Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan
Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan
By Mahira
رملہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دوستوں کی ایک معمولی شرط اسے اتنی بڑی مشکل میں ڈال دے گی۔ ناریہ اور عروب کے اصرار پر وہ نئے ایس پی سالار سکندر کے سامنے پہنچی اور گھبراہٹ میں خود کو اس کی بیوی ظاہر کر دیا۔ سالار اور اس کے اہلکار حیران رہ گئے، جبکہ رملہ فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے یقین تھا کہ یہ شرارت وہیں ختم ہو جائے گی۔ مگر رات کے وقت اس کے کمرے میں کسی اجنبی کی موجودگی نے اسے خوفزدہ کر دیا۔ ابتدائی منظر میں سالار اسے یاد دلاتا ہے کہ اسی نے خود کو اس کی بیوی کہا تھا۔ رملہ بار بار سمجھاتی ہے کہ وہ سب صرف مذاق تھا، مگر سالار اس بات کو سنجیدگی سے لینے پر اصرار کرتا ہے۔ اب رملہ اس غیرمتوقع صورتحال سے کیسے نکلے گی؟
Sneak
" تم کون ہو؟ اور میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟ " رملہ خوف سے بولی تھی۔ "ڈیر تم نے ہی تو کہا تھا کہ میں تمہارا ہزبینڈ ہوں تو تمہارے گھر آیا ہوں۔ اس کا استقبال نہیں کرو گی؟ " سالار اس کا بازو پکڑ کر بولا تھا۔ " دماغ ٹھیک ہے آپ کا جھوٹ کیوں بول رہے ہیں؟" وہ غصے سے بول رہی تھی۔ آج اس کی دوستوں نے اسے ڈیئر دیا تھا کہ وہ گینگسٹر کو جا کر پروپوز کرے۔ پہلے تو وہ نہ مانی پھر اپنی دوستوں کی وجہ سے اس نے پرپوز کر دیا تھا اور اب وہ اس کے گھر میں آ گیا تھا۔ "د۔۔دیکھو وہ میں نے مذاق کیا تھا۔ " وہ گھبراتے لہجے میں بولی تھی۔" پر میں نے تو سیریسں لے لیا تھا تو اب۔۔۔ " سالار معنی خیزی سے کہتا ہوا اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گیا تھا۔۔۔ رملہ اس کا جملہ سن کر کانپ کر رہ گئی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ " بہت نازک ہو تم۔ " سالار کہتے۔۔۔۔۔ ارے رملہ! اٹھ جاؤ بھائی، سورج سر پر آ گیا ہے اور تم ہو کہ کمبل تانے سو رہی ہو!"ماما کی آواز سن کر رملہ نے منہ پر چادر تان لی۔ کمرے میں ہلکی ہلکی دھوپ پھیل رہی تھی جو کھڑکی کے پردوں کے درمیان سے چھن کر آ رہی تھی۔ عام پاکستانی گھروں کی طرح صبح کا آغاز ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ اور کچن سے آتی چائے کی پتی کی مہک سے ہو چکا تھا۔رملہ نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور گھڑی پر نظر ڈالی۔ نو بج رہے تھے۔بس پانچ منٹ اور ماما! ویسے بھی آج اتوار ہے، کون سا سکول جانا ہے مجھے،" رملہ نے کمبل سے منہ نکال کر اونچی آواز میں جواب دیا۔اتوار ہے تو کیا سارا دن سوتے رہنا ہے؟ اٹھو جلدی، ناریہ اور عروب نیچے آ گئی ہیں، کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہیں باہر لان میں۔ کہتی ہیں کوئی ضروری کام ہے۔" ماما نے دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر کہا اور واپس کچن کی طرف چلی گئیں۔رملہ نے ہڑبڑا کر بستر چھوڑا۔ منہ ہاتھ دھویا اور دوپٹہ گلے میں لپیٹتی ہوئی سیدھی نیچے لان کی طرف بھاگی۔ جہاں اس کی دونوں سہیلیاں ناریہ اور عروب ایک بنچ پر بیٹھی آپس میں سرگوشیاں کر رہی تھیں۔اب سلام بھی کرو گی یا بس گھورنے کا ارادہ ہے؟" ناریہ نے چائے کا کپ منہ سے لگاتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ تم دونوں نے صبح صبح کون سا طوفان اٹھا رکھا ہے؟ اور اتنی جلدی میرے گھر کا رخ کیوں کیا؟" رملہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ عروب نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر سرگوشی والے انداز میں بولی، "یار طوفان تو باہر روڈ پر کھڑا ہے۔ بس ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔ ایک شرط ہے، اگر وہ تم نے پوری کر دی تو مان جائیں گے کہ تم واقعی دل والی ہو۔"کیسی شرط؟ اور باہر روڈ پر کون ہے بھلا؟" رملہ نے ماتھے پر بل ڈالے۔ارے وہی! محلے کے سامنے والے موڑ پر جو پولیس ہے ناں؟ نیا ایس پی آیا ہے نا اس علاقے میں... سالار سکندر! بس وہیں اپنے تین چار گن مینز کے ساتھ کھڑا کسی سے بات کر رہا ہے۔" ناریہ نے آنکھ مٹکا کر کہا۔تو اس سے میرا کیا لینا دینا؟ پولیس والا ہے تو اپنے کام سے ہو گا،" رملہ نے بے پرواہی سے کہا۔نہیں یار، بات یہ ہے کہ ہم تینوں نے شرط لگائی تھی کہ جو بھی اس ایس پی کے پاس جا کر اسے پروپوز کرے گی، وہی آج کی پارٹی کیون کرے گی۔ اب باری تمہاری ہے۔ جاؤ، جا کر کہو کہ ہم تم سے شادی کرنا چاہتی ہیں!" عروب نے ہستے ہوئے کہا۔ "تم دونوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ پاگل ہو گئی ہو جو پولیس والے کے پاس جا کر کہوں گی کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں؟ گولی مار دے گا وہ مجھے سڑک پر ہی!" رملہ نے آنکھیں بڑی کر کے کہا۔ارے جاؤ بھی، ڈرپوک کہیں کی! پولیس والے انسان نہیں ہوتے کیا؟ بس ایک بار جا کے دیکھو تو سہی، ویسے بھی بندہ ہینڈسم بڑا ہے، تمھارا نقصان نہیں ہوگا،" ناریہ نے قہقہہ لگایا۔خدا کے لیے چپ کرو، کوئی دیکھ لے گا تو ماما سے جوتیاں پڑیں گی الگ، اور محلے والے الگ تماشہ بنائیں گے۔ ہمارے خاندان میں ویسے ہی امی کی پھوپھو اور تایا ابا کے درمیان زمین کا جو تنازعہ چل رہا ہے، اس پر پورا خاندان پہلے ہی ہم پر نظریں گڑائے بیٹھا ہے کہ کب ہم کوئی غلطی کریں اور وہ تنے لے کر چڑھ دوڑیں۔" رملہ نے دھیمی آواز میں اپنے گھر کے حالات کا ذکر کیا۔بات بالکل سچی تھی۔ رملہ کے خاندان میں پرانی دشمنی اور جائیداد کا رپھڑ ایسا تھا کہ ہر وقت ساس اور رشتہ داروں کی زبانیں کینچی کی طرح چلتی رہتی تھیں۔ ذرا سی بات کا بتنگڑ بنانا ان کا پرانا شیوہ تھا۔اچھا چھوڑو ان رشتہ داروں کو، یہ تو کبھی سکھ کا سانس لینے نہیں دیں گے۔ تم شرط مانتی ہو یا ہار مانتی ہو؟" عروب نے ضد کی۔میں ہار نہیں مانتی! دیکھو میں جاتی ہوں، لیکن اگر اس نے مجھے تھانے اٹھا لیا یا کوئی چالان کاٹ دیا نا، تو تم دونوں سے حساب لوں گی!" رملہ نے غصے سے اپنی قمیض کا گلا درست کیا، دوپٹہ سر پر اچھے سے جمایا اور روڈ کی طرف قدم بڑھا دیے۔رملہ کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس کے قدم مرے مرے انداز میں اس طرف بڑھ رہے تھے جہاں ایس پی سالار سکندر اپنے تین اہلکاروں کے ساتھ کھڑا کسی فائل کا جائزہ لے رہا تھا۔ سالار نے سیاہ رنگ کی کرسپی پولیس یونیفارم پہن رکھی تھی، جس پر لگے ستارے دھوپ میں چمک رہے تھے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسا رعب تھا کہ عام آدمی پاس جانے سے ڈرتا۔رملہ جب بالکل قریب پہنچی تو سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ رملہ نے گھبراہٹ چھپانے کے لیے خود کو سنبھالا، ٹانگ کراس کی، بازو باندھے اور بنا سوچے سمجھے بول پڑی:صبح کہا تھا آپ سے جلدی آنا، لیکن آپ تو یہاں کھڑے گپیں مار رہے ہیں، بیوی کی کوئی فکر نہیں ہے آپ کو!"وہاں کھڑے تینوں اہلکار ایک دم ہکا بکا رہ گئے۔ کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ یہ لڑکی اچانک کیا کہہ گئی ہے۔ سالار سکندر کا چہرہ غصے اور ضبط سے سرخ ہو گیا۔ اس نے زندگی میں بدتمیزی اور قانون شکنی بہت دیکھی تھی، لیکن سرعام اس قسم کا ڈرامہ کسی نے نہیں کیا تھا۔سالار نے گہری سانس لی اور اپنی غصے سے بھری آواز میں کچھ کہنا ہی چاہ تھا کہ رملہ پلٹی اور الٹے پاؤں بھاگتی ہوئی اپنی سہیلیوں کے پاس واپس آ گئی۔ دور کھڑی ناریہ اور عروب پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں۔ "اوئے ہوئے رملہ! کمال کر دیا قسم سے! ہم تو سمجھے تھے تم ڈر جاؤ گی،" ناریہ ہنستے ہوئے بولی۔تمہیں پروپوز کرنے کا کہا تھا، ڈئیر پورا نہیں ہوا! یہ کون سا انداز تھا کہ بیوی کی فکر نہیں ہے؟" عروب نے منہ بناتے ہوئے کہا۔رملہ ہانپتے ہوئے بولی، "تم پاگل ہو کیا؟ اگر کہتی کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں تو وہ بندوق نکال لیتا۔ اتنی سخت جان تھوڑی ہوں میں جو پولیس والے کو سڑک پر محبت کے طعنے دوں۔ میرا تو دل باہر نکل آیا تھا ڈر کے مارے!"تینوں لڑکیاں ہنستے ہوئے وہاں سے گھر کی طرف دوڑ پڑیں، یہ جانے بغیر کہ وہ جس شخص کو مذاق سمجھ کر چھوڑ کر آئی ہیں، اس کی نظریں ابھی تک وہیں جمی ہوئی تھیں اور سالار کے ذہن میں اس لڑکی کا چہرہ نقش ہو چکا تھا۔شام کا وقت ڈھل چکا تھا۔ گھر میں رملہ کی امی کچن میں چائے بنا رہی تھیں اور ساتھ ہی پڑوس والی خالہ کے ساتھ فون پر خاندان کے پرانے جھگڑوں پر تبصرہ چل رہا تھا کہ کس طرح چچا نے وراثت میں حصہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رملہ اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ دن کا واقعہ بار بار اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا اور وہ خود کو کوس رہی تھی کہ اس نے اپنی سہیلیوں کے کہنے پر اتنی بڑی حماقت کیوں کی۔اللہ کرے وہ پولیس والا مجھے بھول گیا ہو، ورنہ اماں کو پتہ چلا تو وہ زندہ زمین میں گاڑ دیں گی،" رملہ نے خود سے بڑبڑاتے ہوئے تکیہ منہ پر رکھ لیا۔وقت گزرتا گیا اور گھر میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ سب لوگ گہری نیند کی آغوش میں جا چکے تھے۔ کمرے کی کھڑکی ہلکی سی کھلی ہوئی تھی جس سے باہر کے درختوں کی سرسراہٹ کی آواز آ رہی تھی۔رملہ بستر پر سیدھی لیٹی ہوئی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کمرے میں کوئی دوسرا شخص بھی موجود ہے۔ ہوا کا ایک سرد جھونکا آیا اور کمرے کا درجہ حرارت بدل گیا۔اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر لائٹ آن کرتی یا کچھ بولتی، کسی نے پیچھے سے آ کر مضبوطی سے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ ایک بھاری، مردانہ اور گرم سانس اس کی گردن کے پاس محسوس ہوئی۔ رملہ کے منہ سے چیخ نکلنے والی تھی کہ اس مضبوط ہاتھ نے اس کا منہ دبا دیا اور۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**مقدمۂ پیار از ماہرہ** ایک دلچسپ، رومانی اور سنسنی خیز اردو ناول ہے، جس میں دوستوں کی ایک شرارت ایک لڑکی کو ایسے شخص کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس کے سخت مزاج اور بااختیار شخصیت سے وہ پہلے ہی خوفزدہ تھی۔
رملہ ایک عام پاکستانی گھرانے سے تعلق رکھنے والی شوخ اور بے فکر لڑکی تھی۔
اس کی زندگی میں اپنی دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، گھر والوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی پریشانیاں شامل تھیں۔
ایک اتوار کی صبح اس کی والدہ نے اسے بتایا کہ اس کی دوستیں ناریہ اور عروب گھر کے لان میں اس کا انتظار کر رہی ہیں۔
رملہ جلدی سے تیار ہو کر نیچے پہنچی تو دونوں سہیلیاں کسی شرارت کا منصوبہ بنائے بیٹھی تھیں۔
انہوں نے رملہ کو بتایا کہ محلے کے سامنے والے موڑ پر ایک نیا پولیس افسر اپنے اہلکاروں کے ساتھ موجود ہے۔
اس افسر کا نام سالار سکندر تھا۔
وہ علاقے میں نئے تعینات ہونے والے ایس پی تھے اور اپنی سخت شخصیت اور رعب دار انداز کی وجہ سے عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
ناریہ اور عروب نے رملہ کو چیلنج دیا کہ وہ سالار کے پاس جا کر اسے محبت کا اظہار کرے۔
رملہ نے پہلے صاف انکار کر دیا۔
اسے ڈر تھا کہ کسی پولیس افسر کے سامنے ایسی حرکت کرنے پر وہ کسی مصیبت میں پھنس سکتی ہے۔
اس کے خاندان میں پہلے ہی جائیداد اور وراثت کے جھگڑے چل رہے تھے۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی حرکت کی وجہ سے گھر والوں کو مزید باتیں سننی پڑیں۔
مگر دوستوں کے بار بار چھیڑنے اور اسے ڈرپوک کہنے پر رملہ نے چیلنج قبول کر لیا۔
وہ گھبراتے ہوئے اس جگہ پہنچی جہاں سالار سکندر اپنے تین اہلکاروں کے ساتھ ایک فائل دیکھ رہا تھا۔
رملہ نے اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش کی اور اچانک سالار کے سامنے جا کر اسے ایسے مخاطب کیا جیسے وہ اس کی بیوی ہو۔
اس نے سالار سے شکایت کی کہ اس نے صبح جلدی گھر آنے کا کہا تھا، مگر وہ یہاں کھڑا باتوں میں مصروف ہے۔
سالار اور اس کے اہلکار اس غیرمتوقع بات پر حیران رہ گئے۔
سالار کے چہرے پر غصہ نمایاں ہو گیا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، رملہ وہاں سے بھاگ گئی۔
دور کھڑی ناریہ اور عروب اس کی حرکت پر ہنس رہی تھیں۔
رملہ نے بھی اسے ایک شرارت سمجھ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔
لیکن سالار کے ذہن میں اس کا چہرہ محفوظ ہو چکا تھا۔
شام کو گھر واپس آنے کے بعد رملہ بار بار صبح کے واقعے کے بارے میں سوچتی رہی۔
اسے فکر تھی کہ کہیں وہ پولیس افسر اس کی حرکت کو سنجیدگی سے نہ لے لے۔
دوسری طرف گھر میں وراثت اور رشتے داروں کے جھگڑوں کی باتیں جاری تھیں۔
رملہ نے خود کو تسلی دی کہ شاید سالار اسے بھول چکا ہوگا۔
مگر رات کے وقت اس کی پریشانی حقیقت کا روپ دھارنے لگی۔
جب گھر کے تمام افراد سو چکے تھے تو رملہ کو اپنے کمرے میں کسی دوسرے شخص کی موجودگی محسوس ہوئی۔
اس سے پہلے کہ وہ روشنی جلاتی یا مدد کے لیے آواز دیتی، کسی نے پیچھے سے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کا منہ دبا دیا۔
کہانی کے ابتدائی منظر میں انکشاف ہوتا ہے کہ سالار اس کے کمرے میں موجود ہے۔
وہ رملہ کو یاد دلاتا ہے کہ اسی نے سب کے سامنے خود کو اس کی بیوی کہا تھا۔
رملہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ سب کچھ محض ایک مذاق اور دوستوں کی دی ہوئی شرط تھی۔
لیکن سالار اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی بات کرتا ہے۔
اس کے رویے سے رملہ خوفزدہ ہو جاتی ہے۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ دوستوں کی ایک بے سوچے سمجھے کی گئی شرارت اس کے لیے اتنی بڑی مشکل بن جائے گی۔
آخر سالار سکندر رملہ کے گھر کیوں پہنچا؟
وہ اس کی مذاقیہ بات کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہے؟
اور کیا رملہ اس خطرناک صورتحال سے خود کو محفوظ نکال سکے گی؟
**مقدمۂ پیار** ایک شرارت، پولیس افسر کی سخت شخصیت، خاندانی تنازعات اور غیرمتوقع حالات پر مبنی رومانی اور سنسنی خیز کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**مقدمۂ پیار** رملہ اور ایس پی سالار سکندر کی کہانی ہے، جن کی پہلی ملاقات ایک غیرمتوقع شرارت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
رملہ اپنی دوستوں ناریہ اور عروب کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے والی ایک شوخ لڑکی ہے۔
ایک اتوار کی صبح اس کی دوستیں اسے چیلنج دیتی ہیں کہ وہ محلے کے قریب موجود نئے پولیس افسر سالار سکندر کو جا کر محبت کا اظہار کرے۔
رملہ پہلے اس شرط کو ماننے سے انکار کر دیتی ہے کیونکہ وہ پولیس افسر کے ردعمل سے خوفزدہ ہوتی ہے۔
اس کے گھر میں پہلے ہی جائیداد اور وراثت کے جھگڑے موجود ہوتے ہیں، اس لیے وہ کسی نئی پریشانی میں نہیں پڑنا چاہتی۔
لیکن دوستوں کے اصرار پر وہ سالار کے پاس پہنچ جاتی ہے۔
وہ براہ راست محبت کا اظہار کرنے کے بجائے اچانک خود کو اس کی بیوی ظاہر کرتے ہوئے اس سے گھر نہ آنے کی شکایت کرتی ہے۔
سالار اور اس کے اہلکار حیران رہ جاتے ہیں۔
رملہ فوراً وہاں سے بھاگ جاتی ہے اور اپنی دوستوں کے ساتھ اس واقعے کو مذاق سمجھ کر بھولنے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن سالار اس لڑکی کو نظرانداز نہیں کرتا۔
رات کو رملہ اپنے کمرے میں موجود ہوتی ہے کہ اچانک اسے کسی دوسرے شخص کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔
کوئی شخص پیچھے سے اسے پکڑ کر اس کا منہ دبا دیتا ہے۔
ابتدائی منظر کے مطابق سالار اس کے کمرے میں پہنچ کر اسے یاد دلاتا ہے کہ اسی نے خود کو اس کی بیوی کہا تھا۔
رملہ گھبرا کر وضاحت کرتی ہے کہ وہ صرف دوستوں کی دی ہوئی شرط پوری کر رہی تھی۔
مگر سالار اس کے مذاق کو سنجیدگی سے لینے کی بات کرتا ہے۔
رملہ کے لیے یہ صورتحال خوفناک اور غیرمتوقع ہوتی ہے۔
کیا سالار واقعی اس شرارت کو بنیاد بنا کر رملہ کی زندگی میں مداخلت کرے گا؟
اور کیا رملہ اسے حقیقت سمجھا سکے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan?
Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan is written by Mahira.
Is Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.
Where can I read Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.