Tag Archives: Family Drama Urdu Novel
Sahibe Ada Novel21063 — Novelistan
ازلان کی دادی نے اپنی ساری زمین اس کے نام کر دی اور اسے اپنی یتیم، طلاق یافتہ نواسی کا خیال رکھنے کو کہا۔ ازلان کو صرف زمین چاہیے تھی تاکہ اسے فروخت کرکے اپنا کاروبار شروع کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے دادی کی نواسی سے نکاح کر لیا، مگر بیوی کا چہرہ دیکھے بغیر شہر چلا گیا۔ ایک ہفتے بعد واپس آیا تو اپنے کمرے میں بیس سال کی نازک سی لڑکی کو اپنے کپڑے استری کرتے دیکھا۔ وہ غصے میں اسے کمرے سے نکلنے کا حکم دینے لگا۔ مگر لڑکی نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کا بھی کمرہ ہے۔ اس جواب پر ازلان حیران رہ گیا۔
Ek Anjani Si Muhabbat Novel21056 — Novelistan
وردہ صداقت اپنی سوتیلی بہن ماہم کی جگہ علوی خاندان میں جانے کے لیے تیار تھی۔ اس کا دل خوف اور بے یقینی سے بھرا ہوا تھا، کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ روانگی سے پہلے احسن نے اسے ماہم سمجھ کر اپنی بے وفائی کا اعتراف کر دیا، جس سے وردہ کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی۔ علوی مینشن پہنچ کر اس کی ملاقات وائل علوی کی دادی سے ہوئی، جنہوں نے اس کے ساتھ شفقت سے پیش آ کر اسے کچھ تسلی دی۔ پھر وائل علوی سامنے آیا اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔ دوسری طرف احسن کو وردہ کھونے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
Muqadma e Pyar Novel21035 — Novelistan
رملہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دوستوں کی ایک معمولی شرط اسے اتنی بڑی مشکل میں ڈال دے گی۔ ناریہ اور عروب کے اصرار پر وہ نئے ایس پی سالار سکندر کے سامنے پہنچی اور گھبراہٹ میں خود کو اس کی بیوی ظاہر کر دیا۔ سالار اور اس کے اہلکار حیران رہ گئے، جبکہ رملہ فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے یقین تھا کہ یہ شرارت وہیں ختم ہو جائے گی۔ مگر رات کے وقت اس کے کمرے میں کسی اجنبی کی موجودگی نے اسے خوفزدہ کر دیا۔ ابتدائی منظر میں سالار اسے یاد دلاتا ہے کہ اسی نے خود کو اس کی بیوی کہا تھا۔ رملہ بار بار سمجھاتی ہے کہ وہ سب صرف مذاق تھا، مگر سالار اس بات کو سنجیدگی سے لینے پر اصرار کرتا ہے۔ اب رملہ اس غیرمتوقع صورتحال سے کیسے نکلے گی؟
Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan
عنایہ شاہ نے یونیورسٹی سے واپسی پر ایک ٹیکسی لی، مگر کچھ دیر بعد اسے اندازہ ہوا کہ ڈرائیور اسے غلط راستے پر لے جا رہا ہے۔ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے غصے میں اس کے بال پکڑ کر گاڑی روکنے کا مطالبہ کرنے لگی۔ ڈرائیور کے روپ میں موجود حاتم شاہ اس کے ردعمل سے حیران رہ گیا۔ وہ تو دادا جان کے حکم پر اپنی معصوم سمجھی جانے والی کزن کو حویلی لانے آیا تھا، مگر عنایہ نے اس کے لیے یہ کام مشکل بنا دیا۔ آخرکار حاتم اسے بے ہوش کر کے حویلی لے آیا۔ وہاں دادا جان کے سامنے عنایہ کو ہوش آیا تو اس نے فوراً حاتم کو پہچان کر سب کے سامنے اپنے اغوا کا سوال اٹھا دیا۔ اب حویلی میں اس نڈر لڑکی کی آمد کیا ہنگامہ کھڑا کرنے والی تھی؟
Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
Aqd e Muhabbat Novel21040 — Novelistan
نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟
Ghuroor e Shekasteh Novel21047 — Novelistan
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
Aroos e Ejbar Novel21044 — Novelistan
انابیہ نے اپنی زندگی کے تمام خواب حسن کے ساتھ وابستہ کیے تھے، مگر ایک دن وہی شخص دوسری عورت سے نکاح کرکے گھر آ گیا۔ شوہر کی بےوفائی نے اس کے اعتماد اور محبت کو بری طرح توڑ دیا۔ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے التجائیں کرتی رہی، لیکن حسن نے اسے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کر دیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ماں کے گھر لوٹنے والی انابیہ نے عدت کے بعد خود کو سنبھالا اور ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ قسمت اسے منہاج عالم کی کمپنی میں لے آئی، جہاں اس کا سابق شوہر بھی کام کرتا تھا۔ منہاج عالم پہلی ملاقات ہی میں اس کی شخصیت سے متاثر ہوا، مگر انابیہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی نئی زندگی کی یہ شروعات ایک اور غیرمتوقع رشتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیا وہ اپنے ماضی سے آزاد ہو پائے گی، یا محبت اور مجبوری ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی کو مشکل بنا دیں گے؟
Farda e Roshan Novel21034 — Novelistan
شوہر کی وفات کے بعد امرا کی پوری دنیا اس کے ننھے بیٹے حمزہ تک محدود ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنی زندگی میں کسی نئے رشتے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک دن حمزہ کو سڑک پر حادثے سے بچاتے ہوئے اس کی ملاقات شجاع حیدر سے ہوئی۔ امرا کے لیے یہ محض ایک خوفناک لمحہ تھا، لیکن شجاع کے دل میں اسی ملاقات نے ایک ایسی خواہش پیدا کر دی جسے وہ ہر صورت پورا کرنا چاہتا تھا۔ جب امرا کے سسرال والوں نے اس کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تو شجاع نے ان کی کمزوری، یعنی دولت کی محبت، کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ اب امرا کی زندگی کا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں کیا جا رہا تھا۔ کیا وہ اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی اس شادی کو روک سکے گی، یا اسے ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا جو انکار سننے کا عادی ہی نہیں؟
Aaram e Jaan e Man Novel21033 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔