Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
By Novelistan
ایک طرف کامیابی، دولت اور اپنے اصولوں پر غرور کرنے والا مرتضیٰ خاندادہ تھا، جس کے عالیشان ہوٹل میں صرف تجربہ کار لوگوں کو جگہ ملتی تھی۔ دوسری طرف ہادیہ خان تھی، ایک باحجاب لڑکی جس کے پاس کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تو نہیں تھا، مگر اپنے ہنر پر بھرپور اعتماد ضرور تھا۔ ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ہادیہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھر ایک غیر متوقع موقع نے اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا راستہ دے دیا۔ صرف آدھے گھنٹے میں تیار کیے گئے گلاب جامن مرتضیٰ کے سامنے رکھے گئے تو وہ ان کا ذائقہ چکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ کیا یہ معمولی سا موقع ہادیہ کے لیے کامیابی کا دروازہ کھولنے والا تھا؟ اور کیا اپنے سخت اصولوں پر قائم مرتضیٰ خاندادہ اس لڑکی کی صلاحیت کو تسلیم کر سکے گا؟
Sneak
ابھی وہ جا کر اپنی ڈیسک پر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے لگے کیمرے میں منظر دیکھ کر چونک گیا۔ اس کے دفتر کے باہر ایک لڑکی اندر آنے کے لیے منت سماجت کر رہی تھی، لیکن اس کا مینیجر اسے اندر نہیں آنے دے رہا تھا۔ اس نے انٹرکام پر مینیجر سے اسے اندر بھیجنے کو کہا تو ایک منٹ میں وہ لڑکی کمرے میں موجود تھی۔ سر پہ حجاب کیے، میک اپ سے مبرا سرخ و سفید چہرہ اور ذہانت سے بھرپور سیاہ آنکھیں جگمگا رہی تھیں۔ "یس مس، کیا چاہیے آپ کو؟" مرتضیٰ خاندادہ نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ "میرا نام ہادیہ خان ہے اور سر، مجھے جاب کی ضرورت ہے۔ میں بہت اچھا کھانا بناتی ہوں۔ پلیز مجھے اپنے ہوٹل میں رکھ لیجیے۔ پتا ہے، میرے کھانے کو پورے خاندان میں پسند کیا جاتا تھا اور لوگ تو آ کر مجھ سے ریسیپی پوچھتے ہیں۔ پلیز سر، مجھے رکھ لیجیے۔ مجھے جاب کی سخت ضرورت ہے۔" وہ لب کشائی کرتے ہوئے بولی۔ "مس ہادیہ خان، کیا آپ سنجیدگی سے سمجھتی ہیں کہ آپ میرے سیون اسٹار ہوٹل کی شیف بنیں گی؟ آپ جانتی بھی ہیں کہ میرے ہوٹل کے شیف بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹل میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی بار وہ لوگ مختلف مقابلوں میں حصہ لے کر جیت بھی چکے ہیں اور مجھے جیتنے والے لوگ پسند ہیں۔ اسی لیے میں ایسے لوگوں کو ہی اپنے ہاں جگہ دیتا ہوں اور آپ گھر میں کھانا پکانے والی میرے ہوٹل میں کام کریں گی؟" وہ اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوئے استہزائیہ انداز میں بولا۔ "سر پلیز، ایک موقع دے دیجیے۔" وہ جلدی سے اس کے سامنے ہوتے ہوئے بولی۔ "میرا اور اپنا وقت ضائع مت کیجیے۔ شاید آپ کے پاس بہت وقت ہوگا، مگر میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے۔ میرے فرانس سے کچھ گیسٹ آ رہے ہیں اور انہوں نے میرے ہوٹل کا کھانا ٹرائی کرنا ہے تو اسی لیے مجھے وہ سب دیکھنا ہے۔ سو پلیز، آپ جا سکتی ہیں۔" وہ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا اور پھر باہر نکل گیا۔ "سر، مجھے بھی اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیجیے نا۔ میں نے بہت ساری ریسیپیز ٹرائی کی ہیں اور بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں نے نیٹ سے لیا ہے اور اس میں میں خود بھی اپنے تجربات کرتی رہتی ہوں جو کہ کافی کامیاب رہتے ہیں۔ پلیز سر، آج کے دن موقع دے دیجیے۔ ہو سکتا ہے آپ کے فرانس کے گیسٹ کو میرا کھانا پسند آ جائے۔" وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے تیز تیز لہجے میں بول رہی تھی۔ "مجھے لگتا ہے کہ آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے، مس۔ شاید آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ میں نے آپ سے کہا ہے کہ آپ یہاں سے جا سکتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں گارڈز کو بلا کر آپ کو یہاں سے نکالوں، آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ چپ چاپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔" وہ بنا رکے سرد لہجے میں بولتا آگے بڑھ گیا۔ وہ وہاں کے کچن کے سامنے پڑے ہوئے بینچ پر بیٹھ گئی۔ مرتضیٰ کام کرتے ہوئے گاہے بگاہے اسی کو دیکھ رہا تھا جو کہ مسترد سی کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگتی اور کبھی بیٹھ جاتی۔ "میٹھے میں گلاب جامن؟ واٹ دا ہیل! یہ کس نے ایڈ کیا ہے؟" وہ کھانے کی لسٹ دیکھتے دیکھتے ایک دم سے مڑتے ہوئے بولا۔ "سر، جو مینیو لسٹ بھیجی تھی، اس میں یہی تھا۔" "او مائی گاڈ! جسٹ گلاب جامن؟ یہاں کوئی مٹھائی کی دکان ہے جو ہم یہ بنائیں گے؟ اس کے علاوہ ٹرائفل ہو سکتی ہے۔" وہ ناگواری سے بولا۔ "سر، یہ کسٹرڈ کے ساتھ انہوں نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شادی اٹینڈ کی تھی تو اس میں کسٹرڈ کے ساتھ یہ والے گلاب جامن تھے، تو اسی لیے یہ ساتھ رکھنے کو کہا ہے اور میں نے زیاد سے بول دیا ہے کہ وہ باہر سے گلاب جامن لے آئیں گے۔" اس کا شیف جلدی سے بولا۔ "دماغ خراب ہو گیا ہے تم لوگوں کا؟ تم لوگ اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میں کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ ان سے جھوٹ بولوں گا میں؟" وہ تلخ لہجے میں بولا۔ "سر، آپ کو گلاب جامن نہیں بنانے آتے کیا؟" اس کے شیف نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ "ایسی ڈیمانڈ کبھی ہوئی نہیں اور میں نے یہ ٹرائی نہیں کیا، ورنہ کوئی اتنی مشکل چیز نہیں ہے۔ مگر مجھے حیرت تم لوگوں کے اوپر ہوتی ہے کہ تم لوگ اتنا چھوٹا چھوٹا کام نہیں سیکھ سکے۔" وہ سر جھٹک کر بیزاری سے بولا۔ "میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں۔" پیچھے سے اسی لڑکی کی آواز آئی تو وہ ایک جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ "سچ میں کر سکتی ہوں۔ بہت اچھے بنیں گے۔ پلیز ایک موقع دے دیجیے۔" وہ جلدی سے پاس آ کر چمکتی آنکھوں سے بولی تو وہ ایک پل کے لیے جیسے مسمرائز ہو گیا۔ "اوکے، کتنی دیر میں بنا لو گی؟" اس نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "پہلے تھوڑا سا آپ کو بنا کے دکھاتی ہوں نا اور پھر اس کے بعد آپ سب میری مدد کر دیجیے گا، اگر زیادہ چاہیے تو۔" وہ جلدی جلدی بولی۔ "نہیں، زیادہ نہیں۔ انہوں نے صرف کھانا ٹیسٹ کرنے آنا ہے اور پھر نیکسٹ ویک ان کا فنکشن ہے جس میں یہ سب کھانا شامل ہوگا۔" وہ بولا۔ "اوکے، نو پرابلم۔ آپ آدھا گھنٹہ دیجیے، میں بنا لوں گی۔" وہ ایکسائٹڈ انداز میں بولی اور پھر جلدی جلدی سے وہ اپنے ہاتھ چلانے لگی۔ سب لوگ اپنا کام چھوڑ کر دلچسپی سے گلاب جامن بنتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ پھر اس نے آدھے گھنٹے میں گلاب جامن بنائے اور اس کے سامنے باؤل میں ڈال کر رکھے تو وہ تھوک نگلتے انہیں دیکھنے لگا۔ اسے بچپن سے ہی مٹھائی جیسی چیزوں سے چڑ تھی۔ پھر اس نے پلیٹ میں نکال کر تھوڑا سا چکھا تو وہ کافی زیادہ مزیدار تھا۔ وہ کچھ دیر منہ ہلائے بغیر اس کے ذائقے کے بارے میں سوچتا رہا اور پھر اس کی طرف دیکھا جو کہ استفسار بھری نگاہوں سے اسی کے جواب کی منتظر تھی۔ "ہاں، اچھا بنا ہے نا؟" ایک طرف دولت، غرور اور کامیابی کے نشے میں ڈوبا سیون اسٹار ہوٹل کا مالک مرتضیٰ خاندادہ، جس کے نزدیک صرف جیتنے والوں کی اہمیت تھی، اور دوسری طرف ایک عام سی حجاب پوش لڑکی ہادیہ خان، جس کے پاس نہ کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تھا، نہ کوئی سفارش، مگر اپنے ہنر پر بے پناہ یقین ضرور تھا۔ ایک معمولی سی نوکری کی تلاش اسے ایسے شخص کے سامنے لے آئی تھی جو اسے ایک موقع دینے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ مگر پھر صرف آدھے گھنٹے میں بنائے گئے چند گلاب جامن نے وہ کر دکھایا جو اس کی منت سماجت بھی نہ کر سکی۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا مرتضیٰ خاندادہ اپنے غرور کو ایک طرف رکھ کر ہادیہ کے ہنر کو تسلیم کر لے گا؟ کیا ایک عام سی لڑکی اس کے عالیشان ہوٹل میں اپنی جگہ بنا پائے گی؟ یا یہ پہلی ملاقات دونوں کی زندگی میں ایک ایسی کہانی کا آغاز ثابت ہوگی جس کا انجام کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا؟ آخر کیا ہونے والا تھا جب ایک مغرور شخص کا سامنا ایک ایسی لڑکی سے ہوا جو ہار ماننا جانتی ہی نہیں تھی؟ جاننے کے لیے پڑھیے ایک دلچسپ اور تجسس سے بھرپور کہانی، جہاں ایک معمولی سی ملازمت کی تلاش دو بالکل مختلف دنیاؤں کو آمنے سامنے لے آئی تھی۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**طعمِ عشق** ایک دلچسپ رومانی اردو ناول ہے جس کی کہانی دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے کرداروں، مرتضیٰ خاندادہ اور ہادیہ خان کے گرد گھومتی ہے۔ ایک طرف دولت، کامیابی اور اپنے اصولوں پر سختی سے قائم رہنے والا ایک بااثر بزنس مین ہے، جبکہ دوسری طرف ایک باحجاب، محنتی اور باصلاحیت لڑکی ہے جو اپنے ہنر کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
مرتضیٰ خاندادہ ایک عالیشان سیون اسٹار ہوٹل کا مالک ہے۔ وہ اپنے کام میں بےحد سنجیدہ، کامیابی کا خواہش مند اور پیشہ ورانہ معیار کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے نزدیک اس کے ہوٹل میں کام کرنے کا حق صرف انہی لوگوں کو حاصل ہے جو اپنے شعبے میں تجربہ اور کامیابی ثابت کر چکے ہوں۔
دوسری طرف ہادیہ خان ایک ایسی لڑکی ہے جسے ملازمت کی سخت ضرورت ہے۔ وہ کھانا پکانے میں مہارت رکھتی ہے اور اپنے تجربات سے نئی نئی تراکیب تیار کرتی رہتی ہے۔ اگرچہ اس نے کسی بڑے ہوٹل میں کام نہیں کیا، مگر اسے اپنے ہنر اور صلاحیتوں پر پورا یقین ہے۔
ملازمت کی تلاش اسے مرتضیٰ خاندادہ کے دفتر تک لے آتی ہے۔
مرتضیٰ اس کی بات سننے کے بعد اسے اپنے ہوٹل میں ملازمت دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک گھر میں اچھا کھانا پکانا اور ایک بڑے ہوٹل کے پیشہ ور باورچی خانے میں کام کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔
مگر ہادیہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں۔
وہ بار بار مرتضیٰ سے صرف ایک موقع دینے کی درخواست کرتی ہے، لیکن اس کا سرد اور سخت رویہ ہادیہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔
مرتضیٰ اسے دفتر سے جانے کا کہہ کر اپنے کام میں مصروف ہو جاتا ہے، جبکہ ہادیہ ہوٹل کے باورچی خانے کے قریب بیٹھ کر کسی موقع کی منتظر رہتی ہے۔
اسی دوران ہوٹل میں فرانس سے آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کی تیاریوں میں ایک مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
مہمانوں کی فرمائش پر میٹھے میں گلاب جامن پیش کیے جانے ہیں، مگر ہوٹل کے باورچی انہیں تیار کرنے کے بجائے باہر سے منگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مرتضیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں آتی، کیونکہ وہ اپنے مہمانوں کو کسی قسم کا دھوکا دینے کے حق میں نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہادیہ ایک مرتبہ پھر سامنے آتی ہے۔
وہ اعتماد کے ساتھ گلاب جامن بنانے کی پیشکش کرتی ہے اور صرف آدھے گھنٹے کا وقت مانگتی ہے۔
مرتضیٰ بالآخر اسے اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع دے دیتا ہے۔
ہادیہ پوری توجہ اور مہارت سے گلاب جامن تیار کرتی ہے۔ باورچی خانے میں موجود لوگ دلچسپی سے اسے کام کرتے دیکھتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد وہ تیار شدہ میٹھا مرتضیٰ کے سامنے رکھ دیتی ہے۔
مرتضیٰ، جسے بچپن ہی سے مٹھائی پسند نہیں، جب اس کے ہاتھ کے بنے گلاب جامن چکھتا ہے تو ان کا ذائقہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جس لڑکی کو وہ تجربہ نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر چکا تھا، اسی نے اپنے ہنر سے اس کے سامنے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔
کیا مرتضیٰ خاندادہ ہادیہ کے ہنر کو تسلیم کرکے اسے اپنے ہوٹل میں کام کرنے کا موقع دے گا؟ کیا ہادیہ اپنی محنت اور خوداعتمادی سے اس کے سخت اصولوں کے درمیان اپنی جگہ بنا سکے گی؟
اور کیا دو مختلف مزاج رکھنے والے ان کرداروں کی پہلی ملاقات مستقبل میں کسی نئے رشتے کی بنیاد بنے گی؟
**طعمِ عشق** محنت، خوداعتمادی، طبقاتی فرق اور دو مختلف شخصیات کے درمیان ہونے والی دلچسپ ملاقات پر مبنی ایک رومانی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**طعمِ عشق** مرتضیٰ خاندادہ اور ہادیہ خان کی کہانی ہے، جن کی پہلی ملاقات ایک ملازمت کے سلسلے میں ہوتی ہے۔
مرتضیٰ ایک کامیاب اور دولت مند بزنس مین ہے جو ایک عالیشان سیون اسٹار ہوٹل کا مالک ہے۔ وہ اپنے ہوٹل کے معیار کے معاملے میں بےحد سخت ہے اور صرف تجربہ کار اور کامیاب لوگوں کو ملازمت دینا پسند کرتا ہے۔
ہادیہ خان ایک باحجاب، محنتی اور کھانا پکانے میں ماہر لڑکی ہے جسے ملازمت کی شدید ضرورت ہے۔ وہ مرتضیٰ کے ہوٹل میں باورچی کی حیثیت سے کام کرنا چاہتی ہے، لیکن بڑے ہوٹل میں کام کرنے کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے مرتضیٰ اسے مسترد کر دیتا ہے۔
ہادیہ بار بار ایک موقع مانگتی ہے، مگر مرتضیٰ اسے جانے کا حکم دے دیتا ہے۔
اسی دوران ہوٹل میں فرانس سے آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کی تیاری شروع ہوتی ہے۔ میٹھے میں گلاب جامن کی فرمائش ایک مسئلہ بن جاتی ہے، کیونکہ ہوٹل کے باورچی انہیں خود تیار کرنے کے بجائے باہر سے منگوانا چاہتے ہیں۔
ہادیہ اس موقع پر گلاب جامن بنانے کی پیشکش کرتی ہے اور مرتضیٰ اسے آدھے گھنٹے کا وقت دے دیتا ہے۔
اپنی محنت اور مہارت سے وہ مقررہ وقت میں گلاب جامن تیار کر لیتی ہے۔ جب مرتضیٰ انہیں چکھتا ہے تو ان کا ذائقہ اسے متاثر کرتا ہے۔
کیا ایک عام سی لڑکی اپنے ہنر کی بنیاد پر مرتضیٰ خاندادہ جیسے سخت مزاج بزنس مین کے ہوٹل میں اپنی جگہ بنا سکے گی؟ اور کیا یہ پہلی ملاقات دونوں کی زندگی میں کسی نئے تعلق کا آغاز ثابت ہوگی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan?
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan is written by Novelistan.
Is Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Class Conflict and Complete Urdu Novel.
Where can I read Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.