Mata E Jan Hai Dard Ki Soghat by Sadia Aziz Afridi Novel20824
Mata E Jan Hai Dard Ki Soghat by Sadia Aziz Afridi Novel20824
Romance | Family Drama | Emotional Journey | Tragedy | Contemporary Fiction

جب تک وہ نظروں کے سامنے نہ آ جاتی، اس کا دل بےچین رہتا۔ ادھر اس معاملے سے نمٹتا تو یونیورسٹی میں ثنا مراد کا چیلنج اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ وہ دوہری اعصابی جنگ کا شکار تھا، اسی لیے اس کے مزاج میں چڑچڑاپن بڑھتا جا رہا تھا۔ کبھی وہ جھگڑ پڑتا، کبھی اس سے کنی کترانے کی کوشش کرتا، مگر ثنا ہر بار اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی اور اسے چھیڑتے ہوئے کہتی،
“آپ مردوں میں غصہ ہی بہت ہوتا ہے، اسی لیے آپ کی صلاحیتیں کھل کر سامنے نہیں آ پاتیں۔ ہم عورتیں صبر کرنا جانتی ہیں، اس لیے ہر میدان میں آپ سے آگے نکل جاتی ہیں۔ ویسے حمزہ! آپ میں غصے کی مقدار حد سے زیادہ ہے، اس لیے نقصان بھی آپ ہی کا ہو رہا ہے۔ اگر ہو سکے تو اس خامی پر قابو پائیں۔”
حسبِ توقع حمزہ بھڑک اٹھتا۔
“میں ہر ایک سے فری نہیں ہوتا۔”
وہ مسکرا کر جواب دیتی،
“یہ سوچ بالکل درست ہے، مسٹر حمزہ! لیکن مائنڈ اٹ… ہم ہر ایک نہیں، کلاس فیلو ہیں، اور یہ رشتہ خاصا مضبوط ہوتا ہے، ہے نا؟”
یہ کہہ کر وہ شوخی سے آگے بڑھ جاتی اور حمزہ اندر ہی اندر کڑھتا رہ جاتا۔
اس کے دوست بھی ہم مزاج تھے، اس لیے اس کا غصہ کبھی ٹھنڈا نہ ہونے دیتے۔
“یہ مردانگی نہیں کہ ایک لڑکی سے ہار جاؤ۔ اپنے نام کی نہیں تو کم از کم ہمارے نام کی لاج رکھو۔”
حمزہ جھنجھلا کر کہتا،
“تو کیا میں اس سے جنگ کروں؟”
ایک دوست خباثت سے بولا،
“جنگ کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکی ہی تو ہے، اسے اس کی اوقات یاد دلا دو۔”
مگر اپنے بڑے بھائیوں کی تربیت اسے ایسی گھٹیا سوچ اختیار کرنے نہیں دیتی تھی۔
ایک دن اس کے دوست عمیر کا فون آیا۔
“یار، فوراً بیچ پر آ جاؤ۔ سب گرین ہٹ میں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”
حمزہ معمول کی محفل سمجھ کر وہاں پہنچ گیا، مگر ہٹ میں داخل ہوتے ہی اس کے قدم رک گئے۔
سامنے ثنا مراد کھڑی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور ہونٹ سے خون بہہ رہا تھا۔
“تم… یہ کیا ہے، عمیر؟”
حمزہ بےچینی سے بولا۔
عمیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جو کہتے تھے، وہ کر دکھایا۔ یہی تھی نا جو تمہیں للکارتی تھی؟ آج موقع ہے، اپنی بےعزتی کا بدلہ لے لو۔”
حمزہ فوراً بولا،
“عمیر! میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا۔ پلیز، اس کے ہاتھ کھول دو۔ تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی زندگی عذاب بنا دی جائے۔”
عمیر نے انکار میں سر ہلایا۔
“یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔”
حمزہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ثنا مراد غصے سے بول اٹھی،
“واہ مسٹر حمزہ! اداکاری بہت اچھی کر لیتے ہیں، مگر آپ کی آواز آپ کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی۔ خود کو منوانے کا یہ بہت اوچھا طریقہ ہے۔ اگر خود کو ثابت کرنا ہے تو اپنی صلاحیتوں سے کریں، صرف مرد ہونے کے غرور سے نہیں۔ آخر کب آپ خود کو صرف مرد نہیں بلکہ ایک اچھا انسان ثابت کریں گے؟”
وہ غصے میں مسلسل بولتی جا رہی تھی۔
اتنے میں عمیر دوبارہ حمزہ کے قریب آیا۔
“کیا ارادہ ہے، جگر؟”
حمزہ خاموش رہا۔
ثنا مراد کی آواز ایک بار پھر بلند ہوئی۔
“حمزہ! تم یہ سب ٹھیک نہیں کر رہے۔ صرف اپنی ضد کی خاطر میری زندگی تباہ مت کرو۔ پلیز، مجھے یہاں سے لے چلو۔ میں وعدہ کرتی ہوں، آئندہ کبھی تمہارے راستے میں نہیں آؤں گی۔ اگر میری کسی بات سے تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو میں معافی مانگتی ہوں۔”
وہ لمحہ بھر رکی، پھر دھیرے سے بولی،
“میں نے تمہیں چیلنج صرف حیدر کی باتوں کی وجہ سے کیا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ تم کسی کی نہیں سنتے، تمہارا غصہ بہت خطرناک ہے… اور میں سمجھتی تھی کہ شاید میں تمہیں بدل سکوں۔”
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
“متاعِ جاں ہے درد کی سوغات” از سعدیہ عزیز آفریدی ایک درد، محبت اور جذبات سے بھرپور ناول ہے، جو یہ دکھاتا ہے کہ کبھی کبھی انسان کی سب سے قیمتی متاع بھی درد کی صورت میں اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
کہانی ایسے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو محبت تو بےانتہا کرتے ہیں، مگر ان کی قسمت بار بار انہیں ایسے فیصلوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں دل اور حالات ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔ رشتوں میں جنم لینے والی خاموشیاں، ادھورے خواب، ناگہانی حادثات اور وقت کی بےرحم گردش ان کی زندگیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔ ہر کردار اپنے اندر ایک الگ جنگ لڑتا ہے، جہاں محبت کو نبھانے کی قیمت کبھی آنسو، کبھی قربانی اور کبھی ہمیشہ کی جدائی بن جاتی ہے۔
یہ ناول صرف ایک رومانوی کہانی نہیں بلکہ درد، امید، صبر اور رشتوں کی گہرائی کا ایسا سفر ہے جو قاری کو ہر باب کے ساتھ کرداروں کے احساسات میں شریک کر دیتا ہے۔ حقیقت سے قریب واقعات، مضبوط کردار اور جذباتی موڑ اس کہانی کو ایک یادگار اور دل میں اتر جانے والا ناول بنا دیتے ہیں۔
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕