Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053
Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053
By Readers Choice
ثانیہ نے اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کے طنز برداشت کیے تھے، مگر اسے سب سے زیادہ تکلیف اپنی سوتیلی ماں کے رویے سے پہنچتی تھی۔ جب اس کی شادی برہان عالم سے طے کی گئی تو اسے بتایا گیا کہ برہان خواجہ سرا ہے۔ ثانیہ نے اعتراض کیا، مگر اسے زبردستی نکاح قبول کرنا پڑا۔ شادی کی رات اسے معلوم ہوا کہ برہان کے بارے میں بتائی گئی حقیقت مکمل نہیں تھی۔ رات گئے جب وہ پانی تلاش کرتے ہوئے برابر والے کمرے تک پہنچی تو برہان پستول ہاتھ میں لیے اچانک اس کے سامنے آ گیا۔ اس کے غصے نے ثانیہ کو خوفزدہ کر دیا۔ آخر برہان اپنی شناخت کیوں چھپا رہا تھا اور اس کی زندگی میں کون سا راز موجود تھا؟
Sneak
" آپ میری شادی اپنے بھتیجے سے کیسے کر سکتی ہیں جبکہ آپ جانتی ہیں وہ خواجہ ۔۔" اس سے پہلے وہ اپنے الفاظ مکمل کرتی اُسکی سوتیلی ماں نے اُسکے منہ پر تھا پر مارا اور اُسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ "تو کیا تیری جیسی کلموہی کیلئے کسی شہزادے کا رشتہ آتا شکر منا تیری شادی ہو رہی ورنہ کوئی تجھے منہ نہیں لگاتا۔" ثانیہ کے بالوں کو جھٹکے سے چھوڑتی وہ کمرے سے نکلی تھی پیچھے ثانیہ اپنی قسمت پر روتی ماتم کناں تھی اُسکی سانولی رنگت کا ہمیشہ سے مذاق اڑایا گیا تھا لیکن ایک خواجہ سرا سے شادی۔۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ نکاح نامے پر سائن کر چکی تھی شادی کی رات جب برہان عالم کمرے میں داخل ہوا تو ثانیہ دہنگ رہ گئی کیا کوئی خواجہ سرا اتنا حسین ہو سکتا ہے؟؟؟ جان تو تب نکلی جب برہان نے اسے اپنے قریب کرتے اُسکے لبوں پر۔۔اس کے نقوش میں خالص مردانہ پن تھا۔ بس چہرے پر تھپا ہوا میک اپ اور ہو نٹوں پر لگی ہوئی سرخی ہٹائی جاتی تو خوبرو اور وجیہہ مرد دکھائی دیتا۔ لیکن جان تو تب نکلی جب وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے سیاہ رنگ کی پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔ اس کے قریب بیٹھ کر وہ اسے غور سے دیکھنے لگا۔ " دکھ ہو رہا ہے مجھ سے شادی پر؟"۔ وہ گونج دار آواز میں مگر دھیرے سے بول " اس کی تو آواز میں بھی زنانہ پن نہیں ہے "۔ ثانیہ نے سوچا۔ "یقینا ہورہا ہو ہوگا۔ کوئی بات نہیں، تمہارا دکھ ابھی مٹا دیتا ہوں "۔ برہان نے اسے اپنے قریب کرتے اُس کے لبوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے نرم سی سرگوشی کی۔ یہ سانولی سلونی سی لڑکی اس کے جذبات کو بری طرح سے مشتعل کر گئی تھی۔ "پپ۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ دو"۔ وہ خوف زدہ ہو کر منمنائی۔ اسے اس پراسرار سی ہستی سے ڈر لگ رہا تھا اور ساتھ ہی گھن بھی آرہی تھی۔ لیکن وہ ان سنی کرتے ہوئے اسے بانہوں میں بھر کر بیڈ پر گر گیا۔۔۔۔ اور اگلے چند لمحوں میں ثانیہ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ۔۔۔اس کے ساتھ کوئی خواجہ سرا نہیں تھا۔۔۔۔آنکھ کھلی تو نظر بے اختیار ہی سامنے گھڑی کی طرف اٹھی۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ اس نے پہلو میں نگاہ دوڑائی۔ برہان وہاں نہیں تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی کہ دوبارہ نیند تو آنہیں رہیتھی۔ قسمت کے اس عجیب و غریب اتفاق پر اس کا سر چکرا کر رہ گیا تھا۔ آخر ایسا کیا تھا کہ ایک مکمل مرد دوسروں کے سامنے خواجہ سرا کاروپ دھارنے پر مجبور تھا؟ وہ کیا وجہ تھی جس نے اسے یوں رہنے پر آمادہ کیا تھا؟ کیا اسے برا نہیں لگتا ہوگا جب سب اس پر طنز کرتے ہوں گے؟۔۔۔۔ اس کا مذاق اڑاتے ہوں گے؟ کیونکہ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ سوتیلی ماں کو اپنے اس بھتیجے سے کوئی محبت یا لگاؤ نہیں تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک انگریز ماں کا بیٹا تھا۔ اس کے باپ نے ایک انگریز ماں کا بیٹا تھا۔ اس کے باپ نے پاکستان سے باہر ایک غیر ملکی عورت سے کورٹ میرج کر لی تھی اور اسی سے برہان عالم پیدا ہوا تھا۔۔۔۔ باپ کے مرنے پر وہ یہاں آ تو گیا تھا مگر اس خاندان نے اسے شاید اپنا نہیں سمجھا تھا۔ لیکن وہ یوں دہرا روپ کیوں دھارے ہوئے تھا؟ سوچ سوچ کر اس کا سر پھٹنے لگا۔ حلق خشک ہونے لگا تھا مگر سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ قریباً خالی ہو چکا تھا۔ اس نے وہ چند گھونٹ حلق میں اتارے پھر جگ لے کر باہر نکل آئی۔ اسے پانی چاہیے تھا اور وہ کچن میں ہی ملنا تھا۔اس کے کمرے کے برابر والے کمرے میں روشنی ہو رہی تھی اور کوئی دھیمی آواز میں بات بھی کر رہا تھا۔ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔۔۔۔ " اب رات کو کہاں ادھر ادھر کچن ڈھونڈتی پھروں گی؟ اندر یقینا کوئی نہ کوئی جاگ ہی رہا ہے۔ اسی سے پوچھ لیتی ہوں کچن کہاں ہے؟ " ۔ اس نے دستک دینے کو ہاتھ اٹھایا تو پتہ چلا دروازہ ادھ کھلا ہے۔ وہ ہچکچاہٹ کے عالم میں دستک دینے کا سوچ ہی رہی تھی جب ایک دم سے دروازہ کھلا اور وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹی۔ سامنے برہان کھڑا تھا، اسکے ہاتھ میں ایک چھوٹا مگر خوف ناک سا پسٹل تھا اور چہرے پر ایسی وحشت تھی جیسے ابھی چیر پھاڑ دے گا۔ جگ اس کے ہاتھ میں لرز کر رہ گیا۔۔۔۔ اسے دیکھ کر وہ غرایا۔ " تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی؟ اگر کسی کے کمرے میں جانا ہو تو دروازہ ناک کیا کرتے ہیں پتا نہیں تمہیں؟"۔ ثانیہ نے بے اختیار دیوار کا سہارا لیا ورنہ ٹانگوں سے جس طرح جان نکلی تھی ایسا لگتا تھا ابھی کھڑے کھڑے گر جائے گی۔ " وہ۔۔۔ وہ میں۔۔۔ میں پانی ختم ہو گیا تھا تو کچن۔۔ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ " تو یہ تمہیں کچن نظر آرہا ہے؟"۔ برہان عالم نے سابقہ ٹون برقرار رکھی تو وہ روہانسی ہو گئی۔ " " میں نے پوچھنے کے لیے، مجھے لگا کوئی جاگ رہا ہو گا۔" اس کے منہ سے چند بے ربط جملے نکلے۔ ہمت جو جواب دے رہی تھی۔۔۔۔ خوف ناک پستول کا رخ ابھی اسی کی طرف تھا اور جس موڈ میں وہ تھا یوں لگ رہا تھا جیسے کبھی بھی گولی چلا دے گا۔ اس سے پہلے کہ وہ بےہوش ہو کر گرتی، برہان کو شاید اس پر ترس آگیا۔ پستول کو واپس جیب میں رکھتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ سے جگ لے لیا اور کچھ نرم لہجے میں بولا۔ " اندر جاؤ کمرے میں، میں لاتا ہوں پانی،"۔ خود اسنے اس کمرے سے نکال اسے واپس مقفل کر دیا۔ وہ شکر مناتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ جگ میں پانی بھر کر واپس آیا تو وہ سکڑی سیمٹی بیڈ کے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**مجھ کو جو تُو ملا از ریڈرز چوائس** ایک پراسرار، جذباتی اور جبری شادی پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک سانولی رنگت کی لڑکی کو اپنے سوتیلے خاندان کے سخت رویوں اور ایک ایسے شوہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی اصل زندگی کئی سوالات میں گھری ہوئی ہے۔
ثانیہ ایک ایسی لڑکی تھی جسے بچپن سے اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے طنز اور تضحیک برداشت کرنا پڑی تھی۔ اس کی سوتیلی ماں اسے عزت اور محبت دینے کے بجائے بار بار اس کی شکل و صورت کو نشانہ بناتی تھی۔
ثانیہ کی زندگی میں ایک نیا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اس کی سوتیلی ماں نے اس کی شادی اپنے بھتیجے برہان عالم سے طے کر دی۔
ثانیہ کو بتایا گیا تھا کہ برہان خواجہ سرا ہے۔
اس نے اس رشتے پر اعتراض کیا، مگر اس کی سوتیلی ماں نے اس کی بات سننے کے بجائے اسے تھپڑ مارا اور بالوں سے پکڑ کر ذلیل کیا۔
ثانیہ کو یہ احساس دلایا گیا کہ اس کی رنگت کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص اس سے شادی نہیں کرنا چاہے گا۔
یہ الفاظ اس کے لیے شدید تکلیف دہ تھے۔
اسے اپنی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی تھی۔
بالآخر ثانیہ نے اپنی مرضی کے خلاف نکاح نامے پر دستخط کر دیے۔
شادی کی رات جب برہان عالم کمرے میں داخل ہوا تو ثانیہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
برہان ایک خوب صورت اور وجیہہ شخصیت کا مالک تھا۔
اس کے چہرے پر میک اپ اور ہونٹوں پر سرخی موجود تھی، مگر ثانیہ کو اس کی آواز اور شخصیت کے متعلق وہ باتیں درست محسوس نہیں ہو رہی تھیں جو اسے پہلے بتائی گئی تھیں۔
برہان اس کے قریب بیٹھا اور پوچھا کہ کیا اسے اس شادی پر دکھ ہو رہا ہے۔
ثانیہ خوفزدہ تھی اور اس صورتحال کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
برہان کے رویے نے اس کی گھبراہٹ مزید بڑھا دی۔
اس نے برہان سے خود کو چھوڑنے کی درخواست کی، مگر اس نے اس کی بات نظرانداز کی اور جسمانی قربت مسلط کی۔
اسی رات ثانیہ کو معلوم ہوا کہ برہان کے بارے میں اس کے سامنے پیش کی گئی شناخت حقیقت سے مختلف تھی۔
یہ انکشاف اس کے لیے حیران کن تھا۔
رات ڈھائی بجے جب ثانیہ کی آنکھ کھلی تو برہان اس کے قریب موجود نہیں تھا۔
وہ بستر پر بیٹھ کر سوچنے لگی کہ آخر برہان دوسروں کے سامنے ایک مختلف شناخت کیوں اختیار کرتا ہے۔
کیا اس کے پیچھے کوئی مجبوری تھی؟
کیا خاندان میں کوئی ایسا راز موجود تھا جس کے باعث برہان اپنی حقیقت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا؟
ثانیہ کو برہان کے ماضی کے بارے میں کچھ باتیں معلوم تھیں۔
اس کے والد نے پاکستان سے باہر ایک غیر ملکی خاتون سے کورٹ میرج کی تھی اور برہان اسی شادی سے پیدا ہوا تھا۔
والد کی وفات کے بعد برہان پاکستان آیا، مگر خاندان کے رویے سے محسوس ہوتا تھا کہ اسے مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا۔
ثانیہ کو یہ بھی اندازہ تھا کہ اس کی سوتیلی ماں کو برہان سے کوئی خاص محبت یا لگاؤ نہیں۔
یہ تمام باتیں اس کے ذہن میں نئے سوالات پیدا کر رہی تھیں۔
اسی دوران ثانیہ کو پیاس محسوس ہوئی۔
کمرے میں موجود پانی تقریباً ختم ہو چکا تھا، اس لیے وہ جگ اٹھا کر کچن تلاش کرنے کے لیے باہر نکل آئی۔
اس کے کمرے کے برابر والے کمرے میں روشنی جل رہی تھی۔
وہاں سے انگریزی زبان میں کسی کی گفتگو کی آواز آ رہی تھی۔
ثانیہ نے سوچا کہ شاید وہاں موجود شخص سے کچن کا راستہ پوچھ لیا جائے۔
وہ ابھی دروازے پر دستک دینے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھل گیا۔
سامنے برہان عالم کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھا اور چہرے پر شدید غصہ نمایاں تھا۔
ثانیہ اسے اس حالت میں دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی۔
برہان نے سخت لہجے میں اس سے پوچھا کہ وہ دوسرے کے کمرے میں بغیر دستک دیے کیوں آ رہی تھی۔
ثانیہ نے گھبراتے ہوئے بتایا کہ اسے پانی چاہیے تھا اور وہ کچن تلاش کر رہی تھی۔
مگر برہان کے ہاتھ میں موجود پستول اور اس کا سخت رویہ اسے مزید خوفزدہ کر رہا تھا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے بے ہوش ہو جائے گی۔
کچھ دیر بعد برہان نے پستول اپنی جیب میں رکھ لیا۔
اس نے ثانیہ کے ہاتھ سے پانی کا جگ لیا اور اسے اپنے کمرے میں واپس جانے کا حکم دیا۔
ثانیہ فوراً وہاں سے چلی گئی۔
وہ اپنے بستر کے ایک کونے میں خوفزدہ بیٹھی تھی جب برہان پانی سے بھرا جگ لے کر واپس آیا۔
اس مختصر واقعے نے ثانیہ کے ذہن میں برہان کے بارے میں مزید شکوک پیدا کر دیے۔
آخر برہان رات کے وقت پستول لے کر کس سے بات کر رہا تھا؟
اس کی اصل شناخت چھپانے کی کیا وجہ تھی؟
کیا اس کے خاندان میں کوئی ایسا راز تھا جس سے ثانیہ ابھی تک لاعلم تھی؟
اور کیا ثانیہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی میں اپنے لیے تحفظ اور اختیار حاصل کر سکے گی؟
**مجھ کو جو تُو ملا** جبری نکاح، ظاہری رنگت کی بنیاد پر امتیازی سلوک، سوتیلے رشتوں کی سختی، خفیہ شناخت اور خاندانی رازوں پر مبنی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**مجھ کو جو تُو ملا** ثانیہ اور برہان عالم کی کہانی ہے، جن کا نکاح ایسے حالات میں ہوتا ہے جہاں ثانیہ کی مرضی کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
ثانیہ ایک سانولی رنگت کی لڑکی ہے جسے بچپن سے اپنی شکل و صورت کی وجہ سے طنز برداشت کرنا پڑا ہے۔
اس کی سوتیلی ماں اس کے ساتھ سخت رویہ رکھتی ہے اور اس کی شادی اپنے بھتیجے برہان عالم سے طے کر دیتی ہے۔
ثانیہ کو بتایا جاتا ہے کہ برہان خواجہ سرا ہے۔
وہ اس رشتے پر اعتراض کرتی ہے، لیکن اس کی سوتیلی ماں اسے تشدد اور تضحیک کا نشانہ بناتی ہے۔
آخرکار ثانیہ اپنی مرضی کے خلاف نکاح نامے پر دستخط کر دیتی ہے۔
شادی کی رات برہان کو دیکھ کر وہ حیران رہ جاتی ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ برہان کی شخصیت اور اس کے بارے میں بتائی گئی باتوں میں فرق ہے۔
برہان کا رویہ بھی اسے خوفزدہ کرتا ہے اور وہ اس کی جسمانی قربت سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔
اسی رات ثانیہ کو برہان کی شناخت کے متعلق ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
بعد میں جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو برہان کمرے میں موجود نہیں ہوتا۔
ثانیہ سوچنے لگتی ہے کہ آخر وہ دوسروں کے سامنے اپنی شناخت مختلف کیوں ظاہر کرتا ہے۔
اسے معلوم ہوتا ہے کہ برہان کے والد نے ایک غیر ملکی خاتون سے شادی کی تھی اور والد کی وفات کے بعد برہان پاکستان آیا تھا۔
رات کو پانی تلاش کرتے ہوئے ثانیہ کو برابر والے کمرے سے انگریزی میں گفتگو کی آواز سنائی دیتی ہے۔
وہ کچن کا راستہ پوچھنے کے لیے وہاں جاتی ہے تو اچانک برہان پستول کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔
اس کا غصہ اور سخت لہجہ ثانیہ کو خوفزدہ کر دیتا ہے۔
ثانیہ وضاحت کرتی ہے کہ وہ صرف پانی لینے نکلی تھی۔
کچھ دیر بعد برہان پستول رکھ کر اسے واپس کمرے میں بھیج دیتا ہے اور خود پانی کا جگ بھر کر لے آتا ہے۔
اب ثانیہ کے سامنے برہان کی پراسرار زندگی کے کئی سوالات موجود ہیں۔
کیا اسے برہان کی اصل حقیقت معلوم ہو سکے گی؟
اور اس شادی کے پیچھے کون سے خاندانی راز چھپے ہیں؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053?
Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053 is written by Readers Choice.
Is Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053 complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.
Where can I read Mujh Ko Jo Tu Mila Novel21053?
The reading content is available in the Read online section of this page.