Complete Urdu Novel
Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan
شوہر کی وفات کے بعد امرا کی پوری دنیا اس کے ننھے بیٹے حمزہ تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنی زندگی میں کسی نئے رشتے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن حمزہ کو سڑک پر حادثے سے بچاتے ہوئے اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوئی۔ امرا کے لیے یہ محض ایک خوفناک لمحہ تھا، لیکن شجاع کے دل میں اسی ملاقات نے ایک ایسی خواہش پیدا کر دی جسے وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتا تھا۔ جب امرا کے سسرال والوں نے اس کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تو شجاع نے ان کی کمزوری، یعنی دولت کی محبت، کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اب امرا کی زندگی کا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں کیا جا رہا تھا۔ کیا وہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی کو روک سکے گی، یا اسے ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا جو انکار سننے کا عادی ہی نہیں؟
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
روحا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کر دیا جائے گا۔ جس حویلی میں اسے محبت اور اپنائیت کے بجائے سخت رویوں اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہیں اس کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ امن خانزادہ نے رخصتی بھی اسی دن کرنے کی شرط رکھ دی تھی، اور کسی نے روحا کے دل میں موجود خوف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے نکاح کے دن بھی وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے تھکن سے نڈھال تھی، جبکہ امن اس کے لیے قیمتی سرخ عروسی لباس خرید رہا تھا۔ جب وہ دلہن بن کر سامنے آئی تو امن کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں، مگر روحا کا دل اب بھی انجانے خدشات سے لرز رہا تھا۔ کیا یہ نیا رشتہ اسے حویلی کے ظلم سے نجات دلائے گا یا اس کی زندگی ایک اور مشکل امتحان میں داخل ہونے والی تھی؟
Maafi By Eesha Hussain Novel21032 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
ایک طرف کامیابی، دولت اور اپنے اصولوں پر غرور کرنے والا مرتضیٰ خاندادہ تھا، جس کے عالیشان ہوٹل میں صرف تجربہ کار لوگوں کو جگہ ملتی تھی۔ دوسری طرف ہادیہ خان تھی، ایک باحجاب لڑکی جس کے پاس کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تو نہیں تھا، مگر اپنے ہنر پر بھرپور اعتماد ضرور تھا۔ ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ہادیہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھر ایک غیر متوقع موقع نے اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا راستہ دے دیا۔ صرف آدھے گھنٹے میں تیار کیے گئے گلاب جامن مرتضیٰ کے سامنے رکھے گئے تو وہ ان کا ذائقہ چکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ کیا یہ معمولی سا موقع ہادیہ کے لیے کامیابی کا دروازہ کھولنے والا تھا؟ اور کیا اپنے سخت اصولوں پر قائم مرتضیٰ خاندادہ اس لڑکی کی صلاحیت کو تسلیم کر سکے گا؟
Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
Dar Arzoo e Mehr Novel21027
تاباں نے زندگی سے کبھی بہت کچھ نہیں مانگا تھا۔ بچپن سے اپنوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ کسی کی چاہت نہ بن سکی۔ شادی ہوئی تو پہلی مرتبہ اسے لگا شاید قسمت نے اس کے لیے بھی ایک گھر اور ایک ایسا شخص چن لیا ہے جس کے دل میں وہ اپنی جگہ بنا سکے گی۔ معاز کی ایک مسکراہٹ اسے پورا دن خوش رکھنے کے لیے کافی تھی اور اس کی معمولی سی بات پر وہ تنہائی میں شرما لیا کرتی تھی۔ مگر ایک رات اسے احساس ہوا کہ جس تعلق کو وہ محبت سمجھ بیٹھی تھی، شاید وہ صرف معاز کی اچھی فطرت تھی۔ ایک ان چاہی بیٹی کا سفر کیا اب ایک ان چاہی بیوی بننے پر ختم ہونے والا تھا؟
Waris by SI Writes Novel21028
جس شخص کو نازلین نے اپنے دل پر حکومت کا حق دیا تھا، اسی کے الفاظ نے ایک رات اس کے اندر موجود محبت کو بری طرح زخمی کر دیا۔ وارث نہ دے سکنے کا الزام، دوسری شادی کی دھمکی اور اس کی عزتِ نفس کو روندتی تذلیل نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں آنسو بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ زمین پر بیٹھی نازلین نے اسی رات خود سے ایک وعدہ کیا—مبشر بلوچ اب اس کے وجود پر اختیار رکھ سکتا ہے، اس کے دل پر نہیں۔ اور اگر قسمت نے اسے اپنی تذلیل کا حساب لینے کا ایک بھی موقع دیا تو وہ اسے ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔
Miyan e Qahr o Mehr Novel21025
اٹھارہ سال پہلے قائم ہونے والے ایک رشتے کو عنائزہ نے اپنی پوری زندگی کا انتظار بنا لیا تھا، مگر سہراب شاہ کے لیے وہی نکاح ایک ایسا بندھن تھا جسے وہ واپس آتے ہی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے عنائزہ کو دیکھے بغیر فیصلہ کر لیا تھا کہ گاؤں میں رہنے والی ایک انجان لڑکی اس کی شریکِ حیات نہیں بن سکتی۔ مگر قسمت نے اسے اسی حویلی میں ایک ایسی معصوم لڑکی کے سامنے لا کھڑا کیا جس کی شہد رنگ آنکھیں اور سادہ چہرہ پہلی ہی ملاقات میں اس کے دل کی دھڑکنیں بدل گئے۔ سہراب نہیں جانتا تھا کہ جس اجنبی کی شناخت اب اس کے لیے ایک سوال بن گئی ہے، اس کا جواب اس کے اپنے اٹھارہ سال پرانے نکاح میں چھپا ہے۔
Mehkoom e Ishq Novel21024
جس جرم کا مہرال نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا، اسی جرم کی سزا اس کی پوری زندگی بدلنے والی تھی۔ شاہ حویلی کی ہونے والی دلہن کے اچانک چلے جانے کا الزام ایک معمولی ملازم کی معصوم بیٹی پر آیا تو اس کی بےگناہی کی ہر دہائی بےاثر ثابت ہوئی۔ پھر حیدر شاہ نے سب کے سامنے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا جس نے حویلی میں موجود ہر شخص کو ساکت کر دیا۔ مہرال کو سزا ملنی تھی، مگر قید یا حویلی سے نکالے جانے کی صورت میں نہیں بلکہ حیدر شاہ کے نکاح میں آ کر۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا مہرال کبھی اپنی بےگناہی ثابت کر پائے گی، اور اس حویلی کی دیواروں کے پیچھے چھپی حقیقت آخر کیا تھی؟
