Shab e Zafaf Ka Dasht Urdu novel cover
767.9kViews
#477Ranking
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Shab e Zafaf Ka Dasht Novel21039 — Novelistan

By HM

Rate this novel

زرمین نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ خاندانی دشمنی کی قیمت اسے اپنی زندگی کے سب سے خوفناک لمحوں سے ادا کرنی پڑے گی۔ ونی کی رسم کے تحت اسے میر حویلی بھیج دیا گیا، جہاں میر افنان کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت اور انتقام تھا۔ وہ بار بار رحم کی فریاد کرتی رہی، لیکن اس کی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر رہ گئی۔ شادی کی پہلی رات اس پر ہونے والے ظلم کو سب نے سنا، مگر کوئی اس کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھا۔ صبح ہوئی تو زرمین زخمی اور نیم بے ہوش تھی، جبکہ میر افنان اسے اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے ملک روانہ ہو چکا تھا۔ اب اس معصوم لڑکی کی زندگی کس رخ پر جائے گی، اور کیا کبھی اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حساب لیا جائے گا؟

Sneak

زرمین خاندانی دشمنی میں ونی ہوئی تھی وہ میر حویلی جانوروں کی طرح لائی گئی میرا افنان نے غصے سے اسے بستر پر پھینکا اور پھر حیوانوں کی طرح اس کی جانب لپکا تھا چھبیس سالہ معصوم لڑکی زرمین کی چینخیں پوری حویلی میں گونجی تھیں ساری حویلی کی عورتیں اپنے کان بند کرنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر افسوس نہیں یہ چینخیں ساری رات سننی تھیں انہیں اس معصوم پر ترس آیا جو شادی کی پہلی رات خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھی تھی رات بھر اس کا چلانا سب سنتی رہیں۔ مگر کسی میں ہمت نہیں تھی میر افنان کے سامنے آواز اٹھانے کی۔ جب اس معصوم کا چلانا بند ہوا تو میر افنان نے اس کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھا اور نفرت سے دور دھکیل کر اپنا سامان پیک کیا اور یوں اس کے جسم پر اذیت کی داستان رقم کر کے اگلی صبح۔۔۔۔۔۔

کلائی کو اپنی لوہے جیسی گرفت میں دبا لیا "آآآہ...!" زرمین کے حلق سے دردناک چیخ نکلی۔ لیکن افنان کے دل میں رحم کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ اس نے زرمین کو گاڑی سے باہر یوں کھینچا جیسے کوئی کسی بے جان کھلونے کو گھسیٹتا ہے۔ چودہ سالہ زرمین کے نازک پاؤں حویلی کے نوک دار پتھروں اور سخت سیڑھیوں سے جا رہے تھے۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں۔ اس کے قدموں سے خون کی باریک لکیریں بنتی جا رہی تھیں، لیکن افنان کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ "تمہارے باپ کو لگتا ہے وہ تمہیں 'ونی' میں بھیج کر، تمہاری قربانی دے کر اس خاندانی دشمنی کو ختم کر سکتا ہے؟" افنان کی بھاری اور غصے سے کانپتی آواز حویلی کی ویران راہداریوں میں گونجی۔۔۔۔

اس نے زرمین کو کھینچتے ہوئے کمرے کے اندر داخل کیا اور بستر پر بے دردی سے پھینک دیا۔ "تو یہ اس کے باپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے! میرا افنان بدلہ لینا جانتا ہے...اور بدلے کی آگ کبھی اتنی آسانی سے نہیں بجھتی!" زرمین بستر پر گری، اس کا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنے وجود کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔ وہ معصوم تھی، دنیا کے سرد و گرم سے ناواقف، لیکن عورت کی وہ فطری حس جو اسے غلط نظر اور خطرے کا احساس دلاتی ہے، اس وقت زرمین کے اندر بیدار ہو چکی تھی۔۔۔۔

 "پلیز... خدا کے لیے... مجھے چھوڑ دیں..." وہ ہاتھ جوڑ کر رونے لگی۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو اس کے زرد رخساروں پر بہنے لگے۔ اسے یاد آیا... ابھی چند گھنٹے پہلے ہی تو اس کے بابا اسے حویلی لانے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ تب ان کے گاؤں اور خاندان کی عورتیں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں۔ زرمین کی ماں نے اس کے قدموں میں گر کر فریاد کی تھی، لیکن بابا کے چہرے پر صرف بےبسی اور ڈر تھا۔ اس وقت زرمین نہیں سمجھی تھی کہ سب کیوں رو رہے ہیں؟ کیوں اسے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح رخصت کیا جا رہا ہے؟ لیکن اب... افنان کی ان درندہ صفت آنکھوں کو دیکھ کر وہ سب کچھ سمجھ رہی تھی! 

"خاموش!" افنان کی دھاڑ سے کمرے کی دیواریں ہل گئیں۔
وہ کسی حیوان کی طرح اس معصوم لڑکی پر جھپٹا زرمین کی دلدوز چیخ نے رات کے سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ ساری حویلی پر خوف کا سکوت طاری تھا۔ نیچے کمروں میں موجود حویلی کی عورتیں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھیں۔ میر قادر کی بہن رولی، جو تین سال پہلے بیوہ ہو کر اسی حویلی کے ایک کونے میں زندگی گزار رہی تھی،اپنے بستر پر لیٹی اپنے کانوں کو تکیے سے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

سب کو معلوم تھا کہ اس معصوم لڑکی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، سب کو اس پر ترس آرہا تھا جو اتنی کم عمری میں نکاح جیسے مقدس بندھن کو انتقام کی بھینٹ چڑھتے دیکھ رہی تھی... لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میر افنان کے سامنے ایک لفظ بھی بول سکے۔ میر افنان کا خوف حویلی کے ہر فرد کے دل پر نقش تھا۔ پوری رات... وہ دردناک چیخیں حویلی کی فضاؤں میں گونجتی رہیں۔ جب سحر کی پہلی کرن نے افق سے سر ابھارا، تو کمرے میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔ افنان نے بستر پر پڑی اس بے جان، زخمی اور نیم بے ہوش وجود کو دیکھا۔۔۔

 اس کے چہرے پر فتح کا کوئی احساس نہیں تھا، صرف ایک گہری نفرت اور انتقام کی تاریکی تھی۔ اس نے زرمین کے وجود کو نفرت سے پرے دھکیلا، بستر سے اٹھا اور غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ آدھے گھنٹے بعد، وہ اپنے ٹریولنگ بیگز اٹھائے بغیر کسی کی طرف دیکھے حویلی کے عقبی دروازے سے نکل گیا۔ اس نے اس معصوم کی روح اور جسم پر اذیت کی ایسی داستان رقم کر دی تھی جو شاید کبھی نہ مٹ سکتی، اور خود اگلی صبح ہی دوسرے ملک جانے کے لیے ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ حویلی کے کسی ملازم، کسی فرد نے اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**شبِ زفاف کا دشت از ایچ ایم** ایک دردناک، جذباتی اور خاندانی دشمنی پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ونی جیسی ظالمانہ رسم کے ذریعے ایک معصوم لڑکی کی زندگی کو انتقام کی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔

زرمین ایک ایسی لڑکی تھی جس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنے ہی خاندان کے فیصلے اس کی زندگی کو ایک خوفناک امتحان میں بدل دیں گے۔

دو خاندانوں کے درمیان برسوں سے جاری دشمنی ختم کرنے کے لیے زرمین کو ونی کی رسم کے تحت میر حویلی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کی ماں نے روتے ہوئے اس فیصلے کو روکنے کی کوشش کی، لیکن خاندان کے خوف اور بے بسی کے سامنے اس کی فریاد بے اثر رہی۔

زرمین کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسے اس انداز میں رخصت کیوں کیا جا رہا ہے۔

اس کے لیے شادی کا تصور ایک نئے رشتے اور نئی زندگی سے وابستہ تھا، مگر میر حویلی میں اس کا استقبال محبت کے بجائے نفرت سے ہوا۔

میر افنان ایک سخت مزاج، غصے سے بھرا اور انتقام کی آگ میں جلتا ہوا شخص تھا۔

اس کی نظر میں زرمین ایک بے قصور لڑکی نہیں بلکہ اس خاندان کی بیٹی تھی جس سے وہ بدلہ لینا چاہتا تھا۔

وہ سمجھتا تھا کہ زرمین کے والد نے اپنی بیٹی کو ونی میں دے کر خاندانی دشمنی ختم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن افنان اس دشمنی کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

میر حویلی پہنچتے ہی زرمین کو اس کے شدید غصے اور بے رحمی کا سامنا کرنا پڑا۔

افنان اسے بے دردی سے کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا، جہاں زرمین خوفزدہ ہو کر اس سے رحم کی التجا کرنے لگی۔

مگر افنان کے دل میں اس کے لیے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔

اس نے اپنی نفرت اور انتقام کا نشانہ اسی بے بس لڑکی کو بنایا، جس کا اس دشمنی میں کوئی قصور نہیں تھا۔

شادی کی پہلی رات زرمین پر شدید جسمانی اور جنسی تشدد کیا گیا۔

اس کی دردناک چیخیں حویلی کے کمروں اور راہداریوں تک پہنچتی رہیں۔

حویلی کی عورتیں اس کی تکلیف سن کر بے بس تھیں۔ انہیں زرمین پر ترس آ رہا تھا، لیکن میر افنان کے خوف نے سب کو خاموش کر رکھا تھا۔

میر قادر کی بہن رولی بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو اس ظلم کو سن کر بے چین تھیں، مگر کسی میں اسے روکنے کی ہمت نہ تھی۔

رات گزرنے کے بعد زرمین زخمی اور نیم بے ہوش حالت میں پڑی تھی۔

لیکن افنان نے اس کی حالت دیکھ کر بھی ندامت ظاہر نہیں کی۔

وہ اپنے سفر کا سامان لے کر حویلی سے نکل گیا اور دوسرے ملک جانے کے لیے روانہ ہو گیا۔

پیچھے رہ گئی زرمین، جس کے لیے شادی کی پہلی رات ایک ایسے صدمے میں بدل چکی تھی جس کے اثرات اس کی زندگی پر گہرے پڑ سکتے تھے۔

کیا زرمین اس ظلم کے بعد اپنی زندگی کو دوبارہ سنبھال سکے گی؟

میر افنان کی نفرت کے پیچھے خاندانی دشمنی کی اصل حقیقت کیا ہے؟

اور کیا کبھی میر حویلی کے لوگ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں گے؟

**شبِ زفاف کا دشت** ونی کی رسم، خاندانی انتقام، جبری شادی، بے بسی اور ایک معصوم لڑکی پر ہونے والے ظلم کی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**شبِ زفاف کا دشت** زرمین اور میر افنان کی ایک دردناک کہانی ہے، جس کی بنیاد خاندانی دشمنی اور ونی کی ظالمانہ رسم پر رکھی گئی ہے۔

زرمین کو اس کے خاندان کی دشمنی ختم کرنے کے لیے میر حویلی بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کی ماں اس فیصلے پر شدید احتجاج کرتی ہے، لیکن خاندان کے بڑے اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔

میر افنان زرمین کو ایک بے قصور لڑکی کے بجائے اپنے دشمن خاندان کی نمائندہ سمجھتا ہے۔

اسے یقین ہے کہ زرمین کے والد نے اپنی بیٹی کی قربانی دے کر دشمنی ختم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر افنان کے دل میں انتقام کی آگ بدستور موجود ہے۔

حویلی پہنچتے ہی زرمین کو اس کے غصے اور بے رحمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وہ اسے زبردستی اپنے کمرے میں لے جاتا ہے، جہاں زرمین بار بار رحم کی التجا کرتی ہے۔

لیکن افنان اس کی فریاد کو نظرانداز کرتے ہوئے اس پر شدید تشدد کرتا ہے۔

شادی کی پہلی رات زرمین کی چیخیں پوری حویلی میں سنائی دیتی ہیں، مگر افنان کے خوف کی وجہ سے کوئی اس کی مدد نہیں کرتا۔

اگلی صبح زرمین زخمی اور نیم بے ہوش حالت میں ہوتی ہے، جبکہ افنان اسے اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے ملک روانہ ہو جاتا ہے۔

اس طرح خاندانی دشمنی کا بدلہ ایک ایسی لڑکی سے لیا جاتا ہے جس کا اس دشمنی میں کوئی کردار نہیں تھا۔

یہ کہانی ونی کی رسم، انتقام، خاندانی طاقت کے غلط استعمال اور ایک بے بس لڑکی کی زندگی پر ہونے والے ظلم کو نمایاں کرتی ہے۔

Related Keywords

Shab e Zafaf Ka Dasht Novel, Shab e Zafaf Ka Dasht Urdu Novel, Shab e Zafaf Ka Dasht PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Shab e Zafaf Ka Dasht Novel21039 — Novelistan?

Shab e Zafaf Ka Dasht Novel21039 — Novelistan is written by HM.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Forced Marriage Based.

Where can I read Shab e Zafaf Ka Dasht Novel21039 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *