Farda e Roshan Urdu novel cover
375.4kViews
#1241Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan

By Novelistan

Rate this novel

شوہر کی وفات کے بعد امرا کی پوری دنیا اس کے ننھے بیٹے حمزہ تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنی زندگی میں کسی نئے رشتے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن حمزہ کو سڑک پر حادثے سے بچاتے ہوئے اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوئی۔ امرا کے لیے یہ محض ایک خوفناک لمحہ تھا، لیکن شجاع کے دل میں اسی ملاقات نے ایک ایسی خواہش پیدا کر دی جسے وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتا تھا۔ جب امرا کے سسرال والوں نے اس کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تو شجاع نے ان کی کمزوری، یعنی دولت کی محبت، کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اب امرا کی زندگی کا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں کیا جا رہا تھا۔ کیا وہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی کو روک سکے گی، یا اسے ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا جو انکار سننے کا عادی ہی نہیں؟

Sneak

اس معصوم بیوہ کا نکاح شجاع حیدر سے طے ہوا اس بات سے بے خبر کی شجاع حیدر ہی وہ شخص ہے جس نے۔۔۔
"وہ لڑکی بیوہ ہے سر۔۔۔وہ آپ سے شادی پر کسی صورت رضامند نہیں ہوگی۔اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی۔" اپنے سیکرٹری کے کہنے پر وہ نفی میں سر ہلانے لگا۔" اس کے سسرال والے بہت لالچی ہیں۔آفر کرو۔ خود اپنی بہو کی شادی مجھ سے کریں گے۔"شجاع حیدر کی بات پر سیکرٹری سر ہلاتا باہر نکل گیا۔اور اس کی توقع کے عین مطابق اس بیوہ لڑکی کے سسرال والے رشتے کے لیے ہاں کر چکے تھے ۔شجاع حیدر گہرا مسکرایا ۔"پر سر وہ لڑکی رضامند نہیں ہے۔ زبردستی کر رہے ہیں وہ لوگ۔۔۔" سیکرٹری نے پریشانی سے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔"مجھے فرق نہیں پڑتا۔"وہ بیزارگی سے بولا۔ دو دن بعد ہی اس معصوم لڑکی کا نکاح شجاع حیدر سے طے ہوا اس بات سے بے خبر کی شجاع حیدر ہی وہ شخص ہے جس نے۔۔۔
"حمزہ کہاں ہے؟" اس نے اپنی ساس سے پوچھا۔
​"مجھے کیا پتہ، ہو گی باہر گیلری کی طرف، دیکھ لو،" ساس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔ امرا نے افسوس سے اپنی ساس کو دیکھا اور حمزہ کو پکارتی ہوئی گیلری میں آئی۔
​حمزہ کو ادھر ادھر دیکھا، پر حمزہ اسے کہیں نہ ملا۔ جب اس کی نگاہ مین ڈور کے باہر پڑی، تو وہ سڑک پر چل رہا تھا۔ فوراّ وہ نیچے اتری اور تیزی سے باہر کی سمت بھاگ گئی۔ وہ اس لمحے اسے دوسری جانب سے گاڑیاں آتی نظر آئیں۔ جان حلق میں آئی تھی!
​"حمزہ!" اس نے پکارا۔ حمزہ، جو آگے بڑھ رہا تھا، اپنی ماں کو دیکھ کر واپس پلٹ کر اس کی طرف آنے لگا، اور اسی لمحے دونوں طرف سے گاڑیاں آنے لگیں۔
​امرا کو لگا اس کی جان نکل جائے گی۔ وہ اندھا دھند گاڑی کی طرف بھاگی۔ بھاگتے ہوئے چپل بھی پاؤں سے اٹک کر نکل گئی۔ اس سے پہلے کہ گاڑی حمزہ کو چھوتی، وہ حمزہ تک پہنچ کر اسے خود میں بھینچ چکی تھی۔ زور سے آنکھیں میچ چکی تھی، پاؤں مڑنے کے باعث زمین پر گری تھی۔ گاڑی اس کے بالکل منہ کے قریب آ کر رکی تھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
​گاڑی کا دروازہ کھلا اور اندر سے مضبوط قدم اٹھاتا ایک نوجوان باہر نکلا، پیچھے سے دو گارڈ بھی باہر آئے۔ اس شخص کی نگاہ امرا پر پڑی۔ ریشم سے ریشمی بال، جو اس کے گرنے کے باعث سڑک پر بکھر گئے تھے۔ وہ جو کوئی بھی تھی، اپنے بچے کو اپنے اندر بھینچے ہوئے تھی، صرف اس کے بال تھے جو چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔
​شجاع حیدر مبہوس اس کے ریشم سے بالوں کو دیکھے گیا تھا۔ "آپ ٹھیک ہیں؟" شجاع حیدر نے سنجیدگی سے پوچھا۔ پھر وہ اس لڑکی کی جانب بڑھا، پر وہ زور سے آنکھیں میٹھی ہوئی تھی، اس کے چہرے پر خوف کی سرخی تھی۔ شجاع حیدر کو لگا وقت ٹھہر سا گیا ہے، وہ بے ساختہ اس لڑکی کو دیکھے گیا۔
​"مما!" حمزہ کے پکارنے پر امرا ہوش میں لوٹی۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، حمزہ کو صحیح سلامت دیکھ اس کے چہرے کو چھو کر ٹٹولنے لگی کہ کہیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی۔ اس کی آنکھوں میں جو آنسو بھرے تھے، وہ آہستگی سے پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پہ لڑھک گئے۔
​"کتنی بار منع کیا تھا باہر نہیں نکلنا! اب باہر کیوں نکلے؟ مما کی بات نہیں مانتے آپ؟ اب بالکل اچھے بیٹے نہیں ہو!" وہ روتے ہوئے بولی۔
​حمزہ گھبرا کر امرا کے آنسو پونچھنے لگا۔ "نہیں مما، دادو نے اجازت دی تھی!"
​اپنے بیٹے کی بات پر امرا نے اسے سینے سے لگا لیا۔ پھر وہ کھڑی ہوئی، اس کی نگاہ شجاع حیدر پر پڑی۔ "آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں لگی؟" شجاع حیدر نے پریشانی سے پوچھا۔
​امرا نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کا شکریہ ادا کرے یا پھر اس پر غصہ کرے۔ اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی، اپنے ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا، اور یہ بات سامنے کھڑے شجاع حیدر نے بھی نوٹ کی تھی—اس کی ٹانگیں ہلکی ہلکی کانپ رہی تھیں۔
​"چلو گھر!" اس نے حمزہ کا ہاتھ پکڑا اور حمزہ کو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے گھر کے اندر لے گئی۔
​شجاع حیدر کی نظروں نے دور تک اسے دیکھا، جب تک وہ جالی دار لوہے کے گیٹ سے نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔
​"سر, چلیں؟" گارڈ کے پکارنے پر وہ ہوش میں لوٹا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک مرتبہ پھر گاڑی میں بیٹھا۔ گاڑی آگے بڑھاتے اس کی مسکراتی نگاہیں اس گھر پر ٹکی رہیں۔ وہ اسی سوسائٹی میں بنگلہ خریدنے کے لیے آیا تھا۔
​ڈیل فائنل کرنے کے بعد جب اس سائیڈ سے نکلنے لگا، تب بھی اس کی نگاہ اس بنگلے پر ٹھہری۔ اسے اوپر بالکونی میں ایک لڑکی آسمان کو گھورتی کھڑی نظر آئی۔ اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی تھی کہ یہ وہی لڑکی تھی، جس کو آج اس نے نظر بھر کر دیکھا تھا—وہ پہلی لڑکی، جس نے پہلی نظر میں شجاع حیدر کے دل کے دروازے پر بری طرح دستک دی تھی۔
​پہلے کبھی اور کا اس کا دل یوں نہیں کیا تھا کہ وہ کسی کو دیکھے اور دیکھے جائے۔ پھر اس کے ذہن میں وہ معصوم بچہ آیا جو اس کو ماما کہہ رہا تھا۔ شجاع حیدر مسکرایا۔
​اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا، ای میل کھولی۔ سامنے ہی امرا کی تصویر تھی۔ امرا کی تصویر کے ساتھ ہارون کی تصویر، اس کے بچوں کی تصویر، گویا امرا کی پوری ہسٹری تھی، پیدائش سے لے کر اب تک جو جو اس کے ساتھ ہوا تھا، وہ سب کچھ اس ڈیٹیل میں لکھا ہوا تھا۔
​وہ چند لمحے تصویر کو دیکھتا رہا، پھر گلا کھنگارتے لیپ ٹاپ بند کیا۔ فون اٹھاتے کال ملائی۔ کچھ دیر بعد دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا۔
​"تم میری شادی کروانا چاہتی تھی نا؟" اس نے اپنی بہن سے کہا۔
​دوسری طرف اس کی بہن حیرت سے فون کو تکنے لگی۔ "شجاع حیدر، تم ہوش میں ہو؟ تم تو اینٹی شادی ہو، تمہیں تو شادی کے نام سے کوفت ہوتی ہے اور آج خود سے شادی کے متعلق بات کر رہے ہو؟ مذاق کر رہے ہو میرے ساتھ؟" بہن نے ناراضگی سے پوچھا۔
​"مذاق نہیں کر رہا، شادی کرنا چاہتا ہوں،" شجاع حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
​"اچھا ٹھیک ہے، یہ تو بہت بہت اچھی خبر ہے! اچھا ہوا تو میں کل آ گئی، میں آج ہی لڑکیاں تلاش کرنا شروع کرتی ہوں!" اس کی بہن خوشی سے کہتے فون کاٹنے لگی، جب شجاع حیدر کی بات پر ٹھہری۔
​"لڑکی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں لڑکی تلاش کر چکا ہوں اور مجھے بہت پسند ہے، بس تم شادی کی تیاری کرو۔"
​شجاع حیدر نے کہا، "اس کا مطلب تم لڑکی سے بات چیت بھی کر چکے ہو اور رشتہ بھی پکا کر چکے ہو؟ مجھے صرف فارمیلٹی کے طور پر بتا رہے ہو کہ میں شادی کی تیاری کروں؟"
​شجاع حیدر مسکرایا، "تم نے تو کہا تھا جس سے بھی شادی کرنی ہے کر لو، پر کر لو۔ اب جب لڑکی پسند کر لی تو میں اعتراض ہو رہا ہے؟ رہی بات لڑکی کی تو میں نے ابھی اس سے فی الحال شادی کے متعلق کوئی بات نہیں کی، لیکن وہ لڑکی بیوہ ہے، ڈائریکٹ رشتہ تم لے کر جاؤ گی تو مناسب نہیں لگے گا، پہلے میں جانچ پڑتال کرواؤں، اس کے بعد جب ان کی طرف سے رضامندی ہوگی، پھر تمہیں بھیجوں گا۔"
​جبکہ اس کی بہن تو لفظ "بیوہ" پر ٹھہر گئی تھی۔ "کیا ہو گیا ہے شجاع؟ شادی کے لیے رضامند بھی ہوئے تو ایک بیوہ سے؟" وہ واقعی حیران تھی۔
​"خالی بیوہ نہیں ہے، اس کا ایک چار پانچ سال کا بیٹا بھی ہے۔"
​"یہ ایک اور دھچکا! تو تم کسی اور کی اولاد کو اپنانے کے لیے بھی تیار ہو؟ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟" شجاع کی بہن نے حیرت اور صدمے سے کہا۔ "دنیا میں بہت ساری لڑکیاں پڑی ہیں، تمہیں صرف وہ ایک بیوہ لڑکی ہی ملی ہے شادی کرنے کے لیے؟"
​شجاع حیدر کے کہنے پر شجاع حیدر نے گہری سانس لی۔ "وہ میری پسند ہے، دیٹس اٹ! اب وہ شادی شدہ ہے، بیوہ ہے، طلاق یافتہ ہے یا کنواری ہے، مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تم میری شادی کروانا چاہتی ہو یا نہیں، اتنا بتاؤ۔"
​شجاع حیدر کے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھने پر اس نے گہری سانس لی۔ "ٹھیک ہے، تم بات کر لو، میں شادی کی تیاری شروع کرتی ہوں، پر اب مجھے مایوس مت کرنا، یہ مت کہہ دینا کہ اس بیوہ نے تم سے شادی کے لیے انکار کر دیا۔"
​اپنی بہن کی بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔ "فکر رہو، میں انکار کی مہلت نہیں دوں گا۔ تم جانتی تو ہو، ایک بار جس چیز پر میں ہاتھ رکھ دوں، پھر وہ میرے پاس آ کر رہتی ہے، میں اسے حاصل کر لیتا ہوں۔" وہ بہت یقین سے کہہ رہا تھا۔
​"ہاں جانتی ہوں، لیکن وہ چیز نہیں ہے، لڑکی ہے اور بیوہ ہے، بچے کی ماں ہے، اسے بھی ہزار ان سکیورٹیز ہوں گی۔ ممکن ہے انکار کر دے، پلیز تم زور زبردستی مت کرنا۔ شادی کے معاملے میں زور زبردستی نہیں ہوتی ہے، معاملہ دل کا ہے۔" اس کی بہن شجاع حیدر کو سمجھاتی رہی۔
​گاؤں کے سامنے تو وہ ریشم سے زلفیں، وہ آنکھیں، سرخ رخسار، سب کسی جادو کی طرح اس پر طاری ہو رہا تھا۔ "اف، جادو کی لڑکی ہو تم امرا! تم نے شجاع حیدر کے سکون کو لمحوں میں برباد کر دیا ہے۔ میں زیادہ وقت انتظار نہیں کر سکتا، تم شجاع حیدر کے لیے بنی ہو، تمہیں شجاع حیدر کے پاس ہونا چاہیے۔"
​وہ سکون سے کہتا سگریٹ سلگاتا بالکونی میں نکل آیا۔ اس نے ریلنگ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے، ایک کش کھینچا، اور پھر سگریٹ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس جلتی ہوئی روشنی کو دیکھنے لگا۔ جس طرح یہ سگریٹ سلگ رہی ہے، ویسے ہی تمہیں دیکھنے کے بعد شجاع حیدر کا دل سلگ رہا ہے، میری معصوم ہونے والی بیوی! شجاع حیدر گہرا مسکرایا۔
اگلے دن اس نے اپنے ایک آفس ایمپلائی کو اپنی کزن بنا کر رشتے کی بات کرنے امرا کے گھر بھیجا۔ اگر وہ یہ کام اپنی بہن سے کرواتا اور پھر اگر امرا کے گھر سے انکار آتا، تو وہ اپنی بہن کے سامنے امرا سے زور زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔
​شجاع حیدر کے رشتے کی بات کرنے وہ ایمپلائی صبح گئی تھی، اس وقت جس وقت امرا آفس ہوتی تھی۔
​"السلام علیکم انٹی!" وہ مسکرا کر امرا کی ساس کے سامنے بیٹھی۔
​امرا کی ساس سر تاپیر اس لڑکی کو دیکھنے لگی، رہن سہن سے وہ کسی امیر گھرانے کی لگ رہی تھی۔ ہونٹوں پر خود بخود مسکراہٹ آئی تھی۔ "آپ کون؟ میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟" انہوں نے اخلاق سے پوچھا۔
​"میں یہیں اسی سوسائٹی میں رہتی ہوں، مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی، تو پہلے میں نے سوچا امرا سے بات کروں، لیکن آپ گھر کی بڑی ہیں تو..." وہ تمہید باندھنے لگی۔ امرا کی ساس تجسس سے اسے دیکھنے لگیں۔ "کس متعلق بات کرنی ہے؟"
​سامنے بیٹھی لڑکی مسکرائی۔ "در اصل میں شجاع حیدر کی کزن ارہا ہوں۔ میں نے آپ کی بہو کو دیکھا تھا باہر اور اکثر بالکونی میں بھی دیکھا ہے، مجھے وہ اپنے کزن کے لیے بہت پسند آئی ہیں اور میرے کزن کو بھی بہت پسند آئی ہیں۔ پہلے ہم نے معلوم کروایا تو ہم سمجھے کہ وہ کنواری ہیں، پھر پتہ چلا کہ ان کا ایک بیٹا ہے پانچ سالہ اور ان کے ہسبینڈ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔ میرے کزن کو ان کے بیوہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، وہ بچے کو بھی باپ والا پیار..."
​وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ امرا کی ساس نے غصے سے بات کاٹی۔ "فورا اٹھو یہاں سے! نکلو ہمارے گھر سے! شرم نہیں آ رہی بیوہ کے گھر رشتہ لاتے ہوئے؟ تم چاہ رہی ہو کہ میں اپنے مرے ہوئے بیٹے کی بیوی کی شادی تمہارے کزن سے کر دوں اور پھر میں قیامت کے دن اپنے بیٹے کو کیا منہ دوں گی؟ اتنا بے شرم سمجھ رکھا ہے مجھے؟ فورا اٹھو اور دفع ہو یہاں سے!"
​سارے لحاظ بھول کر وہ غصے سے بولی۔ تو ارہا اٹھ کھڑی ہوئی، سرد نظروں سے سامنے کھڑی عورت کو دیکھا۔ "ٹھیک ہے جا رہی ہوں!" اور وہ گھر سے نکل گئی۔
​اور پھر گھر سے نکلتے ساتھ شجاع حیدر کو رپورٹ دی۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا شجاع حیدر نے ایکسپیکٹ کیا تھا، کیونکہ وہ امرا کے ساتھ امرا کے سسرال والوں کی بھی ساری معلومات نکلوا چکا تھا اور اچھی طرح واقف تھا کہ وہ کس قدر لالچی لوگ تھے۔
​"تم کل پھر جاؤ گی اور اس بار میں نے جو سوٹ کیس دیا تھا، وہ لے کر جاؤ گی!" شجاع حیدر کے کہنے پر ارہا نے "ٹھیک ہے" کہا اور اپنے گھر چلی گئی۔
​جب دوپہر امرا آفس سے گھر لوتی، تو ساس لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی۔ "آ گئی ہے آوارگی کر کے؟ شرم تو نہیں آ رہی ہوگی میرے مرے ہوئے بیٹے کی عزت کو سڑکوں پر رول رہی ہو؟ اپنے دیور کو اس کا حق دینے میں تمہاری جان جا رہی تھی، اب خود جگہ جگہ کے دھکے کھا کر مردوں کو منہ دیتی پھر رہی ہو!"
​ساس کا لہجہ الفاظ انتہا سے زیادہ غلیظ تھے، جیسے کسی تھرڈ کلاس ایریا میں گالی گلوچ کرنے والے لوگوں کے ہوتے ہیں۔
​"آپ کا دماغ ٹھیک ہے؟ بڑھاپے میں انسان کے الفاظ اور لہجے میں تھوڑا وقار آتا ہے اور آپ کا تو جاتا جا رہا ہے!" امرا نے سنجیدگی سے کہا۔
​"مجھے زیادہ تمیز اور اخلاق سکھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تجھے حیا سیکھنے کی ضرورت ہے! باہر جا کر عاشق کی معشوقی کر رہی ہے، لڑկوں کو اپنی ادائیں دکھا کر لبھا رہی ہے تاکہ وہ تیرے گھر پہ رشتہ بھیجے!"
​امرا بری طرح ٹھٹکی۔ "آپ کس متعلق بات کر رہی ہیں؟ میں کچھ نہیں جانتی!" امرا نے کہا۔
​"بہت اچھی طرح جانتی ہے تو کہ میں کس متعلق بات کر رہی ہوں! سیدھی شرافت سے جس عاشق نے تیرا رشتہ بھیجا تھا نا، اس کو منع کر کہ دوبارہ یہاں رشتہ لے کر نہ آئے! اور اگر شادی کرنی ہی ہے نا، تو میں ایسا ہونے نہیں دوں گی!" یہ کہتے ساتھ وہ غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
​جبکہ امرا پتھر ہو گئی—کیا اس کا رشتہ آیا تھا؟ کون لایا تھا اس کا رشتہ؟ یہ اس کی ساس کی نئی سازش تھی؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اپنی ساس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اندر چلی گئی، جبکہ ساس کمرے میں آتے ہی اپنے بیٹے کو فون ملا چکی تھی اور رو رو کر امرا کے آوارگی کے قصے سنا رہی تھی۔
​جبکہ دوسری طرف سے شجاع بالکل خاموش تھا۔ "تو اماں تمہیں کیا اعتراض ہے؟ کر دو نا امرا کی شادی، اس لڑکے سے رشتہ لے کر آیا ہے۔"
​اپنے بیٹے کی بات پر ساس ہفتے سے اکھڑ گئی (غصے سے کانپ اٹھی)۔ "تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ ایسے کیسے اپنی بیوہ بہو کی شادی کسی اور سے کر دوں؟"
​سجاد نے ان کی عقل پر ماتم کیا۔ "اماں، خوددار کب تک رہو گی؟ کبھی تو عقل کا استعمال کیا کرو۔ اچھا ہے نا، امرا کی شادی ہو جائے گی، پھر اس گھر پر تمہاری حکومت ہو جائے گی۔ امرا تو رخصت ہو جائے گی اور پھر ہم بھی وہیں آ جائیں گے، زندگی تھوڑی پرسکون ہو جائے گی۔ دو ڈبل اسٹوری گھر ہے، اوپر والا گھر کرائے پر بھی چڑھا دیا تو لاکھوں روپے کرایہ آئے گا۔"
​اپنے بیٹے کی بات پر ساس بالکل خاموش ہو گئی۔
​"اور ظاہر سی بات ہے امرا کا دماغ یہاں سے ہٹے گا، اپنی نئی زندگی میں وہ مگن ہو جائے گی، تو پیچھے سے ہم بھی کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ پر تم نے تو بس ہوا کے گھوڑے پر سوار رہنا ہے۔ تم ایک کام کرو، اس رشتے کے لیے ہاں کر دو۔" سجاد نے فورا کہا۔
​"ایسے کیسے کر دوں؟ میں تو ابھی امرا کو اتنی گالیاں دے کر آ رہی ہوں کہ امرا کرے اس رشتے کو جو رشتہ لے کر آیا ہے؟ اب جا کر کیا بولوں کہ کر لے اس سے شادی؟ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟" ساس نے غصے سے کہا۔
​"اماں، دماغ تمہارا خراب ہو گیا ہے! مجھے کچھ نہیں پتہ، تم امرا کو شادی کے لیے رضامند کرو گی، اس کو ایک گھر سے رخصت کرو تاکہ ہم وہاں آ سکیں!" کہتے تھے سجاد نے غصے سے کال کاٹ دی۔
​ساس نے بھی فون غصے سے بیڈ پر پٹخا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔
​اگلے دن صبح جب امرا آفس گئی، تو ایک بار پھر وہ لڑکی امرا کے گھر پر موجود، اس کی ساس کے سامنے بیٹھی تھی، پر اس بار اس کے ہاتھ میں بریف کیس تھا۔
​ساس کے ماتھے پر بل پڑے۔ "تم پھر آ گئی؟" ساس نے پوچھا۔
​ارہا نے کچھ نہ کہا، بس خاموشی سے وہ سوٹ کیس کھول کر امرا کی ساس کے سامنے رکھ دیا۔ امرا کی ساس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ انہوں نے زندگی میں کبھی ایک ساتھ اتنا پیسہ نہیں دیکھا تھا، جتنا پیسہ سوٹ کیس میں رکھا تھا۔ پانچ پانچ ہزار کے نوٹ کی ڈھیر ساری گڈیاں! وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگی۔ ارہا انہیں مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگی۔
​"بولیں، اب بھی آپ اپنی بیوہ بہو کی شادی نہیں کر سکتیں میرے کزن سے؟" ارہا نے تنزیہ ہنستے ہوئے پوچھا۔
​ساس ایک دم گڑبڑا گئی۔ "تم مجھے پیسوں کا لالچ دے رہی ہو؟" ساس نے ہلکے مصنوعی غصے سے پوچھا۔
​ارہا نے کندھے اچکائے۔ "ہاں، ایسا ہی سمجھ لے۔ اگر پیسے چاہیے تو رشتہ طے کر دیں، ورنہ میں پیسے لے کر چلی جاتی ہوں، دوبارہ لوٹ کر نہیں آؤں گی۔" یہ کہتے ارہا ساس کو دیکھنے لگی۔
​ساس بری طرح پہلو بدلنے لگی۔ سامنے بہت بڑی رقم تھی، اتنی بڑی رقم سے تو سجاد کوئی بھی کاروبار شروع کر سکتا تھا، لیکن دل کسی صورت امرا کی شادی پر رضامند نہیں تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی۔
​"مجھے لگتا ہے کہ آپ رضامند نہیں ہیں، میں پیسے لے کر چلی جاتی ہوں، میں نے آج پھر آپ کا وقت لیا، اس کے لیے معذرت۔" یہ کہتے ارہا نے سوٹ کیس بند کیا اور وہ اٹھنے لگی۔
​جب امرا کی ساس کی آواز پر رکی، "پانچ منٹ رک جاؤ، میں اپنے بیٹے سے مشورہ کرتی ہوں!"
​ان کی بات پر ارہا نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے۔ وہ فورا کمرے میں گئی، انہوں نے سجاد کو کال ملائی اور ساری بات سجاد کو بتائی۔
​"پہلی فرصت میں ہاں کر دو اور پیسے اپنے پاس رکھو، میں پیسے لینے کے لیے آ رہا ہوں!" سجاد نے کہا۔
​"ارے ایسے کیسے ہاں کر دوں؟ ابھی تک امرا نے ہاں تھوڑی کی ہے؟ اگر امرا نے انکار کر دیا تو کیا کریں گے؟ میں نے تو غصے میں کہا تھا کہ اس کی آوارگی چل رہی ہے، عشق لڑا رہی ہے، پر حقیقت تو یہی ہے نا کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی!" ساس نے پریشانی سے کہا۔
​"ارے اماں، سب ہو جائے گا، تعویز لا کر دے دوں گا، وہ گھول کے پلا دینا اس کو، یہ مرنے کا ناٹک کر لینا، یا اس کی اماں سے بات کریں گے، کچھ بھی کریں گے، تم جائیں گے فی الحال وہ پیسے لے لو!" دیور لالچ کی انتہا پر تھا۔
​ساس نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ سامنے آ کر بیٹھی، اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی، پھر ارہا کو دیکھا اور سوٹ کیس اپنی جانب کھسکا لیا۔
​ان کی حرکت پر ارہا مسکرائی۔ "تو میں سمجھوں کہ رشتہ پکا ہے؟"
​ساس نے ہاں میں سر ہلایا۔ "میری طرف سے پکا ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن... امرا نہیں مانے گی، وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی، پر میں کوشش کروں گی وہ مان جائے۔"
​ارہا مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
" مجھے بہت خوشی ہے آپ نے عقل مندی کا فیصلہ کیا۔ آپ میرا فون نمبر رکھ لیں، اپنی بہو سے بات کریں، اسے رضامند کریں۔ کتنے دن میں رضامند کر سکتی ہیں، وہ بتائیں، ہو سکتا ہے آپ کو کچھ اور انعام بھی مل جائے!"
​ارہا کے کہنے پر ساس کی آنکھیں مزید چمک گئیں۔ "ٹھیک ہے، میں بات کر لوں گی!" ساس نے فورا کہا اور وہ نمبر اپنی مٹھی میں دبوچ لیا۔ ارہا وہاں سے چلی گئی۔
​انہوں نے فورا اس نمبر کی تصویر کھینچ کر اپنے بیٹے کو بھیج دی اور پیسے بھی اپنے کمرے میں لے گئے۔ ایک گھنٹے بعد ہی سجاد وہاں پہنچ چکا تھا اور۔۔۔۔۔
۔
۔
۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**فردائے روشن** ایک جذباتی اور دوسری شادی کے موضوع پر مبنی رومانی اردو ناول ہے، جس کی کہانی ایک معصوم بیوہ عورت امرا، اس کے ننھے بیٹے حمزہ اور ایک دولت مند، بااثر اور اپنی خواہشات کے معاملے میں انتہائی ضدی شخص شجاع حیدر کے گرد گھومتی ہے۔

امرا ایک ایسی عورت ہے جس کی زندگی اپنے شوہر کی وفات کے بعد بدل چکی ہے۔ اس کا ننھا بیٹا حمزہ اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

وہ اپنے بیٹے کی خاطر ہر مشکل برداشت کرنے کو تیار ہے، لیکن اس کے سسرال والوں کا رویہ اس کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔

ایک دن حمزہ گھر سے نکل کر سڑک کی طرف چلا جاتا ہے۔ امرا کو جب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا سڑک پر موجود ہے تو وہ گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگتی ہے۔

سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھ کر اس کی جان حلق میں آ جاتی ہے۔

وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر حمزہ تک پہنچتی ہے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔

اسی دوران ایک گاڑی ان کے بالکل قریب آ کر رکتی ہے۔

گاڑی سے شجاع حیدر نامی ایک نوجوان اپنے محافظوں کے ساتھ باہر نکلتا ہے۔

شجاع کی نگاہ جب امرا پر پڑتی ہے تو وہ چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتا رہ جاتا ہے۔

امرا کی گھبراہٹ، اپنے بچے کے لیے اس کی بےپناہ محبت اور اس کا معصوم چہرہ شجاع حیدر کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔

امرا اپنے بیٹے کو لے کر گھر واپس چلی جاتی ہے، مگر شجاع حیدر اس ملاقات کو بھلا نہیں پاتا۔

وہ اسی سوسائٹی میں ایک بنگلہ خریدنے آیا ہوتا ہے۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد بھی اس کی نگاہیں امرا کے گھر کی جانب اٹھتی رہتی ہیں۔

شجاع حیدر پہلی ہی ملاقات میں امرا کو پسند کرنے لگتا ہے۔

وہ امرا کے متعلق معلومات حاصل کرواتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ امرا بیوہ ہے اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے۔

شجاع کے لیے یہ حقیقت اس کے فیصلے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

وہ اپنی بہن کو بتاتا ہے کہ اسے شادی کے لیے لڑکی پسند آ چکی ہے۔

اس کی بہن یہ جان کر حیران رہ جاتی ہے کہ شجاع ایک بیوہ اور بچے کی ماں سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

مگر شجاع اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔

اس کے نزدیک امرا کا ماضی یا اس کے بیٹے کی موجودگی کوئی مسئلہ نہیں۔

تاہم شجاع کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔

وہ اپنی پسند کی چیز حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا عادی ہے اور انکار سننے کے لیے تیار نہیں۔

شجاع امرا کے سسرال والوں کے متعلق بھی معلومات حاصل کر لیتا ہے اور جان جاتا ہے کہ وہ دولت کے لالچ میں مبتلا ہیں۔

وہ اپنے دفتر کی ایک ملازمہ کو اپنی کزن بنا کر امرا کے گھر رشتے کی بات کرنے بھیجتا ہے۔

پہلی مرتبہ امرا کی ساس اس رشتے پر شدید ناراضی ظاہر کرتی ہیں اور ملازمہ کو گھر سے نکال دیتی ہیں۔

ان کے نزدیک اپنے مرحوم بیٹے کی بیوہ کا دوبارہ نکاح ناقابلِ قبول ہوتا ہے۔

لیکن شجاع حیدر اس انکار سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

اگلے دن وہی لڑکی ایک بریف کیس لے کر دوبارہ امرا کے سسرال پہنچتی ہے۔

اس مرتبہ بریف کیس میں موجود رقم دیکھ کر امرا کی ساس کا رویہ بدلنے لگتا ہے۔

وہ اپنے بیٹے سجاد سے مشورہ کرتی ہیں۔

سجاد اپنی بھابھی کی دوسری شادی کو اپنے مالی فائدے اور گھر پر اختیار حاصل کرنے کا موقع سمجھتا ہے۔

ماں بیٹا رقم کے لالچ میں اس رشتے پر رضامند ہو جاتے ہیں، حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ امرا اپنے مرحوم شوہر سے بےحد محبت کرتی تھی اور دوسری شادی کے لیے تیار نہیں۔

دوسری طرف امرا ان فیصلوں اور منصوبوں سے بےخبر ہے۔

اس کی زندگی کے متعلق ایک ایسا فیصلہ کیا جا رہا ہے جس میں ابھی تک اس کی اپنی رضامندی شامل نہیں۔

شجاع حیدر امرا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے، جبکہ امرا کے سسرال والے اپنے مفادات کے لیے اسے اس رشتے پر مجبور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آخر کیا ہوگا جب امرا کو معلوم ہوگا کہ اس کی دوسری شادی کا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر کیا جا رہا ہے؟

کیا شجاع حیدر اپنی ضد اور خواہش کے مقابلے میں امرا کے جذبات کو اہمیت دے گا؟

کیا امرا اپنے بیٹے حمزہ کے ساتھ اپنی زندگی کے متعلق آزادانہ فیصلہ کر پائے گی؟

اور شجاع حیدر کی زندگی سے جڑی وہ کون سی حقیقت ہے جس کی جانب کہانی کے آغاز میں اشارہ کیا گیا ہے؟

**فردائے روشن** محبت، دوسری شادی، ماں کی ممتا، خاندانی لالچ، خودغرضی اور ایک عورت کے اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق سے جڑی دلچسپ اور جذباتی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**فردائے روشن** ایک بیوہ عورت امرا اور ایک بااثر، دولت مند اور ضدی شخصیت کے مالک شجاع حیدر کی کہانی ہے۔

امرا اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے حمزہ کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ وہ اپنے بیٹے سے بےحد محبت کرتی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ایک دن حمزہ گھر سے نکل کر سڑک پر چلا جاتا ہے۔ امرا اسے بچانے کے لیے دوڑتی ہے اور اسی دوران اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوتی ہے۔

شجاع پہلی ہی نظر میں امرا سے متاثر ہو جاتا ہے۔

وہ امرا کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہے اور جان لیتا ہے کہ وہ بیوہ ہے اور ایک چھوٹے بچے کی ماں ہے۔

اس کے باوجود شجاع اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

شجاع کی بہن اسے سمجھاتی ہے کہ شادی کے معاملے میں کسی عورت پر زبردستی نہیں کرنی چاہیے، مگر شجاع اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔

وہ امرا کے سسرال والوں کی لالچی طبیعت سے واقف ہونے کے بعد اپنے دفتر کی ایک ملازمہ کو رشتے کی بات کرنے بھیجتا ہے۔

امرا کی ساس پہلی مرتبہ اس رشتے کو سختی سے رد کر دیتی ہیں۔

لیکن اگلی مرتبہ جب ملازمہ رقم سے بھرا بریف کیس لے کر پہنچتی ہے تو حالات بدل جاتے ہیں۔

امرا کی ساس اپنے بیٹے سجاد سے مشورہ کرتی ہیں اور دونوں مالی فائدے کے لیے اس رشتے پر رضامند ہو جاتے ہیں۔

سجاد یہ بھی چاہتا ہے کہ امرا کی شادی کے بعد وہ اس کے گھر پر اختیار حاصل کر سکے۔

تاہم امرا ابھی اس رشتے کے لیے رضامند نہیں۔

وہ اپنے مرحوم شوہر سے محبت کرتی تھی اور اپنی دوسری شادی کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔

ایک طرف شجاع حیدر اسے حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دوسری طرف اس کے سسرال والے دولت کے لالچ میں اسے اس رشتے پر آمادہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

کیا امرا اپنی مرضی کے خلاف ہونے والے اس فیصلے کو قبول کرے گی؟

کیا شجاع حیدر اس کی رضامندی کا احترام کرے گا یا اپنی ضد پر قائم رہے گا؟

اور کیا یہ رشتہ امرا اور اس کے بیٹے حمزہ کے مستقبل کو ایک نئی سمت دے گا؟

Related Keywords

Farda e Roshan Novel, Farda e Roshan Urdu Novel, Farda e Roshan PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan?

Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Class Conflict and Complete Urdu Novel.

Where can I read Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *