Tag Archives: Husband Wife Urdu Novel
Dil Ka Makeen Novel21059 — Novelistan
نورالعین کروڑوں کی جائیداد کی مالک تھی، مگر اپنے ہی گھر میں اس کی حیثیت ملازماؤں سے بھی بدتر تھی۔ اس کا شوہر شادی کی پہلی رات اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اور ساس اس سے ہر طرح کے کام کرواتی تھی۔ ایک دن وہ بھوکے پیٹ تپتی دھوپ میں کپڑے دھو رہی تھی کہ اس کا شوہر ایک دوسری لڑکی کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ نورالعین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس مرتبہ اس نے خاموش رہنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ دیر بعد ایک وکیل نے گھر والوں کو دو گھنٹے میں گھر خالی کرنے کی تنبیہ کی۔ سب نے حیرت سے وکیل کے پیچھے کھڑی نورالعین کو دیکھا۔
Teri Deed Novel21051 — Novelistan
علمہ نے اپنی ازدواجی زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا تھا، مگر ایک صبح شہناز بیگم کے مسلسل طعنوں نے اس کا ضبط توڑ دیا۔ رات بھر جسمانی تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد وہ دیر سے اٹھی تو ساس نے اسے سخت باتیں سنائیں۔ علمہ نے اپنی صفائی پیش کی، لیکن معاملہ جہانزیب تک پہنچ گیا۔ اس نے سب کے سامنے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ وہ اس کی ماں سے معافی مانگے، ورنہ اس کی زندگی سے نکل جائے۔ علمہ نے بے بسی میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی، مگر اس کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ بعد میں جب جہانزیب کو علمہ کا خط ملا تو اس میں اپنے بچے کا ذکر اور شوہر کے لیے ایک تکلیف دہ پیغام موجود تھا۔
Ni Main Kamli Haan Novel21054 — Novelistan
شادی کی پہلی رات پارو دلہن کے لباس میں خاموش بیٹھی تھی۔ رات کے تین بج چکے تھے، مگر ملک آخر میر حیات کے لہجے میں اس کے لیے محبت یا اپنائیت کا کوئی احساس نہیں تھا۔ اس کے طنزیہ الفاظ پارو کے دل کو زخمی کر رہے تھے۔ وہ بھی جواب دینا جانتی تھی، لیکن ہر بار زبان پر آنے والے تلخ الفاظ کے سامنے اس کی ماں کی نصیحت اور مرحوم والد کی عزت آ کھڑی ہوتی۔ وہ اپنے جذبات کو دبا کر خاموش رہ گئی۔ دوسری طرف اس کا شوہر بے نیازی سے سگریٹ پیتا رہا اور پھر اسے صوفے پر جانے کا کہہ دیا۔ آخر اس رشتے کی ابتدا ہی اتنی تلخ کیوں تھی؟ کیا پارو اپنی خودداری اور خاندان کی عزت کے درمیان کوئی راستہ نکال سکے گی؟
Ishq e Mashroot Novel21029
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Meri Zindagi Novel21022
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Sahm e Ishq by Raqs E Bismil Novel21021
جس رشتے کو ضرغام ایک مجبوری سمجھ کر ختم کرنے کا وعدہ کر چکا تھا، آج اسی رشتے کے ٹوٹنے کا خیال اسے بے چین کر رہا تھا۔ روحا اس حقیقت سے بے خبر تھی کہ طلاق مانگتے مانگتے وہ انجانے میں ضرغام کے دل کا وہ دروازہ کھول چکی تھی۔۔۔ جسے خود ضرغام نے بھی کبھی کھول کر نہیں دیکھا تھا۔
Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
ایک ماں کی زندگی بچانے کی خاطر میرب نے حسام وجدان کی وہ شرط قبول کر لی تھی جس نے اس کی اپنی زندگی کا رخ بدل دیا۔ حسام کے لیے یہ شادی شاید ایک معاہدہ تھی، مگر وقت نے اس سفاک اور مغرور شخص کو اسی رشتے کے سامنے بےبس لا کھڑا کیا۔ ہسپتال کی سرد راہداری میں آج نہ اس کی دولت کام آ رہی تھی، نہ طاقت اور نہ ہی اس کا غرور۔ ایک طرف میرب کی زندگی خطرے میں تھی اور دوسری جانب تین ننھی جانوں کی سانسیں۔ جس شخص نے کبھی میرب کی مجبوری کی پروا نہیں کی تھی، آج وہی اس کی ایک سانس کے لیے دعا مانگ رہا تھا۔ مگر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کے پیچھے تقدیر نے ان سب کے لیے کیا فیصلہ کر رکھا تھا؟