Ek Anjani Si Muhabbat, Novel21056 Urdu novel cover
774.9kViews
#465Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan

By Novelistan

Rate this novel

وردہ صداقت اپنی سوتیلی بہن ماہم کی جگہ علوی خاندان میں جانے کے لیے تیار تھی۔ اس کا دل خوف اور بے یقینی سے بھرا ہوا تھا، کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ روانگی سے پہلے احسن نے اسے ماہم سمجھ کر اپنی بے وفائی کا اعتراف کر دیا، جس سے وردہ کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی۔ علوی مینشن پہنچ کر اس کی ملاقات وائل علوی کی دادی سے ہوئی، جنہوں نے اس کے ساتھ شفقت سے پیش آ کر اسے کچھ تسلی دی۔ پھر وائل علوی سامنے آیا اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔ دوسری طرف احسن کو وردہ کھونے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔

Sneak

وہ پوری رات وردہ نے جاگ کر آنکھوں میں کاٹی تھی اور اگلا دن اس کے لیے ںے حد مشکل تھا ۔ بالاخر اس کا جانے کا دن آگیا  تھا۔ اس کے والد نے شروع سے یہی طے کیا تھا کہ وہ جس دن ماہم کو بھیجیں گے وردہ کا بھی سادگی سے نکاح کر دیں گے اور رخصتی ایک دو دن بعد ہو گی۔
اب ماہم کی باری بھی اس معاملے میں انہوں نے کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی تھی۔
وردہ کیونکہ بہت زیادہ خوفزدہ تھی اور اس کے والد بھی اس شادی سے خوش نہیں تھی اس لیے اسے تیار کرنے کے لیے کسی پارلر والی کو نہیں بلوایا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کا دیا گیا بلیک ڈریس پہن کر بیٹھ گئی تھی۔  اس نے تو گھر پر بھی تیار ہونے کی زحمت نہیں کی تھی بھلا کون خود کو قربان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سجاتا ہے۔
دل میں عجیب سے وہم اور وسوسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسے جکڑتے جا رہے تھے۔
پتہ نہیں وہ لوگ اس کا نکاح کریں گے بھی یا نہیں وہ جب بنا نکاح کہ ان لوگوں کی دسترس میں چلی جائے گی تو پھر وہ جو چاہیں اس کے ساتھ سلوک کریں اس کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔
جبکہ دوسرے کمرے میں اس کی سوتیلی ماں اپنی بیٹی کو سجانے میں مصروف تھی۔
ان دونوں ماں بیٹی نے ایک بار بھی اس کے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا ۔
ان کی تو من کی مراد پوری ہو گئی تھی ۔
ان کی بیٹی کی شادی وہی ہو رہی تھی جہاں وہ چاہتی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ وردہ سے بھی جان چھوٹ رہی تھی وہ دونوں ہی آج بے حد خوش تھیں۔
شام میں اس کے والد کمرے میں داخل ہوئے تو اپنی بیٹی کو سیاہ لباس میں ملبوس دیکھتے رو پڑے تھے۔
ڈری سہمی ہوئی وردہ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پائی اور بے اختیار اپنے والد کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔ وہ دونوں کتنی دیر تک روتے رہے۔
"چلو ان کی گاڑی آ چکی ہے جانے کا وقت ہو گیا ہے میری بچی مجھے معاف کر دو میری وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے میں ایک بہت برا اور بدنصیب باپ ہوں" اس کے والد  اس کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے جبکہ وہ نفی  میں سر ہلاتے ان کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا گئی ۔
سیاہ لباس میں ملبوس وہ خود کو چادر میں چھپائے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔
اس کے بابا اس کا ہاتھ تھامے اسے لیے باہر آئے جب صحن میں پہنچ کر اسے رکنے کا کہہ کر اندر کی جانب بڑھے۔ وہ وہیں رک کر ان کا انتظار کر رہی تھی جب اسے احسن سامنے سے آتا  دکھائی دیا۔  وہ ایک لمحے کے لیے گھبرا گئی اگر اس نے پہچان لیا تو پھر کیا کرے گی۔
تیزی سے چادر میں اپنا چہرہ اچھی طرح چھپا گئی تھی۔
"ماہم سوری یار میں تمہاری مدد نہیں کر پایا لیکن تم فکر مت کرو میں نے سوچ لیا ہے میں  تمہیں وہاں سے نکال لوں گا۔۔۔۔۔۔ تم بس دو تین دن میرا انتظار کرنا میں پولیس لے کر تمہیں لینے آؤں گا کہ تمہیں زبردستی لے جایا گیا ہے اور تم پر ظلم ہو رہا ہے تمہیں بس پولیس کے سامنے ان کے خلاف گواہی دینی ہو گی پھر تم آزاد ہو جاؤ گی میرا  ایک دوست پولیس میں ہے میں تمہیں لینے ضرور آؤں گا پھر وردہ کو طلاق دے کر تم سے شادی کروں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے " وردہ جو کہ بہت ہی ڈری سہمی ہوئی سی تھی احسن کی باتوں پر اپنی جگہ پر ساکت ہی رہ گئی۔
دل جو پہلے خوف سے تڑپ رہا تھا اب بالکل خالی ہو گیا تھا۔ یقین کرنا مشکل تھا یہ وہی شخص ہے جس نے اس سے ساتھ نبھانے کے وعدے کیے تھے۔  وہ کتنی سکون سے اسے طلاق دینے کی بات کر رہا تھا۔ کتنے گھٹیا شخص سے اتنے سال محبت کی اس نے۔۔۔۔۔۔۔ اس لمحے وردہ نے خود سے عہد کیا تھا وہ وہاں مر جائے گی لیکن دوبارہ واپس کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خاموشی پے احسن ابھی مزید کچھ کہتا کہ اپنے ماموں کو آتا دیکھ کر جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔
"اس کی ضرورت  نہیں پڑے گی کیونکہ تمہاری پیاری ماہم کو ہمیشہ کے لیے تمہیں سونپ کر جا رہی ہوں۔۔۔۔ اب نہ تو تمہیں مجھ سے زبردستی نکاح  کرنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی اتنا بڑا کھیل رچا کر مجھے طلاق دینا پڑے گا  تم جو چاہتے ہو وہ آج ہی تمہیں مل جائے گا "
وہ زیر لب کہتی اپنے والد کی جانب متوجہ ہوئی۔
"بیٹا یہ  تمہاری ماں کا ہے تم یہ اپنے ساتھ لے جاؤ"
وہ اس کی والدہ کا جیولری باکس اس کی جانب بڑھا کر بولے تو وردہ نے خاموشی سے جیولری باکس تھام لیا۔
وہ  اپنے والد کے حصار میں ان کے ساتھ اس گھر سے باہر نکل گئی تھی۔
آگے پیچھے گارڈز کی گاڑیوں کے درمیان ایک بڑی سی عالی شان گاڑی کھڑی تھی۔  جس کے پاس ہی اس کا باوردی ڈرائیور کھڑا اس کا منتظر تھا۔ اس کے آتے ہی ڈرائیور نے اس کے لیے گیٹ کھولا اس کے بابا نے اس کی پیشانی چوم کر اسے آخری بار گلے لگاتے روتے ہوئے گاڑی میں بٹھایا۔ مگر اب کی بار وہ روئی تک نہ تھی اس کے دل سے ہر جذبہ زائل ہو گیا تھا۔
وہ خود کو مردہ محسوس کر رہی تھی جیسے اندر سے زندہ ہی نہ ہو۔
گاڑی آگے بڑھی  تو وہ  نظروں سے اوجھل ہونے تک اپنے اس گھر کو دیکھتی رہی جہاں اس کی بہت سی اچھی و بری یادیں تھیں جہاں اسے دوبارہ کبھی لوٹ کر واپس نہیں آنا تھا ۔

*****

احسن اور اس کے ماں باپ صداقت صاحب کے چھوٹے سے لاؤنج میں بیٹھے دلہن کا انتظار کر رہے تھے مولوی صاحب کچھ ہی دیر میں آنے ہی والے تھے۔
وہ یہاں وردہ سے نکاح کے لیے آئے تھے کیونکہ صداقت صاحب نے آج ہی اپنی ایک بیٹی کو کھو دیا تھا اس لیے نکاح کی رسم  انتہائی سادگی کے ساتھ کی  گئی تھی۔
کسی بھی رشتے دار یا پڑوسیوں تک کو نہیں بلایا گیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ خواہ مخوا کی باتیں بنائیں۔
تبھی سیڑھیاں سے اتر کر آتی ماہم کو دیکھ کر وہ سبھی حیران ہوئے۔
" صداقت بھائی آپ نے تو کہا تھا کہ ماہم شام کو چلی جائے گی یہ تو ابھی تک یہی ہے " صباحت بیگم کی بات پر صداقت صاحب ایک  گہرا سانس لے کر رہ گئے ۔
"ماہم نہیں جائے گی آپا جسے جانا تھا وہ جا چکی ہے ماہم یہاں احسن سے نکاح کے لیے آئی ہے" اس کی بات پر وہاں موجود تینوں افراد پر گویا دھماکہ ہوا تھا وہ تینوں بے یقینی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
"یہ کیا مذاق ہے بھائی صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں احسن کا نکاح تو وردہ سے ہونا ہے پھر ماہم یہاں کیا کر رہی ہے اور وردہ کہاں ہے" صباحت بیگم گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھتے اپنے بھائی سے مخاطب ہوئیں جو کہ سر جھکائے بیٹھے تھے۔
"وردہ جا چکی ہے علوی خاندان میں ماہم کی بجائے وردہ گئی ہے اور یہ اس کی اپنی خواہش اور اس کا اپنا فیصلہ تھا اس نے مجھے بتایا ہے کہ ماہم اور احسن ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں وہ ان دونوں کے بیچ نہیں آنا چاہتی وہ چاہتی تھی کہ میں ان دونوں کا نکاح کروا دوں اگر ماہم کی شادی احسن سے ہوتی ہے تو ظاہر ہے علوی خاندان کو تو ایک بیٹی دینی ہی تھی اس لیے ماہم کی جگہ وردہ کو وہاں بھیج دیا ہے"  صداقت صاحب کا انکشاف ان سب کو حیران کر گیا تھا احسن کے لبوں سے تو ایک لفظ تک نہیں نکلا تھا۔ حیرت اور بے یقینی سے سامنے سے دلہن بن کر آتی ہوئی ماہم کو دیکھ رہا تھا ۔
اس کے کانوں میں وردہ کے جملے گونج رہے تھے۔ تو یہ تھا اس کا سرپرائز۔۔۔۔۔
وہ خود بھی یہی چاہتا تھا وہ تو خود کہتا تھا کہ وہ ماہم کو پسند کرنے لگا ہے وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اب جب ماہم دلہن بنی اس کے سامنے کھڑی تھی تو اس کا دل خوش کیوں نہیں ہو پا رہا تھا ایسا کیوں لگ رہا تھا جیسے اس کے دل کا کوئی انتہائی قیمتی حصہ کھو گیا ہو اسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ۔
"نہیں یہ نہیں ہو سکتا میری شادی تو وردہ سے ہونی تھی نا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ اسے کیسے بھیج سکتے ہیں وہ میری منگ تھی مجھے بتائیں بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے لیا وہ میری ہونے والی بیوی  تھی آپ نے کیسے کسی اور کو دے دی " وہ خود پر سے قابو کھوتا پوری شدت سے چلایا تھا جبکہ ماہم جو کہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوگا اس کی بات پر اس کا رنگ فق ہوا تھا ۔
جبکہ حسن کے ماں باپ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے تھے اس کی ماں پہلے سے ہی جانتی تھی ان دونوں نے کتنی بار بیٹے کو سمجھایا تھا کہ ماہم اچھی لڑکی نہیں ہے  اس سے دور رہے لیکن ان کا بیٹا نہیں مانا۔

*****

گاڑی اس بڑے سے مینشن کے کار پورچ میں آ کر رکی تھی ۔
ایک میڈ نے تیزی سے آگے بڑھتے گاڑی کا ڈور کھول کر وردہ کو نیچے اترنے میں مدد کی تھی۔
وردہ اس میڈ کی معیت میں چلتی ہوئی اس مینشن کے بڑے سے وسیع لاؤنج میں داخل ہوئی جہاں سامنے صوفے پر ایک بوڑھی خاتون بیٹھی تھی۔
"ارے آؤ ماشاءاللہ  تو تم میرے پوتے کی دلہن ہو ادھر میرے پاس بیٹھو " وہ خاتون نرمی سے بولیں تو وردہ خود پر قابو پا کر گھبراتی ہوئی ان کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔
" یہ چادر اتار دو بیٹا اور پرسکون ہو جاؤ"
ان کے کہنے پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ بلیک چادر اتار گئی ایک میڈ نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے چادر لی تھی چادر کے نیچے سے اس نے برائیڈل دوپٹہ انتہائی سلیقے کے ساتھ سیٹ کیا ہوا تھا۔
"ماشاءاللہ ماشاءاللہ نام کیا ہے تمہارا بیٹی"
وہ خاتون اس کی بلائیں لیتی مسکرا کر بولی۔
" وردہ"  اس کے لبوں سے مری مری سی آواز نکلی تھی۔
"بہت پیارا نام ہے بالکل تمہاری طرح "
ان خاتون کی تعریف پر وردہ کے گال لال ہوئے تھے جبکہ گھبراہٹ کچھ حد تک کم ہوئی تھی۔
"ارے بہو آگئی چلیں جلدی کریں میں مولوی صاحب کو لے کر آتا ہوں وہ کب سے انتظار کر رہے ہیں اور روزی تم جلدی جا کر وائل کو بلاؤ کہو نکاح کا وقت ہو گیا ہے"  وہ خاتون ابھی نرمی سے اس سے چھوٹے چھوٹے سوالات پوچھ رہی تھی جب  ایک انتہائی بارعب  شخصیت کے مالک بزرگ اندر داخل ہوئے اور سب کو ہدایات دینے لگے۔
ان خاتون کے اشارے پر ایک ملازمہ نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ بلیک ویل میں چھپا دیا۔
کچھ ہی دیر میں جب مولوی صاحب کو اندر آتا دیکھ کر وردہ کو کچھ تسلی ہوئی تھی کہ چلو کم سے کم نکاح تو کر رہے تھے ورنہ تو  اس کے ذہن میں عجیب سے خیالات سر اٹھا رہے تھے۔
"ارے وائل آگیا " ان خاتون کے خوشی سے چہک کر کہنے پر وردہ نے بے اختیار نظریں اٹھا کر سامنے سیڑھیوں کی جانب دیکھا تھا۔ اور اگلے لمحے اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔
سامنے ہی بلیک شلوار قمیض پہ بلیک واسکٹ پہنے انتہائی شان سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتا ہوا وہ بے انتہا حسین نوجوان وہی تھا جسے اس دن مال میں دیکھا تھا ۔
اسے دیکھ کر ہی وردہ  جس کی گھبراہٹ کچھ حد تک کم ہوئی تھی اس کی سانسیں ایک بار پھر سے حلق میں اٹکنے لگی اس کی شادی اس شخص سے ہونے والی تھی یہ سوچ کر ہی وہ کپکا اٹھی تھی ۔
وائل اپنے بارعب انداز میں چلتا ہوا آ کر وردہ کے بالکل سامنے صوفے پر براجمان ہوا۔
ایک پاؤں پر دوسرا پاؤں کروفر سے ٹکاتے وہ اپنے دادا کی کسی بات پر سر ہلا کر سیدھا ہوا تھا اور اس نے نظریں اب سامنے اپنے پسندیدہ رنگ اور لباس میں ملبوس اپنی دلہن پر ڈالی سیاہ ویل میں چاند کی مانند چمکتا ہوا اس معصوم لڑکی کا چہرہ مقابل کی نیلی آنکھوں کے حصار میں آیا تھا۔  دونوں کی نظریں ملی تو وردہ فوراً ہی ہڑبڑا کر نظریں جھکا گئی ۔جبکہ مقابل کے لبوں پر ایک لمحے کے لیے ہلکی سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی آنکھوں میں  شناسائی کے رنگ واضح ہوئے تھے۔
"وردہ صداقت ولد صداقت علی آپ کا نکاح وائل علوی ولد داؤد علوی کے ساتھ بحق مہر ایک کروڑ روپیہ طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے"  مولوی صاحب کی آواز پر اسے اپنی ہتھیلیاں پسینے سے تر ہوتی محسوس ہوئی۔ وہ خوف کے مارے ساکت سا اپنی ہتھیلیوں کو دیکھے گئی۔
اس شخص سے نکاح کا سوچ کر ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔
"بیٹا قبول ہے بولو " اسے مسلسل خاموش دیکھ کر جہاں وائل کے ماتھے پر بل پڑے تھے وہیں پر وائل کی دادی نے آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا تو وہ بے بسی سے آنکھیں میچ کر کھولتی قبول ہے کہہ گئی۔
"وائل علوی ولد داؤد علوی آپ کا نکاح وردہ صداقت ولد صداقت علی کے ساتھ باوض حق مہر ایک کروڑ روپے طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے" وردہ سے تین بار ایجاب و قبول لینے کے بعد مولوی صاحب وائل کی جانب متوجہ ہوئے ۔
"قبول ہے"  مقابل کی بھاری گھمبیر آواز پر وردہ نے بے اختیار نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھے اس حسین نوجوان کو دیکھا جو کہ یک ٹک اس کی جانب دیکھ رہا تھا وائل نے دوسری بار اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے قبول ہے کہا تھا جبکہ وردہ دوبارہ نظریں جھکا کر اپنی انگلیاں مسلنے لگی۔
جبکہ وائل نے نہ تو نظریں جھکائیں تھی اور نہ ہی وردہ پر سے اپنی نظریں ہٹائی تھیں وہ مسلسل یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔

*****

"میں ماہم سے شادی نہیں کروں گا مجھے وردہ سے ہی شادی کرنی ہے میں اسے واپس لے آؤں گا وہ ایسے کیسے مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہے اسے کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے"  احسن نفی میں سر ہلاتا پاگلوں کی طرح دروازے کی جانب بڑھا تھا۔
جب اس کی ماں نے تیزی سے آگے بڑھتے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔
"تم کسے  بیوقوف بنا رہے ہو احسن وردہ کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی یہ بات تم بھی اچھی طرح سے جانتے ہو اور ہم بھی اس لیے یہ تماشہ بند کرو میں نے تمہیں کہا تھا کہ سدھر جاؤ اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اور تم تو خود یہی چاہتے تھے نا تو پھر اب تماشہ کیوں کر رہے ہو سچ تو یہ ہے کہ تم وردہ جیسی معصوم اور صاف دل بچی کے لائق ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔ تم اس جیسی لڑکی ہی ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔۔۔۔ تمہاری وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔۔۔۔۔ میں نے وعدہ کیا تھا اپنی ماں سے کہ ان کی پوتی کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھوں گی لیکن تم جیسی ناہنجار اولاد نے مجھے اس حال میں پہنچا دیا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ میں قیامت والے روز اپنی ماں کو کیا منہ دکھاؤں گی کہ میں ان کی وردہ کی حفاظت نہیں کر پائی، تمہاری وجہ سے وہ معصوم بچی ان ظالموں میں پھنس گئی ہے پتہ نہیں وہ لوگ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ساری زندگی یہاں سوتیلی ماں کے ظلم سہتی رہی اور اب وہاں پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہوگا یہ سب صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے احسن اور یاد رکھنا میری ایک بات میں اس کے لیے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی وردہ کو تم اب کھو چکے ہو اسے دوبارہ پانے کا خیال بھی ذہن سے نکال دو اور جہاں تک بات ہے تمہاری شادی کی۔۔۔۔۔۔ تو تمہاری شادی آج ابھی اسی وقت ماہم سے ہوگی میں اب مزید اپنے بھائی کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتی"
اپنی ماں کی بات پر وہ بے بسی کے احساس سے انہیں دیکھنے لگا۔  اسے اس لمحے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا اتنی تکلیف تو ماہم کی شادی کا جان کر بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔ جتنی تکلیف یہ سوچ کر ہو رہی تھی کہ وردہ کسی اور کی ہو جائے گی۔
وہ اب کبھی واپس پلٹ کر نہیں آئے گی۔
یہ احساس احسن کے دل کو اذیت سے جکڑ رہا تھا اس لمحے مقابل پر انکشاف ہوا کہ جس سے وہ محبت کرتا تھا وہ ماہم نہیں وہ شروع سے وردہ ہی تھی وہ تو بس ماہم کے بہلانے پر بہک گیا۔
اور اس سب میں اس نے اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے کھو دیا۔
وہ لڑکی جس کے ساتھ زندگی کے سہانے خواب سجائے تھے جسے اپنی دلہن بنانے کا وعدہ کیا تھا آج وہ کسی اور کی دلہن بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے سے چلی گئی تھی اور اسے پتہ تک نہ چل سکا۔
"نہیں امی مجھ سے غلطی ہو گئی میں بھٹک گیا تھا لیکن میرا یقین کریں میں صرف وردہ سے محبت کرتا ہوں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا میں اسے واپس لے آؤں گا وہ ابھی زیادہ دور نہیں گئی ہوگی وہ مجھ سے ناراض ہے میں اسے منا لوں گا میں جانتا ہوں وہ بھی صرف مجھ سے محبت کرتی ہے وہ میرے بغیر کیسے رہے گی آپ لوگوں نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ماموں اگر ایسی کوئی بات تھی تو ایک بار مجھ سے تو بات کرتے ایک بار مجھ سے تو پوچھتے کہ میں کیا چاہتا ہوں "
وہ بے بسی کے احساس سے چیخ رہا تھا اس لڑکی کو کھو کر احساس ہوا تھا کہ اس کے دل کے کتنے قریب تھی وہ لڑکی۔۔۔۔لیکن افسوس اب وقت گزر چکا تھا سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔  جب وہ اس کے پاس تھی تو وہ اس کی قدر نہیں کر پایا اور اب اس کے جانے کے بعد اس کے ہاتھ سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچا تھا۔
وہ سمجھتا تھا کہ ماہم ہر لحاظ سے بہتر ہے اس سے شادی کرکے وہ خوش رہے گا لیکن اب جب اس کی شادی ماہم سے ہو رہی تھی تو دل خوش ہونے کی بجائے عجیب سی اذیت اور تکلیف میں مبتلا تھا۔
ماہم کے وجود سے عجیب سی بیزاری محسوس ہو رہی تھی۔
"احسن یہ تم کیا کہہ رہے ہو تم نے خود مجھ سے کہا تھا کہ تم مجھے پسند کرتے ہو وردہ کو تو مجبوری میں برداشت کر رہے تھے تم، اب جب وہ خود نکل گئی ہے ہمارے درمیان سے تو کیوں تماشہ کر رہے ہو کیوں مجھے بے مول کر رہے ہو اس میں تھا ہی کیا جو تم اس کے لیے پاگل ہو رہے ہو " ماہم اپنا آپا  کھوتی اس کے مقابل آتی چٹخ کر بولی تھی جب کہ وہ حیرت سے اس کا یہ عجیب  انداز دیکھ رہا تھا۔جو دلہن بنی اس کے سامنے اونچی آواز میں چلا رہی تھی۔
وردہ نے کبھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی اس کی کتنی برائیاں۔۔۔۔۔ کتنی ہی غلطیاں ہنس کر نظر انداز کر دیتی اور ایک یہ لڑکی تھی جو دلہن بنی اس پر چیخ رہی تھی۔
ماہم کو دیکھ کر اسے مزید شدت سے احساس ہوا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔
"کیونکہ تم نے مجھے ورغلایا تم دونوں ذلیل ماں بیٹی نے میری وردہ کو مجھ سے چھینا ہے تم دونوں نے پلان بنایا اور مجھے وردہ سے بدظن کر دیا میں بیوقوف الو کا پٹھا تھا جو تم جیسی  دو ٹکے کی لڑکی کی باتوں میں آگیا اور اپنی وردہ کو تکلیف پہنچائی یہ سب تم دونوں کی وجہ سے ہوا ہے تم دونوں کی وجہ سے میری وردہ اس حال میں ہے تم دونوں نے ہی اس کے دل میں غلط فہمی پیدا کی ہوگی۔۔۔۔۔ تم دونوں نے اسے مجبور کیا ہوگا اس سب کے لیے مجھے نفرت ہو رہی ہے تم سے اور تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری سب سازشوں کے باوجود میں تم سے شادی کر لوں گا کبھی نہیں میں تم جیسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا"۔ احسن چیختے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ ان دونوں ماں بیٹی کی رنگت سفید پڑنے لگی۔
صداقت صاحب تو بس اپنا سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھے تھے۔
انہیں اس وقت صرف اور صرف اپنی وردہ کی فکر تھی جو پتہ نہیں کس حال میں تھی یہاں چلتے اس تماشے سے جیسے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
"بس احسن بہت ہو گیا بہت تماشہ کر چکے ہو تم اگر ان کا قصور ہے تو تم بھی ان کے اس جرم میں برابر کے شریک ہوں انہوں نے تمہیں ورغلانے کی کوشش کی اور تم آسانی سے ان کی باتوں میں آگئے اتنی کمزور محبت تھی تمہاری۔۔۔۔۔ اب چیخ چیخ کر تم یہ ثابت کر رہے ہو کہ محبت کرتے تھے اس سے، اب اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا وردہ واپس لوٹ کر نہیں آئے گی وہ اب علوی خاندان کی بہو ہے اور جہاں تک تمہاری بات ہے تو میں تمہیں مزید اپنی عزت کا تماشہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا تمہارا نکاح ماہم سے ہی ہوگا یہ میرا آخری فیصلہ ہے تم نے خود اسے چنا ہے اب خود ہی سے برداشت کرو"
احسن کے والد اس کو بازو پکڑ کر سختی سے بولے تو وہ اذیت سے اپنے لب پھنچ  کر رہ گیا احسن کے والد سخت انداز میں اسے وارننگ دے کر دروازے کی جانب بڑھ گئے ۔
کچھ ہی دیر میں احسن کا نکاح ماہم کے ساتھ کروا دیا گیا تھا۔
نکاح ہوتے ہی احسن ایک جھٹکے سے وہاں سے اٹھ کر نکلتا چلا گیا۔

*****

"چلو بیٹا اب بہت وقت ہو گیا ہے تم اب چینج کر کے آرام کرو روزی اسے وائل کے کمرے میں پہنچا دو"  وہ کافی دیر تک وائل کی دادی  افشاں خاتون کے ساتھ بیٹھی ان کی باتیں سنتی رہی تھی۔ اس کا ڈر کسی حد تک کم ہو گیا تھا۔ وائل کے دادا نکاح ہونے کے بعد اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے اسے دعا دے کر وہاں سے چلے گئے تھے۔ وہ وائل اور مولوی صاحب کو لیے ایک ساتھ باہر نکل گئے تھے۔
کافی رات ہو گئی تھی جب دادی کی بات پر وہ سر ہلا کر نہ چاہتے ہوئے بھی میڈ کے ساتھ چل پڑی تھی۔ اس کا دل کچھ حد تک پرسکون ہو گیا تھا اس نے جیسا سوچا تھا یہاں ویسا تو کچھ نہیں ہوا تھا باقی کسی کا پتہ نہیں لیکن کم سے کم وائل کی دادی بہت ہی اچھی خاتون تھی۔
انہی سے وردہ کو معلوم ہوا تھا کہ وائل کے ماں باپ نہیں ہیں اور اس بڑے سے مینشن میں ملازمین کے علاوہ بس وائل اور اس کے دادا دادی رہتے تھے۔
میڈ اسے وائل کے کمرے کے باہر چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔  وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس بڑے سے ماسٹر روم کو دیکھ کر اسکی آنکھیں بڑی ہوئی تھی یہ کمرہ تو اس کے پورے گھر کے جتنا لگ رہا تھا۔
اسے کچھ لمحے لگے تھے  سمجھنے میں کہ اس کے شوہر کو سیاہ رنگ کچھ زیادہ ہی پسند ہے کیونکہ کمرے کی دیواروں سے لے کر پردوں تک ہر شئے سیاہ تھی۔
اس نے بے اختیار اپنے ڈریس کی جانب دیکھا کیا یہ ڈریس اس شخص کی پسند تھا۔
اگر یہ واقعی اس شخص  کی خواہش تھی تو بڑی عجیب سی خواہش تھی بھلا نکاح پر اپنی دلہن کو بلیک کلر کا جوڑا کون پہناتا ہے اور خود مقابل نے تو بھی تو بلیک ڈریس ہی پہنا ہوا تھا۔
وہ اپنا سر جھٹک کر اب ڈریسنگ روم کا دروازہ ڈھونڈنے لگی۔ جہاں دادی کے مطابق اس کے لیے آرام دہ کپڑے موجود تھے۔
ابھی وہ کمرے میں کا جائزہ لیتی ڈریسنگ روم ڈھونڈ ہی رہی تھی جب دروازہ کھلا وردہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اپنے پیچھے وائل کو کھڑا پا کر اس کے لبوں سے ایک بے اختیار چیخ بلند ہوئی۔  وہ چیخ کرتے تیزی سے پیچھے ہٹی کہ ہڑبڑی میں اس کا پاؤں مڑا تھا اس سے پہلے کہ وہ مقابل کے سامنے زمین بوس ہوتی اس حسین نوجوان نے تیزی سے آگے بڑھتے اسے اپنے حصار میں لے کر گرنے سے بچایا تھا۔
"آپ ٹھیک ہیں"
اس کے سنجیدگی سے کہنے پر وردہ اس سے دور ہوتی اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔
اس شخص کو کیا بتاتی کہ وہ جس قدر حسین تھا اس سے کہیں زیادہ اسے خطرناک لگتا تھا۔ اس شخص کو دور سے دیکھ کر ہی اسے ڈر لگا تھا اور اب وہ بند کمرے میں اس شخص کے ساتھ اکیلی اس کے بے حد قریب کھڑی تھی۔  یہ سوچ سوچ کر اس کی جان جا رہی تھی۔ اس نے تو سوچا تھا کہ اس شخص کے آنے سے پہلے ہی جلدی سے چینج کر کے سونے کے لیے لیٹ جائے گی تاکہ اس شخص سے سامنا ہی نہ ہو۔ لیکن اس کی شاید قسمت ہی خراب تھی۔ وردہ کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اپنا کہاں چھپائے مقابل گہری نظروں سے اب بغور  اس کا سر تا پاؤں جائزہ لے رہا تھا۔
"کھڑی کیوں ہیں آپ بیٹھ جائیں"
اس کی بات پر وہ تیزی سے نفی میں سر ہلا گئی۔
" کیا مطلب کیا آپ کو ساری رات کھڑے رہنا ہے " اس کی بات پر وہ مزید شدت سے سر ہلانے لگی ۔
"وہ۔۔۔۔۔۔۔مجھ۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔چینج کرنا۔۔۔۔ہے " سر جھکائے وہ بمشکل اٹک اٹک کر بولی تھی۔ "کر لینا چینج پہلے بیٹھیں تو صحیح اتنی جلدی چینج کر کے کیا کرنا ہے"  اس کے سنجیدہ انداز میں کہنے پر وردہ کو سمجھ نہیں آئی کیا کہے وہ حلق تر کرتی سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
مقابل اپنی واسکٹ اتار کر انتہائی سلیقے س ہینگ کرتا اس کے پہلو میں آ کر بیٹھا تو وردہ فریز ہوئی تھی ۔ مقابل کے وجود سے اٹھتی ساحرانہ خوشبو اسے اپنے حصار میں لے گئی تھی۔ اس کی پراثر موجودگی کے احساس سے وہ تھوڑا سا ہل کر اس سے دور ہونے کی ہمت تک نہیں کر پائی۔ وہ بالکل بت بنی اپنی بگڑتی دھڑکنوں کے ساتھ اپنی ہتھیلیوں کو گھورنے لگی۔  مقابل نے ایک نظر اس کے گھبرائے ہوئے چہرے پر ڈالی اور۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**ایک اجنبی سی محبت از نمرہ سیال** ایک جذباتی اردو ناول ہے جس میں خاندانی سازش، محبت میں دھوکے اور غیرمتوقع نکاح کی کہانی پیش کی گئی ہے۔ وردہ صداقت ایک ایسی لڑکی ہے جو اپنے گھر میں سوتیلی ماں اور بہن کے رویے سے پہلے ہی دکھی ہوتی ہے، مگر اس کی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے اپنی بہن ماہم کی جگہ علوی خاندان میں جانا پڑتا ہے۔

وردہ کا رشتہ احسن سے طے تھا۔ وہ برسوں سے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی، لیکن احسن ماہم کی طرف مائل ہو چکا تھا۔ وردہ کو اس کی بے وفائی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ اسے ماہم سمجھ کر بتاتا ہے کہ وہ وردہ کو طلاق دے کر ماہم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات وردہ کے دل کو شدید ٹھیس پہنچاتی ہے اور وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اب اس رشتے میں واپس نہیں آئے گی۔

وردہ کے والد صداقت صاحب اپنی بیٹی کو علوی خاندان کے گھر بھیجتے ہوئے بے حد پریشان ہوتے ہیں۔ وہ اپنی مجبوری پر اس سے معافی مانگتے ہیں اور اسے اس کی مرحومہ والدہ کا زیورات کا ڈبہ دیتے ہیں۔ وردہ سیاہ عروسی لباس میں گھر سے روانہ ہوتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نئے گھر میں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اور آیا اس کا نکاح بھی کیا جائے گا یا نہیں۔

علوی خاندان کے عالیشان مینشن پہنچ کر وردہ کی ملاقات وائل علوی کی دادی افشاں خاتون سے ہوتی ہے۔ ان کا شفقت بھرا رویہ وردہ کی گھبراہٹ کسی حد تک کم کر دیتا ہے۔ کچھ دیر بعد وائل علوی سامنے آتا ہے تو وردہ حیران رہ جاتی ہے، کیونکہ وہ اسے پہلے ایک مال میں دیکھ چکی ہوتی ہے۔ وائل کی بارعب شخصیت اور نیلی آنکھیں اسے مزید گھبرا دیتی ہیں۔ اسی گھر میں دونوں کا نکاح ایک کروڑ روپے حق مہر پر ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف جب احسن کو معلوم ہوتا ہے کہ وردہ علوی خاندان میں جا چکی ہے اور ماہم اس کے ساتھ نکاح کے لیے موجود ہے تو وہ شدید پریشان ہو جاتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل وردہ سے محبت کرتا تھا، لیکن اس کی قدر نہ کر سکا۔ وہ ماہم سے شادی کرنے سے انکار کرتا ہے، تاہم گھر والوں کے دباؤ میں اس کا نکاح ماہم سے کر دیا جاتا ہے۔

نکاح کے بعد وردہ کو وائل کے کمرے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں ہر طرف سیاہ رنگ کی سجاوٹ دیکھ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ وائل کو یہ رنگ خاص طور پر پسند ہے۔ وائل کے اچانک کمرے میں داخل ہونے پر وہ گھبرا کر پیچھے ہٹتی ہے اور گرنے لگتی ہے، مگر وائل اسے سنبھال لیتا ہے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان ہونے والی مختصر گفتگو وردہ کی جھجک اور خوف کو ظاہر کرتی ہے۔

**ایک اجنبی سی محبت** ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جسے محبت میں دھوکے کے بعد ایک اجنبی شخص کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا پڑتی ہے۔ وردہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وائل علوی کے ساتھ اس کا رشتہ کس سمت جائے گا اور کیا وہ اس نئے ماحول میں خود کو محفوظ محسوس کر سکے گی۔

Summary — Urdu

**ایک اجنبی سی محبت** وردہ صداقت، وائل علوی، احسن اور ماہم کی زندگیوں کے گرد گھومنے والا جذباتی اردو ناول ہے۔

وردہ کا رشتہ احسن سے طے ہوتا ہے، مگر احسن اس کی سوتیلی بہن ماہم کو پسند کرنے لگتا ہے۔ وردہ کو اس کی بے وفائی کا علم اس وقت ہوتا ہے جب احسن اسے ماہم سمجھ کر بتاتا ہے کہ وہ وردہ کو طلاق دے کر ماہم سے شادی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہ حقیقت جاننے کے بعد وردہ اپنی بہن کی جگہ علوی خاندان میں جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس کے والد صداقت صاحب شدید دکھ کے ساتھ اسے رخصت کرتے ہیں، جبکہ وردہ اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہوتی ہے۔

علوی مینشن پہنچ کر اس کی ملاقات افشاں خاتون سے ہوتی ہے، جو اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتی ہیں۔ کچھ دیر بعد وائل علوی سامنے آتا ہے، جسے وردہ پہلے ایک مال میں دیکھ چکی ہوتی ہے۔ دونوں کا نکاح ایک کروڑ روپے حق مہر پر ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف احسن کو وردہ کے جانے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ ماہم سے نکاح نہیں کرنا چاہتا، لیکن گھر والوں کے فیصلے کے مطابق اس کا نکاح ماہم سے کر دیا جاتا ہے۔

نکاح کے بعد وردہ وائل کے کمرے میں پہنچتی ہے، جہاں اس کی گھبراہٹ برقرار رہتی ہے۔ وائل اسے گرنے سے بچاتا ہے اور اس کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اب وردہ کو ایک ایسے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنی ہے جس کے بارے میں وہ بہت کم جانتی ہے۔ کیا وہ اپنے ماضی کی تکلیف سے نکل سکے گی؟ اور وائل علوی کے ساتھ اس کی نئی زندگی کیسی ہوگی؟

Related Keywords

Ek Anjani Si Muhabbat, Novel21056 Novel, Ek Anjani Si Muhabbat, Novel21056 Urdu Novel, Ek Anjani Si Muhabbat, Novel21056 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan?

Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Contract marriage.

Where can I read Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *