Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan
By Leena Khan
روحا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ یوں اچانک کر دیا جائے گا۔ جس حویلی میں اسے محبت اور اپنائیت کے بجائے سخت رویوں اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہیں اس کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ امن خانزادہ نے رخصتی بھی اسی دن کرنے کی شرط رکھ دی تھی، اور کسی نے روحا کے دل میں موجود خوف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے نکاح کے دن بھی وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے تھکن سے نڈھال تھی، جبکہ امن اس کے لیے قیمتی سرخ عروسی لباس خرید رہا تھا۔ جب وہ دلہن بن کر سامنے آئی تو امن کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں، مگر روحا کا دل اب بھی انجانے خدشات سے لرز رہا تھا۔ کیا یہ نیا رشتہ اسے حویلی کے ظلم سے نجات دلائے گا یا اس کی زندگی ایک اور مشکل امتحان میں داخل ہونے والی تھی؟
Sneak
میں نکاح کے لیے تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے "" آغا جان نے جب امن خانزادہ کور و حا سے نکاحکرنے کا کہا تو وہ بھی اپنی شرط رکھتا چالا کی سے بولا۔۔ "" بولو کیا چاہتے ہو "" آغا جان گہری سانس بھرتے سنجیدگی سے بولے وہ اپنے سر پھیرے پوتے کو جانتے تھے جب تک اُسکی بات نہ مانی جاتی تب تک وہ کسی کو چین سے جینے نہیں دیتا تھا، ''رخصتی آج ہی ہو گی۔ اسکے لفظوں پر حویلی کے سب لوگ ساکت ہوئے تھے ،، اسکی سوتیلی ماں صوفیہ بیگم کو چھوڑ کر ،، کیونکہ وہ تو چاہتی ہی یہ تھی روحا یہاں رہے اور وہ اُسکا جینا حرام کر دے ،، اور دوسری طرف بچن میں کھڑی روحا کی جان ہتھیلی پر آئی تھی۔۔ " ہم ٹھیک ہے برخوردار جیسا تم چاہوں ہم شام تک نکاح کا انتظام کرتے ہیں "" وہ پشت پر ہاتھ باندھے سنجید گی سے بول رہے تھے۔۔ "" ٹھیک ہے !! میں ٹھیک شام سات بجے آؤں گا ابھی مجھے کچھ ضروری کام ہے "" اپنے حسین و مغرور چہرے پر سن گلاسز لگاتے ،، وہ بنا کسی کی سنے لاؤنج سے نکلتا چلا گیا۔۔۔" میں کتنی بے مول ہوں سب کے لیے ،، آغا جان تک مجھے سے جان چھوڑوانے کے لیے اپنے سر پھیرے پوتے کے پلے باندھ رہے ہیں "" دروازے کے پیچھے چھپی روحاسسک سسک کر رودی۔۔"" چپ کر منحوس لڑکی اُٹھ بند کر اپنا ماتم ،، کھانا کون بنائے گا تیری ماں "" صوفیہ بیگم اُسکی سسکیاں سنتی اندر تک پر سکون ہوئی تھی۔۔ "" پلیز ماما کو کچھ مت بولیں میں بنا دونگی " نظریں جھکائے روحانے آہستہ سے کہا اور ہانڈی کی طرف بڑھی ۔۔ "" اب تو مجھے جواب دے گی "" ممانی نے چھری گرم کر کے اُسکے کندھے پر رکھ دی جس سے روحا کی چیخ بے ساختہ تھی۔۔ لیکن ممانی نے جلدی سے اپنا ہا تھ اُسکے ہونٹوں پر رکھ کر چیخ دبادی۔۔۔ ""اگر تم پیچی، تو یہ چھری اس خوبصورت چہرے پر بھی پھیر دوں گی "" وہ نخوت سے کہتی کچن سے نکل گئی۔۔ روحا سسکتی رہ گئی تھی۔۔۔۔ امن خانزادہ اپنے گارڈز کے ساتھ مال میں داخل ہوا تو وہاں موجود ہر لڑکی آہیں بھرتی رہ گئی۔۔ بلیک سوٹ میں ملبوس کف کو ہنی تک فولڈ کیے ہوئے تھے جس سے اُسکی نیلی رگیں واضع ہو رہی تھی۔۔ "" جی سر بتائیں کیا دیکھاؤ " من خانزادہ اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ ایک دکان میں داخل ہوا تو سیلز مین جلدی سے اُسکی طرف لپکا۔۔"" مجھے اس شاپ کا سب سے مہنگا ترین،، بلکہ اس مال کا سب سے مہنگا برائیڈل لہنگادیکھاؤ، لیکن اُسکار نگ گہرا سرخ ہونا چاہے ،،ایسا ڈریس ہو کہ پہننے والے سے نظر ایک پل کو نہ ہٹیں،، آنکھوں سے سن گلاسز ہٹاتے امن نے خیالوں میں روحا کا نازک وجود سوچتے کہا۔ چہرے پر تبسم بکھیر گیا تھا دل کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی۔۔ "" سر آپ یہاں "" آئیں یہ دیکھیں یہ مال کا سب سے مہنگا جوڑا ہے سیلز مین سر ہلاتا اسے دوسری سائیڈ لے گیا جہاں ایک ڈمی کو اپنے مطلب کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈریس دیکھ امن خانزادہ کی آنکھیں چمکی تھی۔۔ " اسکی قیمت "" لہنگے کو دیکھ کر امن خانزادہ نے قیمت پوچھی۔۔ سرخ فرشی لہنگا چھوٹی سی چولی کے ساتھ سلیو لیس باز و کام ایسا بہترین کیا ہوا تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھیں وہی جم جائیں۔۔ رقم ادا کر کے امن خانزادہ وہ بیگ اُٹھا کر دکان سے نکلا۔۔ "" سر یہ مجھے دیں " گارڈ نے آگے آتے کہا۔۔ "" نہیں یہ میں خود اُٹھاؤں گا "" سنجیدگی سے کہتے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔ آج اُسکا نکاح تھا لیکن پھر بھی وہ نوکروں کی طرح کام کر رہی تھی۔۔ چہرے پر آیا پسینہ بار بار پونچھتی روحا بے حال ہو گئی تھی۔۔ " بن گیا کھانا یہ ابھی ٹائم ہے،، جلدی کرو مہمان آتے ہونگے "" صوفیہ بیگم نے ناگواریت سے اُسے دیکھتے کہا،، جو بڑے سے پتیلے میں کورمہ پکار رہی تھی۔۔۔۔ " ممانی میں بہت تھک گئی "" ہوں معصوم چہرا لیے وہ بو جھل لہجے میں گویا ہوئی۔۔ "" اچھا مہارانی کو آرام کرنا ہے،،ہاں پھر پوری رات جاگنا بھی تو ہے "" ممانی کے معنی خیز جملے پر روحا کا چہرا سرخ ہوا تھا۔۔ '' چل کھانا بنا آئی بڑی آرام کرنے والی ، نکاح ہے تو کیا تجھے سر پر بیٹھاؤں سکے بالوں کو پکڑ کر اپنی مضبوط گرفت میں لیتے دو صوفیہ بیگم نے غصے سے کہا اور تن فن کرتی باہر نکل گئی۔۔ وہ اپنا سارا کام کرتی نڈھال سی کچن سے نکلی، لیکن ہائے رے قسمت وہ اندر آتے امن خانزادہ سے بری طرح ٹکراتی نیچے گرنے لگی۔۔ "" دیکھ کر چلا کر وا گر ہڈی ٹوٹ گئی تو پھر میرا بہت نقصان ہو گا اُسکی کلائی پکڑ کر اپنے طرف کھینچتے امن خانزادہ نے سرد و سخت لہجے میں کہا تھا۔۔ جبکہ نظریں اُسکے سرخ ہوتے چہرے پر جمی تھی دل بغاوت پر اتر آیا تھا ، لیکن کچھ پل اُسے صبر کرنا تھا جو کہ مشکل لگ رہا تھا۔۔ روحا امن کو اپنے بے حد قریب دیکھ کر بری طرحگھبرائی تھی، اُسکا لمس جلا رہا تھا۔۔ ""م۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں "" لرزتی پلکوں کے ساتھ روحاروہانسی ہوتی بولی۔۔"" یہ کیا حشر کیا ہوا ہے خود کا مس ماریہ پلیز جائیں اور انہیں اچھے سے تیار کر دیں ٹھیک سات بجے میں دیکھنے آؤں گا آپ نے کس طرح میری بیوی کو تیا کیا ہے ا سکی بات کو نظر انداز کرتے امن خانزادہ "" ماریہ کی طرف مڑا، ، وہ ایک بہترین پارلر والی تھی۔۔ چلیں میم "" ماریہ اُسکے کپڑے اُٹھاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی،، تو وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھائی سیڑھیاں چڑھنے لگی دل بند ہو رہا تھا یہ سوچ کر کے وہ اُس جنونی شخص کی شید تیں کیسے برداشت کرے گی ،، وہ تو اُسکے قریب آنے سے ہی مرنے والی ہو جاتی تھی۔۔ امن خانزادہ نیچے کھڑار و حا کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔۔ اُس کا دل بے قرار ہو تا شدت سے رات کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔ میم پلیز آپ ریلیکس ہو جائیں نہیں تو میک اپ خراب ہو جائے گا،، تو سر غصہ کریں گے "" پارلر والی بے بسی سے بولی،، روحانے اپنی آنکھیں رگڑ کر صاف کی وہ امن سے ڈر رہی تھی، یہ بات وہ سامنے کھڑی لڑکی کو کیسے بتاتی۔۔ "" لڑکی کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو """صوفیہ بیکم اپنے ہاتھ میں پرانا جوڑا لیے داخل ہوئی تو پارلر والی کو دیکھ کر ٹھٹھکی۔۔ "" وہ مجھے سرا من خانزادہ نے اپنی بیگم کو تیار کرنے کے لیے بولا ہے "" وہ مسکراتی بولی۔۔ " ہم تمہارے اتنے اچھے دن بھی آگئے ،، چلو کر لوں ایک دن میں سارے مزے ،، یہ جوڑا اسے پہنا دینا پارلر والی نے انکے لہجے پر گہری سانس بھری تھی ، وہ سمجھ گئی تھی کس قدر ظلم اس پر ہوتے ہیں۔۔ "" سوری میم سر یہ جو ڑا دے کر گئے ہیں اور سختی سے تاکید کی ہے کہ میم یہی پہنے """ اتنے خوبصورت لہنگے کو دیکھ کر صوفیہ بیگم دانت پیستی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد روحا کو پوری طرح تیار کر کے نیچے لایا گیا۔۔۔۔ امن خانزادہ سانس روکے اس نازک سے پری کو دیکھ رہا تھا جس کا چہرا پورا دھکا ہوا تھا بس ہونٹ دیکھ رہے تھے۔۔ جو امن خانزادہ کی آنکھوں میں سرخی بڑھا گئے تھے۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
منزلِ عشق از لینا خان ایک رومانی اور جذباتی اردو ناول ہے جس کی کہانی ایک مغرور، ضدی اور جنونی مزاج نوجوان امن خانزادہ اور ایک معصوم، سہمی ہوئی لڑکی روحا کے گرد گھومتی ہے۔ حویلی کے ماحول، خاندانی فیصلوں، ظلم و زیادتی اور اچانک طے پانے والے نکاح کے درمیان دو مختلف مزاج رکھنے والے کرداروں کی زندگی ایک نئے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے۔
امن خانزادہ ایک دولت مند، بااثر اور اپنی بات منوانے کا عادی نوجوان ہے۔ اس کی شخصیت میں غرور، سنجیدگی اور غیر معمولی خوداعتمادی نمایاں ہے۔ حویلی کے بزرگ آغا جان بھی اس کے ضدی مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں۔
جب آغا جان امن کو روحا سے نکاح کرنے کا کہتے ہیں تو وہ انکار کرنے کے بجائے ایک ایسی شرط رکھ دیتا ہے جسے سن کر حویلی میں موجود سب لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
امن چاہتا ہے کہ نکاح کے ساتھ روحا کی رخصتی بھی اسی دن ہو۔
آغا جان اس کی شرط قبول کر لیتے ہیں اور شام تک نکاح کے انتظامات کرنے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
مگر اس فیصلے سے سب سے زیادہ خوفزدہ روحا ہوتی ہے۔
روحا ایک معصوم اور حساس لڑکی ہے جو حویلی میں اپنی ممانی صوفیہ بیگم کے سخت اور ظالمانہ رویے کا سامنا کر رہی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ آغا جان بھی اسے اپنی ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لیے امن جیسے سرپھرے نوجوان سے بیاہ رہے ہیں۔
روحا کی زندگی پہلے ہی آسان نہیں۔
صوفیہ بیگم اس کے ساتھ ملازموں جیسا سلوک کرتی ہیں۔ اسے مسلسل کام میں مصروف رکھتی ہیں اور اس کی معمولی سی بات پر بھی غصے میں آ جاتی ہیں۔
یہاں تک کہ روحا کو جسمانی اذیت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
اپنے نکاح کے دن بھی روحا کو آرام کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ وہ مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہے، باورچی خانے میں کام کرتی ہے اور تھکن سے نڈھال ہونے کے باوجود اپنی ممانی کے حکم ماننے پر مجبور رہتی ہے۔
دوسری طرف امن خانزادہ کی توجہ اپنی ہونے والی دلہن کی تیاریوں پر مرکوز ہوتی ہے۔
وہ اپنے محافظوں کے ساتھ ایک بڑے شاپنگ مال پہنچتا ہے اور روحا کے لیے سب سے مہنگا سرخ عروسی لہنگا خریدنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔
اس کی پسند میں ایک عجیب سی شدت موجود ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ روحا اپنے عروسی لباس میں بےحد خوبصورت نظر آئے۔
جب امن حویلی واپس آتا ہے تو تھکن سے بےحال روحا اچانک اس سے ٹکرا جاتی ہے۔ امن اسے گرنے سے بچا لیتا ہے، مگر اس کا سرد اور سخت لہجہ روحا کو مزید خوفزدہ کر دیتا ہے۔
روحا اس کی قربت سے گھبرا جاتی ہے، جبکہ امن کی نگاہیں اس کے شرماتے ہوئے چہرے پر ٹھہر جاتی ہیں۔
امن اپنی ہونے والی دلہن کو تیار کرنے کے لیے ماریہ نامی پیشہ ور بیوٹیشن کو بلاتا ہے اور اسے ہدایت دیتا ہے کہ روحا کو بہترین انداز میں تیار کیا جائے۔
صوفیہ بیگم روحا کے لیے پرانا لباس لے کر آتی ہیں، مگر ماریہ انہیں بتاتی ہے کہ امن خانزادہ پہلے ہی اپنی دلہن کے لیے خاص عروسی جوڑا دے چکا ہے۔
یہ بات صوفیہ بیگم کو ناگوار گزرتی ہے۔
دوسری جانب روحا اپنے آنے والے مستقبل سے خوفزدہ ہے۔ وہ نہیں جانتی کہ امن خانزادہ جیسے سخت مزاج اور جنونی شخص کے ساتھ اس کی ازدواجی زندگی کیسی ہوگی۔
جب روحا کو عروسی لباس میں تیار کرکے نیچے لایا جاتا ہے تو امن خانزادہ اسے دیکھ کر چند لمحوں کے لیے مبہوت رہ جاتا ہے۔
مگر کیا امن کی غیر معمولی دلچسپی روحا کے دل میں موجود خوف کو ختم کر سکے گی؟ کیا روحا حویلی میں برداشت کیے گئے ظلم سے نجات پا سکے گی؟ اور کیا ایک ضدی اور بااثر نوجوان کے ساتھ اچانک ہونے والا نکاح اس کی زندگی میں محبت اور سکون لا سکے گا؟
منزلِ عشق حویلی کے ماحول، جذباتی کشمکش، خاندانی دباؤ اور دو مختلف شخصیات کے درمیان طے پانے والے رشتے پر مبنی ایک دلچسپ رومانی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
منزلِ عشق از لینا خان امن خانزادہ اور روحا کی کہانی ہے، جن کی زندگی ایک اچانک طے پانے والے نکاح کے باعث نئے موڑ پر آ جاتی ہے۔
امن خانزادہ ایک دولت مند، مغرور اور ضدی نوجوان ہے جس کے سامنے گھر کے بڑے بھی سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں۔ جب آغا جان اسے روحا سے نکاح کرنے کا کہتے ہیں تو وہ رضامندی ظاہر کرتا ہے، مگر شرط رکھتا ہے کہ روحا کی رخصتی بھی اسی دن ہوگی۔
آغا جان اس کی شرط قبول کر لیتے ہیں۔
دوسری طرف روحا ایک معصوم اور خوفزدہ لڑکی ہے جو اپنی ممانی صوفیہ بیگم کے ظلم اور سخت رویے کا سامنا کر رہی ہے۔
اپنے نکاح کے دن بھی اسے گھر کے کاموں سے فرصت نہیں ملتی۔ وہ تھکن سے بےحال ہونے کے باوجود مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرتی رہتی ہے۔
امن خانزادہ اپنی ہونے والی دلہن کے لیے ایک قیمتی سرخ عروسی لہنگا خریدتا ہے اور اسے تیار کروانے کے لیے ماریہ نامی بیوٹیشن کو بلاتا ہے۔
روحا امن کے سخت مزاج اور اس کی غیر معمولی قربت سے خوفزدہ ہے، جبکہ امن اس کے حسن اور معصومیت سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔
نکاح کی تیاریاں مکمل ہونے لگتی ہیں، مگر روحا کے دل میں اپنے آنے والے مستقبل کے حوالے سے بےشمار خدشات موجود ہیں۔
کیا امن خانزادہ روحا کے خوف اور بےاعتمادی کو سمجھ سکے گا؟ کیا روحا کو اس نئے رشتے میں وہ عزت اور تحفظ ملے گا جس سے وہ اب تک محروم رہی ہے؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan?
Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan is written by Leena Khan.
Is Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Contemporary Fiction.
Where can I read Manzil e Ishq By Leena Khan Novel21026 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.