Social issues Based
Sab Ko Sab Nahi Milta By Sana Parvez Novel20882
"سب کو سب نہیں ملتا" کے نام پر مبنی یہ کہانی
ایک رومینٹک کہانی ہے - "سب کو سب نہیں ملتا" ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے ہم انسان قبول
کرنے سے کتراتے ہیں – ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کو ہرچیز نہیں ملتی - ہم خود سے سب کچھ حاصل کرنےکی کوشش کرتے ہیں اور ہر بار ناکام ہو جاتے ہیں - اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی چیز کی کمی ضرور رکھی ہے - کسی میں قد کی، کسی میں رنگ کی، کسی میں اولاد کی، کسی میں عقل کی، کسی میں دولت کی - ہم وہ کمی خود سے پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر نہیں کر پاتے - اِس کہانی
میں بھی ہر کردار خود سے اپنے اندر موجودکمی کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا مگر اللہ کی مرضی کے آگے ہار مان لے گا - جو چیزآپ کی قسمت میں نہیں ہوتی پھر چاہے توآپ اسے جائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں یا ناجائز طریقے سے وہ نہیں ملتی - کچھ خواہشوں کی قسمت میں ادھورا
رہنا لکھا ہوتا ہے - پسند اور ناپسندکرنا ہماری مرضی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر کردار اہم ہوتا ہے -
Kisi Ajnabi Se Dayar Mai by Shumaila Dilabad Novel20872
وقاص نے اسمارٹ فون بدر کے سامنے رکھتے ہوئے کہا، "شوق سے پاکستان چلی جاؤ... مگر پہلے یہ دیکھ لو۔" اسکرین پر اپنی جعلی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر بدر کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ اگلے ہی لمحے اس نے ہمت جمع کی اور وقاص کے چہرے پر اپنے ناخن گاڑ دیے۔ خوف، بے بسی اور مزاحمت کا یہی لمحہ کہانی کا سب سے طاقتور موڑ بن جاتا ہے۔
Barish By Umm E Malaika Novel20870
زندگی ہمیشہ سیاہ اور سفید رنگوں میں تقسیم نہیں ہوتی، بلکہ اس میں ان گنت رنگ اور زاویے ہوتے ہیں۔ اکثر ہم رشتوں کو ایک مخصوص پیمانے سے پرکھتے ہیں، جیسے بیوی اور اولاد ہمیشہ غلط ہوں یا والدین اور شوہر ہمیشہ صحیح۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ بارش ایک ایسا سفر ہے جو آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ ہر رشتے کی اپنی ذمہ داریاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اس کہانی میں بہن بھائی کی محبت، اللہ تعالیٰ سے قربت، اور اولاد کی بہتر پرورش کے اصول کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ ناول آپ کو نہ صرف رشتوں کی نزاکت سمجھائے گا بلکہ آپ کے دل میں نرمی اور برداشت کے نئے دروازے کھولے گا۔
Chalo Hum Har Jate Hen by Hina Malik Novel20869
**"اور جب محبت ہوئی... تو اس شخص سے ہوئی... جو شاید اس دنیا میں سب سے زیادہ اسی سے نفرت کرتا تھا۔" میرب کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔ سالار کے سخت لہجے اور اس کے الزامات کے جواب میں وہ صرف ایک سوال کر سکی، "مجھ جیسی عورتیں؟ آخر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟" یہی لمحہ اس کہانی کے جذباتی عروج کو نمایاں کرتا ہے۔
Marham By Eraj Amir Novel20859
"جب عائشہ کے باپ نے اس پر ہاتھ اٹھایا تو پہلی بار اس نے وہ ہاتھ روک لیا۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں خوف، مگر لہجے میں بے مثال ہمت تھی۔ 'بس کریں... میں اب اور نہیں سہوں گی۔' یہی وہ لمحہ تھا جب ایک خاموش، مظلوم لڑکی نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا اور ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے آزادی کا راستہ چن لیا۔
Poojan By Aanakham Novel20855
"جس ہاتھ کو تھامنے کی خواہش برسوں سے دل میں بسی تھی، آج وہی ہاتھ اسے کسی اور کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ آنکھوں میں محبت، دل میں درد اور لبوں پر صرف ایک وعدہ تھا... 'ہمیشہ میری دوست کو خوش رکھنا۔' اس لمحے اس نے ثابت کر دیا کہ سچی محبت کبھی کبھی اپنے محبوب کو پانے میں نہیں، بلکہ اس کی خوشی کے لیے خود کو قربان کر دینے میں ہوتی ہے۔"
Hareer E Hayat By Aanakham Novel20854
"آپ وہ تلاش ہیں جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی تھی، مگر جب آپ میری زندگی میں آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بس آپ ہی چاہیے تھیں۔"
"ان ری ایکشنز کا تو زیادہ نہیں پتا، لیکن آپ کو دیکھتے وقت میرے چہرے پر جو ری ایکشن آتا ہے، وہ یہ ناچیز ضرور بتا سکتا ہے۔"
ذادن کی یہ بات سن کر وہ شرما کر نظریں جھکا گئی، جبکہ دونوں کی خاموش مسکراہٹ نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
Mohabbat Hogai Aakhir By Yumna Talha Novel20842
"شیشے میں اچانک کسی اجنبی شخص کا عکس دیکھ کر لائبہ کے ہاتھ سے تولیہ گر گیا۔ وہ گھبرا کر پیچھے مڑی مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر ایک مدھم سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی، 'تم شادی کے بعد بال کھلے رکھنا... زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔' لائبہ خوف، حیرت اور الجھن کے ملے جلے احساسات میں گم ہو کر بس شیشے کو دیکھتی رہ گئی۔
Sukhan Shanas By Humaira Ali Novel20841
"وقت تو گزر جاتا ہے، مگر ہر زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتا۔ ماں کی جدائی، باپ کی موت اور اپنوں کی بے حسی نے اس معصوم بچی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اب وہ اسی گھر میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی، جہاں کبھی محبت اور خوشیوں کا راج تھا۔"
Dastoor e Wafa by Maryam Aziz Novel20840
"بدگمانی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، بہو! وہ معصوم بچی سارا وقت تمہارے ڈر سے ایک کمرے میں بند رہتی ہے۔ آخر تمہیں اس سے اتنی دشمنی کس بات کی ہے؟"
"کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا۔ اپنی اولاد کی قسمت کا الزام اس بچی پر مت لگاؤ۔"
"وہ بچی میری ذمہ داری ہے، میں اس کا سرپرست ہوں۔ جس دن اس کے اپنے لوگ مل جائیں گے، وہ خود چلی جائے گی۔"