Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain
Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain
By Zarish Hussain
سرفراز شاہ ایک سخت مزاج اور بااثر شخص تھا جس کے خاندان میں عورتوں کو مردوں کے سامنے بولنے کی اجازت تک نہیں تھی۔ اس کی دس سال چھوٹی کزن زمل شاہ کا نکاح اس سے ہو چکا تھا، مگر زمل اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی۔ وہ سرفراز کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور پڑھائی کی اجازت مانگ لی۔ سرفراز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی، لیکن زمل اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بعد میں جب اس نے سرفراز کی بہن ارحہ کو اپنی مرضی کے بغیر طے ہونے والی شادی کے خلاف آواز اٹھانے کا مشورہ دیا تو صائمہ بیگم نے سرفراز کی دوسری شادی کروانے کی دھمکی دے دی۔ زمل کے بے باک جواب پر سرفراز غصے میں کمرے میں داخل ہو گیا۔
Sneak
"مجھے آگے پڑھنے کی اجازت چاہیے۔ورنہ میں آپ سے شادی نہیں کروں گی۔ " وہ ضدی لہجے میں بولی تو سرفراز شاہ نے بھنویں اچکاتے اسے دیکھا۔خاندان کی کسی عورت کی مجال نہیں تھی کہ وہ گھر کے مرد کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرتی اور وہ سب سے چھوٹی چھنٹاک بھر کی لڑکی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ دو ماہ پہلے ہی تو اس کا نکاح سرفراز شاہ سے ہوا تھا پر اس نے بات کرنا تو دور دیکھنا بھی پسند نہیں کیا تھا سرفراز سمیت خاندان کے سارے مرد یہی انا رکھتے تھے۔"چار جماعتیں پڑھ کر تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے لڑکی! مردوں کا مقابلہ کرو گی؟" وہ سنگین لہجے میں پوچھتا اس کے مقابل آیا۔ " اگر میں جاہل رہی تو نسل آپ کی خراب ہوگی۔ " اس کی دیدہ دلیری پر سرفراز شاہ کے لب بھنچ گئے۔ اچانک اس کا جبڑا دبوچا۔آج میرے مقابل آ گئی ہو دوبارہ کوشش بھی کی تو۔۔۔" یہ کہتے وہ نہیں جانتا تھا سامنے کھڑی لڑکی کے اندر بغاوت سر اٹھا چکی تھی جبھی۔۔۔۔۔ سرفراز شاہ اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا اسے ابھی کسی پنچائیت کے کام کے سلسلے میں باہر جانا تھا۔ جب دروازے پر بہت ہولے سے دستک ہوئی تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ سرفراز شاہ دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دیتا کہ ابھی اس کا منہ کچھ بولنے کے لیے کھلا ہی تھا جب وہ وجود بڑے دھڑلے سے دروازہ کھولتے اندر داخل ہو چکا تھا۔ سر فراز شاہ کی بھنویں تنی تھیں اور اس نے چونکتے ہوئے سامنے کھڑی اپنی منکوحہ زمل شاہ کو دیکھا تھا۔جو اب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی۔ زمل شاہ سرفراز شاہ سے دس سال چھوٹی تھی۔ مگر اس کے باوجود خاندان سے باہر نکاح نا کرنے کی رسم کی بدولت ان دونوں کو ایک ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ سرفراز شاہ کے دل میں اپنی اس کزن کے لیے کوئی جذبات تھے اور نا ہی دوسری طرف زمل شاہ اپنے اس رشتے پر راضی تھی وہ دو لوگ مختلف عادات اور سوچ رکھنے والے انسان تھے۔زمل شاہ کے اندر اپنی ذات کو لے کر بہت اعتماد تھا وہ خود کو اپنے خاندان کی بے بنیاد رسموں و رواجوں پر قربان کرنے کی بجائے اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی خواہش مند تھی اسے اس گھر میں مرد ذات کی زندگی اور عورتوں کی زندگی میں موجود فرق ہمیشہ غصہ دلا دیتا تھا۔ اسی لیے وہ آج بہت سوچ بچار کرنے کے بعد سرفراز شاہ کے پاس آئی تھی جو اسے دیکھتے ہی چہرے پر بے زاری بھرے تاثرات لاتا زمل کے اندر دبی خود دار لڑکی کو بری طرح متاثر کر گیا تھا۔تب زمل شاہ بھی خود کو بے نیاز ظاہر کرنے کی کوشش کرتی اپنے حق کے لیے بول پڑی تھی۔ " مجھے آگے پڑھنے کی اجازت چاہیے ۔۔ورنہ۔۔ میں آپ سے شادی نہیں کروں گی۔"وہ ضدی لہجے میں بولی تو سرفراز شاہ نے غصے سے بھنویں اچکاتے اسے دیکھا تھا۔خاندان کی کسی عورت میں مجال نہیں تھی کہ وہ گھر کے مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی اور وہ سب سے چھوٹی چھٹانک بھر کی لڑکی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ دو ماہ پہلے ہی سرفراز اور اس کا نکاح ہوا تھا۔ مگر اس دوران سرفراز شاہ نے اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔ خاندان کے سارے مرد یہی انا رکھتے تھے۔ "چار جماعتیں پڑھ کر تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے لڑکی۔۔ مردوں کا مقابلہ کرو گی؟" وہ سنگین لہجے میں پوچھتا اس کے مقابل آیا تھا۔ "اگر میں جاہل رہی تو نسل آپ کی خراب ہو گی۔"اس کی دیدہ دلیری پر سرفراز شاہ کے لب بھینچ گئے ۔ اچانک اس کا جبڑا دبوچا ۔ "آج میرے مقابل آ گئی ہو دوبارہ کوشش بھی کی تو ۔۔"وہ یہ کہتے نہیں جانتا تھا کہ اس طرح وہ سامنے کھڑی لڑکی کے اندر بغاوت کا بیچ بو چکا ہے۔ جبھی زمل شاہ نے جب سرفراز شاہ کے اپنے نزدیک آنے اور خود کو تکلیف دینے کے باوجود اپنی آنکھیں نہیں جھکائیں تو سرفراز شاہ کا چہرہ غصے سے سرخ پڑنے لگا۔ یہ چھوٹی سی لڑکی چند پل میں اس کی فشار خون بڑھا گئی تھی۔۔ "تو کیا ؟ ماریں گے ، مجھ پر چیخیں چلائیں گے یا پھر اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے رخصتی کروا لیں گے؟" زمل شاہ سرفراز شاہ کا اپنے چہرے پر موجود ہاتھ جھٹکتی ایک قدم پیچھے لیتی پوچھنے لگی اس کے الفاظ طنز سے بھرپور تھے۔ سرفراز شاہ نے تیکھی سی نظریں زمل شاہ پر مرکوز تھیں وہ کچھ دیر بول نہیں پایا تھا شاید وہ اس بات پر حیران تھا کہ آخر اس کے گھر میں موجود ایک لڑکی اتنی نڈر کب ہوئی تھی کہ اسے پتہ نہیں چل سکا تھا۔ " تو میں آپ کو بتا دوں جو مرضی کر لیں آپ میں اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔" زمل شاہ دبنگ لہجے میں اپنی بات مکمل کرتے وہاں سے پلٹتی چلی گئی تھی۔ سرفراز شاہ جس کا غصہ اس کی جارحیت اور دہشت ہر طرف مشہور تھی ایک لڑکی اپنی زبان چلاتی اس کے سامنے سے صیح سلامت جا چکی تھی۔ سرفراز شاہ کو خود پر غصہ آیا تھا اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ مگر آج ایک اور نئی بات بھی ہوئی تھی اور وہ یہ زمل شاہ جو آج تک سرفراز شاہ کے لیے ایک عام سی لڑکی تھی جسے اس نے اپنی منکوحہ بنانے کے بعد بھی کبھی کوئی اہمیت نہیں دی تھی کبھی اس کے بارے میں سوچا نہیں تھا وہی زمل آج اپنے ڈٹ جانے والے انداز سے سرفراز شاہ کی توجہ پوری طرح اپنی طرف کھینچ گئی تھی۔ "اس لڑکی کا کچھ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ اب میرے نام سے جانے جائے گی تو میں ہرگز اپنی عورت کو لے کر خود پر لوگوں کی باتیں سن نہیں سکتا۔" سرفراز شاہ نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے کندھوں پر موجود شال کو جھٹکتے لمبے لمبے ڈگ بھرتے کمرے سے باہر کی راہ لی تھی۔ سرفراز شاہ گھر میں داخل ہوا تو شام کے سائے کر طرف پر پھیلا رہے تھے۔ وہ اپنے چہرے پر گہری سنجیدگی سجائے اپنی شال کا پلو جھٹکتے ہوئے کندھے پر ڈالتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کی نظر لاؤنج کے ایک کونے میں کھڑی زمل شاہ اور اس کی ماں نزہت بیگم پر پڑی تھی۔ اور زمل کو دیکھتے ہی سرفراز شاہ کو کچھ دن پہلے اس کی بدتمیزی شدت سے یاد آئی تو خودبخود اس کے قدم رکتے چلے گئے تھے اور ساتھ ہی اس نے آنکھیں چھوٹی کیے زمل کی اس وقت بھی چلتی زبان کو دیکھا تھا ۔ وہ کافی فاصلے پر تھا اسی لیے اسے بس زمل کی تھوڑی سی آواز سنائی دے رہی تھی اس کے الفاظ سمجھ میں نہیں آ رہے تھے۔ سرفراز شاہ نے دیکھا کہ نزہت بیگم اسے کچھ کہہ رہی ہیں جس پر وہ کبھی نفی میں سر ہلا رہی تھی تو کبھی بس بولتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے دوپٹہ سر کی بجائے کندھوں پر کیے لمبے بالوں کی چٹیا کی بجائے صرف ایک ہونی میں بندھے تھے۔ اور اب سرفراز کو علم ہو رہا تھا کہ یہ لڑکی اپنے ہر ایک عمل سے دوسری لڑکیوں اور عورتوں سے بہت الگ زندگی جی رہی ہے مگر کیسے کیا کسی نے اسے سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔ سرفراز شاہ کے ماتھے پر بلوں کی تعداد بڑھتی چلتی جا رہی تھی اسے اپنی نزہت بیگم پر اچھنبہ ہوا کہ آخر وہ کیوں اس کی تربیت میں کوتاہی کر گئی ہیں۔ "میں قطعاً ایسی بدزبان لڑکی کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزار سکتا اسے بدلنا ہو گا۔" سرفراز بڑبڑاتا ہوا اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرتا ان ماں بیٹی کی طرف چلا آیا تو دونوں نے چونکتے اسے دیکھا تھا ۔ نزہت بیگم کے چہرے سے پریشانی چھلکی تو وہیں زمل شاہ نے ایک لاپرواہ سی نظر سرفراز شاہ پر ڈالتے وہاں سے جانے کی کوشش کی تو اس کا یہ عمل سرفراز کو ان دیکھی آگ میں دھکیل گیا تھا یہ لڑکی اب ہر بار اس کی انا کو للکارنے لگی تھی۔۔ "یہیں رکو مجھے بات کرنی ہے۔" سرفراز شاہ نے اس کے دوپٹے کو گھورتے کہا جو اب بھی اس کے کندھے پر تھا یعنی اس نے سرفراز شاہ کی موجودگی میں بھی اپنا سر ڈھانپنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی جبکہ نزہت بیگم اپنے پہلے سے ٹھیک چادر کو دوبارہ سے دوست کر گئی تھیں بے شک سر فراز شاہ ان کے بیٹے جیسا تھا مگر یہاں کی عورتیں اپنے سروں کو ہمیشہ ایسے ہی ڈھانپے رکھتی تھیں۔ "چچی سب سے پہلے تو معذرت کہ آپ کو یہ کہنے لگا ہوں کہ آپ نے اپنی اس بیٹی کو بات کرنے کی تمیز تک نہیں سکھائی۔ اس کے رنگ ڈھنگ ہیں اس لائق کہ یہ سرفراز شاہ کی بیوی کہلائی جا سکے۔" سرفراز شاہ خشک لب و لہجے میں زمل کو دیکھتے بولا تو نزہت بیگم حیرانگی اور پریشانی سے اس دیکھنے لگیں ۔۔جبکہ زمل بری طرح سلگی تھی اس نے سرفراز شاہ کو کوئی سلگتا ہوا جواب دینے کے لیے لب وا کیے ہی تھے مگر نزہت بیگم جھٹ ملتجی نگاہوں سے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلا گئی تو زمل نے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کیا تھا۔ "میں اسے سب سکھا اور سمجھا دوں گی بیٹا تم فکر نہیں کرو۔ابھی چھوٹی ہے نا تو نادانی کر جاتی ہے۔" نزہت بیگم نے بغیر وجہ جانے گھبرائے ہوئے لہجے میں زمل کی طرف سے صفائی دی تو زمل شاہ کے اندر کڑواہٹ گھلنے لگی ۔۔اس کی ماں یہ لجاجت بھرا انداز اسے سخت زہر لگا تھا۔ "اس کی توجہ گھر کی باقی عورتوں کی طرح تہذیب اور گھر داری کی طرف کروائیں۔ خالی دماغ شیطان کا ہوتا ہے تو اس سے پہلے میں اس کی اونچی اڑان بھرنے کے خواب مٹی میں ملاؤں اسے ایسی تربیت دیں کہ سب کو اسے دیکھتے ہی پتہ لگ سکے کہ سرفراز شاہ کی عورت ہے۔" سرفراز شاہ کی ہر بات میں خود کو لے کر بہت اکڑ اور غرور شامل تھا۔ جس پر زمل کے لبوں پر ایک لمحے کے لیے تمسخر بھری مسکراہٹ بھری اور پھر وہ سر جھٹکتے سرفراز شاہ اور اپنی ماں کی باتوں کو یکسر نظر انداز کیے وہاں سے چلتی بنی تو نزہت بیگم کا چہرہ فق پڑا تھا اور انہوں نے سرفراز شاہ کو دیکھا جو ناپسندیدگی سے زمل کی پشت کو گھور رہا تھا۔زمپ شاہ بغیر کچھ بولے ہی اپنی نظروں میں سرفراز شاہ کی اہمیت جتا گئی تھی۔ نزہت بیگم کو بے ساختہ اپنی بیٹی پر بے پناہ غصہ آیا تھا جو اپنے لیے اپنی حرکتوں سے خود مشکلات کھڑی کر رہی تھی۔ "معاف کرنا بیٹا۔ آئندہ سے آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا میں اسے ۔۔۔" نزہت بیگم التجا سے بھرپور انداز میں بول رہی تھیں جب سرفراز شاہ بیچ میں ٹوک گیا۔ "آپ کا سمجھانا ہی اس کے حق میں بہتر رہے گا ورنہ جو اگر میں اسے اس گھر کے اصول سمجھانے پر آ گیا تو یہ پچھتائے گی۔" سرفراز شاہ سختی سے بولتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ زمل شاہ آج پھر کچھ ہی دیر میں اس کے دماغ کو تپا گئی تھی۔سرفراز شاہ اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا تھا۔ زمل شاہ اس وقت سرفراز شاہ کی بہن ارحہ کے کمرے میں موجود تھی۔ ارحہ کی کچھ دن تک شادی طے کر دی تھی اور اسے یہ تک بتایا نہیں گیا تھا کہ وہ لڑکا کون ہے؟ کیسا ہے ؟ اس کی مرضی پوچھے بنا بس اس پر فیصلہ تھوپا گیا تھا اسی لیے وہ اپنے مستقبل کی فکروں میں گھری مسلسل رو رہی تھی اور زمل بجائے اسے دلاسہ دینے کے اسے اپنے لیے آواز اٹھانے پر اکسا رہی تھی۔ اسے اس وقت گھر کے سب مردوں کے ساتھ سرفراز شاہ پر شدید ترین غصہ آ رہا تھا جسے اپنی بہن تک کی پرواہ نہیں تھی وہ کتنا بے حس تھا یہ زمل کو اچھے سے پتہ چل رہا تھا۔۔ جبھی اچانک کمرے میں ارحہ کی ماں صائمہ بیگم چلی آئیں تھیں ان کے کانوں میں زمل کی بولی گئی کئی باغی باتیں پڑ گئی تھیں اسی لیے وہ آتے ہی اسے ارحہ سے دور جھٹک گئیں تو وہ چونکہ ان کی آمد سے لاعلم تھی اسی لیے زمل نے بوکھلا کر انہیں دیکھا تھا۔ "اے لڑکی کیا الٹی سیدھی باتیں سکھا رہی ہو میری بیٹی کو۔ شرم نہیں آ رہی تمہیں اسے یہ سب کہتے ہوئے۔ کیوں ہمارا سر جھکانا چاہتی ہو تم؟". صائمہ بیگم ارحہ اور زمل کے درمیان میں آ کھڑی ہوئی تھیں۔وہ اب زمل کو سالم نگل جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ انہیں تو پہلے ہی زمل پسند نہیں تھی مگر جب سے وہ ان کے بیٹے کے نکاح میں آئی تھی تب سے تو وہ اس سے بیر باندھ چکی تھیں ۔۔ "ہاں میں انہیں سمجھا رہی ہوں کہ ہم لڑکیاں کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں جس کا جب دل چاہا ہمیں ایک کھونٹے سے دوسری جگہ منتقل کر دیا ہم جیتی جاگتی انسان ہیں تو ان دیکھی دلدل میں اترنے سے پہلے اپنے بچاؤ کی کوشش کر لیں۔" زمل تھوڑی دیر کے لیے ڈری تھی کہ صائمہ بیگم کا رعب و دبدبہ بھی کمال کا تھا مگر پھر اپنی ازلی عادت کی بدولت وہ چپ نہیں رہ سکی تھی۔ "تمہیں تو بیٹھے بیٹھائے میرا اتنا ہونہار بیٹا مل گیا تو تمہیں کس بات کی آگ لگ رہی ہے۔ ایک بار حالات میری مٹھی میں آ جائیں میں سرفراز شاہ کی دوسری شادی کروا کر رہوں گی۔" صائمہ بیگم نے اونچی آواز میں اپنے ارادے بتائے۔ "کل کیوں میری طرف سے آج ہی اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروا دیں ایک چھوڑ چار بیویاں لا دیں اسے کیونکہ میری کو تنکہ برابر فرق نہیں پڑتا۔" زمل شاہ بغیر ڈرے اپنی بھڑاس نکال رہی تھی جب اچانک صائمہ بیگم کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے انہوں نے چہرے پر دوپٹہ رکھا ۔۔ "سرفراز شاہ اپنی منکوحہ کی لمبی زبان دیکھو یہ کتنی بدتمیزی کر رہی ہے میرے ساتھ۔" کمرے کا دروازہ چوپٹ کھلا ہوا تھا اسی لیے سامنے راہداری سے گزرتے سرفراز شاہ پر نظر پڑتے ہی صائمہ بیگم نے پینترا بدلا تھا۔۔ وہ چہرے پر مصنوعی دکھ سجا گئی تھیں۔ سرفراز شاہ تو اپنی ماں کی بات پر غصے سے آگ بگولہ ہوتا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**عاشقی عشق کی داستان** از زریش حسین ایک سخت مزاج ہیرو، خوددار ہیروئن، خاندانی روایات اور عورت کے حقِ تعلیم پر مبنی جذباتی اردو ناول ہے، جس کے مرکزی کردار سرفراز شاہ اور زمل شاہ ہیں۔
سرفراز شاہ ایک بااثر اور سخت مزاج شخص ہے جس کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں مردوں کے فیصلوں کو حتمی حیثیت حاصل ہے۔ وہ پنچایت کے معاملات میں بھی حصہ لیتا ہے اور خاندان کی عورتوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ مقررہ روایات اور اصولوں کی پابندی کریں۔
اس کے برعکس زمل شاہ ایک خوداعتماد، نڈر اور بلند حوصلہ لڑکی ہے۔
وہ اپنی زندگی کو بے بنیاد خاندانی رسموں کی نذر نہیں کرنا چاہتی بلکہ تعلیم حاصل کرکے اپنی شناخت بنانا چاہتی ہے۔
زمل شاہ سرفراز سے دس سال چھوٹی ہے۔
خاندان سے باہر نکاح نہ کرنے کی روایت کے باعث دونوں کا نکاح کر دیا جاتا ہے، حالانکہ نہ سرفراز اس رشتے میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ زمل اس فیصلے سے خوش ہوتی ہے۔
نکاح کو دو ماہ گزر چکے ہوتے ہیں، لیکن سرفراز اپنی منکوحہ سے بات کرنا تو دور، اسے دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔
ایک دن زمل ہمت کرکے سرفراز کے کمرے میں پہنچتی ہے۔
وہ اس سے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت مانگتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اگر اسے آگے پڑھنے کی اجازت نہ ملی تو وہ شادی کے اگلے مرحلے پر رضامند نہیں ہوگی۔
زمل کا یہ مطالبہ سرفراز کی انا کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔
وہ اس کی تعلیم اور مردوں کے مقابل کھڑے ہونے کی خواہش پر طنز کرتا ہے۔
لیکن زمل خاموش نہیں رہتی۔
وہ جواب دیتی ہے کہ اگر وہ جاہل رہی تو اس کا اثر آنے والی نسل پر بھی پڑے گا۔
اس کی بات سن کر سرفراز غصے میں اس کا جبڑا دبوچ لیتا ہے اور اسے دوبارہ اپنے مقابل آنے سے خبردار کرتا ہے۔
مگر زمل خوف زدہ ہو کر خاموش ہونے کے بجائے اس کا ہاتھ جھٹک دیتی ہے۔
وہ صاف کہتی ہے کہ سرفراز چاہے جو مرضی کر لے، وہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
زمل کا یہ رویہ سرفراز کے لیے غیرمتوقع ہوتا ہے۔
وہ پہلی مرتبہ اپنی منکوحہ کی شخصیت اور مضبوط ارادوں کی طرف پوری توجہ دینے لگتا ہے۔
بعد میں سرفراز زمل کو اس کی ماں نزہت بیگم کے ساتھ دیکھتا ہے۔
زمل کے بے تکلف انداز، لباس اور اپنی بات پر قائم رہنے کی عادت کو وہ خاندانی اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے۔
وہ نزہت بیگم کے سامنے زمل کی تربیت پر اعتراض کرتا ہے اور اسے گھر کی دوسری عورتوں کی طرح رہنے کی تلقین کرنے کو کہتا ہے۔
زمل یہ گفتگو سن کر بھی سرفراز کے سامنے جھکنے کے بجائے وہاں سے چلی جاتی ہے۔
اس کے بعد کہانی میں سرفراز کی بہن ارحہ کا معاملہ سامنے آتا ہے۔
ارحہ کی شادی اس کی مرضی پوچھے بغیر طے کر دی گئی ہوتی ہے، حتیٰ کہ اسے اپنے ہونے والے شوہر کے بارے میں مناسب معلومات بھی نہیں دی جاتیں۔
وہ اپنے مستقبل کے خوف سے رو رہی ہوتی ہے۔
زمل اسے تسلی دینے کے ساتھ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا مشورہ دیتی ہے۔
لیکن ارحہ کی ماں صائمہ بیگم زمل کی باتیں سن لیتی ہیں۔
وہ زمل پر اپنی بیٹی کو بغاوت سکھانے کا الزام لگاتی ہیں۔
زمل جواب دیتی ہے کہ لڑکیاں کوئی بے جان چیز نہیں جنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے، بلکہ وہ بھی اپنی زندگی کے فیصلوں میں رائے رکھنے کا حق رکھتی ہیں۔
اس کی بات پر صائمہ بیگم غصے میں سرفراز کی دوسری شادی کروانے کی دھمکی دیتی ہیں۔
زمل بے خوفی سے جواب دیتی ہے کہ وہ چاہیں تو آج ہی اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروا دیں۔
اسی دوران سرفراز وہاں سے گزرتا ہے۔
صائمہ بیگم فوراً اس کے سامنے زمل کی شکایت کرتی ہیں۔
اپنی ماں کی بات سن کر سرفراز شدید غصے میں کمرے میں داخل ہوتا ہے۔
یہیں فراہم کردہ کہانی کا حصہ ختم ہوتا ہے۔
**عاشقی عشق کی داستان** میں سرفراز کی انا، زمل کی خودداری، عورتوں کی تعلیم، خاندانی رسموں اور مرضی کے بغیر طے ہونے والی شادیوں کے مسائل کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کیا زمل اپنی تعلیم جاری رکھ سکے گی؟ کیا سرفراز اس کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کرے گا؟ اور کیا صائمہ بیگم کی دوسری شادی کی دھمکی خاندان میں ایک نیا تنازع پیدا کرے گی؟
ان سوالات کے جواب کہانی کے آئندہ واقعات میں سامنے آئیں گے۔
Summary — Urdu
**عاشقی عشق کی داستان** از زریش حسین ایک خوددار لڑکی اور سخت مزاج مرد کے درمیان نظریاتی کشمکش پر مبنی اردو ناول ہے۔
سرفراز شاہ ایک بااثر اور رعب دار شخص ہے جس کے خاندان میں مردوں کے فیصلوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔
زمل شاہ اس کی دس سال چھوٹی کزن ہے۔ خاندان کی روایت کے مطابق دونوں کا نکاح ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ دونوں اس رشتے سے خوش نہیں ہوتے۔
زمل اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے، لیکن سرفراز عورتوں کے لیے مقررہ خاندانی اصولوں سے ہٹ کر سوچنے کو پسند نہیں کرتا۔
نکاح کے دو ماہ بعد زمل اس کے سامنے اپنی تعلیم کا مطالبہ رکھتی ہے۔
سرفراز اسے سخت لہجے میں جواب دیتا ہے اور اس کے مؤقف پر غصہ ظاہر کرتا ہے۔
لیکن زمل اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔
وہ واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی اور مستقبل کے بارے میں خود بھی رائے رکھتی ہے۔
زمل کی نڈر شخصیت سرفراز کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
بعد میں سرفراز اس کے رویے پر اس کی ماں نزہت بیگم سے شکایت کرتا ہے اور زمل کو خاندانی اصول سکھانے کی ہدایت دیتا ہے۔
دوسری طرف سرفراز کی بہن ارحہ کی شادی اس کی مرضی پوچھے بغیر طے کر دی جاتی ہے۔
زمل اسے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا مشورہ دیتی ہے۔
یہ بات ارحہ کی ماں صائمہ بیگم کو پسند نہیں آتی۔
وہ زمل کو ڈانٹتی ہیں اور سرفراز کی دوسری شادی کروانے کی دھمکی دیتی ہیں۔
زمل بے خوفی سے جواب دیتی ہے کہ وہ چاہیں تو فوراً دوسری شادی کروا دیں۔
اسی وقت سرفراز وہاں پہنچ جاتا ہے اور اپنی ماں کی شکایت سن کر غصے میں کمرے میں داخل ہوتا ہے۔
کیا زمل اپنی تعلیم اور خودداری کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکے گی؟ اور کیا سرفراز اپنی خاندانی سوچ پر قائم رہے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain?
Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain is written by Zarish Hussain.
Is Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Age Gap Romance and Complete Urdu Novel.
Where can I read Ashiqi Ishq Ki Dastan Novel 20164 — Zarish Hussain?
The reading content is available in the Read online section of this page.