Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
By Eesha Hussain
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Sneak
" کہاں ہے وہ سفاک آدمی جو سب کی جان لیتا ہے میری بھی جان لے لے۔" وہ سڑک پر ویل چیئر پر موجود چلّا رہی تھی۔ یکلخت پیچھے سے کوئی بولا۔ "میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ تم نے مجھے پہلے انکار کیا مگر اب تمہیں میں اپنی دنیا میں لے جاؤں گا۔۔۔حور! " وہ سرد لہجے میں کہتا اس کی جانب بڑھنے لگا۔ پہلے وہ اس لڑکی کو ختم کرنے والا تھا کیونکہ وہ اس کے جرم کی گواہ تھی۔ حورین دہشت زدہ تھی کیونکہ اس نے اسے قتل کرتے دیکھا تھا اور اب وہ سامنے تھا۔ " کیا ہوا؟ ڈر گئی؟ ابھی تو پکار رہی تھی اپنی موت کو۔۔۔" بہزاد طنزیہ ہنسا کہ حورین کا سر لڑھک گیا۔ ویل چیئر پر بیٹھی معصوم لڑکی۔۔۔ وہ آج سب چیزوں سے دلبرداشتہ ہوچکی تھی۔آنسو اپنے ہاتھوں سے رگڑتے وہ دور تک آچکی تھی۔اس کے علاج پر اتنا پیسہ خرچ ہو رہا تھا اس نے گھر میں لڑ کر اپنا علاج ہی کروانا بند کرنے کا کہ دیا تھا۔ پچھلے مہینے ایک ایکسیڈینٹ میں اس کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ وہ ویل چیئر پر موجود تھی۔اس کا کالج کا آخری سال تھا ایسے میں یہ ہونا اسے اندر سے توڑ گیا تھا۔وہ ویل چیئر چلاتے ہوئے کالج میں لڑکیوں کے اس سے دور ہونے پر کالج سے یہاں چلی آئی تھی۔اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ دن کے وقت یہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر وہ پتھرا گئی۔ ایک آدمی دس گارڈز کے بیچ دوسرے آدمی کے سر پر گن تھامے کھڑا تھا۔اگلے ہی لمحے وہ آدمی زمین پر گر چکا تھا۔گولی کی آواز نہیں آئی مگر خون اردگرد پھیل چکا تھا۔ بہزاد زیدی جس کے نام سے بھی دنیا کانپتی تھی اپنی گن اسی آدمی کی شرٹ سے صاف کرتے ہوئے اٹھا اور گن ہوسٹلر میں لگائی۔اس کی نظر سامنے گئی جہاں وہ سن سی موجود تھی۔ دھوپ کی چمک سے حورین کا چہرہ الگ ہی چمک رہا تھا۔سیاہ بالوں کو ہونی کی صورت میں باندھا ہوا تھا اس کے چہرے پر پیسنے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔بہزاد اس کے سامنے آچکا تھا۔گارڈز اب اس آدمی کی لاش کو اٹھا رہے تھے جیسے وہ کوئی کھلونا ہوا۔ "کیا ہوا یہاں کچھ ہوا ہے کیا؟ ۔۔تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔"وہ عام سے انداز میں پوچھ رہا تھا جیسے کچھ ہوا نا ہو۔اس نے چٹکی بجا کر حورین کی توجہ لاش سے ہٹا کر اپنی جانب کھینچی۔وہ حورین کے سامنے کھڑا ہوا تو دھوپ کا راستہ رک گیا۔ "تم نے کیا دیکھا بتاؤ مجھے ۔۔۔"وہ مکمل اس پر جھکا دھاڑا۔حورین کی آنکھیں آنسؤں سے بھر چکی تھیں۔اس کا جسم ہولے ہولے کانپنے لگا تھا۔پس منظر میں وہ گارڈز آدمی کو گاڑی میں ڈال رہے تھے۔اس کا خون ہر جگہ پھیلا ہوا تھا۔ "میں نے کچھ نہیں۔۔۔۔" "جھوٹ۔۔۔صاف جھوٹ تمہارے سفید پڑتے چہرے سے ظاہر ہو رہا ہے مجھے سچ سننا ہے لڑکی۔مجھے جھوٹ پسند نہیں ہے ۔۔"وہ نزدیک ہوا۔اس کی نزدیکی اور کپڑوں سے اٹھتی کہوں کی تیز مہک حورین کا سر چکرانے کے لئے کافی تھے۔حورین نے اسے دیکھا شاید اس کی حالت کی وجہ سے لوگوں کی طرح وہ رحم ہی رکھا دے مگر کو اس نے رحم بھی نہیں کھایا۔اس کی نگاہوں میں ایسا کوئی تاثر ہی نہیں تھا جو حورین ایک مہینے سے لوگوں کی آنکھوں میں دیکھتی آ رہی تھی۔ "میں نے قتل دیکھا۔۔۔۔"وہ گھبراہٹ میں بول چکی تھی۔ "لیکن تمہیں دیکھنا نہیں چاہئے تھا۔۔تمہیں نگاہیں ہٹا لینی چاہیئے تھی۔لٹل۔گرل۔۔۔تمہارے اسکول ٹائم میں یہ دیکھنا نہیں چاہیئے تھا۔۔" "میں کالج جاتی ہوں۔۔میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔۔"اس کی ہتھیلیاں بھیگ چکی تھی۔ اس کی بات پر ایک پل کے لئے بہزاد چونکا۔حورین کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگ سکتا تھا کہ وہ کالج میں ہے۔ ،"تم بتاؤ گی تم جیسی اچھی بچی قانون کو بہت کچھ سمجھتی ہے مگر دیکھو حورین۔میں اس آدمی کی طرح تمہیں بھی مار سکتا ہوں اور کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔۔"وہ حورین کے گلے میں پہنی اس کی نام والی چین سے اس کا نام دیکھتے ہوئے بولا۔ "میں نہیں بتاؤں گی مجھے جانے دیں میں وعدہ کرتی ہوں۔۔"موت کا خوف اس پر غالب آگیا۔اس کی آنکھیں خوف سے بھر چکی تھی یہ نظارہ بہزاد کے لئے دلچسپ تھا۔وہ سہمی سی چڑیا کی مانند اس کے سامنے موجود تھی۔ "وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔۔تم نے بتایا اگر تو جانتی ہو کیا ہوگا تم اور تمہارے گھر والے کہیں گھومنے جا رہے ہوگے اور ایکسیڈینٹ ہو جائے گا۔"وہ پر اسرار انداز میں بولتا اسے اچھا خاصا ڈرا چکا تھا۔ وہ حورین کو مارنا چاہتا تھا تاکہ کوئی ثبوت نا رہے مگر اس کا اصول تھا بے بس عورتوں اور بچوں کو وہ سب کو انوالو نہیں کرتا تھا۔آخری مافیا کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ "میں نہیں بتاؤں گی۔۔انکل۔۔کسی کو نہیں بتاؤں گی۔۔"وہ چہرہ چھپا کر رونے لگی تھی کیونکہ بہزاد کے سخت تاثرات اس کی روح فنا کر رہے تھے۔ بہزاد چونکا پہلی بار اسے کسی نے انکل کہا تھا۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں اس کے آدمی لاش کو ٹھکانے لگا چکے تھے۔ "دعا کرنا ہماری پھر ملاقات نا ہو۔۔۔"اس نے کھینچ کر حورین کے گلے سے اس کی چین لی ۔اس کے ہاتھ لگانے کی دیر تھی کہ حورین کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔بہزاد نے پہلی بار کسی لڑکی کا ایسے سامنا کیا تھا۔اس نے اپنے ایک آدمی کو بلایا اور حورین کو واپس چھوڑنے کی ہدایت کی۔ناجانے اس نے یہ کیوں کیا تھا وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ "مجھے اپنا گھر واپس چاہیئے۔اپ ہمارے بابا کے دوست تھے مگر آپ نے جو کیا وہ اچھا نہیں تھا۔"وہ شبیر خان کے آفس میں کھڑی تھی۔ "دیکھو لڑکی تمہارے باپ نے خود مجھے سربراہ بنا کر آخری وقت میں میرے نام کیا تھا گھر اور کچھ شیئرز۔اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔تمہاری بہن اور تمہارے پاس صرف ایک مہینے کا وقت ہے۔گھر خالی کردو جلد از جلد ورنہ پھر لوگ سامان اٹھا کر پھینکیں گے اور مجھے پھر اچھا نہیں لگے گا۔"شبیر نے اسے صاف منع کردیا تھا وہ جانتا تھا یہ دو لڑکیاں اس کا کچھ نہیں کر سکتیں۔ "ہمارے پاس کوئی رہنے کی جگہ نہیں ہیں ہم کہاں جائیں گے۔۔۔اپ ہمارے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے میں آپ کی کمپلین پولیس میں کر دوں گی۔۔"اس نے اب دھمکی دی ورنہ وہ کبھی کسی سے ایسے بات نہیں کرتی تھی۔اس کا دل دھڑک رہا تھا مگر وہ ہانیہ کو روتے دیکھ کر خود کو روک نہیں پائی تھی ۔ "شوق سے جاؤ لیکن تم میرا کچھ نہیں کر سکتیں کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ گھر میں نے بیچ دیا ہے ۔بہزاد زیدی کو۔اسے شاید تم جانتی ہی ہوگی۔مافیا باس ہے وہ۔پولیس اس سے ڈرتی ہے تو سوچ لو تم اس سے کیسے حاصل کر سکتی ہو یہ گھر۔۔اب تم فلحال کے لئے جا سکتی ہو لڑکی۔۔" حورین نے بہزاد کے بارے میں نیوز میں سنا تھا۔۔شرافت کا لبادہ اوڑھے وہ سارے برے کام کرتا تھا۔موت اس کا دوسرا نام تھا۔ "آپ نے اس سے جھوٹ بولا۔اسے کچھ نہیں پتا وہ دھوکا برداشت نہیں کرتا یہ بھی میں نے سنا ہے۔۔" "اسے بتائے گا کون؟ تم؟ جو خود ایک چیئر پر موجود ہے۔میری بات مانو تو اپنی جان بچاؤ کیونکہ اس کے آدمی اگر تمہارا سامان خالی کرنے آئے تو شاید ہی وہ تمہیں زندہ چھوڑیں۔ وہ تم سے ملے گا؟ ہا ہا ہا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس کی دنیا بالکل الگ ہے اس سے بات کرنے سے مرنے سے پہلے انسان مرنے کا سوچ لے تو بہتر ہے۔" "آپ کو خدا لازمی سزا دے گا۔۔ہم یتیم لڑکیوں کے ساتھ جو آپ نے کیا ہے اس کی سزا آپ کو لازمی ملے گی۔"وہ اپنی آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو ہاتھ کی مدد سے رگڑتی آفس سے باہر آچکی تھی۔اس نے باہر آکر گہری سانس لی۔ ہانیہ کی پریشانی اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ ہانیہ کے ساتھ کھڑی رہنا چاہتی تھی اس پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔اس کے لئے اپنی زندگی تو بیکار تھی مگر اس کی بہن کے آگے پوری زندگی پڑی تھی۔وہ ایسے ہار مان لیتی تو ہانیہ کا کیا ہوتا۔ہانیہ کی طرح وہ جاب بھی نہیں کر سکتی وہ تو خود کو اس پر بوجھ سمجھتی تھی۔ اس نے اپنا موبائل نکالا۔سرچ کرنے پر بہزاد کی کمپنی کا پتا مل چکا تھا۔اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا اگر وہ اسے جان سے مار دیتا تو مار دیتا مگر وہ آخری حد تک کوشش کرنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے موبائل پر دیکھا اور اپنی دوست کو کال کی۔اس کے ساتھ وہ بہزاد کے آفس پہنچ چکی تھی۔ اس کی دوست اس کے ساتھ ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد جا چکی تھی۔اکثر اسے کہیں جانے کے لئے کسی نا کسی کی ضرورت پڑتی تھی۔ اسے یہاں بیٹھے شام ہوچکی تھی۔ریسپیشن پر موجود لڑکی نے اسے بہزاد سے ملنے نہیں دیا تھا۔بہزاد کی کمپنی کا نمبر بند جا رہا تھا ایسے میں وہ صرف اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر سکتی تھی۔ بہزاد اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے باہر نکلا۔گرے رنگ کے کوٹ میں ملبوس وہ ہاتھوں میں سگریٹ کا دھواں چھوڑتا جا رہا تھا۔ حورین نے ایک نظر اسے دیکھا وہ ایک لمحے میں اسے پہچان چکی تھی۔اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا بہزاد کی نظر اس پر پڑ چکی تھی وہ یہاں سے چاہ کر بھی بھاگ نہیں سکتی تھی۔بہزاد نے چونک کر اسے دیکھا۔اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو جانے کا ک کر وہ حورین کے قریب آیا۔حورین کی گرفت ایک چیئر پر مضبوط ہوئی۔ "تم یہاں کیا کر رہی ہو لٹل گرل۔۔کہیں تم مجھے اس واقعے کے لئے دھمکانے تو نہیں آئی ہو یا کچھ اور۔۔تمہیں یاد تو نہیں ہے کچھ اس بارے میں "اس نے دھواں حورین کے چہرے پر چھوڑا۔ "میں یہاں بہزاد زیدی سے ملنے آئی ہوں۔۔"اسے کہیں نا کہیں اندازہ تھا اس کی شاہانہ چال سے کہ وہ ہی یہاں کا مالک ہے۔ "میں ہی ہوں جانتی تو ہو مجھے۔۔مگر تمہیں کچھ یاد تو نہیں ہے پھر یہاں کیوں آئی ہو۔۔"بہزاد کا فوکس حورین کے چہرے پر تھا۔وہ دلچسپی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے رہا تھا۔ "میرے آفس میں چل کر بات کرلیتے ہیں۔۔۔"اس نے ریپسشن پر کھڑی لڑکی کو اشارہ کیا تو وہ حورین کو اندر آفس میں لے آئی وہ خود حیران تھی کیونکہ پہلی بار کوئی لڑکی وہ بھی اپاہج اس کے آفس میں بغیر کسی اپائنٹمنٹ کے آئی تھی۔ "میں آپ کے بارے میں بات کرنے نہیں آئی آپ کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔۔جو گھر آپ نے حال ہی میں خریدا ہے وہ ہمارا ہے۔مجھے اب وہ گھر واپس چاہیئے کیونکہ اس کے اصلی کاغذات میرے پاس ہیں جو آپ کے پاس ہیں وہ نقلی ہیں۔ ۔۔" "تمہارا گھر وہ میرے انڈر آتا ہے اس آدمی نے یہ گھر مجھے بیچ دیا تھا۔۔"وہ پیپر ویٹ کو گھماتے ہوئے بولا۔اس کے گارڈز دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ایک لڑکی جو چل نہیں سکتی تھی اس سے بہزاد زیدی بات کر رہا تھا بلکہ اس کی ان بھی رہا تھا ورنہ پہلے اس کی گن بات کرتی تھی پھر اس کے منہ سے الفاظ نکلتے تھے۔ "وہ گھر۔۔۔وہ۔۔۔"اس کی آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی مگر اس نے خود پر ضبط کیا۔اسے مضبوط رہنا تھا۔ "وہ گھر میرا اور میری بہن کا ہے۔اس آدمی نے جھوٹ بولا ہے۔۔۔"وہ اٹک اٹک کر بولی۔ "اس نے مجھ سے دھوکا کیا ہے تو اسے اس کی ہوشیاری کی سزا مل جائے گی مگر گھر تمہیں واپس نہیں مل سکتا۔" "پلیز۔۔آپ اسے واپس ہمیں دے دیں۔میں پیسے دینے کو تیار ہوں۔۔" "جانتی بھی ہو جتنی رقم ادا کی ہے میں نے اس گھر کی۔پھر تم کیا کروگی پیسے جمع کرنے کے لیے ایسے تو ساری زندگی گزر جائے گی۔۔ مجھے بدلے میں کیا ملے گا اگر میں تمہارے لئے اتنا کروں تو۔۔۔"اس نے دلچسپی سے حورین کو دیکھا جس کی پلکوں کا گرنا اٹھنا ایک الگ ہی نظارہ پیش کر رہا تھا۔ "آپ کے پیسے میں جلد واپس کردوں گی پلیز۔۔اپ تو بہتر امیر ہیں۔اور وہ گھر تو ہے ہی میرا اور میری بہن کا۔۔" "ہا ہا ہا مگر اب وہ میری ملکیت ہے پیسے دے کر خریدا ہے میں نے۔۔" "میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں پر مجھے وہ گھر چاہیئے وہی ہمارا آخری سہارا ہے۔۔" وہ جانتی تھی مقابل اپنی بے رحمی کی وجہ سے مشہور ہے اور اس کا نمونہ بھی وہ دیکھ چکی تھی۔ "کچھ بھی کرنے کو تیار ہو۔۔۔ویسے تمہیں زندہ چھوڑ کر میں نے ٹھیک کیا تھا۔تم نے تو اپنی زبان کھولی نہیں ۔لیکن اس بات کی وجہ سے میں اتنا بڑا گھر تو تمہیں نہیں دے سکتا ۔۔"وہ حورین کی ایک چیئر کے گرد دونوں ہاتھ ٹکا کر بولا۔ "ٹھیک ہے۔۔۔"وہ مایوس ہوچکی تھی اس کے قریب آنے سے وہ سانس بھی روک چکی تھی۔ "سانس لے لو کہیں ایسا نا ہو مرجاؤ پھر پہلی بار بغیر کچھ کئے قتل کا الزام بھی میرے سر ہی آئے گا۔۔" "مجھے جانے دیں۔۔۔" "میں نے کہا تھا دوبارہ میرے سامنے مت آنا؟ کیوں ائیں۔۔۔" "مجھے نہیں پتا تھا یہ آپ کا۔۔۔" "شش۔۔۔میری بات کی نفی تو کی ہے تم نے۔۔میں تمہاری بات ماننے کا سوچ سکتا ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔۔" "کیسی شرط۔۔" "وہ میں تمہیں نہیں بتاؤں گا وقت آنے پر بتا دوں گا مگر ابھی نہیں۔اگر تمہیں قبول ہے تو ٹھیک ہے۔" "مجھے منظور ہے۔۔اپ کی جو بھی شرط ہے۔۔" "ٹھیک ہے پھر ابھی میں فائل تمہیں دے دوں گا۔"اس نے انٹرکام پر ہدایت دی۔ وہ حورین سے دور ہو کر اپنی بڑی سیٹ پر بیٹھے سگریٹ سلگھا چکا تھا۔اس کے دھویں سے حورین کو سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی مگر مقابل اس سے بے نیاز تھا یا خود کو بے نیاز ظاہر کر رہا تھا۔ "یہ رہی تمہاری فائل مگر تم بھول نہیں جانا جا شرط میں نے رکھی ہے۔۔جانتی ہو نا میں اصولوں کا پکا آدمی ہوں۔"اس نے فائل حورین کی گود میں رکھی حورین پھٹی پھٹی آنکھوں سے فائل کو دیکھ رہی تھی۔ "میں آپ کے پیسے واپس کردوں گی۔"اسے لگا نہیں تھا کہ بہزاد یہ کرے گا۔آخر وہ اسے دے ہی کیا سکتی تھی جس کی بنا پر اس نے فائل دی۔ "پیسے کسے چاہیئے میں تمہاری شرط کی بات کر رہا ہوں۔اب میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔" "نہیں میں چلی جاؤں گی۔۔" "ہا ہا ہا کیوں مجھے بھی دیکھنا ہے وہ گھر جو اب میرا نہیں رہا میرے آدمیوں نے خریدا تھا تو دیکھ ہی لوں گا کبھی واپس خرید لوں تم سے۔۔" اس کی باتیں حورین کی سمجھ سے باہر تھیں۔ "میں خود چلی۔۔۔" اس کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی بہزاد نے اسے گھورا۔اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی گم ہوچکے تھے۔ "چلو۔۔۔۔اب۔۔"وہ حکم جاری کرتے باہر نکلا تو ناچارہ اس کے احسان کی وجہ سے اس کی بات مانتی وہ بھی باہر نکلی۔گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔وہ لب کچلنے لگی۔۔ بہزاد نے ایک نظر اسے دیکھا وہ خود بیٹھ نہیں سکتی تھی وہ بھی اتنی اونچی گاڑی میں۔گارڈ نے آگے بڑھنا چاہا مگر اس سے پہلے بہزاد بول پڑا۔ "اپنی جگہ پر رہو جب تک کہا نا جائے مت ہلا کرو۔۔"اس نے گارڈ کو تنبیہہ کی۔گارڈ واپس اپنی پوزیشن سنبھال چکا تھا۔ بہزاد نے بغیر حورین کی اجازت کے اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا۔حورین کو کچھ کہنے کا موقع نہیں ملا۔وہ ویل چیئر اندر رکھتے خود بھی بیٹھ چکا تھا۔ لینڈ کروزر اس بنگلے کے سامنے آ کر رک چکی تھی۔حورین کے ہاتھوں پر پسینہ آ رہا تھا۔اس نے اتنا بڑا فیصلہ لے تو لیا تھا مگر اس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب بہزاد اس کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**معافی از عیشہ حسین** محبت، ٹوٹتے اعتماد، دل شکستگی اور خاندانی رشتوں کے درمیان پنپنے والے جذبات پر مبنی ایک رومانی اور جذباتی اردو ناول ہے۔
ہاجرہ کے لیے طلحہ کا رویہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا جیسا اب ہو چکا ہے۔ اس کے پیغامات کا جواب نہ دینا، سامنے آنے پر سرد مہری سے بات کرنا اور لہجے میں اجنبیت لے آنا ہاجرہ کے لیے پہلے ہی تکلیف دہ تھا، مگر اصل دھچکا اسے اس وقت لگتا ہے جب وہ طلحہ سے حرا کے ساتھ اس کے نکاح کی بات کرتی ہے۔
ہاجرہ طلحہ سے ملنے پہنچتی ہے، لیکن اس کا سرد رویہ اسے حیران کر دیتا ہے۔ جس شخص سے وہ اپنائیت اور توجہ کی توقع رکھتی تھی، وہ اسے اپنے سامنے بیٹھنے تک کی دعوت نہیں دیتا۔
وہ طلحہ سے پوچھتی ہے کہ گھر والے اس کے اور حرا کے نکاح کی بات کیوں کر رہے ہیں، مگر طلحہ کا مختصر جواب اور بےنیازی اس کے دل کو مزید زخمی کر دیتے ہیں۔
ہاجرہ شاید کسی انکار، وضاحت یا تسلی کی منتظر تھی، لیکن جواب میں ملنے والی خاموشی اور اجنبیت اسے حقیقت سمجھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ طلحہ نہ صرف اس فیصلے سے واقف ہے بلکہ اس پر رضامند بھی ہے۔
یہ احساس ہاجرہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔
جس شخص کے سامنے وہ اپنے آنسو بھی نہیں بہانا چاہتی، اسی کے سامنے وہ اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر میز پر رکھ دیتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔
باہر آ کر وہ سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی نگاہیں سامنے لان پر جمی ہوتی ہیں، مگر ذہن میں طلحہ کے سرد الفاظ اور اس کا بدلا ہوا رویہ گردش کر رہے ہوتے ہیں۔
دوسری طرف طلحہ کھڑکی کے پاس کھڑا اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ ہاجرہ کو گھر چھوڑنے کے لیے جانا بھی چاہتا ہے، مگر پھر اپنے قدم روک لیتا ہے۔
اس جذباتی کشمکش کے پس منظر میں شاہ زیب کی موت کا دکھ بھی موجود ہے، جس نے ان کرداروں کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
محبت اور اعتماد کے درمیان پیدا ہونے والی خاموشیاں بعض اوقات الفاظ سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں۔
آخر طلحہ کے رویے میں اتنی اچانک تبدیلی کیوں آئی؟ کیا وہ واقعی حرا سے نکاح کے فیصلے پر رضامند ہے؟ اور ہاجرہ کی خاموشی کے پیچھے چھپا درد کیا کبھی طلحہ تک پہنچ سکے گا؟
**معافی** محبت، دل شکستگی، بدلتے رویوں اور رشتوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں پر مبنی ایک جذباتی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**معافی از عیشہ حسین** ایک جذباتی رومانی کہانی ہے جس میں طلحہ اور ہاجرہ کے درمیان بدلتے ہوئے تعلق، خاموشی، بےرخی اور ٹوٹتے اعتماد کو پیش کیا گیا ہے۔
ہاجرہ طلحہ کے مسلسل نظر انداز کرنے اور پیغامات کا جواب نہ دینے پر خود اس سے ملنے پہنچتی ہے، مگر اسے وہ طلحہ نہیں ملتا جس کے رویے سے وہ واقف تھی۔
اس کا سرد لہجہ اور اجنبیت ہاجرہ کو پریشان کر دیتے ہیں۔
جب ہاجرہ حرا اور طلحہ کے نکاح کی بات چھیڑتی ہے تو طلحہ کا ردعمل اس کے لیے ایک تلخ حقیقت بن جاتا ہے۔
ہاجرہ کو محسوس ہوتا ہے کہ طلحہ اس فیصلے پر رضامند ہے اور اس کے جذبات اب اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوئے ہاجرہ انگلی سے انگوٹھی اتار کر طلحہ کے سامنے رکھ دیتی ہے اور کمرے سے باہر نکل جاتی ہے۔
وہ سیڑھیوں پر بیٹھ کر اپنی ٹوٹی ہوئی امیدوں اور دل شکستگی کا بوجھ محسوس کرتی ہے، جبکہ طلحہ کھڑکی سے اسے دیکھتا رہتا ہے۔
وہ اسے گھر چھوڑنے جانا چاہتا ہے، لیکن پھر نیچے نہیں آتا۔
کہانی میں شاہ زیب کی موت کا غم بھی موجود ہے، جو اس جذباتی صورتحال کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔
آخر طلحہ کی خاموشی کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ کیا ہاجرہ کے دل میں پیدا ہونے والی یہ دوری کبھی ختم ہو سکے گی؟ اور کیا ان کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہو پائیں گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan?
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan is written by Eesha Hussain.
Is Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.
Where can I read Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.