Lady Killer By Sam Asif Novel20818 

Dark Romance | Gangster | Mafia | Crime | Revenge | Suspense | Action | Suspense | Romantic Novel | Happy Ending

 ” آخر اس لڑکی کا کیا تعلق ہے میرے سے اور انہوں نے مجھے کیوں باندھ رکھا ہے۔ عجیب لوگ ہیں بتا بھی نہیں رہے۔ ”
ابھی فہم یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اسے پریزے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ ” کیسے ہیں آپ یا با ؟”
پریزے کی بات پر فخیم کو غصہ آگیا وہ فوراً بول پڑا۔۔۔۔ “میری صرف ایک ہی بیٹی ہے جو گھر پر ہے میں تمہیں نہیں جانتا اور نہ ہی تم مجھے بابا بول سکتی ہو۔ مجھے لڑکیوں سے نفرت ہے ارے مجھے تو چاہئیے ہی بیٹا تھا پر پتہ نہیں کہاں سے وہ منحوس ماری آگئی اب اس کی شادی ہے جان چھوٹے گی میری اس سے چھوڑو مجھے ”
فحیم کی بات پر پریزے کو غصہ آگیا اس کی آنکھیں فور الال ہو گئی اور پھر وہ چلانے کے انداز میں بولی۔۔۔۔ ” کیا شروع سے آپ کی ایک ہی بیٹی ہے اور کوئی بیٹی نہیں ؟ بولیں جواب دیں اب چپ کیوں ہیں ؟ “

پریزے کے سوال اور رنگ بدلتی آنکھوں کو دیکھ کر فہیم حیران ہوا اور پھر
پریشانی سے بولا۔۔۔۔ “پریزے بیٹا کیا یہ تم ہو ؟ ”
فحیم کے سوال پر پریزے نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔۔
” روح ! تو میں یاد ہوں آپ کو۔ مجھے لگا آپ تو مجھے بھول بھی گئے ہوں گے ۔ ” پریزے کے جواب پر فھیم اسے غصے سے گالیاں دینے لگا اور فحسیم کے گالیاں دینے پر ریبان خود پر قابونہ رکھ سکا اور فحیم کے منہ پر پے درپے مکے دے مارے یہاں تک کہ فحیم کے ہونٹوں سے خون بہنے لگا۔ فہیم کا خون نکلتا دیکھ کر ریبان پیچھے ہٹا جب پریزے آگے بڑھی اور بولی۔۔ ” اچھے لوگوں کی دوست اور سے لوگوں کی موت ہوں میں اور آپ نے تو کبھی زندگی میں کوئی اچھا کام کیا برے ہی نہیں۔”
پریزے کی بات پر فخیم کو غصہ تو بہت آیا پر خاموش رہا اور پریزے اور اس کے ساتھ کے دونوں لڑکوں کا جائزہ لینے لگا۔ پھر کچھ دیر بعد احسان کرنے کے انداز

میں بولا۔۔۔۔ “ہاں یاد ہو تم مجھے۔ پر اگر تم اتنے سال سے زندہ تھی تو واپس کیوں نہیں آئی؟”
فحیم کے سوال پر پریزے نے تمسخرانہ انداز میں جواب دیا۔۔۔۔ “دراصل آپ نے مجھے جس کے پاس بھیجا تھانہ میں نے اسے مار کر اس کی سیٹ سمبھال لی اور لیڈی کلر بن گئی تھی۔ پھر خود کی اتنی دہشت پھیلانی تھی کہ کوئی آنکھ اٹھا کر مجھے نہ دیکھے اور ایسا ہی ہوا اب کوئی مجھے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا اور نہ میں کسی کے سامنے آتی ہوں۔ میں کسی کے سامنے صرف اس کی موت بن کر آتی ہوں اور ایسا صرف آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کی حرکتوں سے بے خبر تھی جبکہ میں اچھے سے جانتی ہوں کہ اپنا قرضہ اتارنے کے لیے علیزے کی شادی آپ اس نشئی سے کر رہے ہیں۔ ”
پریزے کی بات پر فحسیم حیران ہوا اور پھر پریشانی سے بولا۔۔۔۔ ” تمہیں یہ سب کس نے بتایا ہے ؟”

فحیم کے سوال پر پریزے ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔۔ ” پریزے شاہ وہ شیرنی ہے جو نہ
صرف سلطنتوں پر بلکہ ان سلطنتوں کے شیروں پر بھی حکومت کرتی ہے ۔ ”
پریزے کی بات پر محیم اس کے حلیے اور اس کی باتوں سے یہ اندازہ کر چکا تھا کہ پریزے کے پاس بہت پیسہ ہے اور پھر وہ اس کی منت کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ” پریزے دیکھو میں اس وقت پیسے کے لالچ میں آگیا تھا ورنہ میں تو تمہارا باپ تھا تمہارے ساتھ بھلا ایسا کر سکتا تھا دیکھو مجھے معاف کر دو پلیز مجھے کھول دو۔ ” فحیم کی بات پر پریزے کی آنکھیں گرے ہو گئی اور اس نے شارق کو اشارہ کیا اور شارق نے اشارہ سمجھتے ہی فحیم کو کھول دیا۔ بازو کھولتے ہی فحیم نے سیدھے جا کر پریزے کو گلے لگا لیا مگر پریزے اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں۔ پھر فحیم خوشی سے بولا۔۔۔۔ ” بیٹا اب تم آگئی ہو نہ اپنے باپ کے سارے قرضے بھی اتار دینا اور پھر میں تیری بہن کا رشتہ بھی وہاں سے ختم کر دو نگا پھر ہم یہ محلہ چھوڑ کر کہیں اورشفٹ ہو جائیں گے اور پھر میں تم دونوں کی شادی کسی اونچے خاندان میں کروں گا۔”
اس کی بات پر پریزے بلکہ سا مسکرائی اور پھر بولی ۔۔۔۔ “ضرور بابا کیوں نہیں پر پہلے آپ وہ قرضہ تو اتاریں جو آپ نے میر ا دینا ہے۔”
پریزے کی بات پر فخیم پریشان ہو گیا اور پھر بولا۔۔۔۔ “تمہارا کون سا قرضہ دینا ہے میں نے کیا بات کر رہی ہو میں سمجھا نہیں۔ ”
فحیم کی بات پر پریزے نے اپنی لال شرٹ کا باز واٹھا یا جہاں جلے ہوئے کے ہلکے ملکے نشان تھے۔ پریزے کی بازو دیکھنے پر جہاں شارق نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رخ پھیر او میں ریبان بھی اس نشان کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ فحیم بھی پریشانی
سے اس کا بازو دیکھتا رہا پھر پریشانی سے بولا ۔۔۔۔ “یہ کیا ہے پری؟”
فحیم کی بات پر پریزے کی آنکھیں گرے سے ایک دم لال انگارہ ہو گئی پھر وہ شدید غصے سے بولی ۔۔۔۔ ” یہ آپ کا دیا گیا تحفہ ہے بابا۔”

یہ کہتے کہ ساتھ ہی پریزے نے اپنے ہاتھ پر گلوز پہنے اور نحیم کے پیچھے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا۔ اشارہ ملتے ہی وہ آدمی ایک چاقو لے کر آیا۔ اس چاقو کو دیکھتے ہی فحیم کے پینے چھوٹ گئے کیونکہ جب سے فحیم یہاں آیا تھاتب سے یہ چا تو ایک کونے میں دھکتے ہوئے کو ٹلوں پر پڑا تھا اور اب تو وہ چو تو خود بھی لال انگارہ بن چکا تھا۔ اس آدمی نے وہ چا قولا کر پریزے کے سامنے کیا اور پریزے نے چاقو

پکڑتے ہی ریبان کو اشارہ کیا۔ ریبان نے اشارہ سمجھتے ہی فحیم کو بھاگ کر پکڑ لیا اور پریزے نے وہ چاقو نحیم کی باز و پر رکھ دیا۔ جلد جلنے کی وجہ سے درد کی ایک تیز لہر فحسیم کی بازو میں اٹھی اور فخیم درد سے بلبلہ اٹھا اور بن پانی مچھلی کی طرحتڑپنے لگا۔ جیسے ہی پریزے نے چاقو اٹھایار یہان نے فخیم کو چھوڑ دیا اور وہ و ہیں اپنی جگہ پر پر پت زور زور سے چیخیں مارنے لگا۔ پریزے نے وہ چاقو لیجا کر دوبارہ کو ٹلوں کے اوپر رکھ دیا اور خود آکر کرسی پر آرام سکون سے بیٹھ کر اپنی ٹانگیں ٹیبل پر رکھ لی اور فحسیم کی چینوں کا لطف اٹھانے لگی۔
جب بیمینٹ میں خاموشی چھائی تو پریزے ایک دفعہ پھر سے اٹھی اور کو ٹلوں کے اوپر سے چا قو اٹھایا اور اب کی بار گرم چا تو نحسیم کی بازو میں گھونپ دیا۔ نسیم ایک بار پھر درد اور جلن کے مارے چلا اٹھا پھر پریزے نے ایک گرم کو مکہ اٹھایا اور نحیم کے پورے جسم پر اس کے نشان بنانے لگی۔ فحیم درد سے تر پتا اور چیختا رہا پر پریزے کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

“Lady Killer” از سام آصف ایک سنسنی خیز ڈارک رومانس اور مافیا بیسڈ ناول ہے، جس میں طاقت، جرائم، انتقام اور خطرناک تعلقات کی دنیا کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

کہانی ایک ایسے پراسرار اور بےرحم شخص کے گرد گھومتی ہے جو جرائم کی دنیا میں اپنی طاقت، ذہانت اور بےخوف شخصیت کی وجہ سے خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی اس وقت غیر متوقع موڑ لیتی ہے جب ایک بہادر اور خوددار لڑکی اس کے راستے میں آتی ہے۔ نفرت، انا، راز اور مسلسل خطرات کے درمیان دونوں کی زندگیاں ایک دوسرے سے اس طرح جڑ جاتی ہیں کہ ہر قدم ایک نئے امتحان میں بدل جاتا ہے۔

ناول میں محبت، وفاداری، انتقام، طاقت کی کشمکش، خاندانی راز اور جذباتی تبدیلیوں کو سسپنس اور ایکشن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ غیر متوقع انکشافات، خطرناک دشمن اور دل دھلا دینے والے موڑ اس کہانی کو آغاز سے اختتام تک دلچسپ اور پرکشش بنائے رکھتے ہیں۔

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *