Tag Archives: Family Drama Urdu Novel
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
روحا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کر دیا جائے گا۔ جس حویلی میں اسے محبت اور اپنائیت کے بجائے سخت رویوں اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہیں اس کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ امن خانزادہ نے رخصتی بھی اسی دن کرنے کی شرط رکھ دی تھی، اور کسی نے روحا کے دل میں موجود خوف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے نکاح کے دن بھی وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے تھکن سے نڈھال تھی، جبکہ امن اس کے لیے قیمتی سرخ عروسی لباس خرید رہا تھا۔ جب وہ دلہن بن کر سامنے آئی تو امن کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں، مگر روحا کا دل اب بھی انجانے خدشات سے لرز رہا تھا۔ کیا یہ نیا رشتہ اسے حویلی کے ظلم سے نجات دلائے گا یا اس کی زندگی ایک اور مشکل امتحان میں داخل ہونے والی تھی؟
Maafi By Eesha Hussain Novel21032 — Novelistan
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
Farjam e Shireen Novel21030 — Novelistan
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
Ishq e Mashroot Novel21029
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
Fatoor e Chahat Novel21023
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
Meri Zindagi Novel21022
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
Nisbat e IShq Novel21018
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟
Teri Bahoon Main By Muskan Novel21019
ایک ماں کی زندگی بچانے کی خاطر میرب نے حسام وجدان کی وہ شرط قبول کر لی تھی جس نے اس کی اپنی زندگی کا رخ بدل دیا۔ حسام کے لیے یہ شادی شاید ایک معاہدہ تھی، مگر وقت نے اس سفاک اور مغرور شخص کو اسی رشتے کے سامنے بےبس لا کھڑا کیا۔ ہسپتال کی سرد راہداری میں آج نہ اس کی دولت کام آ رہی تھی، نہ طاقت اور نہ ہی اس کا غرور۔ ایک طرف میرب کی زندگی خطرے میں تھی اور دوسری جانب تین ننھی جانوں کی سانسیں۔ جس شخص نے کبھی میرب کی مجبوری کی پروا نہیں کی تھی، آج وہی اس کی ایک سانس کے لیے دعا مانگ رہا تھا۔ مگر آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کے پیچھے تقدیر نے ان سب کے لیے کیا فیصلہ کر رکھا تھا؟
Ehsaas E Dillbaram By Wahiba Ashqam Novel21020
تیز بارش میں یونیورسٹی کے باہر تنہا کھڑی حورب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے سخت مزاج پروفیسر سے لی گئی ایک معمولی سی لفٹ اس کی پوری زندگی بدل دے گی۔ ایک غلط فہمی، ایک غیر متوقع نکاح اور پھر حنان کا ایسا فیصلہ جس نے حورب کے لیے واپسی کے تمام راستے مشکل بنا دیے۔ مگر وہ ابھی اس حقیقت سے لاعلم تھی کہ جس شخص کو وہ محض اپنا کھڑوس پروفیسر سمجھ رہی ہے، اس کے رویے کے پیچھے ایک ایسی وجہ پوشیدہ ہے جس کا تعلق شاید آج سے نہیں تھا۔
𝐏𝐞𝐡𝐥𝐢 𝐞𝐢d by Rashida Riffat Novel20892
ایک ہی چہرہ... ایک ہی خون... مگر دلوں میں برسوں پرانی دشمنی۔ جڑواں بہنیں ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بہن مانا ہی نہیں۔ بچپن کی معمولی ضدیں وقت کے ساتھ ایسی نفرت میں بدل گئیں کہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی دونوں کی اولاد ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا۔ سب نے سمجھا کہ شاید اب برسوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی... مگر اصل جنگ تو شادی کے بعد شروع ہوئی۔ پہلی عید آئی تو دونوں ماؤں کی انا پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ایک بضد تھی کہ بہو پہلی عید سسرال میں منائے گی، دوسری نے قسم کھا لی کہ بیٹی پہلی عید میکے ہی آئے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک رسم نے ضد کی شکل اختیار کر لی، ضد نے انا کا روپ دھار لیا، اور انا نے دو محبت کرنے والوں کی نئی نئی ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیا۔ آخر جیت کس کی ہوگی... محبت کی یا برسوں پرانی دشمنی کی؟