Short Novel
Baazi e Khatar Novel21055 — Novelistan
ایزل فاطمہ خان کے لیے اجنبی نمبروں پر فون کرنا محض ایک شرارت تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص کو وہ مذاق میں اس کے خفیہ جرائم بے نقاب کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، وہ حقیقت میں شہر کا انتہائی خطرناک گینگسٹر ریحان شاہ ہے۔ ایزل کی باتوں نے ریحان کے ذہن میں شکوک پیدا کر دیے اور اس نے لڑکی کی مکمل معلومات حاصل کروا لیں۔ اسی شام موسلادھار بارش میں جب ایزل کی اسکوٹی سنسان سڑک پر خراب ہوئی تو دو اجنبی آدمیوں نے اسے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ اب وہ اس شخص کی گرفت میں تھی جسے چند گھنٹے پہلے مذاق میں دھمکایا تھا۔ لیکن اصل خطرہ ابھی باقی تھا۔ آخر ریحان شاہ اس معصوم لڑکی سے کیا جاننا چاہتا تھا، اور فارم ہاؤس پر اچانک ہونے والی فائرنگ کس نئی مصیبت کا آغاز تھی؟
Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
Aroos-e-Naashenaas Novel21049 — Novelistan
شادی کے دن ایہام ملک کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب اس کے منگیتر عامر فیروز نے اس سے محبت کا انکار کرتے ہوئے اس کی چچازاد بہن بسمہ کا انتخاب کر لیا۔ ایہام کے لیے یہ دھوکا صرف دل ٹوٹنے کا سبب نہیں تھا بلکہ اس کی کروڑوں کی جائیداد بھی خطرے میں پڑ چکی تھی۔ والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری تھا اور اب اس کے پاس صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوا۔ ایہام نے بے بسی سے اس سے شادی کی درخواست کی اور بدلے میں دولت اور گھر دینے کی پیشکش کر دی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک مافیا باس ہے جس کی اصل شناخت آج تک خفیہ اداروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ پراسرار اجنبی اس کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
Peymaan e Koodaki Novel21048 — Novelistan
بچپن میں طے ہونے والی منگنی شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ دونوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ شہروز اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں تھا، جبکہ نور الہدیٰ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ والدین کے اصرار پر دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا گیا، مگر نور الہدیٰ نے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنا حلیہ اس طرح بدل کر گاؤں پہنچی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی شادی سے انکار کر دے۔ لیکن جب شہروز نے سب کے سامنے اسے پسند کرنے کا اعلان کیا تو نور الہدیٰ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ وہ حیران تھی کہ آخر اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور اس نے اچانک شادی کے لیے رضامندی کیوں ظاہر کر دی؟
Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan
انابیہ نے اپنی زندگی کے تمام خواب حسن کے ساتھ وابستہ کیے تھے، مگر ایک دن وہی شخص دوسری عورت سے نکاح کرکے گھر آ گیا۔ شوہر کی بےوفائی نے اس کے اعتماد اور محبت کو بری طرح توڑ دیا۔ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے التجائیں کرتی رہی، لیکن حسن نے اسے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کر دیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ماں کے گھر لوٹنے والی انابیہ نے عدت کے بعد خود کو سنبھالا اور ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ قسمت اسے منہاج عالم کی کمپنی میں لے آئی، جہاں اس کا سابق شوہر بھی کام کرتا تھا۔ منہاج عالم پہلی ملاقات ہی میں اس کی شخصیت سے متاثر ہوا، مگر انابیہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی نئی زندگی کی یہ شروعات ایک اور غیرمتوقع رشتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیا وہ اپنے ماضی سے آزاد ہو پائے گی، یا محبت اور مجبوری ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی کو مشکل بنا دیں گے؟
Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan
شوہر کی وفات کے بعد امرا کی پوری دنیا اس کے ننھے بیٹے حمزہ تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنی زندگی میں کسی نئے رشتے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن حمزہ کو سڑک پر حادثے سے بچاتے ہوئے اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوئی۔ امرا کے لیے یہ محض ایک خوفناک لمحہ تھا، لیکن شجاع کے دل میں اسی ملاقات نے ایک ایسی خواہش پیدا کر دی جسے وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتا تھا۔ جب امرا کے سسرال والوں نے اس کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تو شجاع نے ان کی کمزوری، یعنی دولت کی محبت، کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اب امرا کی زندگی کا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں کیا جا رہا تھا۔ کیا وہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی کو روک سکے گی، یا اسے ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا جو انکار سننے کا عادی ہی نہیں؟
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
ایک طرف کامیابی، دولت اور اپنے اصولوں پر غرور کرنے والا مرتضیٰ خاندادہ تھا، جس کے عالیشان ہوٹل میں صرف تجربہ کار لوگوں کو جگہ ملتی تھی۔ دوسری طرف ہادیہ خان تھی، ایک باحجاب لڑکی جس کے پاس کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تو نہیں تھا، مگر اپنے ہنر پر بھرپور اعتماد ضرور تھا۔ ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ہادیہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھر ایک غیر متوقع موقع نے اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا راستہ دے دیا۔ صرف آدھے گھنٹے میں تیار کیے گئے گلاب جامن مرتضیٰ کے سامنے رکھے گئے تو وہ ان کا ذائقہ چکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ کیا یہ معمولی سا موقع ہادیہ کے لیے کامیابی کا دروازہ کھولنے والا تھا؟ اور کیا اپنے سخت اصولوں پر قائم مرتضیٰ خاندادہ اس لڑکی کی صلاحیت کو تسلیم کر سکے گا؟
Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
Ishq e Mashroot Novel21029
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟