Tag Archives: Married Life
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔
Qalb e Rawan Novel20819
احراز اپنی گمشدہ بیوی مہوش کی تلاش میں پورا شہر چھان مارتا ہے، یہاں تک کہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس کا حلیہ بیان کرنے لگتا ہے، مگر چہرے کے بجائے اس کی شرارتیں اور عادتیں گنوانے لگتا ہے۔ چند لمحوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ مہوش تو گھر کی چھت پر بارش میں ٹک ٹاک بنا رہی تھی، اور احراز کی ساری پریشانی ایک مزاحیہ انجام تک پہنچ جاتی