Saude Main Mili Muhabbat (سودے میں ملی محبت) Urdu novel cover
723.8kViews
#572Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041

By Sharia Khan

Rate this novel

زویا نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا اپنا بڑا تایا زمین کے بدلے اس کا سودا کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اس مصیبت سے بچنے کے لیے بھاگی، مگر حالات اسے حدید حسان کے سامنے لے آئے اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔ زویا بار بار حدید کو حقیقت بتانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وہ اپنے تایا پر اندھا اعتماد کرتا تھا۔ شادی کے بعد بھی حدید نے اس کی بات سننے کے بجائے اسے مشکوک سرگرمیوں کا طعنہ دیا اور سخت دھمکیاں دیں۔ زویا تنہا بیٹھ کر روتی رہی، جبکہ حدید غصے میں گیسٹ ہاؤس چلا گیا۔ اگلی صبح تایا جان کی بگڑتی حالت کی خبر نے اسے ہسپتال جانے پر مجبور کر دیا۔ کیا حدید کو کبھی معلوم ہو سکے گا کہ زویا سچ کہہ رہی تھی، اور اس کے خاندان میں اصل سازش کس نے کی تھی؟

Sneak

" چینج کیوں نہیں کیا ابھی تک؟ اور یہ رونا بند کرو! جا کر منہ دھو لو اور اپنے یہ بال باندھ کر رکھا کرو، آئندہ میرے سامنے کھلے نظر نہ آئیں۔ " لال جوڑے میں ملبوس، زلفیں بکھری ہوئی، اور روئی آنکھیں. اس کا سجا دھجا روپ اس وقت انتہائی حسین لگ رہا تھا۔ حدید شدید نفرت اور غصے کے عالم میں کمرے میں داخل ہوا تھا۔ بکھرے سحر انگیز روپ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اپنا سارا غصہ بھول گیا۔ " لالا! پلیز میرا یقین کریں، بڑے تایا میرا سودا کر رہے تھے۔۔۔۔" " بکواس بند کرو اپنی! لالہ نہیں ہوں اب میں تمہارا!۔۔۔۔ " اس کی دھاڑ پر وہ سہم گئی۔ اس کا بڑا تایا زمین کے بدلے سودے میں دے رہا تھا، لیکن بھاگنے کی کوشش میں وہ حدید کے ہاتھ لگ گئی اور مجبوراً حدید کو اس سے نکاح کرنا پڑا۔ "میری نظروں سے دور نہ ہوئیں تو اپنے حقوق ادا کر لوں گا!" وہ اس کے حصار میں تڑپ اٹھی۔۔۔۔۔

وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہو ا تھا۔ زویا نے ایک جھٹکے سے دروازے کی طرف دیکھا،حدید کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ " چینج کیوں نہیں کیا تم نے اب تک؟" ایک لمحے کے لیے اس کی نظریں زویا کے خوبصورت سراپے پر ٹھہر سی گئیں۔ اس کے سیاہ ریشمی بال آبشار کی مانند کمر پر بکھرے ہوئے تھے، لال جوڑے میں وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اس کی روئی روئی آنکھیں اس کے ماتم کی علامت تھیں۔ زویا نے تڑپ کر اسے دیکھا۔ " میری بات سنیں حدید لالا۔۔۔۔" حدید نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں روک دیا۔ "اپنے بال باندھ کر رکھا کرو، آئندہ میں تمہارے یہ بال کھلے نہ دیکھوں۔ "زویا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا،اسے تعجب ہوا تھا۔۔۔۔

"میں آپ سے ضروری بات کرنا چاہتی ہوں، حدید لالا پلیز میری بات سنیں۔" اس نے حدید کا بازو تھامنے کی کوشش کی تو حدید نے ایک جھٹکے سے اسے جھٹک دیا۔ " بال باندھو!۔۔۔۔" اس نے چبا چبا کر کہتے ہوئے اسے حکم دیا۔ وہ حدید کا یہ پہلو پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ زویا نے اس کے کہنے پر فورا عمل کیا اور اپنے کھلے بالوں کو جوڑے میں باندھ دیا۔ حدید کے لیے اس کے خوبصورت سراپے اور سحر انگیز بکھرے روپ سے نظریں چرانا مشکل تھا اس  نے اپنا رخ پھیر لیا۔ " تایاجان۔۔۔۔ تایا جان آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں، انہوں نے مجھے بیچنے کی کوشش۔۔۔۔"حدید نے ضبط سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔

"خبر دار! خاموش ہو جاؤ! " اس کی آواز کی گھن گرج پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ زویا سہم کر پیچھے ہٹی۔ حدید غصے میں آگے بڑھا۔ وہ شدید نفرت میں مبتلا کمرے میں داخل ہوا تھا مگر اس کا سجا دھجاروپ، اس کی روئی روئی آنکھیں اور اس کا خوبصورت سراپا ایک لمحے کے لیے اس کے غصے کو بھلانے کے لیے کافی تھے۔ " نہیں ہوں میں تمہار ا لالا، سمجھ گئی تم؟" اس نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور اپنی آنکھیں زویا کی آنکھوں میں گاڑھ دیں۔۔۔۔

زویا کا دل زور سے دھڑکا، اس کا دل پسلی توڑ کر باہر نکلنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔" اور آئندہ اگر تم مجھے اس حلیے میں دوبارہ دکھائی دیں تو پھر میں بھول جاؤں گا کہ ہمارا نکاح کس بنیاد پر ہوا ہے۔" اس کے کان کے قریب جھک کر چبا چبا کر کہتا وہ زویا کے ہوش اڑا گیا تھا۔۔۔ پنی بات مکمل کر کے وہ پلٹا ہی تھا کہ زویا نے ایک بار پھر ہمت کی۔ " میں سچ کہہ رہی ہوں، میں جھوٹ نہیں بول رہی! انہوں نے میرا سودا کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔" حدید نے اس کی کلائی اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے کر اسے اس زور سے خود کی طرف کھینچا کہ وہ اس کے سینے سے جالگی۔۔۔

 حدید نے اس کے بکھرے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔ زویا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کی اس بے باک جسارت کو دیکھنے لگی۔ " اب اگر تم میری نظروں سے دور نہ ہوئیں یا اپنی آواز بند نہ کی، تو پھر جو نہ میں کروں گا اس کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔ اگر تم اب خاموش نہ ہوئیں تو میں اس رشتے کا اصل حق ادا کر دوں گا"حدید کی بات نے زویا کے تن بدن میں آگ لگادی تھی مگر وہ اس کی دھمکی کے آگے مجبور ہو گئی۔۔۔۔

 اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ اس کی گرفت میں بری طرح مچلنے لگی۔" چھوڑدیں مجھے! " حدید نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو وہ دور ہوئی۔ "تمہیں کیا لگتا ہے، میں تمہاری ان باتوں میں آجاؤں گا؟ تم پر رحم کھاؤں گا اور تایا جان کے خلاف کھڑا ہو جاؤں گا؟" وہ تلخی سے ہنسا تھا۔ "ہر گز نہیں! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ میں ان پر آنکھ بند کر کے یقین کر سکتا ہوں جبکہ تمہاری سرگرمیاں تو پہلے ہی مشکوک تھیں۔۔۔۔" وہ سرد لہجے میں کہتا پاس رکھے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔

" کیا میں نے تمہیں فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا؟ " وہ اب باری باری اس کی سرگرمیاں گنوانے لگا۔ زویا سامنے رکھی کرسی پر ڈھ جانے والے انداز میں بیٹھ گئی۔ اس کا دوپٹہ اس کے قدموں میں رول رہا تھا۔ " یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔" وہ سسکی۔ " تو کیا یہ بھی جھوٹ تھا جب اپنی دوست شہرین کی برتھ ڈے سے واپسی پر تم کسی مرد کے ساتھ آئی تھیں؟ کیا یہ وہی مر د تھا جس کے لیے تم گھر سے بھاگی تھیں؟ " حدید کے الزام پر وہ تڑپی تھی۔۔۔۔

کچھ کہنے کے لیے اس نے لب وا کیے ہی تھے کہ حدید نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں روک دیا تھا۔ " میں اب مزید تمہاری کوئی بکواس برداشت نہیں کروں گا! تمہاری فطرت میں ڈسنا لکھا ہے سو تم نے اس خاندان کو ڈس لیا، مگر اب تم حدید کے نکاح میں و ہو اور حدید حسان تم سے تمہارے ایک ایک گناہ کا حساب لے گا۔ " انگلی اٹھا کر اسے وار ننگ دینے والے انداز میں کہتا وہ اس کے پورے وجود میں سنسناہٹ دوڑا گیا تھا۔ " اب جاؤ، جاکر چینج کرو اور اپنی بربادی کے دن گننا شروع کردو! " حدید اسے دھمکی دیتا اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

زویا نے اپنی نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور پھر کرسی پر پاؤں اوپر کر کے، گھٹنوں کے گرد بازو لیے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "میر اقصور کیا ہے؟ مجھے صرف اتنا بتادیں۔۔۔۔ کیا میرا قصور محبت ہے؟" اس نے خود سے سوال کیا تھا مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اگلی صبح حدید کی آنکھ کھلی تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ زویا کو ڈانٹ کر گیسٹ ہاؤس میں آگیا تھا، اسے خود بھی معلوم نہ ہوا اور وہیں اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ وہ جسے اپنے کمرے کے بغیر نیند تک نہیں آتی تھی، غصے میں وہ سب بھول گیا تھا۔ تب ہی اسے ہسپتال سے کال آئی تھی کہ تایا جان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ حدید کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ چھلانگ لگا کر اپنی جگہ کھڑا ہوا اور منہ ہاتھ دھو کر انہی کپڑوں میں باہر نکل آیا۔۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**سودے میں ملی محبت از شریعہ خان** ایک جذباتی، خاندانی سازش اور جبری نکاح پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک لڑکی کی زندگی زمین کے سودے اور اپنے ہی رشتوں کی بے اعتباری کے درمیان الجھ جاتی ہے۔

زویا ایک ایسی لڑکی تھی جس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے اپنے خاندان کا ایک بڑا فرد اسے زمین کے بدلے کسی کے حوالے کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس کا بڑا تایا اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک سودے کی طرح کرنا چاہتا تھا۔

جب زویا کو اس حقیقت کا علم ہوا تو اس نے وہاں سے بچ نکلنے کی کوشش کی۔

لیکن حالات نے ایک غیرمتوقع رخ اختیار کیا اور وہ حدید حسان کے سامنے آ گئی۔

ان حالات میں حدید کو زویا سے نکاح کرنا پڑا۔

مگر یہ نکاح دونوں کے درمیان اعتماد یا خوشی کی بنیاد نہیں بن سکا۔

حدید اپنے تایا پر بے حد یقین کرتا تھا اور زویا کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اسے لگتا تھا کہ زویا کی سرگرمیاں پہلے ہی مشکوک رہی ہیں اور وہ اپنے خاندان سے کچھ چھپا رہی ہے۔

دوسری طرف زویا مسلسل اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے بڑے تایا نے زمین کے بدلے اس کا سودا کرنے کی کوشش کی تھی۔

شادی کے بعد جب حدید کمرے میں داخل ہوا تو زویا سرخ عروسی لباس میں موجود تھی۔

اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ تھیں۔

حدید ایک لمحے کے لیے اس کے حسن کو دیکھ کر ٹھٹکا، لیکن اس کے دل میں موجود غصہ اور بدگمانی ختم نہ ہو سکی۔

اس نے زویا کو لباس بدلنے اور اپنے بال باندھنے کا حکم دیا۔

زویا نے اسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی اور عادتاً حدید کو لالا کہہ کر مخاطب کیا، مگر حدید نے سختی سے اسے ایسا کہنے سے روک دیا۔

اس کے لہجے کی سختی نے زویا کو خوفزدہ کر دیا۔

وہ بار بار بتاتی رہی کہ تایا جان اس کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔

لیکن حدید اس کی بات ماننے کے بجائے اس پر مزید الزامات لگانے لگا۔

اس نے زویا سے فون پر کسی سے بات کرنے اور اپنی دوست شہرین کی سالگرہ سے واپسی پر ایک مرد کے ساتھ آنے کے بارے میں سوال کیے۔

زویا نے ان الزامات کی تردید کی، مگر حدید نے اسے اپنی وضاحت مکمل کرنے کا موقع نہ دیا۔

وہ زویا کی کلائی پکڑ کر اسے دھمکانے لگا اور ازدواجی تعلق کو بھی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی بات کی۔

زویا اس کے رویے سے بری طرح خوفزدہ ہو گئی۔

حدید نے اسے خبردار کیا کہ اب وہ اس کے نکاح میں ہے اور اسے اپنے مبینہ گناہوں کا حساب دینا ہوگا۔

اس کے بعد وہ کمرے سے نکل گیا۔

زویا تنہا رہ گئی۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ خود سے سوال کر رہی تھی کہ آخر اس کا قصور کیا ہے۔

کیا اس کا قصور صرف محبت کرنا تھا؟

دوسری طرف حدید غصے میں گیسٹ ہاؤس جا کر سو گیا۔

اگلی صبح اسے ہسپتال سے فون آیا کہ تایا جان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔

یہ خبر سنتے ہی وہ فوراً ہسپتال جانے کے لیے نکل پڑا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا حدید کو زویا کے ساتھ ہونے والے سودے کی حقیقت معلوم ہو سکے گی؟

کیا اس کا اپنے تایا پر اندھا اعتماد کبھی ٹوٹے گا؟

اور کیا زویا اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کر پائے گی؟

**سودے میں ملی محبت** جبری نکاح، زمین کے سودے، خاندانی سازش، غلط فہمی، بداعتمادی اور ایک لڑکی کی بے بسی پر مبنی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**سودے میں ملی محبت** زویا اور حدید حسان کی کہانی ہے، جن کا نکاح غیرمتوقع اور مشکل حالات میں ہوتا ہے۔

زویا کا بڑا تایا زمین کے بدلے اس کا سودا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

زویا اس صورتحال سے بچنے کے لیے بھاگتی ہے، مگر حدید کے سامنے آ جاتی ہے اور حالات کے باعث دونوں کا نکاح ہو جاتا ہے۔

حدید اپنے تایا پر مکمل اعتماد کرتا ہے اور زویا کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

شادی کے بعد زویا اسے بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کے تایا نے اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔

لیکن حدید اس پر یقین کرنے کے بجائے اس کی سابقہ سرگرمیوں کو مشکوک قرار دیتا ہے۔

وہ زویا سے فون پر کسی شخص سے بات کرنے اور اپنی دوست شہرین کی سالگرہ سے واپسی پر ایک مرد کے ساتھ آنے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔

زویا ان الزامات کی تردید کرتی ہے، مگر حدید اسے وضاحت کا موقع نہیں دیتا۔

وہ زویا کو سخت لہجے میں دھمکاتا ہے اور اسے اپنے سامنے سے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔

اس کے جانے کے بعد زویا تنہا بیٹھ کر رونے لگتی ہے اور سوچتی ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے۔

دوسری طرف حدید غصے میں گیسٹ ہاؤس چلا جاتا ہے۔

اگلی صبح اسے ہسپتال سے اطلاع ملتی ہے کہ تایا جان کی حالت خراب ہو رہی ہے، جس پر وہ فوراً وہاں جانے کے لیے نکلتا ہے۔

کیا حدید اپنے تایا کی حقیقت جان سکے گا؟

کیا زویا کی بے گناہی سامنے آئے گی؟

اور کیا دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی بدگمانی کبھی ختم ہو سکے گی؟

Related Keywords

Saude Main Mili Muhabbat (سودے میں ملی محبت) Novel, Saude Main Mili Muhabbat (سودے میں ملی محبت) Urdu Novel, Saude Main Mili Muhabbat (سودے میں ملی محبت) PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041?

Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041 is written by Sharia Khan.

Is Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041 complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.

Where can I read Saude Main Mili Muhabbat by Sharia KhanNovel21041?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *