Meri Zindagi Novel21022

Romantic Urdu Novelcom | Comedy | After Marriage | Husband Wife | Funny Romance | Nok Jhok | Family Drama | Married Life | Cute Couple | Family Comedy | Lighthearted Romance | Contemporary Urdu Novel

Meri Zindagi Abhi Baqi Hai After Marriage Romantic Urdu Novel

Meri Zindagi Abhi Baqi Hai aik funny romantic Urdu novel hai jisme Ibrahim aur Eshal ki married life aur nok jhok ki dilchasp kahani hai.

بات سنو ابراہیم ہم پورے 12 بچے پیدا کریں گے۔ وہ بتیس دانتوں کی نمائش کرتی اسے حیران کر گئی تھی۔ ابراہیم کو پانی پیتے اچانک ہی اچھو لگا تھا۔ ابراہیم اس کے اوپر سے نیچے نازک وجود کو دیکھتے مسکرایا تھا۔ ہمت ہے تم میں اتنی؟ وہ اسے کمر سے کھینچتا اپنے قریب کر گیا تھا۔ ایشل اچانک افتاد پہ بری طرح بھوکلائی تھی۔ اوئے گندے آدمی بیڈ ٹچ نہیں کرو وہ اسکے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ دھکہ دیتی اسے خود سے دور کر گئی تھی۔ بیٹا جی دکھتی کمزور ہوں لیکن میں بہت کھاتی ہوں۔ دیکھنا ہر ہفتے ایک بچہ پیدا کر لوں گی۔۔ وہ اس کے سامنے چٹکی بجاتی اسے حیران کر گئی تھی۔ وہ اس کی اس بچکانہ بات پر پیٹ پکڑ پکڑ کے ہنستا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . .
“بات سنو ابراہیم! فیصلہ ہو چکا ہے، اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں، تمہیں میرے اس منصوبے پر دستخط کرنے ہی ہوں گے ورنہ میں بھوک ہڑتال کر دوں گی۔” رات کے پچھلے پہر کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اور بیڈ لیمپ کی مدہم روشنی میں ایشل کسی بھیانک سائے کی طرح ابراہیم کے سر پر سوار تھی، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ لہرایا جا رہا تھا اور لہجہ ایسا تھا جیسے کسی جنگ کا اعلان کر رہی ہو، ابراہیم جو گہری نیند میں تھا اس اچانک افتاد پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور خوفزدہ نظروں سے اپنی نئی نویلی دلہن کو دیکھنے لگا جس کے ساتھ ابھی شادی کو مشکل سے چھ ماہ ہوئے تھے مگر ان چھ مہینوں میں ابراہیم کو لگنے لگا تھا کہ وہ کسی پری سے نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی آفت سے بیاہا گیا ہے۔ “کیا ہوا ایشل؟ خیریت تو ہے؟ اور یہ رات کے دو بجے کون سا منصوبہ بن گیا ہے جس پر دستخط کروانے کے لیے تم نے میری نیند حرام کر دی؟” ابراہیم نے اپنی بوجھل آنکھیں ملتے ہوئے پاس پڑے جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور ابھی لبوں سے لگایا ہی تھا کہ ایشل نے بیڈ پر آلتی پالتی مارتے ہوئے وہ بم پھوڑا جس کی ٹک ٹک اسے شاید شادی کے پہلے دن سے سنائی دینی چاہیے تھی۔ “دیکھو ابراہیم! ہم پورے بارہ بچے پیدا کریں گے، یہ لسٹ ہے ان کے ناموں کی، پہلا چنو، دوسرا منو، تیسری ٹینو اور بارہویں کا نام گلو ہوگا، میں نے سب سوچ لیا ہے۔” ایشل نے بتیس دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اتنے فخر سے کہا جیسے اس نے کشمیر فتح کر لیا ہو، ابراہیم کے حلق میں پانی بری طرح پھنسا اور اسے شدید قسم کا ‘اچھو’ لگا، وہ کھانستے ہوئے اور اپنی چھاتی پیٹتے ہوئے حیرت اور صدمے کی ملی جلی کیفیت میں ایشل کو دیکھنے لگا جو اب بڑی معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی، اٹھائیس سالہ ابراہیم جو اپنے خاندان کا سب سے سمجھدار اور سنجیدہ سپوت مانا جاتا تھا اور جس کی شرافت کی قسمیں پورا محلہ کھاتا تھا آج اپنی اکیس سالہ شریر بیوی کے ہاتھوں بے بس دکھائی دے رہا تھا۔ “میری توبہ ہے۔۔۔ ایشل تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ یہ گھر ہے یا کرکٹ ٹیم کا کیمپ؟ اور بارہ بچے؟ تم بیوی ہو یا فوٹو اسٹیٹ کی مشین؟” ابراہیم نے بمشکل اپنی سانس بحال کرتے ہوئے ہاتھ جوڑے، مگر ایشل کہاں سننے والی تھی، وہ تو اپنی دھن کی پکی تھی، اس نے فوراً منہ بسورا اور ناک چڑھا کر بولی “دیکھو ابراہیم! میری صحت پر مت جاؤ، بیٹا جی دکھتی کمزور ہوں لیکن میں کھاتی بہت ہوں، دیکھنا ہر ہفتے ایک بچہ پیدا کر لوں گی، تم بس اس کاغذ پر دستخط کرو کہ تم بچوں کے پیمپر تبدیل کرنے میں میری مدد کرو گے۔” ابراہیم کو اس کی نادانی پر بے اختیار ہنسی آئی، وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب سرکا اور اسے بازو سے پکڑ کر سمجھانا چاہا “اچھا بابا مان گیا، لیکن پہلے سو تو جاؤ، صبح بات کریں گے اس لشکر کے بارے میں۔” جیسے ہی ابراہیم نے اسے چھوا، ایشل نے ایک دم جھٹکا کھایا اور پیچھے ہٹ گئی “اوئے گندے آدمی! غلط ہاتھ مت لگاؤ، خبردار جو مجھے چھوا، ابھی تو معاہدہ طے نہیں ہوا اور تم فری ہو رہے ہو۔” اس نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے اور ابراہیم کو دھکا دیا، ابراہیم جو اس کے عشق میں پہلے ہی گرفتار تھا اس کی اس ادا پر پیٹ پکڑ کر ہنسنے پر مجبور ہو گیا اور سوچنے لگا کہ جمال صاحب اور بیگم سلمیٰ نے بھی کیا ہیرا بہو تلاش کی ہے جس کے ہوتے ہوئے گھر میں ٹی وی چلانے کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی۔ خیر رات تو اسی نوک جھونک میں گزر گئی لیکن اگلی صبح کا سورج ایک نئے ہنگامے کے ساتھ طلوع ہوا، ناشتہ کی میز پر بیگم سلمیٰ اور جمال صاحب اپنے اخبار اور چائے میں مگن تھے جبکہ چھوٹا دیور احسن اپنی گاڑی کی چابیاں گھماتا ہوا کچن میں داخل ہوا جہاں ایشل ناشتہ بنانے کی ایک ناکام کوشش کر رہی تھی۔ “بھابھی! آج ناشتے میں کیا ہے؟ امید ہے کوئلہ نہیں ہوگا؟” احسن نے شرارت سے پوچھا تو ایشل نے اسے گھور کر دیکھا اور توے سے ایک سیاہ رنگ کی روٹی نما چیز اتار کر پلیٹ میں پٹخی۔ “یہ کیا ہے ایشل بیٹی؟” بیگم سلمیٰ نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا “یہ پراٹھا ہے یا کالا پتھر؟” ایشل نے فوراً ابراہیم کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی تیار ہو کر کرسی پر بیٹھ رہا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے مدد کا اشارہ کیا “امی جان! یہ دراصل۔۔۔ افریقہ کا مشہور ‘شاہی پراٹھا’ ہے، ابراہیم کو بہت پسند ہے، کیوں ہے نا ابراہیم؟” ابراہیم نے جلی ہوئی روٹی کو دیکھا اور پھر اپنی ماں کے سامنے مسکراتے ہوئے جھوٹ بولنے پر مجبور ہو گیا “جی امی! مجھے تو بچپن سے ہی جلی ہوئی۔۔۔ میرا مطلب ہے کڑک چیزیں پسند تھیں، لائیں ادھر دیں میری پلیٹ میں۔” ابراہیم نے وہ کڑوا نوالہ منہ میں رکھا تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا، بیگم سلمیٰ نے ماتھے پر ہاتھ مارا “ہائے میرا بچہ! محبت میں زہر بھی کھا لے گا لیکن بیوی کی برائی نہیں کرے گا، یہ ہوتی ہے محبت۔” احسن نے میز کے نیچے ابراہیم کو کہنی ماری اور دھیرے سے بولا “بھائی! انشورنس کروا لیں، بھابھی کے ہاتھ کا کھانا آپ کو ہسپتال پہنچا سکتا ہے۔” سب ہنسنے لگے اور گھر کا ماحول خوشگوار ہو گیا، لیکن یہ خوشگوار ماحول زیادہ دیر نہیں رہنا تھا کیونکہ جیسے ہی ابراہیم آفس جانے کے لیے اٹھا اور اپنا کوٹ پہننے لگا تو اس کی جیب سے ایک گلابی رنگ کی پرچی نکل کر فرش پر گری، ایشل جو اسے الوداع کرنے کے لیے قریب کھڑی تھی اس کی نظر فوراً اس پرچی پر پڑی، اس نے جھک کر وہ کاغذ اٹھایا جس پر ایک ہی جملہ لکھا تھا ‘شام پانچ بجے ملنا۔۔۔ پنکی’۔ ایشل کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں، اس نے ابراہیم کو دیکھا جو بے خبر جوتے پہن رہا تھا، شک کا ایک بیج اس کے دل میں بویا جا چکا تھا، “تو یہ ماجرا ہے، بارہ بچے مجھ سے اور شامیں پنکی کے ساتھ؟” ایشل نے مٹھی بھینچی اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ آج وہ اس ‘پنکی’ کا سراغ لگا کر رہے گی چاہے اس کے لیے اسے جاسوس ہی کیوں نہ بننا پڑے۔
“ایشل نے وہ گلابی پرچی مٹھی میں دبوچ رکھی تھی اور اس کا چہرہ غصے سے تمتمایا ہوا تھا، اس نے فوراً احسن کو باورچی خانے میں طلب کیا اور رازداری سے کھسر پھسر شروع کر دی جیسے وہ گھر میں نہیں بلکہ کسی خفیہ مشن پر سرحد پار بیٹھے ہوں، “احسن! تمہارا بھائی دغا باز نکلا، یہ دیکھو ثبوت، آج شام پانچ بجے وہ اس ‘پنکی’ سے ملنے جا رہے ہیں اور میں یہاں روٹیاں پکا رہی ہوں؟” ایشل نے جذباتی ہوتے ہوئے پرچی احسن کی آنکھوں کے بالکل قریب کر دی، احسن نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی اور بڑی سنجیدگی سے پرچی کا جائزہ لیا، “بھابھی! بھائی تو اتنے سیدھے ہیں کہ سیدھے راستے پر بھی پوچھ پوچھ کر چلتے ہیں، یہ پنکی ضرور کوئی غلط فہمی ہے، ہو سکتا ہے کسی مؤکل کا نام ہو؟” احسن نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی مگر ایشل کا پارہ چڑھ چکا تھا، “تم مرد سب ایک جیسے ہوتے ہو، ایک دوسرے کی پردہ پوشی کر رہے ہو؟ خبردار احسن! اگر تم نے میرا ساتھ نہ دیا تو میں تمہاری ہونے والی منگیتر کو بتا دوں گی کہ تم سوتے میں خراٹے لیتے ہو، اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔” احسن بیچارہ اس دھمکی پر فوراً ہتھیار ڈال گیا اور اپنی فرضی جاسوسی کی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے بولا “ٹھیک ہے بھابھی! میں تیار ہوں، آج ہم اس پنکی کا سراغ لگا کر ہی دم لیں گے، آپ گاڑی میں بیٹھیں میں چابی لاتا ہوں۔” کچھ ہی دیر بعد دونوں دیور بھابھی ابراہیم کی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے، ایشل نے اپنے ہاتھوں میں باورچی خانے سے اٹھایا ہوا بیلن مضبوطی سے تھام رکھا تھا جیسے وہ کسی میدانِ جنگ میں اترنے والی ہو، “بھابھی! یہ بیلن کیوں ساتھ لائی ہیں؟ کیا ہم وہاں روٹیاں پکانے جا رہے ہیں؟” احسن نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا تو ایشل نے اسے گھور کر دیکھا “نہیں! یہ اس پنکی کی مرمت کے لیے ہے، آج میں اس کی چٹنی بنا دوں گی تاکہ اسے یاد رہے کہ کس کے شوہر پر نظر ڈالی ہے۔” احسن نے خوفزدہ ہو کر تھوک نگلا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی، آگے ابراہیم کی گاڑی ایک بڑے بازار کے سامنے رکی، وہ دونوں بھی کچھ فاصلے پر چھپ گئے، ابراہیم گاڑی سے اترا اور ایک دکان میں داخل ہو گیا، “کھلونوں کی دکان؟” ایشل نے دکان کا بورڈ پڑھا اور اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا “کیا پنکی کوئی بچی ہے؟ ہائے اللہ! ابراہیم تو بہت بڑا دھوکے باز نکلا، کیا اس کی پہلے سے شادی ہو چکی ہے؟” ایشل کے دماغ میں وسوسوں نے طوفان برپا کر دیا، ابھی وہ دونوں قیاس آرائیاں ہی کر رہے تھے کہ ابراہیم دکان سے باہر نکلا، اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی خوبصورت گڑیا تھی جو گلابی ڈبے میں پیک تھی، وہ مطمئن انداز میں واپس گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا، ایشل اور احسن ایک دوسرے کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے اور فوراً گاڑی پیچھے موڑ لی، جب وہ گھر پہنچے تو دیکھا کہ ابراہیم ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا اور اس کی چھوٹی بھانجی ‘زویہ’ جو آج ہی اپنی امی کے ساتھ مہمان آئی تھی خوشی سے تالیاں بجا رہی تھی، “یہ لو بیٹا! تمہاری فرمائش پر تمہاری ‘پنکی’ گڑیا آ گئی ہے، اب خوش ہو؟” ابراہیم نے مسکراتے ہوئے وہ گڑیا زویہ کی گود میں رکھی، زویہ نے چہکتے ہوئے ماموں کے گال پر پیار کیا “شکریہ ماموں! آپ دنیا کے سب سے اچھے ماموں ہیں۔” دروازے کے پیچھے چھپے ایشل اور احسن کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ایشل کا بیلن ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا تو دھڑام کی آواز آئی، ابراہیم نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں اس کی بیوی اور بھائی چوروں کی طرح کھڑے تھے، “ارے! تم دونوں کہاں سے آ رہے ہو؟ اور ایشل یہ بیلن ڈرائنگ روم میں کیا کر رہا ہے؟ کیا تم زویہ کے لیے پراٹھے بنانے لگی تھیں؟” ابراہیم نے معصومیت سے پوچھا، ایشل شرمندگی سے زمین میں گڑ گئی اور احسن نے کھانستے ہوئے بات بنائی “جی بھائی! وہ بھابھی چیک کر رہی تھیں کہ لکڑی مضبوط ہے یا نہیں، ہم بس۔۔۔ وہ۔۔۔ ہوا خوری کرنے گئے تھے۔” ایشل نے بمشکل نظریں اٹھا کر ابراہیم کو دیکھا جو زویہ کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھا، اس کے دل سے ایک بوجھ اتر گیا تھا مگر اب اسے اپنی حرکت پر شدید شرمندگی ہو رہی تھی کہ اس نے اپنے فرشتہ صفت شوہر پر شک کیا، وہ دھیرے سے آگے بڑھی اور ابراہیم کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی، “ابراہیم! آپ بہت اچھے ہیں،” اس نے سرگوشی کی، ابراہیم نے اسے شرارت سے دیکھا “اچھا؟ تو وہ بیلن کس کے لیے تھا؟ کہیں میرے سر پر تو نہیں توڑنا تھا؟” ایشل نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس کا شک غلط نکلا، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ یہ تو محض شروعات تھی اور بارہ بچوں کا خواب دیکھنے والی کے لیے ابھی اور بھی کئی امتحان باقی تھے۔
“پچھلی رات کی بارش نے موسم میں خنکی پیدا کر دی تھی اور شاید اسی ٹھنڈک کا اثر تھا کہ صبح سویرے ابراہیم لحاف میں لپٹا ہوا تھر تھر کانپ رہا تھا، ایشل کی آنکھ کھلی تو اسے محسوس ہوا جیسے بیڈ پر زلزلہ آ گیا ہے، اس نے گھبرا کر ابراہیم کو ہلایا “ابراہیم! کیا ہوا؟ زلزلہ آ رہا ہے یا آپ ڈانس کر رہے ہیں؟” ابراہیم نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا “ایشل! مجھے بہت سردی لگ رہی ہے، شاید بخار ہے،” ایشل نے فوراً اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھا اور پھر جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی جیسے کسی گرم توے کو چھو لیا ہو، “ہائے اللہ! تم تو بھٹی کی طرح تپ رہے ہو، رکو میں ابھی ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں،” وہ بیڈ سے اترنے لگی تو ابراہیم نے کمزور ہاتھ سے اسے روکا “نہیں، بس کوئی دوا دے دو اور مجھے آرام کرنے دو،” یہ سننا تھا کہ ایشل کے اندر کا خاندانی حکیم جاگ اٹھا،

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Skip to PDF content

Description

میری زندگی ابھی باقی ہے ابراہیم اور ایشل کی دلچسپ، مزاحیہ اور رومانوی ازدواجی زندگی پر مبنی ایک ہلکا پھلکا اردو ناول ہے۔ شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے ہیں، مگر سنجیدہ مزاج ابراہیم کو اپنی انتہائی شرارتی اور بچکانہ حرکتوں والی بیوی کے ساتھ ہر روز ایک نئی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایشل کبھی رات کے دو بجے ابراہیم کو جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ اس کے سامنے رکھ دیتی ہے اور باقاعدہ اس سے معاہدے پر دستخط کروانے بیٹھ جاتی ہے، تو کبھی اپنی معصوم منطق اور دلچسپ حرکتوں سے پورے گھر کو ہنسا دیتی ہے۔ دوسری جانب ابراہیم اس کی حرکتوں سے پریشان ہونے کے باوجود اس سے بےحد محبت کرتا ہے۔ Pasted text.txtTXT

ان کی شادی شدہ زندگی میں اصل ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب ایشل کو ابراہیم کی جیب سے ایک پراسرار گلابی پرچی ملتی ہے جس پر شام پانچ بجے “پنکی” سے ملنے کا ذکر ہوتا ہے۔ شوہر پر شک کرتے ہوئے وہ احسن کو بھی اپنے جاسوسی مشن میں شامل کر لیتی ہے، مگر بعد میں حقیقت سامنے آتی ہے کہ پنکی کسی لڑکی کا نہیں بلکہ ابراہیم کی بھانجی زویہ کی گڑیا کا نام ہے۔ Pasted text.txtTXT

میاں بیوی کی نوک جھونک، دلچسپ غلط فہمیاں، خاندانی شرارتیں اور ابراہیم و ایشل کے درمیان موجود محبت اس کہانی کو ایک مزاحیہ رومانوی رنگ دیتی ہے۔

Summary

میری زندگی ابھی باقی ہے ابراہیم اور ایشل کی شادی شدہ زندگی کی ایک مزاحیہ اور رومانوی کہانی ہے۔ اٹھائیس سالہ ابراہیم اپنے خاندان کا سنجیدہ اور سمجھدار فرد ہے، جبکہ اکیس سالہ ایشل اپنی شرارتوں اور بچکانہ باتوں سے اس کی پرسکون زندگی کو مسلسل ہنگاموں سے بھرے رکھتی ہے۔ Pasted text.txtTXT

ایشل کا بارہ بچوں کا منصوبہ ہو، اس کی ناکام کوکنگ ہو یا شوہر کی جیب سے ملنے والی ایک معمولی پرچی کو افیئر کا ثبوت سمجھ لینا، اس کی ہر نئی حرکت ابراہیم کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتی ہے۔

لیکن اس تمام نوک جھونک کے درمیان ابراہیم کی اپنی بیوی کے لیے محبت نمایاں رہتی ہے۔ یہی محبت، مزاح اور روزمرہ ازدواجی زندگی کے دلچسپ واقعات اس کہانی کو ایک ہلکے پھلکے رومانوی ناول کا انداز دیتے ہیں۔

 

Meri Zindagi Abhi Baqi Hai, Meri Zindagi Abhi Baqi Hai Novel, Meri Zindagi Abhi Baqi Hai Urdu Novel, Meri Zindagi Abhi Baqi Hai Complete Novel, Ibrahim Eshal Novel, Ibrahim Eshal Love Story, Funny Romantic Urdu Novel, Comedy Based Urdu Novel, After Marriage Urdu Novel, Husband Wife Urdu Novel, Husband Wife Nok Jhok Novel, Funny Husband Wife Novel, Cute Couple Urdu Novel, Married Life Urdu Novel, Family Comedy Urdu Novel, Lighthearted Romantic Urdu Novel, Family Based Urdu Novel, Pakistani Romantic Novel, Complete Urdu Novel, Read Urdu Novels Online

#MeriZindagiAbhiBaqiHai #FunnyUrduNovel #RomanticComedy #AfterMarriage #HusbandWife #NokJhok #FunnyRomance #CuteCouple #FamilyComedy #MarriedLife #RomanticUrduNovel #UrduNovel #PakistaniNovels #Novelistan

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *