Tag Archives: Read Urdu Novels Online
Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan
انابیہ نے اپنی زندگی کے تمام خواب حسن کے ساتھ وابستہ کیے تھے، مگر ایک دن وہی شخص دوسری عورت سے نکاح کرکے گھر آ گیا۔ شوہر کی بےوفائی نے اس کے اعتماد اور محبت کو بری طرح توڑ دیا۔ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے التجائیں کرتی رہی، لیکن حسن نے اسے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کر دیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ماں کے گھر لوٹنے والی انابیہ نے عدت کے بعد خود کو سنبھالا اور ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ قسمت اسے منہاج عالم کی کمپنی میں لے آئی، جہاں اس کا سابق شوہر بھی کام کرتا تھا۔ منہاج عالم پہلی ملاقات ہی میں اس کی شخصیت سے متاثر ہوا، مگر انابیہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی نئی زندگی کی یہ شروعات ایک اور غیرمتوقع رشتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیا وہ اپنے ماضی سے آزاد ہو پائے گی، یا محبت اور مجبوری ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی کو مشکل بنا دیں گے؟
Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan
شوہر کی وفات کے بعد امرا کی پوری دنیا اس کے ننھے بیٹے حمزہ تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنی زندگی میں کسی نئے رشتے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن حمزہ کو سڑک پر حادثے سے بچاتے ہوئے اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوئی۔ امرا کے لیے یہ محض ایک خوفناک لمحہ تھا، لیکن شجاع کے دل میں اسی ملاقات نے ایک ایسی خواہش پیدا کر دی جسے وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتا تھا۔ جب امرا کے سسرال والوں نے اس کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تو شجاع نے ان کی کمزوری، یعنی دولت کی محبت، کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اب امرا کی زندگی کا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں کیا جا رہا تھا۔ کیا وہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی کو روک سکے گی، یا اسے ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا جو انکار سننے کا عادی ہی نہیں؟
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
روحا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کر دیا جائے گا۔ جس حویلی میں اسے محبت اور اپنائیت کے بجائے سخت رویوں اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہیں اس کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ امن خانزادہ نے رخصتی بھی اسی دن کرنے کی شرط رکھ دی تھی، اور کسی نے روحا کے دل میں موجود خوف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے نکاح کے دن بھی وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے تھکن سے نڈھال تھی، جبکہ امن اس کے لیے قیمتی سرخ عروسی لباس خرید رہا تھا۔ جب وہ دلہن بن کر سامنے آئی تو امن کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں، مگر روحا کا دل اب بھی انجانے خدشات سے لرز رہا تھا۔ کیا یہ نیا رشتہ اسے حویلی کے ظلم سے نجات دلائے گا یا اس کی زندگی ایک اور مشکل امتحان میں داخل ہونے والی تھی؟
Maafi By Eesha Hussain Novel21032 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Taam e Ishq Novel21031 — Novelistan
ایک طرف کامیابی، دولت اور اپنے اصولوں پر غرور کرنے والا مرتضیٰ خاندادہ تھا، جس کے عالیشان ہوٹل میں صرف تجربہ کار لوگوں کو جگہ ملتی تھی۔ دوسری طرف ہادیہ خان تھی، ایک باحجاب لڑکی جس کے پاس کسی بڑے ہوٹل کا تجربہ تو نہیں تھا، مگر اپنے ہنر پر بھرپور اعتماد ضرور تھا۔ ملازمت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ہادیہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پھر ایک غیر متوقع موقع نے اسے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا راستہ دے دیا۔ صرف آدھے گھنٹے میں تیار کیے گئے گلاب جامن مرتضیٰ کے سامنے رکھے گئے تو وہ ان کا ذائقہ چکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ کیا یہ معمولی سا موقع ہادیہ کے لیے کامیابی کا دروازہ کھولنے والا تھا؟ اور کیا اپنے سخت اصولوں پر قائم مرتضیٰ خاندادہ اس لڑکی کی صلاحیت کو تسلیم کر سکے گا؟
Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
Ishq e Mashroot Novel21029
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Meri Zindagi Novel21022
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟