Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan
Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan
By TK Novels
سکینہ حیدر اپنی شادی کے دن بیوٹی پارلر سے اچانک لاپتا ہو گئی۔ گھر والوں نے سمجھ لیا کہ وہ نکاح سے بھاگ گئی ہے، جبکہ برہان اسے اپنی بے عزتی کا ذمہ دار سمجھ کر تلاش کرتا رہا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سکینہ کو بے ہوش کر کے اغوا کیا گیا ہے اور وہ خاندان کے دشمنوں کی قید میں شدید ظلم برداشت کر رہی ہے۔ تقریباً دو ماہ بعد برہان کو اس کا سراغ ملا۔ وہ اپنے محافظوں کے ساتھ ایک ویران عمارت کے تہہ خانے میں پہنچا تو سکینہ کو انتہائی زخمی اور نیم بے ہوش حالت میں دیکھ کر ٹوٹ گیا۔ وہ اسے فوراً ہسپتال لے گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت کے بارے میں ایک سنگین اطلاع دی۔ کیا برہان اصل مجرموں تک پہنچ سکے گا اور سکینہ کو انصاف مل پائے گا؟
Sneak
" کتنی بار کہا ہے اس بھاگی ہوئی لڑکی کا نام میرے سامنے مت لیا کرو ۔ " دادا جان دھاڑے جبکہ برہان لب بھینچ گیا۔ وہ سکینہ تھی اس کے چچا کی چھوٹی بیٹی جس سے برہان کا رشتہ طے ہوا تھا برہان نے اس رشتے کی بہت مخالفت کی تھی کیونکہ اسے سکینہ کے لاؤبالی نیچر سے چڑھ تھی لیکن عین نکاح کے دن سکینہ پارلر سے بھاگ گئی تھی۔ کچھ دن اسے ڈھونڈنے کے بعد سب نے اسے مردہ قرار دے دیا تھا لیکن برہان اسے اب تک تلاش کر رہا تھا۔ تاکہ اسے سزا دے سکے پر کوئی نہیں جانتا تھا وہ معصوم بھاگی نہیں تھی بلکہ اسی پارلر والی کے ذریعے اغواء کروا کر ان کے دشمنوں تک پہنچائی گئی تھی اور اس معصوم کو ظلم کا شکار ہوتے دوسرا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ " میں اسے ہر حال میں ڈھونڈوں گا دادا جان۔۔۔وہ میری مجرم ہے۔میری غیرت پر وار کیا۔" کہتے وہ غصے سے نکلا جب اس کا خاص ملازم دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا اور۔۔۔ بارات کا دن تھا۔ اسکا دل گھبرا رہا تھا۔ اسنے کتنی مرتبہ سب کو کہا تھا کہ اسکا دل گھبرا رہا ہے مگر سب اسے کہہ رہے تھے شادی سے پہلے ایسا ہوتا ہے۔ وہ اپنے کمرے سے نکل رہی تھی جب برہان سے ٹکرائی وہ اگر اسے بروقت نہ تھامتا وہ گر جاتی۔ "دنیا کدھر ہے تمہارا۔ اور تم تو کیوں رہی ہو." ماتھے پر بل ڈالتے پوچھا۔ "میرا دل گھبرا رہا ہے میں سب کو کہہ رہی ہوں کوئ بھی نہیں سمجھ رہا۔ سب کہہ رہے ہیں نارمل ہے۔" اسنے نرمی سے چھوڑا۔ "کیا ہوا ہے بتاو۔" "مجھے لگ رہا ہے میرا دل بند ہو جائے گا۔ شاید میں مر جاؤں گی۔ میں کیا کروں۔" وہ اسے تسلی دیتا چلا گیا۔ کہ کچھ نہیں ہوتا۔ برہان کو لگ رہا تھا شاید اس سے شادی سے پہلے کی انزائٹی ہو رہی تھی۔ اسے پارلر چھوڑ کر عاشر آیا تھا۔ عاشر کا دل نہیں کیا تھا واپس آنے کو جیسے کچھ غلط ہو جاے گا مگر گھر میں کام تھے۔ پارکر والی نے تیار کر کے جانے کیا کھلایا تھا وہ بے ہوش ہو گئ۔ اور اس کے بعد اسے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے کہاں گئ۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک عجیب و غریب سے کمرے میں موجود تھی۔ آٹھ کر دروازے تک گئ وہ لاک تھا۔ اسکے پاس فون بھی نہیں تھا۔ اسی وقت دروازہ کھلا تھا اور کوئ آیا تھا۔ ہاں وہ اسے پہچانتی تھی اس دن برہان کے ساتھ جب وہ تھی تب وہ آیا تھا۔ "ہوش آ گیا بے بی ڈول! بڑی ہی نازک طبیعت کی مالک ہو پانچ لگے اٹھنے میں۔" "میری شادی ہے مجھے چھوڈ کر آؤ۔ سب میرا انتظار کر رہے ہوں گے." عاشر اسے پارلر سے پک کرنے گیا تھا تو اسے کہا گیا کہ وہ چلی گئ ہیں۔ وہ وہاں کتنی ہی دیر کھڑا رہا تھا کہاں چلی گئ تھی جس کے ساتھ گئ تھی۔ اسنے برہان کو کال کی وہ ہال میں تھا۔ وہیں سے وہاں آیا تھا۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی تھی۔ سب نے اسے کتنا برا بھلا کہا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ بھاگ گئے تھی۔ برہان غصے میں اپنے کمرے میں گیا تھا۔ وہ چھٹانک بھر کی لڑکی اسے بے عزت کر کے چلی گئی تھی۔ " دیکھیں آپ جو بھی ہیں آپ مجھے یہاں نہیں رکھ سکتے۔" وہ لڑکھڑائ نہیں تھی۔" "کیوں مجھے تو تم پسند آ گئ ہو۔ بھول جاؤ کہ تمہیں واپس بھی بھیجا جاۓ گا۔" وہ قدم قدم چلتا آ رہا تھا اور وہ خود سے پیچھے ہو رہی تھی۔ وہ گر گئ تھی اور وہ اس پر جھک گیا۔ وہ سب کو بلاتی رہی ماں باپ برہان۔۔۔ سب کو مگر کوئ نہیں آیا تھا اس کے لیے۔ وہ دو ماہ تک ان کے زیر اعتاب رہی تھی۔ رات کو کوئ کھانا دے جاتا یا کبھی وہ بھی نہیں۔ درد سے بے حال وجود اکثر ہی نیم بے ہوش رہتا۔ سب لوگ دادا ابو کے کمرے میں بیٹھے تھے جب دادا نے برہان کا سنجیدہ پن دیکھا تھا اور اسے شادی کا کہا تھا۔ "دادا ابو جب تک وہ مل نہیں جاتی تب تک میں کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتا۔" وہ کہہ کر اٹھا "کتنی بار کہا ہے اس بھاگی ہوئی لڑکی کا نام میرے سامنے مت لیا کرو " دادا جان دھاڑے جبکہ برہان اپنے لب بھینچ گیا۔وہ سکینہ حیدر تھی اس کے چچا کی چھوٹی بیٹی جس سے برہان کا رشتہ طے ہوا تھا برہان نے اس رشتے کی بہت مخالفت کی تھی کیونکہ اسے سکینہ کے لاؤبالی نیچر سے چڑھ تھی پر کسی نے اس کی بات نہیں سنی تھی لیکن عین نکاح کے دن سکینہ پارلر سے بھاگ گئی تھی۔ کچھ دن اسےپ ڈھونڈنے کے بعد سب نے اسے مردہ قرار دے دیا تھا لیکن برہان اسے اب تک تلاش کررہا تھا۔تاکہ اسے سزا دے سکے پر کوئی نہیں جانتا تھا وہ معصوم بھاگی نہیں تھی بلکہ اسی پارلر والی کے ذریعے اغواء کروا کر ان کے دشمنوں تک پہنچائی گئی تھی اور اس معصوم کو ظلم کا شکار ہوتے دوسرا مہینہ شروع ہوچکا تھا۔"میں اسے ہر حال میں ڈھونڈوں گا دادا جان۔۔وہ میری مجرم ہے۔۔میری غیرت پر وار کیا ہے ۔۔" کہتے وہ غصے سے نکلا جب اس کا خاص ملازم دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا اور ہانپتے ہوۓ رکا۔ "صاحب جی۔۔ وہ۔۔۔۔" "کیا وہ فضلو۔۔۔" برہان ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ "صاحب جی وہ سکینہ باجی۔۔۔" اسکے کہنے پر اسکی ساری حسیات جاگیں۔ "صاحب جی وہ مل گئیں ہیں۔" "تو ہم کیا کریں ہمارے لیے وہ مر گئ ہے۔ جب بھاگی تھی تو سب ختم کر کے بھاگی تھی۔" دادا جی دھاڑے۔ برہان فضلو کو اشارہ کرتا تیزی سے باہر نکلا تھا۔ گارڈز جلدی سے گاڑی میں بیٹھے۔ فضلو نے گاڑی سٹارٹ کی اور برہان فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا۔ آگے پیچھے تین گاڑیاں گیٹ سے نکلیں تھیں۔ برہان کے جبڑے بھینچے ہوۓ تھے۔ ایک مرتبہ مل جاے وہ اس سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا تھا۔ گاڑی ایک دور دراز علاقے میں عجیب سی جگہ پر رکی۔ برہان نے نا سمجھیں سے فضلو کو دیکھا۔ اسکی دائیں طرف ایک بوسیدہ سی عمارت دکھتی تھی۔ وہ باہر نکل کر اندر کی جانب بڑھے۔ وہاں کوئ موجود نہ تھا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ تہہ خانے میں پہنچے وہاں ھو منظر نظر آیا تھا برہان کی آنکھیں ابل ائیں۔ اسنے فضلو کو اشارہ کیا وہ تمام گارڈز کو لے کر باہر نکل گیا۔ "سکینہ۔۔۔۔ سکینہ۔۔۔" اسنے پکارا مگر وہ نیم بے ہوشی میں تھی۔ ہر طرف خون تھا۔ وہ بلکل کمزور وجود تھا جو سکینہ تو بلکل بھی نہیں لگتی تھی۔ "ماما۔۔۔۔" وہ کراہ رہی تھی، ہلکی سی آنکھیھ کھلی تو اسے برہان دکھائ دیا۔ اسے تو کبھی بھی کوئ بھی دکھ جاتا تھا۔ "برہان۔۔۔۔" اتنی ہلکی آواز برہان بمشکل سن پایا۔ وہ گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا تھا۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اسنے کتنا کچھ سوچا تھا یہ تو نہیں سوچا تھا۔ سکینہ کی آنکھیں بند ہوئیں۔ برہان نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔ مگر وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ کوئ جواب دے سکتی۔ اسنے اپنی چادر اتار کر اس پر دی اور اسے گود میں اٹھایا۔ وہ باہر نکلا تو سب گارڈز نے نظریں نیچے کیں۔ "ہسپتال چلو۔" وہ کہہ کر گاڑی کی جانب بڑھا اسے پچھلی سیٹ پر لٹایا۔ خود وہ فرنٹ سیٹ پر ترچھا ہو بیٹھا۔ "فضلو پتہ کرواؤ کس کا ٹھکانہ ہے یہ۔" "جی صاحب مجھے پتہ ہے۔ حیات صاحب کے پوتے داؤد صاحب نے خریدہ ہے جی یہ۔ پچھلے تین ماہ سے یہ انکے پاس ہے۔" برہان اسکی رگیں تن گئیں۔ وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹرز نے کہا تھا پولیس کیس ہے۔ "میں پولیس کو بلا چکا ہوں آپ علاج شروع کیجئیے۔" اسکی آواز میں منٹ تھی۔ ڈاکٹرز نے علاج شروع کر دیا۔ اسنے گھر کال کر کے چچا کو خبر کر دی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی چاچا اور چاچی آ گئے تھے۔ ڈاکٹر نے باہر آ کر جو خبر دی اسنے انکے پیروں تلے سے زمین نکال لی۔ سکینہ کے ساتھ۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**قربتِ یار از ٹی کے ناولز** ایک دردناک، جذباتی اور خاندانی دشمنی پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں شادی کے دن اچانک لاپتا ہونے والی ایک لڑکی کو اس کے اپنے ہی گھر والے غلط سمجھ بیٹھتے ہیں۔
سکینہ حیدر ایک شوخ اور لاابالی طبیعت کی لڑکی تھی۔
اس کا رشتہ اس کے کزن برہان سے طے کیا گیا تھا، لیکن برہان اس فیصلے سے خوش نہیں تھا۔
اسے سکینہ کا بے فکر انداز پسند نہیں تھا اور وہ اس رشتے کی مخالفت کر چکا تھا۔
اس کے باوجود گھر والوں نے دونوں کی شادی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
بالآخر شادی کا دن آ پہنچا۔
اس دن سکینہ کا دل عجیب انداز میں گھبرا رہا تھا۔
وہ بار بار گھر والوں کو بتا رہی تھی کہ اسے کچھ برا ہونے کا احساس ہو رہا ہے، مگر سب اسے شادی سے پہلے کی معمول کی گھبراہٹ سمجھ رہے تھے۔
برہان سے سامنا ہونے پر بھی سکینہ نے اپنی پریشانی ظاہر کی۔
برہان نے اسے تسلی دی کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
اسے بھی یہی لگا کہ سکینہ شادی کے باعث پریشان ہے۔
کچھ دیر بعد سکینہ کو تیار ہونے کے لیے بیوٹی پارلر بھیج دیا گیا۔
عاشر اسے پارلر چھوڑنے گیا تھا، مگر واپس آتے ہوئے اسے بے چینی محسوس ہوئی۔
پارلر میں سکینہ کو تیار کرنے کے بعد کچھ کھلایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہو گئی۔
جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک اجنبی کمرے میں موجود تھی۔
دروازہ بند تھا اور اس کے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے کہاں لایا گیا ہے۔
پھر کمرے میں ایک شخص داخل ہوا جسے سکینہ پہلے بھی برہان کے ساتھ دیکھ چکی تھی۔
سکینہ نے اس سے التجا کی کہ اسے واپس پہنچا دیا جائے کیونکہ آج اس کی شادی تھی اور گھر والے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
مگر اس شخص نے اسے واپس بھیجنے سے انکار کر دیا۔
دوسری طرف جب عاشر سکینہ کو لینے پارلر پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ وہ وہاں سے جا چکی ہے۔
یہ خبر سنتے ہی گھر میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
برہان کو بھی اطلاع دی گئی۔
سب نے سمجھ لیا کہ سکینہ اپنی شادی کے دن بھاگ گئی ہے۔
کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا کہ وہ کسی سازش کا شکار ہو سکتی ہے۔
برہان اس واقعے کو اپنی بے عزتی سمجھ بیٹھا۔
گھر والوں نے بھی سکینہ کے بارے میں سخت باتیں کیں۔
کچھ دن تلاش کرنے کے بعد انہوں نے اسے اپنی زندگی سے خارج سمجھ لیا، مگر برہان نے اس کی تلاش جاری رکھی۔
وہ اسے ڈھونڈ کر اپنی بے عزتی کا حساب لینا چاہتا تھا۔
اس دوران سکینہ ایک نامعلوم مقام پر قید تھی۔
اسے شدید ظلم اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
کبھی اسے کھانا دیا جاتا اور کبھی وہ بھی نہیں ملتا۔
اس کی جسمانی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی تھی۔
تقریباً دو ماہ گزر گئے۔
ایک دن دادا جان نے برہان سے دوسری شادی کے بارے میں بات کی، مگر برہان نے انکار کر دیا۔
اس نے کہا کہ جب تک سکینہ نہیں مل جاتی، وہ کسی اور رشتے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
دادا جان سکینہ کا نام سن کر غصے میں آ گئے۔
وہ اسے اب بھی بھاگی ہوئی لڑکی سمجھتے تھے۔
اسی دوران برہان کا خاص ملازم فضلو دوڑتا ہوا آیا۔
اس نے بتایا کہ سکینہ مل گئی ہے۔
یہ خبر سنتے ہی برہان اپنے محافظوں کے ساتھ فوراً روانہ ہو گیا۔
وہ ایک دور دراز علاقے کی بوسیدہ عمارت میں پہنچے۔
تلاش کرتے ہوئے برہان تہہ خانے تک پہنچا، جہاں اسے ایک ایسا منظر دکھائی دیا جس نے اس کے تمام خیالات بدل دیے۔
سکینہ شدید زخمی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں موجود تھی۔
اس کا جسم انتہائی کمزور ہو چکا تھا۔
وہ بمشکل بول پا رہی تھی۔
برہان اسے اس حالت میں دیکھ کر رو پڑا۔
وہ جس لڑکی کو اپنی بے عزتی کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا، وہ دراصل ایک سنگین جرم کا شکار ہوئی تھی۔
برہان نے اپنی چادر سکینہ پر ڈالی اور اسے اٹھا کر فوراً ہسپتال لے گیا۔
راستے میں اسے معلوم ہوا کہ اس عمارت کا تعلق حیات صاحب کے پوتے داؤد سے ہے۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں نے معاملے کی نوعیت دیکھتے ہوئے اسے پولیس کیس قرار دیا۔
برہان نے پولیس کو اطلاع دینے کی بات کی اور ڈاکٹروں سے علاج شروع کرنے کی درخواست کی۔
اس نے سکینہ کے والدین کو بھی خبر دے دی۔
وہ ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے انہیں سکینہ کی حالت کے بارے میں ایک ایسی اطلاع دی جس سے سب شدید صدمے میں آ گئے۔
لیکن اس اطلاع کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی تھی۔
اب سوال یہ تھا کہ سکینہ کے اغوا کے پیچھے اصل منصوبہ کس کا تھا؟
داؤد اس معاملے میں کس حد تک ملوث تھا؟
اور کیا برہان اپنی غلط فہمی کا احساس ہونے کے بعد سکینہ کے لیے انصاف حاصل کر سکے گا؟
**قربتِ یار** اغوا، خاندانی دشمنی، غلط الزامات، ظلم، پچھتاوے اور انصاف کی جدوجہد پر مبنی جذباتی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**قربتِ یار** سکینہ حیدر اور برہان کی کہانی ہے، جن کا رشتہ خاندان کی مرضی سے طے ہوتا ہے۔
برہان سکینہ کی لاابالی طبیعت کے باعث اس رشتے کی مخالفت کرتا ہے، لیکن گھر والے اس کی بات نہیں مانتے۔
شادی کے دن سکینہ کو شدید گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔
وہ سب کو اپنی پریشانی بتاتی ہے، مگر گھر والے اسے معمول کی گھبراہٹ سمجھتے ہیں۔
بعد میں سکینہ کو تیار ہونے کے لیے بیوٹی پارلر بھیجا جاتا ہے۔
وہاں اسے بے ہوش کر کے اغوا کر لیا جاتا ہے۔
جب عاشر اسے لینے پہنچتا ہے تو پارلر سے بتایا جاتا ہے کہ سکینہ جا چکی ہے۔
اس خبر کے بعد خاندان سمجھ لیتا ہے کہ سکینہ نکاح کے دن بھاگ گئی ہے۔
برہان بھی اسے اپنی بے عزتی کا ذمہ دار سمجھتا ہے اور اسے سزا دینے کے ارادے سے تلاش کرتا رہتا ہے۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
سکینہ کو اغوا کر کے خاندان کے دشمنوں تک پہنچایا گیا ہوتا ہے، جہاں اسے تقریباً دو ماہ تک شدید ظلم اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک دن برہان کے ملازم فضلو کو سکینہ کے بارے میں اطلاع ملتی ہے۔
برہان فوراً اپنے محافظوں کے ساتھ ایک ویران عمارت میں پہنچتا ہے۔
وہاں تہہ خانے میں سکینہ کو انتہائی خراب حالت میں دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔
وہ فوراً اسے ہسپتال منتقل کرتا ہے۔
راستے میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمارت کا تعلق داؤد سے ہے۔
ہسپتال میں سکینہ کا علاج شروع ہوتا ہے اور برہان اس کے والدین کو بھی اطلاع دیتا ہے۔
ڈاکٹر سکینہ کی حالت کے بارے میں ایک سنگین خبر دیتے ہیں، مگر اس کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آتی۔
اب کیا برہان سکینہ کے اغوا کی اصل حقیقت جان سکے گا؟
کیا سکینہ کو انصاف ملے گا؟
اور کیا خاندان اپنی غلط فہمی اور سکینہ پر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan?
Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan is written by TK Novels.
Is Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Cousin Marriage Based.
Where can I read Qurbat e Yaar Novel21037 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.