Short Novel
Dill Bas Tera Howa Novel21065 — Ayesha Majeed
چار سال بعد عابص خان اپنے گھر واپس آیا تو پورا خاندان خوشی سے اس کا استقبال کر رہا تھا۔ ابیہا بھی دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔ جب سب نے پوچھا کہ وہ اپنی بیوی کے لیے کیا تحفہ لایا ہے تو عابص نے مسکرا کر ایک خوبصورت غیر ملکی لڑکی کو اپنے پاس بلایا اور اسے ابیہا کی سوتن قرار دے دیا۔ یہ انکشاف سنتے ہی ابیہا بے ہوش ہو گئی۔ ہسپتال میں ہوش آنے پر اس نے اپنے والد اور دا جان سے طلاق دلوانے کی درخواست کی۔ لیکن عابص وہاں بھی پہنچ گیا اور سب کے احتجاج کے باوجود کمرہ خالی کروا کر دروازہ اندر سے بند کر دیا۔
Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain
سرفراز شاہ ایک سخت مزاج اور بااثر شخص تھا جس کے خاندان میں عورتوں کو مردوں کے سامنے بولنے کی اجازت تک نہیں تھی۔ اس کی دس سال چھوٹی کزن زمل شاہ کا نکاح اس سے ہو چکا تھا، مگر زمل اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی۔ وہ سرفراز کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور پڑھائی کی اجازت مانگ لی۔ سرفراز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی، لیکن زمل اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بعد میں جب اس نے سرفراز کی بہن ارحہ کو اپنی مرضی کے بغیر طے ہونے والی شادی کے خلاف آواز اٹھانے کا مشورہ دیا تو صائمہ بیگم نے سرفراز کی دوسری شادی کروانے کی دھمکی دے دی۔ زمل کے بے باک جواب پر سرفراز غصے میں کمرے میں داخل ہو گیا۔
Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan
ازلان کی دادی نے اپنی ساری زمین اس کے نام کر دی اور اسے اپنی یتیم، طلاق یافتہ نواسی کا خیال رکھنے کو کہا۔ ازلان کو صرف زمین چاہیے تھی تاکہ اسے فروخت کرکے اپنا کاروبار شروع کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے دادی کی نواسی سے نکاح کر لیا، مگر بیوی کا چہرہ دیکھے بغیر شہر چلا گیا۔ ایک ہفتے بعد واپس آیا تو اپنے کمرے میں بیس سال کی نازک سی لڑکی کو اپنے کپڑے استری کرتے دیکھا۔ وہ غصے میں اسے کمرے سے نکلنے کا حکم دینے لگا۔ مگر لڑکی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کا بھی کمرہ ہے۔ اس جواب پر ازلان حیران رہ گیا۔
Ranjhan Yaar Di Novel21062 — Novelistan
ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ ٹروتھ کا کھیل کھیل رہی تھی جب ایک دوست نے اس سے اپنے شرمیلے کزن کی خصوصیات پوچھ لیں۔ ہیر نے فوراً اسے ایک نمبر کا کھڑوس کہنا شروع کر دیا۔ مگر شکایتوں کے دوران وہ اس کی خوبصورت آنکھوں، ہونٹوں، داڑھی، مونچھوں اور رنگت کی تعریف بھی کرتی رہی۔ کبھی اسے رانجھے جیسا خوبصورت کہتی اور کبھی اس کے سخت مزاج پر ناراض ہوتی۔ باتوں باتوں میں وہ اسے ایک خوبصورت شہزادے جیسا قرار دینے لگی۔ اچانک پیچھے سے اس کے کزن کی سرد آواز سنائی دی، جو اسے اپنی باتیں بند کرنے کو کہہ رہا تھا۔ ہیر نے پلٹ کر دیکھا اور اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دبا لی۔
Ishq Ka Anchaha Rishta Novel21061 — Novelistan
پانچ سال بعد لندن سے واپس آنے والے ارم کے کزن کی اس کے دولہے سے شدید لڑائی ہو گئی۔ دولہے والے شادی توڑ کر چلے گئے تو خاندان کی عزت بچانے کے لیے ارم کا نکاح اسی کزن سے کروا دیا گیا۔ مگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھا۔ نکاح کے بعد اس نے غصے میں ارم کو کمرے سے نکلنے کا حکم دیا۔ ارم نے بھی جواب دیا کہ اس کی پہلی شادی اسی کی وجہ سے ٹوٹی ہے۔ اس پر اس نے ایک ایسا انکشاف کیا جس سے ارم کے ہوش اڑ گئے۔ وہ لندن میں پہلے ہی شادی کر چکا تھا۔ یہ سنتے ہی ارم ساکت رہ گئی اور لڑکھڑا کر بستر کی طرف گرنے لگی۔
Dil Ka Makeen Novel21059 — Novelistan
نورالعین کروڑوں کی جائیداد کی مالک تھی، مگر اپنے ہی گھر میں اس کی حیثیت ملازماؤں سے بھی بدتر تھی۔ اس کا شوہر شادی کی پہلی رات اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اور ساس اس سے ہر طرح کے کام کرواتی تھی۔ ایک دن وہ بھوکے پیٹ تپتی دھوپ میں کپڑے دھو رہی تھی کہ اس کا شوہر ایک دوسری لڑکی کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ نورالعین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس مرتبہ اس نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ دیر بعد ایک وکیل نے گھر والوں کو دو گھنٹے میں گھر خالی کرنے کی تنبیہ کی۔ سب نے حیرت سے وکیل کے پیچھے کھڑی نورالعین کو دیکھا۔
Teri Deed Novel21051 — Novelistan
علمہ نے اپنی ازدواجی زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا تھا، مگر ایک صبح شہناز بیگم کے مسلسل طعنوں نے اس کا ضبط توڑ دیا۔ رات بھر جسمانی تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد وہ دیر سے اٹھی تو ساس نے اسے سخت باتیں سنائیں۔ علمہ نے اپنی صفائی پیش کی، لیکن معاملہ جہانزیب تک پہنچ گیا۔ اس نے سب کے سامنے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ وہ اس کی ماں سے معافی مانگے، ورنہ اس کی زندگی سے نکل جائے۔ علمہ نے بے بسی میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی، مگر اس کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ بعد میں جب جہانزیب کو علمہ کا خط ملا تو اس میں اپنے بچے کا ذکر اور شوہر کے لیے ایک تکلیف دہ پیغام موجود تھا۔
Mera Ishq Ho Tum Novel21052 —Novelistan
وانیہ ایک یتیم لڑکی تھی جو اپنے تایا کے گھر رہتی تھی۔ ایک رات سائرہ نے اس پر حسین خانزادہ کے کمرے میں ہونے کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ وانیہ روتے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کرتی رہی، مگر کسی نے اس کی بات نہ سنی۔ تایا نے فیصلہ سنا دیا کہ صبح اس کا نکاح حسین سے کر کے اسے گھر سے نکال دیا جائے گا۔ حسین خاموش رہا، لیکن رات کو اپنے دوست سے نکاح کے انتظامات کروانے لگا۔ اگلی صبح دونوں کا نکاح ہو گیا۔ سب اسے ایک عام کرایہ دار سمجھ رہے تھے، مگر رخصتی کے وقت عالیشان گاڑیوں کی قطار گھر کے باہر پہنچ گئی۔ حسین نے وانیہ کی توہین کرنے والوں کو سختی سے روک دیا۔
Zeest e Muhabbat Novel21050 — Novelistan
الوینہ کو ونی کی رسم کے تحت ارمان شاہ کے نکاح میں دیا گیا تھا، مگر جب وہ حاملہ ہوئی تو ارمان نے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی رات حویلی والوں نے اسے مردہ سمجھ کر باہر پھینک دیا۔ چھ سال بعد الوینہ ڈاکٹر ماہم کے نام سے ایک نئی زندگی گزار رہی تھی اور اپنے بیٹے عبداللہ کی پرورش کر رہی تھی۔ ایک دن حادثے کا شکار ہونے والے مریض کو آپریشن کے لیے اس کے سامنے لایا گیا تو وہ ارمان شاہ نکلا۔ الوینہ نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس کا علاج کیا، لیکن پھر اپنے بیٹے کو لے کر شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ سفر سے پہلے عبداللہ اچانک باہر بھاگا اور الوینہ نے پیچھے مڑ کر ایسا منظر دیکھا جس نے اسے ہلا دیا۔
Ishq Ka Rang Novel21046 — Novelistan
مائرہ شاہ اپنی شادی کے دن خوش تھی، مگر عین وقت پر بارات نہ آنے سے اس کے خواب بکھر گئے۔ خاندان کی عزت بچانے کے لیے سردار داؤد خان نے اس سے نکاح کی پیشکش کی، جسے اس کے والد نے قبول کر لیا۔ مائرہ کو بعد میں معلوم ہوا کہ داؤد کی پہلی بیوی وفات پا چکی ہے اور ان کا ایک سالہ بیٹا بھی ہے۔ لال حویلی پہنچ کر اسے داؤد کے سخت رویے اور کئی پراسرار پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رات کے وقت جب اس نے اوپری منزل کے ایک بند کمرے سے بچے کے رونے کی آواز سنی تو داؤد نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ مائرہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی پہلی بارات ٹوٹنے کے پیچھے بھی داؤد کا ہاتھ تھا۔