Crime Fiction, Crime Thriller, Horror Novel, Romantic Urdu Novels, Suspense Thriller

Bhaid by M A Rahat Novel20972

"گھبراؤ نہیں، مضبوطی سے بمپر پکڑے رہو، میں آرہا ہوں۔" "یہ جال بھی ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں اسے خبردار کر دیا گیا تھا۔" "وہ اپنا فرض پورا کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔" "لڑکی نے کار کا بمپر چھوڑ دیا، لیکن اس کا توازن قائم نہ رہ سکا۔" "کرنل نے فوراً پانی میں چھلانگ لگا دی اور لڑکی کو جھپٹ کر پکڑ لیا۔" "لشکری کے آخری الفاظ بنیادی حیثیت رکھتے تھے، یہ جال بھی ہو سکتا ہے۔"
Continue reading
Crime Thriller, Emotional Fiction, Islamic Based, mafia base, Psychological Thriller, Revenge Based, Social Romantic Novel, Spiritual/Faith-based, Suspense Thriller

Olasyar by Binte & Mahi Novel20835

اولسیار نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے ۔اولسیار ٭ بیوی ٭ قتلاس کا تھوڑا سا خون اب بھی کمرے میں موجود ہے ۔”لالا کو سزا دلوا دو۔۔”اس کے باپ نے بھی تو غیرت کے نام پر اپنی بیوی کو قتل کیا تھا۔۔ وہ کیسے نہیں کر سکتا تھا؟اولسیار نے اپنی نور کو قتل کر دیا تھا اور اب وہ بے حس تھا۔وہ جو سب کا دوست تھا اپنی بیوی کو دوست کیسے نہ رکھ سکا؟
Continue reading
Crime Fiction, Crime Thriller, Dark Romance, Enemies to Lovers, Love & Destiny |, mafia base, Revenge Based Novels, Romantic Urdu Novels, Suspense Thriller

Lady Killer By Sam Asif Novel20818

"میں لیڈی کلر بن گئی ہوں... اب میں کسی کے سامنے صرف اس کی موت بن کر آتی ہوں۔" جس باپ نے اسے بیچ دیا تھا، آج وہی اپنی جان کی بھیک مانگ رہا تھا، مگر پریزے کے دل میں صرف انتقام باقی تھا۔ برسوں کے زخموں کا حساب ایک ایک نشان سے لیا گیا، اور باپ کو اپنی ہر بےرحمی کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
Continue reading
Mah E Doran by Sajal Saeed mein Raid Sultan aur Mah Doran ka emotional mystery scene
Crime Fiction, Crime Thriller, Murder Mystery, Romantic Urdu Novels, Suspense Thriller

Mah E Doran By Sajal Saeed Novel20793

ایک تلخ حقیقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ "ریم مر چکی ہے..." رائد کے سرد، بے جان اور نفرت سے بھرے الفاظ سن کر ماہ دوراں کی دنیا جیسے ایک لمحے میں بکھر گئی۔ وہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھی کہ ریم اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ لیکن رائد کی آنکھوں میں چھپا درد کسی بھی جھوٹ کی گنجائش نہیں چھوڑ رہا تھا۔ اس نے لرزتی آواز میں بتایا کہ ریم صرف قتل نہیں ہوئی، بلکہ اس کی عزت، معصومیت اور زندگی سب کچھ بے دردی سے چھین لیا گیا۔ رائد کا ہر لفظ ماہ دوراں کے دل پر خنجر کی طرح اتر رہا تھا۔ اسے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ جس وقت اسے اپنے قریبی لوگوں کی ضرورت تھی، وہ خود کو تنہا محسوس کرتا رہا۔ "میں... رائد سلطان... تم سے نفرت کرتا ہوں۔" یہ الفاظ کہہ کر رائد ہمیشہ کے لیے وہاں سے چلا گیا، جبکہ ماہ دوراں ٹوٹے ہوئے دل، بہتے آنسوؤں اور بے بسی کے ساتھ زمین پر گر پڑی۔ ایک ہی رات نے کئی زندگیاں اجاڑ دی تھیں اور ایسے راز چھوڑ دیے تھے جنہوں نے ہر رشتے کو شک، درد اور نفرت میں بدل دیا۔ آخر ریم کا اصل قاتل کون تھا؟ کیا رائد کو انصاف ملے گا، یا یہ راز ہمیشہ اندھیرے میں دفن رہے گا؟
Continue reading