Hate to Love Story
Khamosh Phool By Aiman Yasir Novel21012
ظاہری شکل و صورت سے بڑھ کر انسان کے دل اور کردار کو اہمیت دینے کی خوبصورت کہانی۔ زیرک خان کی تنہائی، لوگوں کی نفرت اور اس کے منفرد حلیے کی وجہ سے برداشت کیے گئے طعنوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہر گل کا اسے دوسروں سے مختلف نہیں بلکہ ایک عام انسان سمجھنا اس کی زندگی میں امید کی پہلی کرن بنتا ہے۔ یہ کہانی قبولیت، انسانیت اور بے غرض محبت کا پیغام دیتی ہے، جہاں ایک شخص کی محبت اور سمجھ برسوں کی تنہائی کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔
Khushi Tere Intezar Mein By Areeba Riaz Novel21011
ایک معصوم اور محنتی لڑکی کی جذباتی زندگی کی کہانی، جہاں ایک معمولی سی غلطی اسے لوگوں کی سخت باتوں کا سامنا کرواتی ہے۔ ایک اجنبی کا اس کی عزت کے لیے کھڑا ہونا اس کی زندگی میں ایک خوبصورت تبدیلی کی شروعات بنتا ہے۔ ستارہ کی سادگی، خاموش آنسو اور اظمیر کی بے لوث حفاظت دل کو چھو لینے والے جذبات پیدا کرتی ہے۔ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی قربت، اعتماد اور خاموش محبت کہانی کو مزید خوبصورت بناتی ہے، جہاں ایک ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا ملتا ہے اور خوشی ایک ایسے شخص کے روپ میں سامنے آتی ہے جس کا ستارہ نے شاید کبھی انتظار بھی نہیں کیا تھا۔
Muhabat By Arooba Muskan Mughal Novel21003
برسوں بعد ملنے والی محبت، جس کے درمیان غلط فہمیاں نہیں بلکہ حالات کی دیوار کھڑی تھی۔
ایک طرف پرانا عشق، دوسری طرف اپنی عزت، تعلیم اور مستقبل کو بچانے کی جنگ۔
کیا حورین اپنے ماضی کی محبت کو دوبارہ موقع دے پائے گی یا اپنے مستقبل کو چن لے گی؟
Khandani Raaz By Sanawritz Novel20997
“Your marriage has already taken place… when you were nineteen.”
“What if Kyra refuses to accept me?”
“I have loved her since childhood. Why doesn’t she love me?”
“We made a huge mistake by getting you both married without telling her.”
“If Kyra doesn’t agree, unfortunately, we will have to get you both divorced.”
“Your grandfather wanted to see the two of you together before he passed away.
Spectra 17 By Juhaina Arwish Novel20971
"جب دل سے خالی لوگ کسی کو اپنا کہتے ہیں، تب وہ صرف ساتھ نہیں مانگتے، آزادی بھی چھین لیتے ہیں۔"
"وہ ہارتی رہی… مگر جھکی نہیں، اور وہ توڑتا رہا… مگر کبھی قریب نہیں آیا۔"
"وہ پتھر تھا، پگھلتا نہیں تھا، لیکن اس کے لیے وہ پتھر کی صورت ایک ایسا راز تھا جسے دریافت کرنے کی وہ قسم کھا چکی تھی۔"
"وہ مجھے قابو نہیں کر سکتی، کیونکہ میں وہ ہوں جو خود کو بھی کنٹرول نہیں کرتا۔"
"نہ چھوڑتا تھا، نہ اپناتا تھا… بس اسے تڑپتا دیکھ کر زندہ رہتا تھا۔"
Ishq Mubarak By Manya Khan Novel20925
"آج تو مجھے چھونے کی غلطی کر دی ہے، دوبارہ ایسا کیا تو میرے ناخن نہیں، چاقو بولے گا۔"
"ہوا میں اُڑنے والوں کے پر کاٹنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔"
"اپنی حد میں رہو، ورنہ اگلی صبح تمہارے لیے بالکل مختلف ہوگی۔"
"نفرت کے پردے کے پیچھے چھپے راز کبھی کبھی محبت کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔"
Ishq E Roman Shah By Hayat Irtaza Novel20900
"سزا مجھے تم سے محبت کرنے کی مل رہی ہے، مگر میرا عشق آج بھی تمہیں واپس بلاتا ہے۔"
"اگر بات رومان شاہ کی انا پر آ گئی، تو کوئی دیوار تمہیں مجھ سے دور نہیں رکھ سکے گی۔"
"کسی کو مٹانے کے لیے طاقت نہیں، عشق کا جنون چاہیے... اور میرے پاس دونوں ہیں۔"
"تمہاری محبت میں کسی کی شراکت مجھے برداشت نہیں، چاہے وہ تمہارا اپنا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔"
"تم میری جانِ شاہ تھیں، ہو... اور ہمیشہ رہو گی۔"
"بہت تڑپ لیا تمہارے بغیر، اب انتظار ختم ہونے والا ہے۔"
"میرے عشق کی حد صرف محبت نہیں، جنون ہے... اور جنون ہر رکاوٹ مٹا دیتا ہے۔"
"میں دھمکی نہیں دیتا، اپنے وعدے پورے کرتا ہوں۔"
Mohabbat Tamam Uss pe Hoi by Biya Noor Novel20871
**چند سطریں پڑھتے ہی ثوبان کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔ اس نے رقعہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے نشا کے چہرے پر پھینک دیا اور سخت لہجے میں بولا، "اپنی عمر دیکھی ہے اور اپنی حرکتیں؟" ذلت، آنسو اور ٹوٹتی ہوئی خوداعتمادی کے درمیان جب نشا بےاختیار اس کے بازو کا سہارا لینے لگی تو اس نے بےرحمی سے اپنا ہاتھ جھٹک دیا۔ یہی لمحہ کہانی کے سب سے دردناک اور فیصلہ کن موڑ کی بنیاد بنتا ہے
Betabiyan Novel by Hafsa Shakeel Novel20873
ہانیہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کے نصیبوں کا فیصلہ نفرت کے الفاظ سے ہوگا۔ شہیر نے ماں کی مجبوری پر اس سے نکاح تو کر لیا، مگر پہلی ہی رات اس نے ہانیہ کے کردار پر ایسے الزامات لگائے کہ اس کی روح تک زخمی ہو گئی۔ ہر لفظ زہر بن کر اس کے دل میں اترتا رہا اور وہ بے بسی سے اپنی صفائی دیتی رہ گئی۔ شہیر نے صاف کہہ دیا کہ یہ رشتہ اس کے لیے صرف ایک بوجھ ہے اور ہانیہ کو کبھی بیوی کا مقام نہیں ملے گا۔ جس لڑکی نے محبت، عزت اور ایک نئے آغاز کے خواب دیکھے تھے، اسے اپنی پہلی ہی رات احساس ہو گیا کہ اس کی زندگی ایک ایسے عذاب میں بدلنے جا رہی ہے جہاں ہر دن اس کے صبر کا امتحان ہوگا۔
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔