Qalb e Rawan Novel20819
Qalb e Rawan Novel20819 | Complete Urdu Novel
Romantic Comedy | Married Life Romance | Emotional Romance | Husband & Wife Relationship | Family Drama | Humor & Comedy | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
“انسپکٹر صاحب! میری بیوی کہیں گم ہو گئی ہے، براہِ مہربانی میری مدد کریں!”
“اوکے، حلیہ بتائیں۔”
احراز ملک نے گہرا سانس لیا۔
“قینچی جیسی زبان… لومڑی جیسا دماغ… کوّے جیسی چغلی… ہرنی جیسی پھرتی… اگلے پورا پولیس اسٹیشن جناتی قہقہوں سے گونج اٹھا۔”
“مسٹر احراز ملک! اپنی بیوی کا حلیہ پوچھا ہے، جنگلی حیات کا ڈاکیومنٹری نہیں!”
“سر… چہرہ دیکھنے کی فرصت ہی کب ملی؟”
احراز بے بسی سے بولا، اتنے میں اس کا موبائل بجا…
اس نے موبائل دیکھا…
اس کی بیوی چھت پر بارش میں ٹک ٹاک بنا رہی تھی۔
Short Summary
قلبِ رواں ایک دلکش اردو ناول ہے جس میں محبت، شادی کے بعد کی زندگی، میاں بیوی کی دلچسپ نوک جھونک، غلط فہمیاں، خاندانی رشتے، جذباتی لمحات اور مزاح کو خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے۔ کہانی قاری کو کبھی ہنساتی ہے، کبھی رلاتی ہے اور آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔

محبت، شرارت، نوک جھونک اور بے شمار یادگار لمحات سے بھرپور ایک خوبصورت اردو ناول۔
احراز احراز ان کا تنفس کافی حد تک بگڑا ہوا تھا مہوش اس کے کمرے کی طرف انگلی کرتے ہوئے وہ خوفزدہ انکھوں سے بول رہی تھی امی کیا ہوا کچھ بولے تو صحیح وہ اٹھتا ہوا انہیں کندھوں سے تھام کر بولا تھا مہوش کہیں نہیں ہے اپنی بات کے اختتام پر ان کی انکھوں میں انسو چمکنے لگے تھے امی کیا مطلب نہیں ہے گھر میں ہی ہوگی احراز انہیں حوصلہ دیتا ہوا بولا تھا میں نے سب جگہ دیکھ لیا وہ کہیں نہیں ہے اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہے جو ہر وقت اسےطعنے دیتے رہتے ہو وہ احراز کو گھور کر بولی تھی یعنی چاہے مہوش کے ساتھ کچھ بھی ہو ذمہ دار احراز ہی ٹھہرایا جائے گا خیر اب یہ سب سوچنے کا وقت نہیں تھا احراز جہاں سے بھی لاؤ لیکن مجھے میری مہوش ڈھونڈ کر لا دو وہ اب انکھوں پر دوپٹہ رکھے شدت سے رو رہی تھی امی میں جیب میں لیے پھر رہا ہوں کیا وہ چڑ سا گیا تھا اچھا ایک منٹ میں دیکھتا ہوں وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا پورے 15 منٹ گھر کا چپا چپہ چھاننے کے بعد جب وہ واپس ایا تو اس کی حالت غیر ہو چکی تھی امی کہاں جا سکتی ہے وہ مجھے نہیں معلوم تم نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ورنہ میری بچی تو بہت معصوم ہے احراز کا دل کیا ابھی کے ابھی مر جائے کیا فائدہ ایسے گھر میں جینے کا جہاں کسی چیز پر اس کا حق ہو یا نہ ہو لیکن غلطی پر سارا حق اسی کو حاصل تھا ہر غلطی اسی کی ملکیت تھی بارش دوبارہ شروع ہو چکی تھی وہ گاڑی نکالتا ہوا سیدھا اس کی فرینڈز کے گھر گیا تھا وہاں سے مایوسی کے بعد وہ بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا اس کے پاس اب سوائے پولیس کا سہارا لینے کے کوئی حل باقی نہیں بچا تھا اس نے گاڑی پولیس اسٹیشن کی طرف گھمائی تھی انسپیکٹر صاحب میری بیوی کافی دیر سے لاپتا ہے ہم سب بہت پریشان ہیں وہ اس وقت انسپیکٹر صاحب کے سامنے بیٹھا ہوا تھا چہرہ متفکر تھا انکھیں تھکی ہوئی تھی پولیس یونیفارم میں ملبوس انسپیکٹر نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا چند روایتی سوالات کے بعد وہ سنجیدگی سے بولا تھا 24 گھنٹے سے پہلے ہم گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کر سکتے پلیز سر میری امی مجھے جان سے مار دیں گی ان کو لگتا ہے کہ ان کی بہو کے گھر سے گمشدہ ہونے کی وجہ میں ہوں وہ گھبرا گیا تھا انسپیکٹر صاحب نے نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا یعنی اس معاشرے کے 50 فیصد مرد اس معاملے میں مظلومیت کا شکار تھے انسپیکٹر صاحب نے یک لحظہ ٹھنڈی اہ بھری تھی شاید وہ احراز کا دکھ سمجھ رہے تھے ٹھیک ہے لیکن فی الحال کاروائی شروع نہیں ہوگی ہم صرف درج کریں گے اور پرائیویٹلی اپ کی کچھ ہیلپ کر دیں گے احراز نے سکھ کا سانس لیا تھا اوکے اس نے پرجوش اواز میں کہا تبھی انسپیکٹر صاحب نے رجسٹر اٹھایا تھا قلم ان کے ہاتھ میں تھا اور وہ رجسٹر کھول رہے تھے کیا اپ ہمیں ان کا حلیہ چہرہ یا کوئی ایسی نشاندہی کے ساتھ بتا سکتے ہیں جس سے انہیں ڈھونڈنے میں مدد ملے انسپیکٹر صاحب سنجیدگی سے پوچھ رہے تھے کچھ لمحوں کے لیے احراز سوچ میں پڑ گیا تھا اس چڑیل نے کبھی ایسی نوبت ہی کہاں انے دی تھی کہ اس کے چہرے حلیے یا نین نقوش پر غور فرماتا بتائیے اسے کھویا ہوا پا کر انسپیکٹر صاحب اونچی اواز میں بولے تھے قینچی کی طرح تیز اور ڈیڑھ گز لمبی زبان، لومڑی جیسا تیز دماغ، کوے کے جیسی ٹاکنگ کپیسیٹی ہرن کے جیسی کودتی ٹانگیں وہ کھوئے ہوئے لہجے میں کہتا جا رہا تھا واہ کیا حلیہ بیان کیا گیا تھا پولیس اسٹیشن کی راہداریاں تک اش اش کر اٹھی تھی ہر لمحہ اس کے ساتھ گزرے لمحات انکھوں کے سامنے دوڑ رہے تھے اس کا حال دل اس کی انکھوں کو نوچ رہا تھا وہ خاموش ہوا تو اسے احساس ہوا جہل پہل کرتا ہوا وہ جیل کھانا کس قدر سکوت میں ا چکا تھا صرف چند لمحوں بعد وہاں قہقہو شور گونج اٹھا تھا انسپیکٹر صاحب مارے حیرت کے بےہوش ہوتے ہوئے بچے تھے مسٹر احراز ملک ہم نے اپ سے ان کے نین نقوش پوچھے تھے ان کی خوبیاں نہیں وہ الفاظ پر زور دیتے ہوئے جھنجھلا کر خاص پر زور دیتے ہوئے جھنجلا کر بولے تھے خیر بولے تو وہ بھی غلط ہی تھے ان اوصاف کو خوبیاں کہنا بھی خوبیوں کے ساتھ بےتحاشہ ظلم تھا سوری وہ ان کے نین نقوش پر توجہ دینے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا احراز ایک دم شرمندگی کے باعث سرخ پڑا تھا اسی وقت اس کے موبائل پر نوٹفکیشن آئی موبائل کھولنے پر جو اس نے دیکھا اس کا سر گھوم گیا تھا مہوش صاحبہ جن کے لیے وہ کتوں کی طرح شہر میں ذلیل ہوتا پھر رہا تھا وہ گھر کی چھت پر بارش میں ٹک ٹاک بنا رہی تھی اس وقت اس کے جبڑے غصے سے بیچ گئے تھے کتنا پاگل تھا وہ سارا گھر چھان مارا ایک مرتبہ چھت کو بھی دیکھ لیتا اف خدایا اس نے وہیں اپنا سر تھام لیا سوری سر اپ کو ڈسٹرب دیا لیکن مجھے کوئی رپورٹ درج نہیں کروانی وہ معذرت خواہانہ کہتا ہوا وہاں سے اس کا گاڑی میں جا بیٹھا تھا
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
قلبِ رواں ایک خوبصورت رومانوی اور خاندانی اردو ناول ہے جس کی کہانی احراز اور مہوش کی ازدواجی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں کے درمیان محبت بھی ہے، مسلسل نوک جھونک بھی، غلط فہمیاں بھی اور ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکنے والی کیفیت بھی۔
کہانی میں جذباتی اور سنجیدہ موڑوں کے ساتھ بے شمار مزاحیہ مناظر بھی شامل ہیں۔ ایک موقع پر مہوش اچانک گھر سے غائب ہو جاتی ہے، جس کے بعد احراز پوری شدت سے اسے تلاش کرنے نکل پڑتا ہے۔ گھر والوں کی پریشانی، پولیس اسٹیشن تک پہنچنے کی نوبت اور پھر مہوش کا غیر متوقع انداز میں مل جانا ایسے دلچسپ واقعات پیدا کرتا ہے جو قاری کو بے اختیار مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ناول میں صرف رومانس ہی نہیں بلکہ خاندانی تعلقات، ذمہ داریاں، اعتماد، غلط فہمیاں، ایثار، معافی اور مضبوط رشتوں کی خوبصورت تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔ جذباتی اور مزاحیہ انداز
میں آگے بڑھتی یہ کہانی محبت کی اصل خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہے۔
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕