Innocent Heroin
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
روحا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کر دیا جائے گا۔ جس حویلی میں اسے محبت اور اپنائیت کے بجائے سخت رویوں اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہیں اس کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ امن خانزادہ نے رخصتی بھی اسی دن کرنے کی شرط رکھ دی تھی، اور کسی نے روحا کے دل میں موجود خوف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے نکاح کے دن بھی وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے تھکن سے نڈھال تھی، جبکہ امن اس کے لیے قیمتی سرخ عروسی لباس خرید رہا تھا۔ جب وہ دلہن بن کر سامنے آئی تو امن کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں، مگر روحا کا دل اب بھی انجانے خدشات سے لرز رہا تھا۔ کیا یہ نیا رشتہ اسے حویلی کے ظلم سے نجات دلائے گا یا اس کی زندگی ایک اور مشکل امتحان میں داخل ہونے والی تھی؟
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
ایک طرف کامیابی، دولت اور اپنے اصولوں پر غرور کرنے والا مرتضیٰ خاندادہ تھا، جس کے عالیشان ہوٹل میں صرف تجربہ کار لوگوں کو جگہ ملتی تھی۔ دوسری طرف ہادیہ خان تھی، ایک باحجاب لڑکی جس کے پاس کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تو نہیں تھا، مگر اپنے ہنر پر بھرپور اعتماد ضرور تھا۔ ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ہادیہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھر ایک غیر متوقع موقع نے اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا راستہ دے دیا۔ صرف آدھے گھنٹے میں تیار کیے گئے گلاب جامن مرتضیٰ کے سامنے رکھے گئے تو وہ ان کا ذائقہ چکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ کیا یہ معمولی سا موقع ہادیہ کے لیے کامیابی کا دروازہ کھولنے والا تھا؟ اور کیا اپنے سخت اصولوں پر قائم مرتضیٰ خاندادہ اس لڑکی کی صلاحیت کو تسلیم کر سکے گا؟
Mehkoom e Ishq Novel21024
جس جرم کا مہرال نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا، اسی جرم کی سزا اس کی پوری زندگی بدلنے والی تھی۔ شاہ حویلی کی ہونے والی دلہن کے اچانک چلے جانے کا الزام ایک معمولی ملازم کی معصوم بیٹی پر آیا تو اس کی بےگناہی کی ہر دہائی بےاثر ثابت ہوئی۔ پھر حیدر شاہ نے سب کے سامنے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا جس نے حویلی میں موجود ہر شخص کو ساکت کر دیا۔ مہرال کو سزا ملنی تھی، مگر قید یا حویلی سے نکالے جانے کی صورت میں نہیں بلکہ حیدر شاہ کے نکاح میں آ کر۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا مہرال کبھی اپنی بےگناہی ثابت کر پائے گی، اور اس حویلی کی دیواروں کے پیچھے چھپی حقیقت آخر کیا تھی؟
Mohabbat Lazawal Novel20991
مہوش کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر ارہم کے چہرے پر سختی بدستور قائم تھی۔
"سر، میں بھیک نہیں مانگ رہی... میں کام کر کے آپ کا ایک ایک روپیہ واپس کر دوں گی، بس میرے بھائی کی جان بچا لیجیے۔"
مگر ارہم نے بے رحمی سے منہ پھیر لیا۔
مہوش نے کانپتے ہاتھوں سے استعفیٰ لکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گئی۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس ایک فیصلے کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔
Yeh Eid Kitni Saeed Hai by Sehrish Bano Novel20961
"مجھ سے شادی کا اتنا ہی شوق تھا تو خود مجھ سے کہتی، سنی کو استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی۔"
"سنی کو میں نے نہیں، آپ نے استعمال کیا مجھ سے شادی کرنے کے لیے۔"
"مجھ میں ایسی کوئی کمی نہیں جو مجھے شادی کرنے کے لیے کسی کا سہارا لینا پڑے۔"
"سنی اپنی ماما سے کہو اب انہیں مزید جاب کرنے کی ضرورت نہیں۔"
"سنی اپنے پاپا سے کہو میں پہلے بھی یہ جاب کرتی تھی، اب بھی کروں گی۔"
"پہلے کی بات اور تھی، اب وہ کوئی الہڑ دوشیزہ نہیں، شادی شدہ خاتون ہے۔"
"سنی اپنی ماما سے کہو مجھے بحث پسند نہیں، اینڈ دیٹس اٹ۔"
"وہ اسے حکم دینا چاہتا تھا، مگر وہ بھی اس کے حکم ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔"
Dil Diya Roshan Hua by Shumaila Dilebad Novel20902
"میری ماں جائی کی نشانی کے ساتھ ایسا ظلم... یہ دکھ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔"
"گل کے خواب اُس کی مرضی پوچھے بغیر ہی چھین لیے گئے۔"
"کبھی کبھی قسمت انسان کو ایسے فیصلوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں خاموشی بھی ایک آزمائش بن جاتی ہے۔"
"ماں کی جدائی، خاندان کی بے حسی اور ایک مجبور رشتہ... گل کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔"
"ہر اندھیری رات کے بعد روشنی ضرور آتی ہے، بس صبر کا دامن تھامے رکھنا پڑتا ہے۔"
Dil Ki Girah By Fatima Malik Novel20898
"تم آج تک شائستہ کو سگی بیوی کا درجہ نہیں دے سکے۔ بیوی صرف نام کی نہیں، احساس اور حق کی بھی ہوتی ہے۔ کمرہ اور بستر شیئر کرنے سے نہ روحیں قریب آتی ہیں، نہ دل۔ شائستہ نے سب کو محبت دی مگر کبھی سگی بیوی یا سگی ماں کا مقام نہ پا سکی، پھر بھی اس نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔
Betabiyan Novel by Hafsa Shakeel Novel20873
ہانیہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کے نصیبوں کا فیصلہ نفرت کے الفاظ سے ہوگا۔ شہیر نے ماں کی مجبوری پر اس سے نکاح تو کر لیا، مگر پہلی ہی رات اس نے ہانیہ کے کردار پر ایسے الزامات لگائے کہ اس کی روح تک زخمی ہو گئی۔ ہر لفظ زہر بن کر اس کے دل میں اترتا رہا اور وہ بے بسی سے اپنی صفائی دیتی رہ گئی۔ شہیر نے صاف کہہ دیا کہ یہ رشتہ اس کے لیے صرف ایک بوجھ ہے اور ہانیہ کو کبھی بیوی کا مقام نہیں ملے گا۔ جس لڑکی نے محبت، عزت اور ایک نئے آغاز کے خواب دیکھے تھے، اسے اپنی پہلی ہی رات احساس ہو گیا کہ اس کی زندگی ایک ایسے عذاب میں بدلنے جا رہی ہے جہاں ہر دن اس کے صبر کا امتحان ہوگا۔
Meri Rah Ka Roshan Sitara Ho Tum By Sana Zafar Novel20808
حرام رشتے کے بجائے اس نے کانپتی آواز میں صرف ایک درخواست کی، "چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی... مجھ سے نکاح کر لو۔"
اپنی عزت اور ایمان بچانے کے لیے وہ ہر رسوائی قبول کرنے کو تیار تھی، مگر گناہ کا بوجھ نہیں۔
اس کی ایک شرط نے لمحوں میں پوری فضا بدل دی، اور وہ شخص بھی حیرت سے خاموش رہ گیا۔
Woh pagli dil ki malika by Humaira Rubab Novel 20797
وہ پگلی دل کی ملکہ ایک منفرد رومانوی کہانی ہے جہاں شادی کی پہلی رات ہی سبحان کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی نئی نویلی دلہن باقی سب دلہنوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی معصوم باتیں، بچوں جیسی عادتیں اور بے ساختہ انداز سبحان کو حیران بھی کرتے ہیں اور مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ کیا یہ معصوم سی لڑکی واقعی اس کے دل کی ملکہ بن پائے گی یا ان دونوں کی زندگی میں آنے والی آزمائشیں ان کے رشتے کا رخ بدل دیں گی؟ محبت، مزاح، جذبات اور غیر متوقع لمحات سے بھرپور یہ ناول آپ کو ابتدا سے آخری صفحے تک اپنے سحر میں جکڑے رکھے گا۔