Rait Ki Deewar by Misbah Khalid Novel20826
ہاں، اس گھر سے تو ضرور جائے گی۔ پر یہ نہیں، تو!” اس کے لفظوں میں سختی زیادہ تھی یا آنکھوں میں سفاکی، وہاں کھڑا کوئی شخص اندازہ نہیں لگا پایا۔ “یہ تم کیا کہہ رہے ہو نیاز؟” حیبہ کو ایک بار پھر لگا کہ شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے مگر ایک بار پھر وہ خود ہی غلط ثابت ہو گئی تھی۔ “ٹھیک کہہ رہا ہوں میں۔” اس نے حیبہ کو بازو سے پکڑ کر دھکا دیا اور زور سے چلایا۔ “تجھے ذرا شرم نہیں آئی حیبہ یہ سب کرتے ہوئے؟ سب بتا رہی ہے یہ مجھے کہ کیسے تم لوگوں نے اس کا دانہ پانی بند کیا، انور کے ساتھ مل کر اسے مارا، اس سے گھر کے سارے کام کرائے، اتنی زیادتیاں کیں اور اس نے کبھی اف تک نہیں کی۔ ہر بار مجھے اپنا سمجھ کے معاف کیا اور اگر کبھی میں نے کچھ کرنا چاہا تو مجھے بھی روک لیا اس نے، اور تو اسی پر…” وہ انتہائی افسوس سے اسے دیکھ رہا تھا اور حیبہ میں اتنی بھی سکت نہیں تھی کہ سر کو نفی میں ہی جنبش دے لیتی۔ اس کی حالت سے بے خبر نیاز کہتا رہا۔ “بڑے دعوے کرتی تھی نہ تو مجھ سے محبت کے؟ میری خاطر ایک چھوٹا موٹا سمجھوتہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں تھی، اور تو اتنی کم ظرف نکلی کہ یہ مسکین سی لڑکی بھی برداشت نہ کر سکی۔ تو ابھی اور اسی وقت اپنے بچوں کو لے کر میرے گھر سے نکل جا، میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔” اپنا فیصلہ سنا کر وہ نفرت سے منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔ حیبہ تڑپ کر اس کے سامنے آئی۔ “رب کی قسم نیاز، میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ مجھے میرے بچوں کی قسم، جو تمہیں میری بات کا یقین نہیں ہے تو بے شک انور سے پوچھ لو۔” حیبہ نیاز کے سامنے رو رہی تھی اور اس کے دل کو کچھ نہیں ہو رہا تھا۔ ضروری تو نہیں کہ ایک چہرہ ہمیشہ ہی پیارا لگے۔ ایک آنسو ہمیشہ ہی بااثر ٹھہرے۔ وقت بدل بھی تو جاتا ہے اور وقت بدل چکا تھا، کیونکہ وہ اس کے آنسو پونچھنے کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا۔ “اچھا ہے، اگر سب کچھ اس نے کیا ہے تو تب تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ تم لوگوں کا اصلی چہرہ میرے سامنے آ چکا ہے، اس لیے اب بہتری اسی میں ہے کہ مزید جھوٹ بولنے یا شگفتہ پر الزام لگانے کے بجائے فوراً دفع ہو جاؤ میرے گھر سے۔ میں شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تم لوگوں کی۔” وہ بگڑے چہرے اور بگڑے لہجے کے ساتھ انہیں باہر کا راستہ دکھا رہا تھا اور وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے التجا کر رہی تھی۔ “رب دے واسطے نیاز، اتنا ظلم نہ کرو۔ رات کے اس پہر ہم کہاں جائیں گے؟ وعدہ کرتی ہوں اب تمہیں کوئی شکایت نہیں ہونے دوں گی۔” “میں تیری کوئی بکواس نہیں سننا چاہتا حیبہ! جو کچھ تو نے کیا ہے اس کے بعد بھی میں تجھے صرف گھر سے نکال رہا ہوں، لیکن اگر تو نے ایک بھی لفظ بولا اور یہ گھر نہ چھوڑا تو میں تین لفظ بول کر تجھے بیٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا۔”
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Complete Summary
ریت کی دیوار مصباح خالد کا ایک درد بھرا خاندانی اور رومانوی اردو ناول ہے جو محبت، اعتماد، حسد، ظلم اور مکافاتِ عمل جیسے مضبوط موضوعات کے گرد گھومتا ہے۔
کہانی ایک ایسے گھر کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں ظاہری طور پر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر نفرت، سازش اور منافقت کی دیواریں کھڑی ہوتی رہتی ہیں۔ ایک معصوم لڑکی مسلسل ظلم، بے عزتی اور گھریلو استحصال کا شکار بنتی ہے، مگر خاموشی سے ہر تکلیف برداشت کرتی رہتی ہے تاکہ خاندان بکھرنے سے بچ جائے۔
دوسری طرف حیبہ اپنی انا، حسد اور غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسے اقدامات کرتی ہے جو نہ صرف ایک بے گناہ لڑکی کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں بلکہ اپنے ہی گھر اور ازدواجی زندگی کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتے ہیں۔
جب برسوں سے چھپائے گئے راز اور سچائیاں ایک ایک کر کے سامنے آتی ہیں تو نیاز کو احساس ہوتا ہے کہ جس عورت پر اس نے اندھا اعتماد کیا، وہی سب سے بڑی مجرم نکلی، جبکہ جس لڑکی کو اس نے ہمیشہ کمزور سمجھا وہ دراصل مظلوم تھی۔ یہی لمحہ پوری کہانی کا سب سے طاقتور موڑ ثابت ہوتا ہے۔
سچ جاننے کے بعد نیاز ایک سخت فیصلہ کرتا ہے اور حیبہ کو اپنے بچوں سمیت گھر چھوڑنے کا حکم دے دیتا ہے۔ اس لمحے حیبہ کی تمام منتیں، آنسو اور صفائیاں بے اثر ہو جاتی ہیں کیونکہ اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ قائم ہونا آسان نہیں رہتا۔
ناول میں صرف محبت ہی نہیں بلکہ انسانی رویوں، حسد، خاندانی سیاست، غلط فہمیوں، معافی، انصاف اور انجامِ اعمال کو بھی انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ریت کی دیوار یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، مگر سچ ایک دن ضرور سامنے آتا ہے اور ریت کی بنی ہر دیوار آخرکار گر جاتی ہے۔
Rait Ki Deewar, Rait Ki Deewar Novel, Misbah Khalid, Misbah Khalid Novels, Complete Urdu Novel, Family Drama, Emotional Novel, Betrayal, Revenge Story, Social Novel, Pakistani Urdu Novel, Novelistan
#RaitKiDeewar #MisbahKhalid #UrduNovel #FamilyDrama #EmotionalNovel #RomanticNovel #Betrayal #CompleteUrduNovel #Novelistan
FAQ
Rait Ki Deewar kis type ka novel hai?
Yeh aik emotional family drama aur romantic Urdu novel hai.
Is novel ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Misbah Khalid hain.
Novel ka central theme kya hai?
Trust, betrayal, family politics, sacrifice aur justice.
Kya novel mein family conflicts hain?
Ji haan. Kahani ka bunyadi markaz ghar ke andar paida hone wali sazishen aur ghalat fehmiyan hain.
Kya yeh emotional novel hai?
Ji haan. Novel mein bohat se emotional aur heart-touching moments maujood hain.
Kya yeh complete Urdu novel hai?
Ji haan, Rait Ki Deewar aik complete Urdu novel hai.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Post Views: 6