Mata e Jaan Novel21045 Urdu novel cover
740.2kViews
#537Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan

By Readers Choice

Rate this novel

روحیل کی وفات کے بعد حورین شجاعت کی زندگی کا واحد سہارا اس کا بیٹا شایان تھا۔ اس کی عدت مکمل ہوئے صرف دو دن گزرے تھے کہ آغا جان نے اس کا نکاح روحیل کے چھوٹے بھائی زہان سکندر سے کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ حورین نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی، مگر گھر والوں نے اس کی بات نہ مانی۔ زہان نے نکاح اسی دن کرنے کا حکم دیا اور حورین کے انکار پر ایک سخت شرط رکھ دی۔ اگر وہ حویلی چھوڑنا چاہتی تھی تو اسے اپنے بیٹے شایان کو وہیں چھوڑنا ہوگا۔ یہ سن کر حورین ٹوٹ گئی، کیونکہ وہ اپنے بچے سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے زہان کو خبردار کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر پچھتائے گا۔ مگر کیا زہان اس کی بات سنے گا؟

Sneak

"میں زہان سے شادی نہیں کروں گی آغا جان! صرف جائیداد کی خاطر... آپ میرے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے!"۔ سکندر ولا کے وسیع و عریض ہال میں ایک لمحے کیلئے قبرستان جیسا سناٹا چھا گیا۔۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آغا جان کے سامنے آواز بلند کرے۔۔ مگر آج حورین کر رہی تھی۔۔ ہر آنکھ حیرت سے حورین پر جم گئی۔۔ وہ ہال کے عین درمیان کھڑی تھی، سفید لباس میں ملبوس، صرف دو دن پہلے اس کی عدت مکمل ہوئی تھی۔۔ ۔ شوہر کی جدائی کا زخم ابھی تک تازہ تھا۔۔ اور آج اس کے مرحوم شوہر کے گھر والے اس کا دوسرا نكاح طے کر رہے تھے۔۔ وہ بھی اس کے اپنے دیور کے ساتھ۔۔ ابھی اس کے شوہر کو دنیا سے گئے کتنے دن ہوئے ہیں؟۔ 

"حورین! ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے؟ پہاڑ جیسی زندگی ہے آگے آپ کے... اور رہی جائیداد کی بات... کیا آپ کو واقعی لگتا ہے آپ کے آغا جان دولت کے حصول کے لیے آپ کی قربانی دیں گے؟ آپ مجھے زہان کی طرح ہی عزیز ہیں حورین"۔ آغا جان نے رسانیت سے اسے سمجھانا چاہا تھا۔۔ حورین کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر بہہ نکلے۔۔ "پھر کیوں آغا جان؟ کیوں مجھ پر یہ فیصلہ مسلط کیا جا رہا ہے؟"۔ اس نے درد بھرے لہجے میں پوچھا۔۔ ہال میں موجود ہر شخص خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا۔۔"کیونکہ زندگی رک جانے کا نام نہیں ہے، بیٹا"۔  آغا جان نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور آسیہ بیگم کے سامنے رک گئی۔۔۔ 

"بڑی مما… پلیز… میں اس نکاح کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں ، آپ آغا جان کو سمجھائیں نا… وہ میری بات کیوں نہیں سن رہے؟"۔ اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔۔ اس کی آواز ٹوٹنے لگی۔۔ وہ حورین کے قریب آئیں اور اس کے ہاتھ کو تھام لیا۔۔۔ "آغا جان کی بات مان لو ، یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے ہو رہا ہے، حورین…"۔ حورین نے شکوہ کناں نم آنکھوں سے آسیہ بیگم کی طرف دیکھا تھا۔ والدین کی رحلت کے بعد آسیہ بیگم ہی تو تھیں جنہوں نے اسے اپنی آغوش میں سمیٹا تھا۔۔ حورین نے ہمیشہ انہیں تائی نہیں بلکہ ماں کا درجہ دیا تھا۔۔۔ اور آسیہ بیگم نے بھی کبھی اسے اپنی اولاد سے کم نہیں سمجھا تھا۔۔ پھر جب اس کی شادی ان کے بڑے بیٹے روحیل سے ہوئی تو حورین انھیں مزید عزیز ہوگئی تھی۔۔ قبل اس کے کہ آغا جان کوئی جواب دیتے، ہال کے صدر دروازے سے داخل ہونے والے بھاری قدموں کی چاپ نے سب کی توجہ کھینچ لی۔۔۔ سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس، رعب دار شخصیت کا مالک زہان سکندر سرد و سنجیدہ تاثرات لیے پُراعتماد قدموں سے چلتا ہوا آغا جان کے سامنے آ کر رکا تھا۔۔  خوبصورت اور دلکش نقوش کا حامل وہ مرد حسن کا جیتا جاگتا استعارہ تھا۔۔

 اس نے ایک اچٹتی سی نظر حورین کی بھیگی پلکوں پر ڈالی۔۔ اگلے ہی لمحے اس نے اپنے جبڑے بھینچ لیے۔۔ اور بے نیازی سے رخ پھیر گیا۔۔ "یہ شادی آج ہی ہو گی، آغا جان۔ آپ نکاح کی تیاریاں شروع کریں "۔ وہ چلتا ہوا سیدھا حورین کے مدمقابل آ کر رکا۔ دونوں کے درمیان صرف چند قدم کا فاصلہ تھا۔۔ حورین نے نفرت سے اسے دیکھا۔۔۔ اور زہان نے سرد نگاہوں سے۔۔ زہان سکندر کے سراپے سے ابھرتی ہوئی عطرِ کی دلفریب مہک حورین کے دل و دماغ پر چھا گئی تھی۔ وہ فرطِ حیا سے اپنی پلکیں جھکا کر فورا چند قدم کے فاصلے پر ہو گئی۔۔۔ حورین کا دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔۔۔ " تم کون ہوتے ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟ کیا سمجھتے ہیں خود کو؟"۔ حورین نے نفرت سے کہا۔۔۔ زہان نے ایک لمحہ اسے دیکھا۔۔ " آپ سب کو صرف اس جائیداد کی فکر ہے بس "۔ وہ غصے سے چلائی۔ زہان کے جبڑے بھنچ گئے مگر لہجہ بدستور سرد رہا۔۔ "ہمیں آپ کی جائیداد میں رتی برابر دلچسپی نہیں ہے ،اگر آپ شادی نہیں کرنا چاہتیں تو آپ آزاد ہیں ، شوق سے جا سکتی ہیں۔ مگر آپ کو شایان کو یہیں چھوڑ کر جانا ہوگا"۔ زہان نے اپنی مردانہ شال کو کندھے پر جھٹکتے ہوئے حورین کی خوبصورت ہیزل آنکھوں میں براہِ راست دیکھا۔۔۔

  اس کا لہجہ برف کی طرح سرد اور کاٹ دار تھا۔۔۔ حورین کے چہرے کا رنگ یکدم اڑ گیا۔۔زہان کی آواز خنجر کی طرح اتری۔۔ سینے میں درد کی لہر اٹھی۔۔  وہ اپنے لختِ جگر، اپنے شایان کے بغیر ایک پل جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔" کیا کہا تم نے؟"۔حورین سرگوشی میں بولی۔۔ زہان سکندر کا چہرہ بے تاثر تھا۔۔ "میرا بھتیجا اپنے گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والا۔ آپ جانا چاہتی ہیں تو شوق سے جائیں، آپ کو کوئی نہیں روکے گا ، مگر ہمارے خاندان کا وارث یوں در در کی ٹھوکریں نہیں کھائے گا، حورین شجاعت"۔ وہ نہایت سنجیدگی سے بولا۔۔ "وہ میرا بیٹا ہے، زہان سکندر! ، میرا خون ہے ، نو ماہ میں نے اسے اپنی کوکھ میں رکھا ہے ، تم... تم مجھ سے میرا بیٹا نہیں چھین سکتے ، میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی "۔ وہ دیوانوں کی طرح چلائی۔۔

 اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ زہان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا، بس اس نے  اپنی گھنی آئی برو اچکائی اور ایک قدم مزید اس کے قریب ہوا۔۔ اتنا قریب کہ 
حورین کو اس کی سرد نگاہوں کی شدت محسوس ہونے لگی۔۔ "تو پھر بخوشی اس نکاح کے لیے راضی ہو جائیں..."۔ اس نے قدرے جھک کر، انتہائی سفاک اور دوٹوک انداز میں کہا۔۔ "کیونکہ شایان کو یہاں سے لے جانے کی اجازت تو میں آپ کو کسی قیمت پر نہیں دوں گا ، یہ میرا فیصلہ ہے، اور زہان سکندر اپنے فیصلے کبھی نہیں بدلتا "۔ اس کی دھیمی آواز میں ایسی سفاکی تھی کہ حورین کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔۔ "وہ میرا بیٹا ہے، میں اسے لے کر جاؤں گی، تم مجھے نہیں روک سکتے "۔ وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔

سبھی گھر والے خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔ زہان چند لمحے خاموش اسے دیکھتا رہا۔۔ پھر اس کے ہونٹوں پر سرد مسکراہٹ ابھری۔۔" آزما کر دیکھ لیجیے ، شاید آپ ابھی زبان سکندر کو جانتی نہیں ہیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ضد چھوڑ کر نکاح کے لیے تیار ہو جائیں "۔ وہ حورین کی ناک میں پہنی جگمگاتی نوزپن کا بغور جائزہ لیتے ہوئے استہزائیہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔ حورین کے جبڑے بھنچ گئے۔۔ "اور اگر میں نہ مانوں تو ؟"۔ وہ اپنی ازلی ہٹ دھرمی سے بولی۔ زبان چند لمحے خاموش اسے دیکھتا رہا۔۔۔ "تو آپ کو شایان سے دستبردار ہونا پڑے گا"۔ پھر اس نے انتہائی سکون سے جواب دیا۔۔ حورین کے چہرے کا رنگ ایک دم اڑ گیا۔۔ اس کے بے درد الفاظ نے حورین کی آخری امید بھی توڑ دی۔۔۔ " دنیا کی کوئی طاقت ایک ماں کو اس کے بچے سے جدا نہیں کر سکتی "۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔ 

اس بار زہان اس کے بالکل قریب آ کر رکا۔۔ "پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو اس نکاح سے بھی نہیں بچا سکتی "۔ حورین کی سانس سینے میں اٹک گئی۔۔ "فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، حورین ، یا شایان کی ماں بن کر اس حویلی میں رہیں... یا پھر خالی ہاتھ اس حویلی سے چلی جائیں "۔ وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔۔ حورین نے قہر آلودہ نظروں سے اس ظالم سفاک شخص کو دیکھا تھا۔۔۔ " میں شدید نفرت کرتی ہو آپ سے "۔ وہ دھاڑی۔۔۔ زہان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہو گئی۔۔۔ "بہت اچھی بات ہے ، کیونکہ چند گھنٹوں بعد آپ اسی شخص کی بیوی بننے والی ہیں جس سے آپ نفرت کرتی ہیں "۔ اس نے جھک کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔ حورین کا چہرہ زرد پڑ گیا۔۔ حورین کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔۔ اور پورے ہال میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔۔ حکم صادر کرتے ہی وہ اس کے پہلو سے بےنیازی سے گزر گیا۔۔ "زہان سکندر! آپ پچھتائیں گے اپنے اس فیصلے پر... یاد رکھیے گا!"۔ وہ اس کی پشت کی جانب دیکھتے ہوئے پوری قوت سے چیخی تھی۔۔ مگر یہاں پروا کسے تھی ؟۔۔ 

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**متاعِ جاں از ریڈرز چوائس** ایک جذباتی، خاندانی دباؤ اور جبری دوسری شادی پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک بیوہ ماں کو اپنے بچے اور اپنی مرضی کے درمیان ایک تکلیف دہ فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حورین شجاعت کی زندگی اس کے شوہر روحیل کی وفات کے بعد پہلے ہی غم اور تنہائی کا شکار تھی۔

وہ اپنے شریکِ حیات کی جدائی کے صدمے سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اس کے سسرال والوں نے اس کی دوسری شادی کا فیصلہ کر لیا۔

حورین کی عدت مکمل ہوئے صرف دو دن گزرے تھے۔

اس کے لیے روحیل کی یادیں ابھی تک تازہ تھیں اور اس کی تمام تر توجہ اپنے بیٹے شایان پر مرکوز تھی۔

مگر سکندر ولا کے بزرگ، آغا جان، چاہتے تھے کہ حورین کا نکاح روحیل کے چھوٹے بھائی زہان سکندر سے کر دیا جائے۔

حورین کے لیے یہ فیصلہ ناقابلِ قبول تھا۔

وہ اپنے مرحوم شوہر کے بھائی سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اسے شک تھا کہ خاندان یہ سب جائیداد کی وجہ سے کر رہا ہے۔

سکندر ولا کے وسیع ہال میں جب حورین نے آغا جان کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کی تو سب لوگ حیران رہ گئے۔

اس گھر میں آغا جان کے سامنے اختلاف کرنے کی ہمت بہت کم لوگوں میں تھی۔

لیکن حورین اپنی زندگی کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

اس نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ زہان سے شادی نہیں کرے گی۔

آغا جان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کی عمر ابھی کم ہے اور اس کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ حورین کو زہان کی طرح عزیز سمجھتے ہیں اور اس کی بھلائی چاہتے ہیں۔

مگر حورین یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اس کی مرضی کے خلاف ہونے والا نکاح اس کے لیے بہتر کیسے ہو سکتا ہے۔

وہ مدد کی امید لیے آسیہ بیگم کے پاس گئی۔

آسیہ بیگم اس کی تائی تھیں، لیکن والدین کی وفات کے بعد انہوں نے حورین کو اپنی اولاد کی طرح پالا تھا۔

حورین انہیں ماں کا درجہ دیتی تھی۔

بعد میں جب حورین کی شادی آسیہ بیگم کے بڑے بیٹے روحیل سے ہوئی تو ان کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا تھا۔

حورین کو امید تھی کہ آسیہ بیگم اس کے جذبات سمجھیں گی۔

لیکن انہوں نے بھی آغا جان کے فیصلے کی حمایت کی اور حورین کو نکاح پر رضامند ہونے کا مشورہ دیا۔

یہ سن کر حورین کی آخری امید بھی کمزور پڑنے لگی۔

اسی دوران زہان سکندر ہال میں داخل ہوا۔

سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس زہان ایک رعب دار، سنجیدہ اور سخت مزاج شخصیت کا مالک تھا۔

اس نے حورین کی آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں پر نظر ڈالی، لیکن اس کے لہجے میں نرمی پیدا نہ ہوئی۔

زہان نے آغا جان سے کہا کہ نکاح آج ہی ہوگا اور اس کی تیاریاں شروع کر دی جائیں۔

حورین اس کے فیصلے پر مزید مشتعل ہو گئی۔

اس نے زہان سے سوال کیا کہ وہ کون ہوتا ہے اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے والا۔

حورین نے دوبارہ جائیداد کا ذکر کیا تو زہان نے کہا کہ اسے اس کی دولت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

اس کے بعد اس نے ایک ایسی شرط رکھ دی جس نے حورین کو اندر تک ہلا دیا۔

زہان نے کہا کہ اگر حورین نکاح نہیں کرنا چاہتی تو وہ گھر چھوڑ کر جا سکتی ہے، لیکن اسے اپنے بیٹے شایان کو سکندر ولا میں چھوڑنا ہوگا۔

شایان روحیل کا بیٹا اور زہان کا بھتیجا تھا۔

زہان کا مؤقف تھا کہ خاندان کا وارث اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا۔

یہ بات سن کر حورین کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔

وہ اپنے بیٹے کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

اس نے زہان کو یاد دلایا کہ شایان اس کا بیٹا ہے اور اسے اس سے جدا کرنے کا کسی کو حق نہیں۔

مگر زہان اپنے فیصلے پر قائم رہا۔

اس نے حورین کو واضح کر دیا کہ یا تو وہ نکاح کے لیے تیار ہو جائے یا شایان کے بغیر حویلی چھوڑ دے۔

حورین نے اس دباؤ کے سامنے شدید احتجاج کیا۔

وہ زہان کے رویے سے نفرت کا اظہار کرتی رہی اور اسے خبردار کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر پچھتائے گا۔

لیکن زہان نے اس کی مخالفت کے باوجود نکاح کی تیاریاں جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

اب حورین کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو خود سے جدا ہونے سے کیسے بچائے۔

کیا زہان اپنے سخت فیصلے پر قائم رہے گا؟

کیا آغا جان حورین کی مرضی اور اس کے دکھ کو سمجھ سکیں گے؟

کیا شایان کی وجہ سے حورین کو اس نکاح پر مجبور کر دیا جائے گا؟

اور اس خاندانی فیصلے کے پیچھے جائیداد کا کوئی معاملہ ہے یا حقیقت کچھ اور ہے؟

**متاعِ جاں** ایک بیوہ ماں کے جذبات، بچے سے جدائی کے خوف، دوسری شادی، خاندانی فیصلوں اور ذاتی اختیار کے درمیان کشمکش پر مبنی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**متاعِ جاں** حورین شجاعت اور زہان سکندر کی کہانی ہے، جنہیں ایک خاندانی فیصلے کے باعث ایک غیرمتوقع رشتے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حورین اپنے شوہر روحیل کی وفات کے بعد اپنے بیٹے شایان کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔

اس کی عدت مکمل ہوئے صرف دو دن گزرتے ہیں کہ سکندر ولا کے بزرگ آغا جان اس کا نکاح روحیل کے چھوٹے بھائی زہان سے طے کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

حورین اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتی ہے۔

وہ ابھی اپنے شوہر کی جدائی کے صدمے سے نہیں نکلی ہوتی اور اسے شک ہوتا ہے کہ اس شادی کے پیچھے جائیداد کا معاملہ ہے۔

آغا جان اسے یقین دلاتے ہیں کہ وہ اس کی بھلائی چاہتے ہیں۔

حورین اپنی تائی اور ساس آسیہ بیگم سے مدد مانگتی ہے، مگر وہ بھی اسے آغا جان کی بات ماننے کا مشورہ دیتی ہیں۔

اسی دوران زہان سکندر ہال میں داخل ہو کر اعلان کرتا ہے کہ نکاح آج ہی ہوگا۔

حورین اس سے سوال کرتی ہے کہ اسے اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا۔

زہان جواب دیتا ہے کہ اسے حورین کی جائیداد میں کوئی دلچسپی نہیں۔

لیکن وہ ایک سخت شرط رکھ دیتا ہے۔

اس کے مطابق حورین نکاح سے انکار کر کے حویلی چھوڑ سکتی ہے، مگر اپنے بیٹے شایان کو ساتھ نہیں لے جا سکتی۔

شایان کو اپنے سے جدا کرنے کا تصور حورین کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔

وہ زہان کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتی ہے اور اپنے بیٹے پر اپنا حق جتاتی ہے۔

مگر زہان اسے نکاح قبول کرنے یا شایان کے بغیر جانے کا انتخاب دیتا ہے۔

حورین اس کے رویے پر شدید نفرت کا اظہار کرتی ہے اور اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر پچھتائے گا۔

کیا حورین اپنے بیٹے کو اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہو سکے گی؟

کیا زہان اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا؟

اور کیا اس رشتے کے پیچھے موجود اصل وجوہات سامنے آئیں گی؟

Related Keywords

Mata e Jaan Novel21045 Novel, Mata e Jaan Novel21045 Urdu Novel, Mata e Jaan Novel21045 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan?

Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan is written by Readers Choice.

Is Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Family Drama.

Where can I read Mata e Jaan Novel21045 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *