Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan
Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
Sneak
"ہمارا نکاح ہو گیا تو اپنی اوقات مت بھولنا۔تمہاری حیثیت آج بھی ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے سے زیادہ نہیں، میں جو چاہے کروں گی ۔ مجھ پر حکم چلانے کی یا شوہر کی طرح رعب جمانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ " اس نے غصے سے کہا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ دادا جان نے زبردستی اس کا نکاح اپنے یتیم پوتے عارب سے کیا تھا جسے وہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔ بھلا ایک غریب انسان سے اس کا کیا جوڑ پر وہ نہیں جانتی تھی اس کا غریب یتیم کزن اس کے گھر والوں کے ناک کے نیچے انہیں برباد کرنے کے لیے کتنا بڑا جال بچھا چکا تھا ۔طنزیہ مسکراتے وہ بیڈ پر لیٹ گیا۔ جب دو ہفتے بعد ہی اس نے عارب پر تہمت لگاتے طلاق کا مطالبہ کیا لیکن سب پتھر ہوگئے جب وہ ڈرنے کی جگہ غصے سے آگے بڑھا اور زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا۔ وہ بےیقینی سے عارب کو دیکھنے لگی۔ اگلے لمحے اسے بالوں سے پکڑتے وہ کمرے میں لے جانے لگا جب۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا۔ سورج مغرب میں ڈھلتا غروب ہو رہا تھا۔ ایسے میں سب شام کی چاۓ کے لیے ارباز شاہ( دادا جان ) کے کمرے میں اکٹھے ہوۓ تھے۔ اس وقت ارباز شاہ کے کمرے میں عالم شاہ اور ان کی زوجہ ساجدہ بیگم بیٹھے چاۓ پی رہے تھے جب دادا جان نے اصل بات چھیڑی ۔" ارباز اور ساجدہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔" دادا جان جو بیڈ پر بیٹھے تھے نے چائے کی پیالی سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا۔ "جی ابا جی بولیے ۔ " ارباز شاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ "میں چاہتا ہوں کہ مریم کی شادی عارب سے ہو جاۓ ۔ " دادا جان کی بات پر ارباز شاہ اور ساجدہ بیگم نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا۔ "ابا جی یہ آپ کیا کہ رہے ہیں ؟ اس دو ٹکے کے لڑکے کے ساتھ میری بیٹی کی شادی ؟ کہاں وہ اور کہاں میری بیٹی ۔" ساجدہ بیگم غصے سے بولیں ۔ "ساجدہ زبان سنبھال کر بات کرو جس طرح مریم اس گھر کی بیٹی ہے اسی طرح عارب بھی اسی گھر کا بچہ ہے۔" دادا جان کو ساجدہ بیگم کا لہجہ ناگوار گزرا۔" ابا جی میری بچی کی ماں نے گھر سے بھاگ کر خاندان والوں کے منہ پر کالک نہیں ملی تھی۔ جبکہ آپ کی بیٹی آپ کی عزت روند کر چلی گئ تھی۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے میاں نے بھی اپنی اولاد کو رکھنے سے انکار کر دیا تو آپ اس لاوارث کو اٹھا لاۓ ہمارے سینے پر مونگ دلنے کے لیے۔جو لڑکا ہمارے ٹکروں پر پل کر بڑا ہوا ہے اس سے میں اپنی بیٹی کی شادی کروا دوں ۔ہرگز نہیں"۔ ساجدہ بیگم غصے سے پھنکارتیں بولیں ۔ "ساجدہ بکواس بند کرو اپنی۔ شاہنور نے جو کیا اسے بھول جاؤ ۔ وہ بیچاری تو مرکھپ گئ ۔ بار بار اس کی برائی مت کیا کرو میرے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ " دادا جان آنکھوں میں نمی لیے بولے۔ "ساجدہ تم چپ کرو میں بات کرتا ہوں۔ " ارباز شاہ نے ساجدہ بیگم کو خاموش رہنے کا کہا۔ "ابا جی مگر عارب ہی کیوں ۔ مریم کبھی نہیں مانے گی۔ اور ہم بھی نہیں چاہیں گے کہ مریم کی شادی عارب سے ہو۔" ارباز شاہ نے سر جھکاتے اپنے والد کے سامنے انکار کیا۔" ٹھیک ہے جو مرضی کرو تم دونوں مگر مجھے یہ ہرگز منظور نہیں کہ حویلی کی جائیداد باہر جاۓ۔ اسی لیے اگر تم اپنی اکلوتی اولاد کی شادی باہر کرنا چاہتے ہو تو شوق سے کرو مگر میں اسے ایک پھوٹی کوڑی نہیں دوں گا اور ساری جائیداد عارب کے نام کردوں گا۔ "دادا جان غصے سے کھڑے ہوتے بولے ۔ا"با جی یہ آپ کیا کہ رہے ہیں؟ ابا جی آپ نے خود شاہنور کے بھاگنے پر اسے جائیداد سے عاق کر دیا تھا ۔ آج اسی کے بیٹے کی خاطر آپ میری بیٹی سے سب چھین رہے ہیں ۔ میں آپ کو ایسی ناانصافی ہرگز نہیں کرنے دوں گی۔ " ساجد بیگم غصے سے چلاتے ہوۓ بولیں ۔ "آواز نیچی رکھو بہو ۔ یہ میری جائیداد ہے میری مرضی جسے دوں تم ہوتی کون ہو مجھے روکنے والی۔ میں چاہوں تو تمہارا بوریہ بستر اٹھوا کر ابھی تمہیں اس گھر سے چلتا کرسکتا ہوں اسی لیے میرے آگے سوچ سمجھ کر بولا کرو۔ اب جاؤ تم دونوں میری نماز کا وقت ہوگیا ہے۔" دادا جان غصے سے کہتے واشروم کی طرف بڑھ گۓ جبکہ ساجدہ بیگم اور ارباز شاہ غصے سے کمرے سے نکلتے چلے گئے۔ ********* "زرا پتہ کریں آپ کے ابا جی نے کوئ غلط دوائ تو نہیں کھا لی یہ راتوں رات شاہنور کے بیٹے سے کیسے محبت ہوگئ انہیں ۔" کمرے میں داخل ہوتے ہی ساجدہ بیگم غصے سے ارباز شاہ کو گھورتے ہوۓ بولیں ۔" بس کرو ساجدہ تم نے ابا جی سے بھی بہت بدتمیزی کی ہے میں کچھ کہ نہیں رہا اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم بدتمیزی کرتی رہو۔" ارباز شاہ غصے سے اپنی گھڑی اتارتے کونے میں رکھے صوفے پر جا بیٹھے۔ "تو کیا آپ راضی ہیں اپنی بیٹی کی شادی اپنے نکمے بھانجے سے کرنے کے لیے۔" ساجدہ بیگم پیر پٹختی ہوئ ارباز شاہ کے برابر میں جا بیٹھیں ۔" تم نے سنا نہیں ابا جی ساری جائیداد عارب کو دے دیں گے۔ اتنی بڑی حویلی اور اتنا بڑا بزنس ۔ سالوں اس پر محنت کی ہے تمہاری بے وقوفی کہ وجہ سے میں یہ سب ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا۔ " ارباز شاہ گہرائ سے سوچتے بولے ۔ "سوچو سب کچھ مریم کا ہو جاۓ گا کیونکہ عارب میں اتنی ہمت نہیں کہ اپنے حق کے لیے بول سکے۔" ارباز شاہ نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا۔" مگر مریم مان جاۓ گی ؟ " ساجدہ بیگم نے ارباز شاہ کو دیکھتے فکر مندی سے پوچھا۔" اسے ماننا پڑے گا۔" ارباز شاہ نے حتمی لہجے میں کہا۔ ارباز شاہ کی دو اولادیں تھیں ۔ بڑے بیٹے عالم شاہ جن کی شادی ارباز شاہ نے اپنی بھتیجی ساجدہ بیگم سے کروائی تھی اور ان کی ایک ہی بیٹی تھی مریم عالم شاہ ۔ ارباز شاہ کی چھوٹی بیٹی جس کا نام شاہنور تھا۔ ارباز شاہ اپنی بیٹی کی شادی ساجدہ بیگم کے بھائ یعنی اپنے بھتیجے سے کروانا چاہتے تھے مگر شاہنور اپنے کلاس فیلو کو پسند کرتی تھیں ۔ جب یہ بات ارباز شاہ کو پتہ چلی تو وہ سخت غصہ ہوۓ اور شاہنور بیگم کی شادی زبردستی اپنے بھتیجے سے کر رہے تھے کہ شاہنور بیگم گھر سے بھاگ گئیں اور اپنے کلاس فیلو سے شادی کر لی۔ اس دن کے بعد سے ارباز شاہ نے اپنی بیٹی سے ہر تعلق توڑ لیا اور زندگی بھر اسے کبھی معاف نا کیا۔ مگر عارب جب پانچ سال کا تھا کہ شاہنور بیگم کینسر کا شکار ہوتیں چل بسیں اور ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی تب ارباز شاہ اپنی بیٹی کی آخری نشانی کو اپنے پاس لے آئے تھے جسے ساجدہ بیگم نے کبھی قبول نا کیا اور مریم کو بھی اس کے خلاف کرتی رہیں ۔ ********** حویلی کا وسیع کمرہ جس کے بالکل بیچ میں کنگ سائز براؤن رنگ کا بیڈ رکھا گیا تھا اسی کے رنگ کے امتزاج کے جھالر والے پردے کھڑکی پر لٹکاۓ گۓ تھے۔ زمین پر بچھا پرتعیش قالین ۔ کونے میں رکھی ڈریسنگ ٹیبل اور کھڑکی کے پاس رکھا گیا صوفہ۔ کمرے کی خوبصورتی دیکھ کر معلوم ہو رہا تھا کہ کمرہ گھر کی اکلوتی شہزادی مریم عالم کا ہے۔ مریم بیڈ کراؤن سے کمر ٹکاۓ گود میں رکھے لیپ ٹاپ پر کام کر رہی تھی کہ ملازمہ ٹرے میں اورنج جوس لیے اس کے کمرے میں آئ ۔ "سائڈ ٹیبل پر رکھ دو شینا۔" مریم نے مصروف سے انداز میں کہا۔ "بی بی جی آپ کو پتہ ہے گھر میں کیا چل رہا ہے؟" شینا نے مریم کو دیکھتے زبان تر کرتے کہا۔ "کیا ؟" مریم نے آئ برو اچکاتے بیزاری سے پوچھا۔" میں دادا جان کے کمرے میں چاۓ کے برتن لینے گئ تھی کہ دادا جان نے بڑے صاحب سے کہا عارب اور مریم کی شادی کر دو۔" شینا نے رازدارانہ انداز میں بتایا۔ "ہننہہہ ۔۔۔نیند میں ہوگی تم۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔" مریم نے ہنس کر بات ٹالتے ہوئے کہا۔" بی بی جی سچ میں میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔ دادا جان کی بات پر بڑی بیگم صاحبہ تو بہت غصہ ہوئیں مگر دادا جان اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ " ملازمہ کے بتانے پر مریم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئ ۔ "ایسا نہیں ہو سکتا میں ابھی بات کرتی ہوں دادا جان سے ۔" مریم فورا کمرے سے نکلتی دادا جان کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ راہداری میں سامنے سے آتے عارب اکبر پر اس کی نظر پڑی۔ سادہ سی گرے رنگ کی شلوار قمیض پہنے ماتھے کے بال بکھرے ہوۓ ہاتھ میں پانی کی بالٹی اٹھاۓ وہ چھت پر جا رہا تھا ۔ "تو تم نے بھی سنا جو گھر میں چل رہا ہے؟" مریم قدم قدم چلتی عارب کے قریب ائ۔" کیا ؟" عارب نے نظریں جھکاۓ پوچھا۔ "تمہارے نانا یعنی میرے دادا جان ہماری شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ شادی اور وہ بھی تم سے ؟ تمہیں معلوم بھی ہے کہ میرا یہ ڈریس کتنے کا ہے؟" مریم نے اپنے سیاہ رنگ کے برانڈ کے سوٹ کی طرف اشارہ کیا۔ "میں مریم عالم اچھا کھاتی ہوں اچھا پہنتی ہوں جو دل چاہتا ہے وہ کرتی ہوں ۔ تمہاری اوقات ہے کہ تم مجھے ایک اچھے سے ہوٹل میں کھانا بھی کھلا سکو۔ تمہیں تو میں اپنے گھر میں ملازم نا رکھوں اور تم سے شادی؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یہ خیال اپنے دماغ سے جتنی جلدی ہو سکے نکال دو۔ کبھی سنا ہے ایک شہزادہ اور غلام کی شادی؟ نہیں نا ۔ اسی طرح میری اور تمہاری شادی بھی ناممکن ہے۔" مریم غصے سے عارب کو دھکا دیتی دادا جان کے کمرے کی طرف بڑھی پیچھے مریم کے دھکا دینے پر عارب کے ہاتھ سے پانی کی بالٹی چھوٹ کر زمین پر جا گری اور سارا پانی فرش پر بہہ گیا۔۔۔ ۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**غرورِ شکستہ** ایک ایسی کہانی ہے جس میں دولت کا غرور، خاندانی رشتوں کی تلخیاں، ماضی کی ناانصافیاں اور خاموشی کے پیچھے چھپا انتقام ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
مریم عالم شاہ ایک امیر جاگیردار خاندان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔ عالیشان حویلی، قیمتی لباس، آسائشیں اور اپنی ہر خواہش پوری کروانے کی عادت نے اسے بے حد مغرور بنا دیا تھا۔
اس کے نزدیک انسان کی اہمیت اس کی دولت اور خاندانی حیثیت سے طے ہوتی تھی۔
اسی حویلی میں عارب اکبر بھی رہتا تھا۔
عارب مریم کا کزن اور ارباز شاہ کی مرحومہ بیٹی شاہنور کا بیٹا تھا۔ اس کی والدہ نے خاندان کی مرضی کے خلاف اپنے پسندیدہ شخص سے شادی کی تھی، جس کی وجہ سے اس کے والد نے اس سے تمام تعلقات ختم کر لیے تھے۔
لیکن جب عارب صرف پانچ سال کا تھا تو اس کی والدہ کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔
والد نے دوسری شادی کے بعد عارب کو اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا تو اس کے نانا اسے حویلی لے آئے۔
یہاں اسے چھت تو مل گئی، مگر وہ عزت اور اپنائیت نہ مل سکی جس کا وہ حق دار تھا۔
ساجدہ بیگم نے کبھی اسے اپنے خاندان کا برابر کا فرد تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی مرحومہ نند کی غلطی کی یادگار سمجھتی تھیں اور مریم کے دل میں بھی عارب کے لیے نفرت پیدا کرتی رہیں۔
عارب خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا رہا۔
مریم کے نزدیک وہ ایک ایسا غریب لڑکا تھا جو ان کے گھر کے سہارے زندگی گزار رہا تھا۔
لیکن حویلی کے لوگ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ عارب کی خاموشی کے پیچھے ایک الگ ہی منصوبہ پرورش پا رہا تھا۔
ایک شام ارباز شاہ نے اپنے خاندان کے سامنے مریم اور عارب کی شادی کی خواہش ظاہر کر دی۔
یہ فیصلہ ساجدہ بیگم اور ان کے شوہر کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔
وہ اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ اس لڑکے سے کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جسے ہمیشہ اپنے سے کمتر سمجھتے آئے تھے۔
مگر ارباز شاہ نے واضح کر دیا کہ اگر مریم کی شادی خاندان سے باہر کی گئی تو وہ اپنی تمام جائیداد عارب کے نام کر دیں گے۔
حویلی اور کاروبار ہاتھ سے نکل جانے کا خوف مریم کے والدین کے فیصلے پر اثرانداز ہونے لگا۔
دوسری طرف مریم کو جب اس رشتے کا علم ہوا تو اس کا غرور اور غصہ دونوں بھڑک اٹھے۔
اس نے عارب کو راہداری میں روک کر اس کی غربت، حیثیت اور لباس کا مذاق اڑایا۔
اس کے نزدیک عارب اتنی استطاعت بھی نہیں رکھتا تھا کہ اسے کسی اچھے ہوٹل میں کھانا کھلا سکے۔
مریم نے صاف الفاظ میں اسے بتا دیا کہ وہ اس جیسے شخص سے کبھی شادی نہیں کرے گی۔
لیکن حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دونوں کا نکاح ہو گیا۔
مریم نے نکاح کے بعد بھی عارب کو شوہر کا مقام دینے سے انکار کر دیا اور اسے اپنی حیثیت یاد دلانے لگی۔
اسے یقین تھا کہ عارب ہمیشہ کی طرح خاموش رہے گا۔
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جس شخص کو وہ کمزور سمجھ رہی ہے، وہ اس کے خاندان کے خلاف ایک خطرناک منصوبہ بنا چکا ہے۔
دو ہفتے بعد حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب مریم نے عارب پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
لیکن اس مرتبہ عارب کا ردعمل اس کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔
اس کے غصے اور جارحانہ رویے نے سب کو حیران کر دیا۔
آخر عارب کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
وہ مریم کے خاندان سے کس ناانصافی کا حساب لینا چاہتا تھا؟
کیا مریم کا غرور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سے بے خبر رکھے گا؟
اور کیا یہ نکاح دو خاندانوں کے درمیان موجود پرانی تلخیوں کو مزید بڑھا دے گا؟
**غرورِ شکستہ** ایک مغرور لڑکی، خاموش مگر پراسرار نوجوان اور جائیداد کی خاطر کیے گئے خاندانی فیصلوں پر مبنی جذباتی، رومانی اور انتقامی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**غرورِ شکستہ** مریم عالم شاہ اور عارب اکبر کی کہانی ہے، جن کا تعلق ایک ہی جاگیردار خاندان سے ہے مگر دونوں کی زندگیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
مریم ایک امیر، مغرور اور ضدی لڑکی ہے، جو اپنی دولت اور خاندانی حیثیت پر بے حد ناز کرتی ہے۔
دوسری طرف عارب اس کا یتیم کزن ہے، جس کی والدہ شاہنور نے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی۔ والدہ کی وفات اور والد کی دوسری شادی کے بعد عارب کو اس کے نانا اپنی حویلی لے آئے تھے۔
لیکن حویلی میں اسے کبھی وہ عزت نہ مل سکی جو خاندان کے دوسرے افراد کو حاصل تھی۔
مریم اور اس کی والدہ ساجدہ بیگم اسے ہمیشہ کمتر سمجھتی رہیں۔
ایک دن ارباز شاہ نے مریم اور عارب کی شادی کا فیصلہ کر لیا اور انکار کی صورت میں اپنی تمام جائیداد عارب کے نام کرنے کا اعلان کر دیا۔
جائیداد کھونے کے خوف سے مریم کے والدین اس رشتے پر غور کرنے لگے، لیکن مریم عارب سے شادی کو اپنی توہین سمجھتی تھی۔
اس نے عارب کو اس کی غربت اور حیثیت کے طعنے دیے اور اسے اپنے برابر ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
تاہم حالات دونوں کو نکاح کے رشتے میں باندھ دیتے ہیں۔
مریم نکاح کے بعد بھی عارب کو شوہر کا مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ عارب کی خاموشی کمزوری نہیں اور وہ اس خاندان کے خلاف ایک خفیہ منصوبہ تیار کر چکا ہے۔
جب مریم دو ہفتے بعد اس پر الزام لگا کر طلاق مانگتی ہے تو عارب کا غیرمتوقع اور پرتشدد ردعمل سب کو حیران کر دیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ عارب کے دل میں برسوں سے کیا چل رہا تھا اور اس کے انتقام کا اصل نشانہ کون ہے؟
کیا مریم اپنی دولت کے غرور میں اس شخص کی حقیقت سمجھنے سے محروم رہ جائے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Is Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Cousin Marriage Based.
Where can I read Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.