تھی، مگر عین وقت پر بارات نہ آنے سے اس کے خواب بکھر گئے۔ خاندان کی عزت بچانے کے لیے سردار داؤد خان نے اس سے نکاح کی پیشکش کی، جسے اس کے والد نے قبول کر لیا۔ مائرہ کو بعد میں معلوم ہوا کہ داؤد کی پہلی بیوی وفات پا چکی ہے اور ان کا ایک سالہ بیٹا بھی ہے۔ لال حویلی پہنچ کر اسے داؤد کے سخت رویے اور کئی پراسرار پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رات کے وقت جب اس نے اوپری منزل کے ایک بند کمرے سے بچے کے رونے کی آواز سنی تو داؤد نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ مائرہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی پہلی بارات ٹوٹنے کے پیچھے بھی داؤد کا ہاتھ تھا۔

Sneak

داؤد خان مسکراتی نظروں سے بارات لوٹتے دیکھ رہا تھا۔ آج مائرہ کی شادی تھی اور وہ اپنی شادی سے بہت خوش تھی لیکن عین وقت پر بارات نہ آئی تو داؤد شاہ مائرہ کے ماں باپ کی طرف بڑھا۔"میں یہ شادی کرنے کو تیار ہوں۔ " داؤد کی بات سن مائرہ کے ماں باپ نے پریشانی سے لب بھینچے کیونکہ وہ ایک بچے کا باپ تھا۔ بہت سخت مزاج تھا سب کا کہنا تھا داؤد خان کی پہلی بیوی اس کے ظلم کی وجہ سے مری تھی۔ "سوچ لیں ۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔مجھے یہاں سے بزنس پارٹی میں جانا ہے۔ " وہ سرد لہجے میں بولا تو عزت بچانے کے لیے مائرہ کے ماں باپ کو ماننا پڑا اس بات سے بے خبر کے مائرہ کی بارات لوٹنے کے پیچھے داؤد خان کا ہاتھ تھا۔مائرہ دلہن بنی اس کے عالیشان کمرے میں آئی تھی جب نگاہ بیڈ کے برابر رکھے کاٹ اور اس میں سوتے معصوم بچے پر پڑی۔"ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ تمہارے ماں باپ نے بتایا نہیں میرا بچہ بھی ہے؟"

حویلی کے وسیع و عریض صحن میں ایسی خاموشی طاری تھی جیسے ہوا نے بھی اپنا سانس روک لیا ہو۔ یہ لال حویلی اپنے اندر صدیوں کے راز اور حاکمیت کی داستانیں سمیٹے ہوئے تھی۔ اسی سنناٹے کو چیرتی ہوئی سردار داؤد خان کی باوقار اور تحکم سے بھری آواز ابھری۔
داؤد خان نہ صرف اس علاقے کے اثر و رسوخ رکھنے والے سردار تھے بلکہ ملک کے جانے مانے بزنس ٹائیکون بھی تھے۔ ایک وقت تھا جب ان کی مسکراہٹ اور زندہ دلی پورے قبیلے اور شہر کے بزنس سرکل میں مشہور تھی، لیکن اپنی پہلی بیوی کی اچانک اور پراسرار وفات کے بعد وہ ہنسنا بالکل بھول چکے تھے۔ ان کا دل جیسے پتھر کا ہو چکا تھا اور چہرے پر صرف ایک مستقل سردی جم گئی تھی۔
میں آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کو تیار ہوں، داؤد خان نے سامنے بیٹھے حیدر شاہ سے کہا۔ ان کا لہجہ دو ٹوک تھا، لیکن میری ایک شرط ہے۔ اسے میرے ایک سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔
حیدر شاہ، جو مالی مشکلات اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، اُنہوں نے بے بسی سے داؤد خان کو  دیکھا۔ داؤد نے نظریں جھکائے بغیر مزید کہا، کیونکہ میری پہلی بیوی... وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔
حیدر شاہ کے پاس انکار کی نہ کوئی گنجائش تھی نہ ہمت۔ ان کی بیٹی مائرہ، جو اپنی خوبصورتی، خودداری اور تیز مزاجی کے لیے جانی جاتی تھی، اس وقت ایک کٹھن موڑ پر کھڑی تھی۔ اس کا پہلا طے شدہ رشتہ جہیز کی مانگ پوری نہ ہونے کی وجہ سے بارات کے عین موقع پر ٹوٹ چکا تھا، اور معاشرے کے طعنے ان کے خاندان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔ داؤد خان کا رشتہ حیدر شاہ کے لیے ایک ڈھال کی مانند تھا، مگر وہ یہ سچ مائرہ سے چھپا گئے کہ داؤد پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
نکاح نہایت سادگی اور خاموشی سے ہو گیا۔ مائرہ لال عروسی جوڑے میں ملبوس، دل میں کئی اندیشے لیے اس حویلی میں قدم رکھ چکی تھی۔ اسے بتایا گیا تھا کہ داؤد ایک بڑے کاروباری شخص اور قبیلے کے سردار ہیں، لیکن اس کے علاوہ ہر سچ اس سے چھپایا گیا تھا۔
رخصتی کے بعد مائرہ کو حویلی کے ایک پرتعیش کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ رات گہری ہو رہی تھی اور گھڑی کی ٹک ٹک مائرہ کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھی۔ آخرکار بھاری دروازہ کھلا اور سردار داؤد خان اندر داخل ہوئے۔ ان کی قامت کا رعب اور چہرے کی سرد مہری دیکھ کر کمرے میں جیسے برف جم گئی۔
مائرہ نے اپنے سر سے بھاری دوپٹہ ہٹایا اور سیدھی ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں شدید غصہ اور سوال تھے۔
آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ مائرہ کی آواز میں تلخی اور دکھ کا امتزاج تھا۔ مجھے دھوکے میں کیوں رکھا گیا؟
داؤد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ان کا چہرہ بے تاثر تھا مگر آنکھوں میں ایک عجیب گہرائی تھی۔ تمہیں کس نے کہا کہ یہ دھوکا ہے؟ اپنے بابا سے پوچھنا کہ انہوں نے تم سے کیا چھپایا۔
مائرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ بابا نے؟ کیا انہیں پتہ تھا؟
داؤد ایک قدم آگے بڑھے۔ تم اس گھر میں ایک اہم ذمہ داری کے ساتھ آئی ہو مائرہ۔ میری پہلی اور آخری ترجیح میرا بیٹا ہے، جس کی ماں... اب اس دنیا میں نہیں رہی۔
بیٹا؟ مائرہ لرز کر پیچھے ہٹی۔ شادی شدہ؟ ایک بچے کے باپ؟ مجھ سے یہ سب کیوں چھپایا گیا؟ میں یہاں نہیں رہ سکتی!
مائرہ نے زچ ہو کر دروازے کی طرف قدم بڑھائے، لیکن داؤد نے پلک جھپکتے ہی اس کا راستہ روک لیا۔ ان کا ہاتھ مائرہ کے بازو پر آیا۔ ان کی گرفت میں تحکم تھا مگر کوئی سختی ایسی نہ تھی جو تکلیف دے۔
تم اب اس حویلی کی بہو اور میری عزت ہو مائرہ، داؤد نے دھیمے اور سخت لہجے میں کہا۔ یہاں سے واپس جانے کے راستے بند ہیں۔
مائرہ نے ان کا ہاتھ پیچھے جھٹکنے کی کوشش کی، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ مجھے جانے دیں۔ میں ایک ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس کے دل میں صرف سردی ہے اور جس کی زندگی جھوٹ پر مبنی ہو۔
داؤد نے چند لمحے اس کے تپتے ہوئے چہرے اور آنکھوں میں موجود غصے کو دیکھا۔ اتنے عرصے بعد، کسی نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس طرح بات کرنے کی ہمت کی تھی۔ ان کے سخت اور سرد چہرے کے تاثرات میں ایک لمحے کے لیے ہلکی سی تبدیلی آئی، جیسے جمی ہوئی برف میں ایک باریک سی دراڑ پڑ گئی ہو۔ مگر انہوں نے خود کو فوراً سنبھال لیا۔
اس حویلی کی دیواروں میں بہت سے راز دفن ہیں مائرہ، داؤد نے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔ بہتر یہی ہوگا کہ تم اپنی ذمہ داری کو سمجھو اور ماضی کے سائے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرو۔
یہ کہہ کر داؤد خان کمرے سے باہر نکل گئے اور بھاری دروازہ بند ہو گیا۔ مائرہ وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ حویلی کی خاموشی میں اب اسے اپنے سوا کسی اور کا وجود بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اوپری منزل کے بند حصے سے ایک باریک سی چرچراہٹ کی آواز آئی، جیسے کوئی دباؤ سے قدم رکھ رہا ہو۔
مائرہ فرش پر بیٹھی اوپری منزل کی طرف سے آنے والی آہٹ کو سنتی رہی۔ خوف اور تجسس کا ایک عجیب سا طوفان اس کے اندر اٹھ رہا تھا۔ اس نے اپنے بھاری جوڑے کو سنبھالا اور کمرے کے دروازے کے پاس آئی۔ ہینڈل کو آہستہ سے نیچے دبایا، تو دروازہ بغیر کسی آواز کے کھل گیا۔
حویلی کے راہداریوں میں مدہم روشنی تھی، اور رات کا سنناٹا اب مزید گہرا اور خوفناک معلوم ہو رہا تھا۔ مائرہ نے دبے قدموں اوپری منزل کی سیڑھیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ہر قدم پر اس کا دل سیکنڈوں کے حساب سے دھڑک رہا تھا۔
جیسے ہی وہ اوپری منزل پر پہنچی، اسے سامنے ایک لمبی تاریک راہداری دکھائی دی۔ اس راہداری کے آخری سرے پر ایک لکڑی کا پرانا دروازہ تھا، جس کے نیچے سے ہلکی سی روشنی چھن کر باہر آ رہی تھی۔ مائرہ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اچانک اندر سے کسی بچے کے ہلکے سے رونے کی آواز آئی۔
مائرہ کے قدم وہیں جم گئے۔ وہ داؤد خان کا ایک سالہ بیٹا تھا
اس نے جیسے ہی اس کمرے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا، پیچھے سے ایک دم سرد اور تحکم بھری آواز آئی
"وہاں جانا منع ہے مائرہ۔
مائرہ نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ داؤد خان تاریکی سے نکل کر روشنی میں آ رہے تھے۔ ان کا چہرہ سخت اور آنکھیں سرخ تھیں۔
"یہ... یہ بچہ رو رہا ہے، مائرہ نے اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے ہمت جمع کی ،آپ نے مجھے اس کی دیکھ بھال کے لیے لائیں ہیں نا؟ تو پھر مجھے اس کے پاس جانے سے کیوں روک رہے ہیں؟
داؤد خان نے چند لمحے مائرہ کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان کی نظروں میں ایک لمحے کے لیے وہی پرانی درد کی جھلک لہرائی، مگر اگلے ہی سیکنڈ میں ان کا رویہ پھر سے سخت ہو گیا۔
کچھ حدیں اس حویلی میں مقرر ہیں، داؤد خان نے کہا، ان کا لہجہ ناگوار حد تک سرد تھا۔ تم اس بچے کی ذمہ داری دن کے وقت سنبھالو گی۔ رات کے وقت اس کمرے میں جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے... حتیٰ کہ تم کو بھی نہیں۔
کیوں؟ مائرہ نے ضد سے پوچھا۔ اس کمرے میں ایسا کیا راز ہے؟ کیا آپ کی پہلی بیوی کی موت سے متعلق کچھ ہے وہاں؟
داؤد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے ایک قدم مائرہ کی طرف بڑھایا، ان کا قد اور رعب مائرہ کو دبانے کے لیے کافی تھا، لیکن ان کی آنکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ ایک گہری خاموش تڑپ بھی تھی۔
اپنا حد سے بڑھتا تجسس تمہارے لیے خطرناک ہو سکتا ہے مائرہ، داؤد نے مدہم مگر وزنی آواز میں کہا۔ یہ میری حویلی ہے اور یہاں میرے اصول چلتے ہیں۔ اب خاموشی سے اپنے کمرے میں واپس جاؤ۔
مائرہ نے اپنے لب بھیچے، داؤد کے سرد اور تحکم بھرے رویے پر اسے شدید غصہ آیا۔ وہ بغیر کچھ کہے مڑی اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر اپنے کمرے میں واپس آ گئی۔
کمرے میں آ کر اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اس کے ذہن میں ہزاروں سوال گردش کر رہے تھے۔ اگر وہ بچہ صرف ایک سال کا ہے تو رات کے وقت اسے اس بند کمرے میں کس کے ساتھ رکھا جاتا ہے؟ اور داؤد اتنا کچھ کیوں چھپا رہا ہے؟

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**عشق کا رنگ از ٹی کے ناولز** ایک رومانی، جذباتی اور پراسرار حویلی پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک نوجوان دلہن کی زندگی شادی کے دن اچانک بدل جاتی ہے۔ ایک ٹوٹی ہوئی بارات، ایک بااثر سردار کی غیرمتوقع پیشکش اور ایک سالہ بچے کی ذمہ داری اسے ایسے گھر میں پہنچا دیتی ہے جہاں ہر سوال کے جواب پر خاموشی مسلط ہے۔

مائرہ شاہ ایک خوب صورت، خوددار اور تیز مزاج لڑکی تھی۔ وہ اپنی شادی کے دن خوش تھی اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی، لیکن عین وقت پر اس کی بارات نہ پہنچنے سے خوشیوں کا ماحول پریشانی میں بدل گیا۔ اس کا پہلے سے طے شدہ رشتہ جہیز کی مانگ پوری نہ ہونے کے باعث ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے والد حیدر شاہ پہلے ہی مالی مشکلات اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، جبکہ خاندان کو معاشرے کے طعنوں کا خوف بھی لاحق تھا۔

ایسے حالات میں سردار داؤد خان نے مائرہ سے نکاح کرنے کی پیشکش کر دی۔ داؤد خان علاقے کے بااثر سردار ہونے کے ساتھ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی تھے۔ ان کی سخت مزاجی اور سرد رویے سے لوگ خوف کھاتے تھے۔ ان کی پہلی بیوی اچانک اور پراسرار حالات میں وفات پا چکی تھی، جس کے بعد داؤد کی شخصیت مکمل طور پر بدل گئی تھی۔ کبھی خوش مزاج سمجھے جانے والے داؤد اب کم ہی مسکراتے تھے۔

لوگوں میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ ان کی پہلی بیوی کی موت کے پیچھے ان کا ظالمانہ رویہ تھا، لیکن اس الزام کی حقیقت ابھی واضح نہیں تھی۔

داؤد خان نے نکاح کے لیے ایک شرط رکھی۔ مائرہ کو ان کے ایک سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کرنا ہوگی۔ حیدر شاہ نے اپنے حالات اور خاندان کی عزت کے پیش نظر یہ رشتہ قبول کر لیا، مگر مائرہ کو داؤد کی پہلی شادی اور بچے کے بارے میں مکمل حقیقت نہیں بتائی گئی۔

نکاح سادگی سے ہو گیا اور مائرہ دلہن بن کر لال حویلی پہنچ گئی۔

یہ حویلی اپنی شان و شوکت، وسیع راہداریوں اور پرانی دیواروں کے ساتھ کئی راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھی۔ مائرہ کو ایک پرتعیش کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں وہ اپنے نئے شوہر کے انتظار میں پریشان بیٹھی رہی۔ جب داؤد خان کمرے میں داخل ہوئے تو مائرہ نے ان سے اس شادی اور اپنے ساتھ ہونے والی حقیقت پوشی کے بارے میں سوال کیا۔

داؤد نے اسے بتایا کہ وہ اس گھر میں ایک اہم ذمہ داری کے ساتھ آئی ہے اور ان کی پہلی ترجیح ان کا بیٹا ہے۔ مائرہ یہ جان کر حیران رہ گئی کہ داؤد پہلے شادی شدہ تھے اور ایک بچے کے والد ہیں۔ اسے اپنے والد کے رویے پر بھی صدمہ پہنچا، کیونکہ یہ بات اس سے نکاح سے پہلے چھپائی گئی تھی۔

مائرہ نے وہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی، لیکن داؤد نے اس کا راستہ روک کر واضح کر دیا کہ اب وہ اس حویلی کی بہو ہے اور واپس جانے کے راستے بند ہیں۔ مائرہ کو ان کا تحکمانہ رویہ ناگوار گزرا۔ وہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے پر تیار نہیں تھی جو اس سے اہم حقائق چھپا رہا تھا۔

داؤد نے اسے حویلی کے ماضی اور پوشیدہ معاملات کے بارے میں سوال نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کمرے سے باہر چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد مائرہ کو اوپری منزل سے ایک عجیب سی آہٹ سنائی دی۔ رات کی خاموشی میں یہ آواز اس کے لیے خوف اور تجسس کا سبب بن گئی۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر پہنچی تو اسے ایک تاریک راہداری کے آخری سرے پر بند کمرہ دکھائی دیا، جس کے نیچے سے ہلکی روشنی آ رہی تھی۔

اسی کمرے سے ایک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔

مائرہ کو احساس ہوا کہ یہ داؤد خان کا ایک سالہ بیٹا ہے۔ وہ اس کے پاس جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی، مگر اسی لمحے داؤد خان نے اسے روک دیا۔ ان کے لہجے میں سختی تھی اور انہوں نے واضح کیا کہ اس کمرے میں رات کے وقت جانا منع ہے۔

مائرہ حیران تھی کہ جب اسے بچے کی دیکھ بھال کے لیے اس گھر میں لایا گیا ہے تو پھر اسے روتے ہوئے بچے کے پاس جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

داؤد نے بتایا کہ وہ بچے کی ذمہ داری صرف دن کے وقت سنبھالے گی۔ رات کو اس کمرے میں جانے کی اجازت کسی کو نہیں، حتیٰ کہ مائرہ کو بھی نہیں۔

اس جواب نے مائرہ کے شکوک مزید بڑھا دیے۔ اس نے داؤد سے سوال کیا کہ کیا اس کمرے کا تعلق ان کی پہلی بیوی کی پراسرار موت سے ہے۔ یہ سن کر داؤد غصے میں آ گئے اور اسے خبردار کیا کہ حد سے بڑھتا تجسس اس کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

مائرہ کو اپنے کمرے میں واپس جانا پڑا، مگر اس کے ذہن میں سوالات کی تعداد بڑھ چکی تھی۔

ایک سالہ بچہ رات کو اس بند کمرے میں کس کے ساتھ رہتا تھا؟ داؤد اسے وہاں جانے سے کیوں روک رہے تھے؟ ان کی پہلی بیوی کی موت کے پیچھے کیا حقیقت تھی؟ اور لال حویلی کے بند حصے میں ایسا کیا چھپایا گیا تھا جس کے بارے میں کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں تھی؟

کہانی کے ابتدائی منظر میں یہ بھی سامنے آتا ہے کہ مائرہ کی بارات نہ پہنچنے کے پیچھے داؤد خان کا ہاتھ تھا، جبکہ مائرہ اور اس کے والدین اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس انکشاف سے داؤد کے ارادوں کے بارے میں مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

**عشق کا رنگ** دوسری شادی، خاندانی دباؤ، ایک بچے کی ذمہ داری، پوشیدہ منصوبوں اور پراسرار حویلی کے رازوں پر مبنی کہانی ہے، جس میں مائرہ کو اپنی نئی زندگی کی حقیقت سمجھنے کے لیے کئی مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Summary — Urdu

**عشق کا رنگ** مائرہ شاہ اور سردار داؤد خان کی کہانی ہے، جن کا نکاح غیرمتوقع حالات میں ہوتا ہے۔

مائرہ اپنی شادی کے دن خوش ہوتی ہے، لیکن عین وقت پر اس کی بارات نہیں پہنچتی۔ اس کا پہلے سے طے شدہ رشتہ جہیز کی مانگ پوری نہ ہونے کے باعث ٹوٹ جاتا ہے، جس سے اس کے والد حیدر شاہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ایسے وقت میں علاقے کے بااثر سردار اور کامیاب کاروباری شخصیت داؤد خان مائرہ سے نکاح کی پیشکش کرتے ہیں۔

داؤد کی پہلی بیوی پراسرار حالات میں وفات پا چکی ہوتی ہے اور ان کا ایک سالہ بیٹا بھی ہوتا ہے۔ وہ شرط رکھتے ہیں کہ مائرہ کو ان کے بچے کی دیکھ بھال کرنا ہوگی۔

حیدر شاہ حالات کے دباؤ میں یہ رشتہ قبول کر لیتے ہیں، مگر مائرہ کو داؤد کی پہلی شادی اور بچے کے بارے میں مکمل حقیقت نہیں بتاتے۔

نکاح کے بعد مائرہ لال حویلی پہنچتی ہے، جہاں اسے اپنے شوہر کے سرد اور سخت رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ داؤد ایک بچے کے والد ہیں تو وہ خود کو دھوکے کا شکار محسوس کرتی ہے اور وہاں سے جانا چاہتی ہے۔

لیکن داؤد اسے حویلی چھوڑنے سے روک دیتے ہیں اور ماضی کے رازوں کے بارے میں سوال نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہیں۔

اسی رات مائرہ کو حویلی کی اوپری منزل سے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے۔

وہ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے ایک بند کمرے تک پہنچتی ہے، مگر داؤد اسے اندر جانے سے روک دیتے ہیں۔

ان کے مطابق مائرہ بچے کی دیکھ بھال صرف دن کے وقت کرے گی اور رات میں اس کمرے میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔

مائرہ کو شک ہوتا ہے کہ اس کمرے کا تعلق داؤد کی پہلی بیوی کی موت سے ہو سکتا ہے، لیکن داؤد اس کے سوال پر غصے میں آ جاتے ہیں۔

دوسری طرف ابتدائی منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ مائرہ کی بارات نہ پہنچنے کے پیچھے خود داؤد خان کا ہاتھ تھا، مگر مائرہ اس بات سے لاعلم ہے۔

آخر داؤد نے یہ شادی کروانے کے لیے کیا منصوبہ بنایا تھا؟ ان کی پہلی بیوی کی موت کا راز کیا ہے؟ اور لال حویلی کے بند کمرے میں کیا چھپایا جا رہا ہے؟

Related Keywords

Ishq Ka Rang Novel21046 Novel, Ishq Ka Rang Novel21046 Urdu Novel, Ishq Ka Rang Novel21046 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan?

Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan is written by TK Novels.

Is Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.

Where can I read Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *