Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan
Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan
By HM Novels
فاریہ احمد نے بچپن سے اپنے خاندان کے مردوں کے ظالمانہ رویے دیکھے تھے، اسی لیے وہ کسی مرد پر اعتماد نہیں کرتی تھی۔ یونیورسٹی میں جب زوریز خان نے اسے محبت کا اظہار کیا تو اس نے انکار کر دیا، مگر زوریز کے مسلسل محبت کے دعووں نے بالآخر اس کا دل بدل دیا۔ وہ اس کے ساتھ نکاح کے لیے تیار ہو گئی۔ لیکن نکاح سے صرف ایک دن پہلے فاریہ نے زوریز کو فون پر کہتے سنا کہ وہ اس کے لیے محض ایک ضد ہے اور نکاح کے بعد سب کے سامنے طلاق دے کر اسے مسترد کیے جانے کا بدلہ لے گا۔ یہ حقیقت جان کر فاریہ ٹوٹ گئی اور نکاح سے پہلے اچانک غائب ہو گئی۔ کیا زوریز کو اپنے فیصلے کی سنگینی کا احساس ہوگا؟
Sneak
" وہ میری ضد ہے صرف۔ کل نکاح ہو جائے اسے سب کے سامنے طلاق دوں گا تا کہ اسے اندازہ ہو اس نے کس کو ریجیکٹ کیا تھا۔" زوریز خان فون پر مصروف کسی سے بات کر رہا تھا جب کہ اسے نکاح کا ڈریس دکھانے پر دروازے پر کھڑی فاریہ پتھر ہوئی تھی۔ اس نے بچپن سے اپنے خاندان کے مردوں کو بہت ظالم دیکھا تھا وہ اپنی زندگی میں کسی مرد کو نہیں چاہتی تھی تبھی اس نے زوریز خان کو ریجیکٹ کیا تھا۔۔۔ لیکن پھر زور یزخان کے مستقل محبت کا یقین دلانے پر وہ مان گئی تھی۔ اس کی زندگی میں آنے والا وہ پہلا مرد تھا پر اب حقیقت جاننے پر وہ روتے ہوئے قدم پیچھے لے گئی تھی۔ نکاح سے ایک دن پہلے وہ سب کچھ چھوڑ کہاں غائب ہو گئی تھی جبکہ ایک مرتبہ پھر۔۔۔۔۔۔زوریز خان کی صبح ہمیشہ کی طرح دیر سے شروع ہوئی۔ رات گئے تک دوستوں کے ساتھ گیمنگ کرنے کی عادت نے اسے صبح کی کلاسز سے تقریباً بیگانہ کر دیا تھا، مگر آج وہ وقت پر پہنچا تھا۔ صرف اس لیے کہ آج کینٹین میں ایک خاص "میٹنگ" رکھی گئی تھی جس کا مقصد کسی نئے پروجیکٹ یا اسائنمنٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کینٹین کے کونے والی میز، جو ہمیشہ زوریز اور اس کے دوستوں کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھی۔۔۔۔حمزہ، دانیال، عمر، اور بلال، چاروں کسی سازش بھری خوشی سے مسکرا رہے تھے۔ "کیا بات ہے؟" زوریز نے کرسی کھینچتے ہوئے پوچھا " تم سب لوگ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو جیسے کوئی نیا شکار ڈھونڈ لیا ہو؟ "حمزہ نے میز پر جھکتے ہوئے کہا، " بالکل ٹھیک الفاظ استعمال کیے تم نے۔ شکار۔ '' مطلب؟" دانیال نے فون نکال کر ایک تصویر دکھائی۔ایک لڑکی، سادہ سے کپڑوں میں، سر جھکائے کسی کتاب میں گم، بیک گراؤنڈ میں یونیورسٹی کا لان۔۔۔" فاریہ احمد۔۔۔۔ فائنل ایئر۔ جانتے ہو اس کی خاصیت کیا ہے؟" " کیا؟" زوریز نے بے دلی سے پوچھا، ابھی تک اسے کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ " وہ کسی لڑکے سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔ کسی کو لفٹ نہیں کراتی۔ پچھلے تین سالوں میں کم از کم دس لڑکوں نے اسے پرروپوز کیا، سب کو صاف انکار ملا۔۔۔۔ بعض کو تو ایسا جواب ملا کہ وہ دوبارہ اس کے آس پاس بھی نہیں بھٹکتے۔ عمر نے بات جاری رکھی، "وہ اپنے آپ کو کسی قلعے کی طرح بند رکھتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا وجہ کیا ہے۔ بس اتنا سب کو معلوم ہے کہ اس کی برف پگھلنا ناممکن ہے۔ زوریز نے کندھے اچکائے۔ "تو؟ مجھے کیوں بتا رہے ہو یہ سب؟" بلال نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "کیونکہ ہم نے سوچا، اگر کوئی اس ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے، تو وہ صرف تم ہو۔" میز پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔۔۔۔زوریز نے سر ہلایا، تم لوگ سنجیدہ نہیں ہو سکتے۔" بالکل سنجیدہ ہیں،" حمزہ نے کہا، "ایک شرط ہے۔ اگر تم نے فاریہ احمد کو پروپوز کر کے ہاں سنی، تو ہم سب مل کر تمہیں وہ نئی گیمنگ سیٹ اپ لے کر دیں گے جس کا تم مہینوں سے رونا رو رہے ہو۔ ہو۔ اور اگر تم ناکام رہے۔۔۔ تو اگلے چھ مہینے تمہیں ہمار اسائنمنٹ کا کام کرنا پڑے گا۔" زوریز کے چہرے پر وہ مخصوص مسکراہٹ ابھری، جو اس کے دوست خوب پہچانتے تھے۔ وہ مسکراہٹ جو ہمیشہ کسی نئے چیلنج سے پہلے آتی۔۔۔۔ " یہ تو بچوں کا کھیل ہے۔ ٹھیک ہے، منظور۔ ایک ہفتہ دو مجھے۔"اس وقت زوریز خان کو ذرا برابر اندازہ نہیں تھا کہ جس بات کو وہ محض ایک مذاق، ایک شرط، ایک دلچسپ چیلنج سمجھ رہا ہے، وہ کسی اور کی زندگی کو کس حد تک متاثر کرنے والی ہے۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**تجھ سے محبت تک از ایچ ایم ناولز** ایک جذباتی، یونیورسٹی رومانس، دھوکے اور انتقام پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں محبت پر یقین نہ کرنے والی ایک لڑکی کو ایسے شخص پر بھروسا کرنا پڑتا ہے جو ابتدا میں اسے محض ایک شرط سمجھتا ہے۔
فاریہ احمد ایک سنجیدہ، خوددار اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے والی لڑکی تھی۔ وہ یونیورسٹی کے آخری سال میں زیرِ تعلیم تھی اور اپنی پڑھائی پر توجہ دینا پسند کرتی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو اسے دوسری لڑکیوں سے مختلف بناتی تھی۔
یونیورسٹی میں بہت سے لڑکے اسے پسند کرتے تھے، مگر فاریہ کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ گزشتہ تین برسوں میں کئی لڑکے اسے محبت کا اظہار کر چکے تھے، لیکن ہر بار انہیں صاف انکار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس کے اس رویے کے پیچھے ایک تکلیف دہ وجہ موجود تھی۔
فاریہ نے بچپن سے اپنے خاندان کے مردوں کو سخت اور ظالم رویے اختیار کرتے دیکھا تھا۔ انہی تجربات نے اس کے دل میں مردوں کے لیے بے اعتمادی پیدا کر دی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں کسی ایسے رشتے کو جگہ نہیں دینا چاہتی تھی جو اسے مزید تکلیف پہنچا سکے۔
دوسری طرف زوریز خان ایک خوش حال، بے فکر اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے والا یونیورسٹی طالب علم تھا۔ اسے رات گئے تک گیمنگ کرنے کا شوق تھا، جس کی وجہ سے اکثر صبح کی کلاسز میں دیر سے پہنچتا تھا۔
ایک دن اس کے دوستوں حمزہ، دانیال، عمر اور بلال نے یونیورسٹی کی کینٹین میں ایک خاص ملاقات رکھی۔
انہوں نے زوریز کو فاریہ احمد کی تصویر دکھائی اور بتایا کہ وہ یونیورسٹی کی ایسی لڑکی ہے جس نے آج تک کسی لڑکے کی محبت قبول نہیں کی۔
زوریز کو ابتدا میں اس بات میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہوئی، مگر اس کے دوستوں نے اسے ایک چیلنج دے دیا۔
شرط یہ تھی کہ اگر زوریز فاریہ کو محبت کا اظہار کر کے اس کی رضامندی حاصل کر لیتا تو اس کے دوست اسے وہ نیا گیمنگ سیٹ اپ خرید کر دیتے جس کی خواہش وہ کئی مہینوں سے کر رہا تھا۔
اور اگر وہ ناکام رہتا تو اسے اگلے چھ ماہ تک اپنے دوستوں کے اسائنمنٹس مکمل کرنے پڑتے۔
زوریز نے اس شرط کو ایک آسان کھیل سمجھ کر قبول کر لیا۔
اس نے اپنے دوستوں سے صرف ایک ہفتے کا وقت مانگا۔
اس لمحے اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس لڑکی کو وہ محض ایک چیلنج سمجھ رہا ہے، اس کی زندگی میں اس کی یہ حرکت کتنی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
فاریہ کے لیے کسی مرد کی محبت قبول کرنا آسان نہیں تھا۔
وہ پہلے ہی زوریز خان کو مسترد کر چکی تھی، کیونکہ وہ اپنے ماضی کے تجربات کی وجہ سے کسی مرد پر اعتماد نہیں کرنا چاہتی تھی۔
لیکن زوریز نے مسلسل اسے اپنی محبت کا یقین دلایا۔
اس کے بار بار اصرار اور محبت کے دعووں نے بالآخر فاریہ کے دل میں اس کے لیے جگہ بنا دی۔
وہ شخص جسے فاریہ نے اپنی زندگی سے دور رکھنا چاہا تھا، آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا پہلا اہم مرد بن گیا۔
فاریہ نے اپنے خوف اور بے اعتمادی کے باوجود اس کے ساتھ نکاح پر رضامندی ظاہر کر دی۔
مگر نکاح سے صرف ایک دن پہلے اس کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس کا بھروسا توڑ دیا۔
فاریہ زوریز کو نکاح کا لباس دکھانے کے لیے اس کے کمرے کے دروازے تک پہنچی تھی۔
وہاں اس نے زوریز کو فون پر کسی سے بات کرتے سنا۔
زوریز کہہ رہا تھا کہ فاریہ اس کے لیے صرف ایک ضد ہے۔
اس کا ارادہ تھا کہ وہ اگلے دن اس سے نکاح کرے گا اور پھر سب کے سامنے اسے طلاق دے دے گا، تاکہ فاریہ کو اندازہ ہو کہ اس نے کس شخص کو مسترد کیا تھا۔
یہ الفاظ فاریہ کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھے۔
جس شخص کی محبت پر وہ اپنے تمام خدشات کے باوجود یقین کر بیٹھی تھی، وہی شخص اس کی عزت اور جذبات کو انتقام کا ذریعہ بنانا چاہتا تھا۔
فاریہ دروازے پر ساکت کھڑی رہ گئی۔
اس کے لیے یہ جاننا ناقابلِ برداشت تھا کہ زوریز کے محبت بھرے وعدوں کے پیچھے ایک اور نیت چھپی ہوئی تھی۔
اس نے بچپن سے جن تلخ رویوں سے بچنے کی کوشش کی تھی، اب اسے ایک بار پھر اسی قسم کی بے رحمی کا سامنا تھا۔
وہ روتے ہوئے وہاں سے پیچھے ہٹ گئی۔
اور پھر نکاح سے صرف ایک دن پہلے فاریہ اچانک غائب ہو گئی۔
اس نے کہاں جانے کا فیصلہ کیا، وہ کس حال میں تھی اور اس کے غائب ہونے پر زوریز کا ردعمل کیا ہوگا، یہ ابھی سامنے آنا باقی تھا۔
کیا زوریز کے لیے فاریہ واقعی صرف ایک ضد تھی؟
کیا اسے اپنی حرکت کے نتائج کا احساس ہوگا؟
اور کیا فاریہ دوبارہ کسی پر اعتماد کر سکے گی؟
**تجھ سے محبت تک** ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو محبت سے خوفزدہ تھی، مگر جب اس نے اعتماد کرنے کی ہمت کی تو اسے ایک تکلیف دہ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
Summary — Urdu
**تجھ سے محبت تک** فاریہ احمد اور زوریز خان کی کہانی ہے، جس کا آغاز یونیورسٹی میں دوستوں کی ایک شرط سے ہوتا ہے۔
فاریہ ایک سنجیدہ اور خوددار لڑکی ہے جو اپنے خاندان کے مردوں کے سخت رویوں کی وجہ سے کسی مرد پر بھروسا نہیں کرتی۔ یونیورسٹی میں کئی لڑکے اسے محبت کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ انہیں مسترد کرتی رہی ہے۔
دوسری طرف زوریز خان اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے اور گیمنگ کا شوق رکھنے والا نوجوان ہے۔
ایک دن اس کے دوست حمزہ، دانیال، عمر اور بلال اسے چیلنج دیتے ہیں کہ وہ فاریہ احمد کو محبت کا اظہار کر کے اس کی رضامندی حاصل کرے۔
کامیابی کی صورت میں اسے نیا گیمنگ سیٹ اپ ملنا ہوتا ہے، جبکہ ناکامی پر چھ ماہ تک دوستوں کے اسائنمنٹس مکمل کرنے کی شرط رکھی جاتی ہے۔
زوریز اس چیلنج کو قبول کر لیتا ہے۔
فاریہ ابتدا میں اسے مسترد کرتی ہے، مگر زوریز کے مسلسل محبت کے دعووں پر بالآخر اس پر اعتماد کرنے لگتی ہے۔
وہ اپنے ماضی کے خوف کے باوجود زوریز سے نکاح کے لیے رضامند ہو جاتی ہے۔
لیکن نکاح سے ایک دن پہلے فاریہ اتفاقاً زوریز کی فون پر ہونے والی گفتگو سن لیتی ہے۔
زوریز کہہ رہا ہوتا ہے کہ فاریہ اس کے لیے صرف ایک ضد ہے اور وہ نکاح کے بعد اسے سب کے سامنے طلاق دے کر اپنے مسترد کیے جانے کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔
یہ سن کر فاریہ شدید صدمے میں آ جاتی ہے۔
جس شخص کو اس نے اپنی زندگی میں جگہ دی تھی، وہی اس کے اعتماد کو توڑنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
فاریہ روتے ہوئے وہاں سے چلی جاتی ہے اور نکاح سے ایک دن پہلے اچانک غائب ہو جاتی ہے۔
کیا زوریز کو فاریہ کے غائب ہونے کی اصل وجہ معلوم ہوگی؟
کیا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟
اور فاریہ کی زندگی اب کیا رخ اختیار کرے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan?
Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan is written by HM Novels.
Is Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Betrayal and Complete Urdu Novel.
Where can I read Tujh Sy Muhabbat Tak Novel21038 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.