Ishq e Mashroot Urdu novel cover
427.9kViews
#1133Ranking
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Ishq e Mashroot Novel21029

By Novelistan

Rate this novel

جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟

Sneak

تمہارا ناٹک پھر سے شروع ہو گیا؟ یہی چاہتی ہو نا کہ میری شادی نا ہو؟" وہ اس کا بازو جکڑتے ہوئے اس کے چہرے پر غرایا تھا۔"ش۔۔شاہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟" ہادیہ تڑپ اٹھی۔"چپ! بالکل چپ! م۔۔میری طبیعت خراب ہے، سچ کہہ رہی ہوں۔"وہ تنگ آگیا اس کے رونے پر۔"جھوٹ بولتی ہو تم!"اسے غصہ آیا۔ "پریگنینٹ ہوں میں۔"وہ غصے میں چلائی تو اچانک ماحول میں خاموشی چھا گئی، جس میں بس سسکیوں کی گونج تھی۔آج اس کی دوسری شادی تھی۔ ضبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے گہری سانس لی۔"یہ سب کب؟ " " کل پتا چلا مجھے۔۔۔"شاہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا، جس کے پیٹ میں اس کا بچہ تھا۔"میں اس بچے کو اب نہیں۔۔۔ "  بس بہت ہو گیا ہے شادی کو تین سال ہو گئے ہیں اور کتنا برداشت کروں گی میں؟" سمیہ بیگم نے نفرت سے کہا تو زولید مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا ماں کے سامنے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ ماں یہ تو اللہ کی مرضی ہے" زولید نے کمزور سا احتجاج کیا  اللہ کی مرضی۔۔۔۔ زولید تم میری اکلوتی اولاد ہو۔۔۔ میری نسل تم سے چلنی ہے۔۔۔ لیکن جسے بیاہ کر لائے ہو۔۔۔ اسنے تو جیسے ہر خواب پر سٹاپ لگا دیا ہے" سمیہ بیگم نے غصے سے کہا یہ تھی تمہاری پسند زولید ۔۔۔ جو آج تک ایک بچہ تک نہ دے سکی" سمیہ بیگم کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ اوپر کمرے میں بیٹھی شانزہ تک پہنچ رہی تھی۔ وہ سمیہ بیگم کی بات پر رو دی۔۔ اگر اسے اولاد نہیں ہوئی تھی تو اسمیں اسکا کیا قصور تھا" شانزہ نے سوچا لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ بول نہیں سکتی تھی۔  بس میں کہہ رہی ہوں۔۔۔ میں نے راشدہ سے بات کر لی ہے۔۔وہ تمہارے لیے اظہر صاحب کی طرف رشتے کی بات چلا رہی ہے تمہاری شادی اب میری مرضی سے ہی ہو گی" سمیہ بیگم کی بات پر ذولید حسن پہلی بار خاموش ہوا تھا ورنہ ہر دفع وہ بڑی سختی سے دوسری شادی کو انکار کرتا تھا اور اوپر بیٹھی شانزہ کانپ گئی تھی اسکے بدن کا ایک ایک رواں اس وقت شدت سے دعا کر رہا تھا کہ ذولید ہمیشہ کی طرح انکار کر دے۔۔۔ لیکن اس بار ایسا نہ ہوا تھا اور پھر خاموشی طویل ہوئی تو اوپر بیٹھی شانزہ ہو احساس ہوا ذولید حسن اور اسکی ماں کب کے وہاں سے جا چکے ہیں۔ شانزہ ناجانے کتنی دیر روتی رہی اور ماضی کی حسین یادیں اسکے اردگرد تھیں وہ بے چینی سے ماضی میں کھو گئی۔ شانزہ قدیر صاحب کی اکلوتی اولاد تھی اسکے ہیدا ہوتے ہی ماں باپ میں طلاق ہو گئی تھی۔ بچپن کبھی دادا کے گھر تو کبھی نانا کے گھر گزرا۔۔ طلاق کے بعد اسکی ماں نے فورا دوسری شادی کر لی تھی ۔ جبکے باپ نے دس سال بعد دوسری شادی کی تھی۔ شانزہ کا زیادہ سارا بچپن دادا،دادی کے پاس ہی گزرا تھا۔۔۔ پھر جب باپ نے بھی شادی کر لی تو وہ کچھ عرصہ نانا، نانی کے پاس رہی، لیکن کالج کے دور میں اسنے ہاسٹل شیفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اور اسطرح وہ ماں باپ سے دور ہاسٹل میں رہی تھی زندگی کے سات سال اسنے ہاسٹل میں گزارے تھے۔ وہ یونی میں تھی جب اسکی ملاقات ذولید حسن سے ہوئی تھی۔ شانزہ ایک ڈری سہمی سی، دبو سی لڑکی تھی۔ جو دوست بہت کم بناتی تھی سب کہتے تھے اسے بوکنا نہیں آتا ۔۔۔ کیونکہ جب وہ بولتی تھی تو اسکی سوتیلی ماں ، نانی دادی سب ہی اسے کم بولنے کی تلقین کرتیں تھیں اسی لیے اسے عادت ہی نہ تھی زیادہ بولنے کی۔۔۔ حسن اسنے ماں باپ سے چرایا تھا ۔۔۔ اور ذولید حسن اسکے حسن کا دیوانہ ہو گیا تھا شانزہ اسکی جونیئر تھی اور ذولید حسن نے شانزہ کو پسند کرتے ہی جھٹ پٹ شادی کا فیصلہ کی تھا اسے کم گو ، حسین سی شانزہ پہلی نظر میں پسند آگئی تھی۔ سمیہ بیگم اس شادی کے خلاف تھیں کیونکہ وہ اپنے چچا زاد اظہر کی بیٹی سارہ سے ذولید کی شادی کرنا چاہتی تھیں کیونکہ اس طرح انکے بزنس کو بڑھاوا ملتا۔ لیکن ذولید بھی ضد کا پکا نکلا تھا شانزہ سے شادی کر کے ہی دم لیا تھا۔ شادی کا پہلا سال بہت خوبصورت گزرا تھا۔۔۔ سمیہ بیگم کا رویہ سرد ضرور تھا لیکن نفرت والا نہ تھا۔۔۔ پہلے دن سے ہی انہیں پوتے کی خواہش تھی جو وہ اٹھتے بیٹھتے شانزہ کو بتاتی تھیں۔ ذولید ایک بہترین ہمسفر تھا جس نے شانزہ کو محبت کرنا سیکھایا تھا شانزہ کا دن رات ذولید کے اردگرد گھومتا تھا ۔۔۔۔ وہ کم گو سی لڑکی ذولید سے بہت ساری باتیں کرتی تھی اپنا سارا وقت اسنے ذولید کے نام کر دیا تھا۔ لیکن شادی کے ایک سال بعد ہی ساس اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں تھیں۔ اور پچھلے دو سال سے اسکا علاج ہو رہا تھا ۔۔ وہ نازک سی لڑکی دوائیاں کھا کھا کر چبی ہو گئی تھی۔ لیکن ہیلدی ہو ہر بھی وہ ذولید حسن کے دل پر راج کر رہی تھی۔  ڈاکٹر سب ٹھیک ہے کی ریپورٹ دے رہے تھے اور اللہ کی مرضی کہہ دیتے ۔۔۔ وقت کے ساتھ شانزہ کا ڈپریشن بڑھ رہا تھا ۔ ذولید اکثر اسے تسلی دیتا تھا کہ جب اللہ چاہے گا تب ہی اولاد ہو گی لیکن سمیہ بیگم کی ضد بھی وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی رھی۔ حسن صاحب اس معاملے میں بہو کے حمایتی تھے ۔۔ لیکن اب وہ بھی بیوی کے آگے خاموش ہو گئے تھے۔ شانزہ نے بے دردی سے آنسو صاف کیا۔۔ یعنی ایک بار پھر سے اسے اسی تنہائی میں پھیکا جانے والا تھا جس سے ذولید حسن اسے نکال کر لایا تھا ۔۔۔ سسک سسک کر اسکا برا حال ہو گیا تھا وہ کس کو پکارتی کون تھا اسکا اپنا۔۔۔ ماں باپ کوئی بھی اسکی ذمہ داری نہ اٹھاتا۔۔۔ کوئی اسکے حق میں ذولید کے گھر والوں سے نہ بولتا۔۔۔۔ اور پھر ہمیشہ کی طرح رو دھو کر وہ خود ہی چپ ہو گئی تھی۔۔۔ لیکن یہ وقت اس پر تین سال بعد آیا تھا کیونکہ بیچ میں تو ذولید حسن اسکے ہر آنسو کو اپنے لبوں سے چنتا تھا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہر صاحب کی طرف سے اوکے کا سگنل ملتے ہی سمیہ بیگم کے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ سارہ ایک گھریلو لڑکی تھی جو زمیندار اظہر کی بیٹی تھی۔ حویلی میں رہنے والی سارہ بلکل ویسی ہی تھی جسے اپنی دولت جائیداد پر فخر تھا وہ اپنے سامنے کسی کو کچھ نہیں سمجھتی تھی۔  ذولید پچھلے دو دن سے۔۔۔ شہر سے باہر گیا ہوا تھا ۔۔۔وہ شانزہ کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا جبھی دو دن سے گھر نہیں لوٹا تھا شانزہ نے گرل سے دیکھا تھا نیچے ذولید کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی۔۔ اس جمعے اسکا نکاح تھا۔ نہ شانزہ نے میسج کیا تھا نہ ذولید نے کوئی کال ورنہ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ ذولید ایک گھنٹہ بھی اسے کال کیے بغیر رہ جاتا۔۔ سمیہ بیگم بڑھ چڑھ کر تیاریوں میں مصروف تھیں اور وہ بے حس بنی گھر کے کام کرتی پھر رہی تھی۔ کچن سمیہ بیگم نے شانزہ کے ہینڈ اور کیا ہوا تھا تو وہ روز کی طرح کچن کا کام اپنی نگرانی میں کراتی ڈنر تیار کر رہی تھی جب ذولید حسن گھر میں داخل ہوا تھا پرسوں شادی تھی اور کل مہندی۔۔۔ شانزہ کی سوجی ہوئی نگاہیں ہر شخص پر اسکے اندر کا حال عیا کر رہیں تھیں وہ ڈھیٹ بنی کام میں لگی رہی اور آج تو ذولید نے بھی اسے نہ پکارا تھا۔۔۔ ڈنر ٹیبل پر سیٹ کراتے اسنے ملازم سے ذولید کو بلانے کو کہا تھا ساس سسر ٹیبل پر آگئے تھے اور حسن صاحب کے چہرے پربہو کو دیکھ کر فکر کے تاثرات ابھرے تھے لیکن سمیہ بیگم تو ایسے بنی بیٹھیں تھیں کہ جیسے کچھ دیکھ ہی نہ رہیں ہوں۔ اور پھر ذولید حسن آیا تھا ایک نگاہ شانزہ پر ڈالتا وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا تھا سوجی آنکھیں اس وقت ذولید کو ڈسٹرب کر گئیں تھیں لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا وہ جانتا تھا شانزہ کو چھیڑا تو وہ ایسی بکھرے کلگی کہ ذولید ماں سے کیا وعدہ توڑ دے گا۔ ذولید۔۔۔ آپ شانزہ کو دوسرے کمرے میں آج شفٹ کرا دیجیے گا۔۔ تاکے میں کل ساری رینویشن کا کام پورا کرا سکوں" سمیہ بیگم کی بات پر ذولید نے ایک نظر ماں کو دیکھا۔ وہ شانزہ کا کمرہ ہے۔۔۔ اور اسی کا رہے گا آپ کوئی اور روم دیکھ لیں" ذولید کی بات پر ٹیبل پر خاموشی چھا گئی۔ ہاں ۔۔۔ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔ اچھا شانزہ۔۔۔ ایسا کرو کچھ دن کے لیے اپنے دادا دادی کی طرف چلی جاو" سمیہ بیگم کی بات پر ذولید نے غصے سے چمچ پلیٹ میں رکھا  یہ کہیں نہیں جائے گی" ذولید کی بات پر شانزہ نے بوجھک نگاہوں سے اسے دیکھا۔ میں چلی جاوں گی انٹی۔۔۔ آپ فکر نہ کریں کل ہی چلی جاوں گی" شانزہ نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا تو ذولید نے ایک گھوری اس پر بھی ڈالی جو شاید خود بھی  ظلم سہنا چاہتی تھی۔ یہی عقل مندی ہے ۔۔۔۔ کہاں برداشت کر سکوں گی تم۔۔۔ کسی اور کی موجودگی ذولید کی زندگی میں ۔۔۔اور میں گھر میں کوئی فساد نہیں چاہتی" سمیہ بیگم نے سفاکی کی انتہا کر دی تھی۔ ۔  ماں" ذولید نے خفگی سے کہا اور اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔ اور یہ رات بھی شانشہ نے تنہا کمرے میں گزار دی تھی ذولید نہیں آیا تھا اور وہ بے صبری سے ذولید کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔۔  اج ذولید کی مہندی تھی اور دن کے بارہ بج رہے تھے جب بلآخر اسنے کمرے میں قدم رکھا شانزہ سیاہ سوٹ میں سیاہ شال لپیٹے کھڑکی میں کھڑی لان کو سجتا دیکھ رہی تھی لمبے بالوں کا رف سا جوڑا بنائے وہ خستہ حال لڑکی اداس آنکھیں لیے شاید ذولید کی ہی منتظر تھی۔ ایک طرف سوٹ کیس کھڑا تھا جسکا مطلب تھا وہ جا رہی تھی۔ کس کی اجازت سے تم۔۔۔ گھر سے جا رہی ہو؟" ذولید کی سخت گھمبیر ذدہ آواز پر شانزہ نے آنکھ سے بہتا ننھا سا انسو صاف کرتے اسے مڑ کر دیکھا۔ آپکی ہی منتظر تھی۔۔۔ آپ آئیں تو اجازت دیں اور میں جاوں" شانزہ نے نم لہجے میں کہا کہیں نہیں جا رہی تم۔۔۔" ذولید نے اسکے بے حال وجود سے نظر چراتے ہوئے کہا جانا ضروری ہے ذولید۔۔۔ میں نہیں جاوں گی۔۔۔ تو آپ کیسے ایڈجسٹ کریں گے" شانزہ نے رسان سے کہا لیکن دل جیسے کوئی چیر رہا تھا فضول مت بولو۔۔۔ ماں نے کہہ دیا اور تم چل دیں۔۔ تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا " ذولید نے خفھی سے کہا جیسے وہ خود سے بھی خفا ہو یہ شادی مت کریں ذولید۔۔۔۔ میں میں پریگنینٹ ہو جاوں گی" شانزہ نے سسک کر کہا اور ذولید کا دل کسی نے بری طرح مسل دیا ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ میں نے ماں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے" ذولید نے اسکے ہاتھوں سے ہاتھ نکالتے بے بسی سے کہا پھر چھوڑ دیں مجھے" شانزہ نے غصے سے کہا تو ذولید نے ایک نظر اسے دیکھا  یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔اور پلیز اس وقت جس اذیت میں میں ہوں ۔۔ مجھ سے مت الجھو" ذولید نے بے بسی سے کہا نہیں ذولید حسن ۔۔۔۔تم اور بے بس۔۔۔ ہونہہہ تم بے بس ہو ہی نہیں سکتے۔۔ تم جان کر شادی کر رہے ہو۔۔۔ بس اتنی ہی محبت تھی۔۔ جو ایک بچہ نہ ہونے پر ختم ہو گئی۔۔اور تم نے اپنی ماں کے آگے گٹنے ٹیک دہے" شانزہ نے اپنی بھڑاس نکلی۔۔۔ پچھلے ایک ہفتے سے یہ شخص چھپ کر وقت گزار رہا تھا اور اب بھی کوئی قابل قبول بات نہیں کی تھی۔ تو کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ شادی نہ کروں۔۔۔ ماں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کھائی قسم توڑ دوں۔۔۔ ؟" ذولید نے غصے سے کہا ہاں نہ کرو شادی۔۔۔ مت کرو شادی ذولید۔۔ میں برداشت نہیں کر پاوں گی" شانزہ نے سسک کر کہا میں تمہارا ہی رہوں گا شانزہ۔۔۔ بچہ۔۔۔ اس گھر کی ہماری ضرورت ہے کوئی تو میرا بھی نام لیوا ہو۔۔۔ میرے باپ کی نسل بھی تو بڑھے" ذولید نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے بے بسی سے کہا تو۔۔۔ تو تمہیں یہ امید نہیں ہے کہ میں کبھی ماں بن سکوں گی؟" شانزہ نے بے یقینی سے پوچھا۔ شانزہ تین سال۔۔ تین سال سے امید نہیں چھوڑی میں نے۔۔۔ لیکن مجھ پر بھی پریشر ہے میں کیا کروں بتاو مجھے؟" ذولید نے جھنجھلا کر کہا میری زندگی۔۔۔ اس جھیل جیسی تھی جو خاموش رات میں ساکت تھی کوئی لہر نہیں تھی۔۔ بلکل خاموش تھی۔۔ تم نے اسمیں محبت کا بٹا مار کر۔۔۔ اس پرسکون جھیل میں ہلچل پیدا کی اور اب تم ۔۔۔ تم کسی اجنبی راہ گیر کی طرح مجھے پھر سے تنہا چھوڑ کر جا رہے ہو" شانزہ نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا کہیں نہیں جا رہا میں۔۔۔ تم بھی یہی رہو گی کیا بات ہے لوگ۔۔۔ دوسری شادی کر لیتے ہیں۔۔۔ دونوں بیویوں کو خوش رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن تم میری محبت ہو شانزہ۔۔ میری پہلی ترجیح تم ہی رہو گی" ذولید نے اسے یقین دلایا۔ یہ لمحہ ہمارے بیچ کیوں آیا ذولید ۔۔۔ کہ تمہیں مجھے اس بات ک یقین دلوانا پڑے کے میں تمہاری پہلی ترجیح ہی رہوں گی؟" شانزہ نے بے بسی سے پوچھا فلسفیانہ باتیں مت کرو شانزہ۔۔۔ پریکٹیکل ہو کر سوچو۔۔۔ وہ بچہ تمہارا بھی ہو گا" ذولید نے جھنجھلا کر کہا محبت میں انسان ایسی باتیں نہیں کرتا ۔۔۔ " شانزہ نے شکوہ کیا  میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔ کب تک لڑنا ہے تم نے۔۔۔ بتا دو مجھے۔۔۔ پہلے کم ٹینشن میں ہوں جو تم بھی شروع ہو گئی ہو۔۔۔ اور اتنی زبان کہاں سے آئی تمہارے پاس۔۔۔ حیران ہوں میں۔۔۔ " ذولید نے خفگی سے کہا تو شانزہ یک دم خاموش ہو گئی۔۔۔ یہی تو ہوتا آیا تھا۔۔۔ ماں باپ۔۔ جسسے بھی زندگی میں کبھی شکوہ کیا وہ یہی کہتا تھا تم کب سے شکوہ کرنے لگی شانزہ۔۔۔ اور آج اسکی محبت ذولید حسن نے بھی یہی کہا تھا سب بس اسسے فرما برداری کی ہی امید رکھتے تھے۔شانزہ خاموشی سے پلٹ کر واشروم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ اور ذولید اسے خاموش ہوتا دیکھ جھجھلاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ صبح سے شام ہو گئی اور نیچے فنگشن اپنے عروج پر تھا۔۔۔ ذولید حسن سرد تاثرات کے ساتھ بیٹھا رسم نبھا رہا تھا ۔۔۔ اسکے ساتھ سجی سنوری سی سارہ بیٹھی تھی۔۔۔ حویلی کے بجائے ساری رسمیں گھر پر رکھیں گئیں تھیں ۔۔ اور بارات کا انتظام حال میں کیا گیا تھا۔ شانزہ اب بھی اپنے کنرے میں ہی تھی۔۔۔دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔  دوپہر سے اسکی طبیعت اپسیٹ تھی۔۔۔ ان دنوں نہ جانے کتنی بار وہ پریگنینسی ٹیسٹ کر چکی تھی اسے وہم ہو گیا تھا۔۔۔ عجیب بے چینی سی۔۔۔ جیسے کوئی ضد سر پر چڑھ گئی ہو ۔۔۔ اب بھی وہ بوجھل دل کے ساتھ کھڑکی سے ہٹ گئی جب دل بڑے عجیب انداز میں گھبرایا تھا منہ پر ہاتھ رکھتی وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی اور پھر ہونق سی شیشے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ اسنے پریگنینسی ٹیسٹ کیا تھا اور ذندگی کی سب سے بڑی خوشخبری اسے اس لمحے ملی تھی وہ پریگنینٹ تھی۔۔۔ خوشی کے مارے انکھوں سے سیال رواں ہو گیا تھا۔ وہ سٹک ہاتھ میں پکڑے بری طرح رو رہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی نیچے آج مہندی کے ساتھ ذولید حسن کا نکاح بھی تھا۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے تین بج رہے تھے جب ذولید نے کمرے میں قدم رکھا۔۔۔ ناجانے کتنی کالز شانزہ اسے کر چکی تھی جو وہ نہیں اٹھا پایا تھا۔۔۔ شانزہ بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی وہ جیسے ہی کمرے میں آیا تو اسے جاگتا دیکھ چونکا۔ ذولید۔۔۔ کہاں تھے آپ ۔۔۔ کب سے کالز کر رہی ہوں؟" شانزہ نے خفگی سے کہا تو اسنے ایک اداس مسکراہٹ اس پر ڈالی کتنے دن بعد آج وہی پرانا روپ دیکھنے کو ملا تھا شانزہ کا۔ کیوں ؟" مسکرا کر پوچھا۔ آپکو اب۔۔۔شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ذولید۔۔ چلیں ۔۔۔انکل آنٹی کو انکار کر کے آتے ہیں" شانزہ نے ایکسائیٹئٹ ہو کر کہا دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟" ذولید نے الجھ کر پوچھا۔۔ بس یہی سمجھ لیں۔۔۔ ذولید۔۔ ہماری مراد پوری ہو گئی۔۔۔ میں۔۔۔ میں پریگنینٹ ہوں" شانزہ نے ایکسائیٹئٹ ہو کر کہا تو کہی لمحے ذولید کچھ بول نہ سکا  یہ کیسا گھٹیا مذاق کر رہی ہو تم؟" ذولید نے غصے سے پوچھا کیا مطلب۔۔۔ مذاق کیسا؟ ذولید میں سچ کہہ رہی ہوں میں پریگنینٹ ہوں " شانزہ نے اسکا ہاتھ تھامتے نم لہجے میں کہا شانزہ ۔۔۔ یہ مذاق نہیں ہے۔۔۔تم اسی لیے کہہ رہی ہو نہ۔۔۔ کہ میں یہ شادی نہ کرو؟ " ذولید نے خفگی سے کہا ایسا۔۔۔ نہیں ہے" شانزہ نے ٹھٹک کر کہا ایسا ہی ہے۔۔۔۔ابھی دوپہر تین بجے تک تم پریگنینٹ نہیں تھیں اور اب رات تین بجے تم پریگنینٹ ہو گئیں واو" ذولید نے غصے سے کہا اسے بلکل امید نہیں تھی شانزہ اس لیول پر آ جائے گی شادی روکنے کے لیے۔۔۔اسے یہ مذاق ہی لگا تھا۔۔ اور اسکی بات پر شانزہ نے ٹھٹک کر اسے دیکھا چہرے پر بے اعتباری لیے وہ شانزہ جو آندھیوں میں دھکیل گیا تھا اور پھر ہمیشہ کی طرح شانزہ نے ایک قدم پیچھے لیا تھا یعنی اس شخص کو بھی یہی لگتا تھا وہ کبھی ماں نہیں بن پائے گی۔۔۔ ۔  ۔  ۔   

Excerpt
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے
 لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

عشقِ مشروط ایک جذباتی اور ازدواجی زندگی کے نشیب و فراز پر مبنی اردو ناول ہے، جس کی کہانی شانزہ اور ذولید حسن کے گرد گھومتی ہے۔ محبت سے شروع ہونے والا یہ رشتہ تین سال بعد ایک ایسے امتحان سے دوچار ہوتا ہے جہاں اولاد کی خواہش، خاندانی دباؤ اور دوسری شادی کا فیصلہ دونوں کی زندگی میں ایک طوفان برپا کر دیتا ہے۔

شانزہ ایک ایسی لڑکی ہے جس کا بچپن ماں باپ کی علیحدگی، تنہائی اور اپنوں کی بےرخی میں گزرا تھا۔ کبھی دادا دادی، کبھی نانا نانی اور پھر ہاسٹل کی زندگی نے اسے خاموش اور کم گو بنا دیا تھا۔ وہ اپنے جذبات دوسروں کے سامنے بیان کرنے کی عادی نہیں تھی۔

یونیورسٹی میں اس کی ملاقات ذولید حسن سے ہوتی ہے، جو اس کی سادگی اور خوبصورتی سے متاثر ہو کر اسے اپنی شریکِ حیات بنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اپنی والدہ سمیہ بیگم کی مخالفت کے باوجود ذولید شانزہ سے شادی کر لیتا ہے۔

شادی کا پہلا سال شانزہ کے لیے خوشیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ ذولید کی محبت اسے وہ اپنائیت عطا کرتی ہے جس کی کمی اس نے ساری زندگی محسوس کی تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اولاد نہ ہونے کا مسئلہ اس کی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔

سمیہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے کا وارث دیکھنے کی خواہش میں شانزہ پر دباؤ ڈالتی رہتی ہیں۔ مسلسل علاج اور طبی معائنے کے باوجود جب تین سال تک اولاد نہیں ہوتی تو وہ ذولید کی دوسری شادی کا فیصلہ کر لیتی ہیں۔

ذولید ابتدا میں اس فیصلے کی مخالفت کرتا رہا تھا، مگر بالآخر اپنی والدہ کے سامنے خاموش ہو جاتا ہے۔ سمیہ بیگم اس کے لیے اظہر صاحب کی بیٹی سارہ کا رشتہ طے کر دیتی ہیں۔

شانزہ کے لیے یہ فیصلہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ جس شخص نے اسے تنہائی سے نکال کر محبت کا احساس دیا تھا، اب وہی اسے ایک بار پھر اسی تنہائی کے حوالے کرنے جا رہا تھا۔

ذولید اسے یقین دلاتا ہے کہ دوسری شادی کے باوجود شانزہ اس کی پہلی ترجیح رہے گی، مگر شانزہ کے لیے یہ تسلی اس کے ٹوٹتے ہوئے دل کا مداوا نہیں بن سکتی۔

پھر عین اس وقت جب ذولید کی دوسری شادی کی تقریبات جاری ہوتی ہیں، شانزہ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشخبری ملتی ہے۔ تین سال کے انتظار کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے۔

خوشی اور امید سے بھری شانزہ ذولید کو یہ خبر سناتی ہے، مگر اس کا ردعمل اس کی توقعات کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ ذولید اسے سچ سمجھنے کے بجائے دوسری شادی رکوانے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

جس خوشخبری کا دونوں نے برسوں انتظار کیا تھا، وہی خبر اب ان کے درمیان بےاعتمادی کی ایک نئی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

کیا ذولید شانزہ کی بات پر یقین کر سکے گا؟ کیا تین سال کی محبت ایک لمحے کی بےاعتمادی کے سامنے کمزور پڑ جائے گی؟ اور شانزہ اپنی زندگی کے اس نازک موڑ پر کیا فیصلہ کرے گی؟

Summary — Urdu

عشقِ مشروط شانزہ اور ذولید حسن کی محبت اور ازدواجی زندگی کی ایک جذباتی کہانی ہے۔

شانزہ نے بچپن سے اپنوں کی بےرخی اور تنہائی دیکھی تھی۔ یونیورسٹی میں ذولید حسن سے ملاقات کے بعد اسے پہلی مرتبہ محبت اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ذولید اپنی والدہ کی مخالفت کے باوجود شانزہ سے شادی کر لیتا ہے اور دونوں کی ازدواجی زندگی محبت سے شروع ہوتی ہے۔

لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اولاد نہ ہونے پر ذولید کی والدہ سمیہ بیگم اس کی دوسری شادی پر اصرار کرنے لگتی ہیں۔ مسلسل علاج اور انتظار کے باوجود شانزہ ماں نہیں بن پاتی، جبکہ سمیہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے کے وارث کی خواہش میں اس کے لیے سارہ کا رشتہ طے کر دیتی ہیں۔

ذولید اپنی والدہ کے دباؤ میں آ کر دوسری شادی پر رضامند ہو جاتا ہے۔ شانزہ اس فیصلے سے بری طرح ٹوٹ جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنے شوہر کی محبت کسی دوسری عورت کے ساتھ بانٹنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔

دوسری شادی کی تقریبات کے دوران شانزہ کو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ وہ حاملہ ہے۔ وہ خوشی سے ذولید کو یہ خبر سناتی ہے، مگر ذولید اسے حقیقت سمجھنے کے بجائے شادی رکوانے کا بہانہ قرار دیتا ہے۔

یہ بےاعتمادی شانزہ کے لیے اس وقت ایک نئے صدمے کا باعث بنتی ہے جب اسے اپنے شوہر کے یقین اور محبت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

کیا شانزہ اپنی سچائی ثابت کر سکے گی؟ اور کیا ذولید کو اپنے فیصلے کی سنگینی کا احساس ہوگا؟

Related Keywords

Ishq e Mashroot Novel, Ishq e Mashroot Urdu Novel, Ishq e Mashroot PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Ishq e Mashroot Novel21029?

Ishq e Mashroot Novel21029 is written by Novelistan.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under After Marriage and Family Drama.

Where can I read Ishq e Mashroot Novel21029?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *