Aqd e Muhabbat Novel21040 Urdu novel cover
432.6kViews
#1140Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Aqd e Muhabbat Novel21040 — PC

By PC

Rate this novel

نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟

Sneak

"جب دس سال پہلے مجھے چھوڑ ہی گئے تھے تو اب مجھے طلاق بھی دے دیں مسٹر زاویار شاہ!" حورین کی سخت آواز پر زاویار کا ہاتھ کھانا کھاتے رکا۔ ڈائٹنگ پر موجود تمام افراد نے گھوم کر حورین کو حیرت سے دیکھا۔ آج سے دس سال پہلے زبردستی دادا جان نے زاویار کا نکاح نو سالہ حورین سے کروا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ آیا تو اسے طلاق دینے تھا مگر اپنے سامنے اتنی خوبصورت دوشیزا کو دیکھ کر اب اس کا ارادہ بدل گیا تھا۔ "طلاق چاہیے مجھے آپ سے مسٹر! جب دس سال مجھ سے دور رہیں تو اب بھی آنا نہیں بنتا تھا آپ کا۔۔" اس کی بات سنتے زاویار شاہ کچھ سوچتے کھڑا ہوا۔ " دادا جان! آپ رخصتی کی تیاری کریں یہ رخصتی مجھے اسی ہفتے کے اندر اندر چاہیے، کسی کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے اور بڑی شدت سے لگانا ہے۔" اس کی سرد آواز پر حورین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ۔۔۔۔

" جب دس سال پہلے مجھے چھوڑ ہی گئے تھے تو اب مجھے طلاق بھی دے دیں مسٹر زاویار شاہ! "حورین کی سخت آواز پر زاویار شاہ کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا چمچ وہیں رک گیا۔ ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھے تمام افراد نے ایک ساتھ گردن موڑ کر حورین کو دیکھا۔ کسی کے چہرے پر حیرت تھی، کسی پر خوف اور کسی کی آنکھوں میں ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ اس تماشے کا مدت سے انتظار کر رہا ہو۔۔ مگر زاویار شاہ۔۔۔ وہ صرف حورین کو دیکھ رہا تھا۔ دس سال بعد پہلی مرتبہ۔۔۔ وہی چہرہ جسے اس نے آخری مرتبہ نو سال کی ایک معصوم بچی کے روپ میں دیکھا تھا۔۔۔

اور آج۔۔۔۔ آج اس کے سامنے ایک باوقار، خوبصورت اور خوددار لڑکی کھڑی تھی۔ لمبے سیاہ بال، بڑی بڑی آنکھیں، جن میں اس وقت غصہ بھرا ہو اتھا، اور ماتھے پر بکھری چند لٹیں اس کے چہرےکی سنجیدگی کو مزید نمایاں کر رہی تھیں۔ زاویار نے آہستہ سے چمچ پلیٹ میں رکھا۔ "کیا کہا تم نے؟۔۔۔" اس کی آواز بہت پر سکون تھی۔ حورین نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ " میں نے کہا، طلاق چاہیے مجھے آپ سے۔" کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دس سال پہلے زبردستی کیے گئے اس نکاح کا رشتہ آج پہلی مرتبہ کسی نے اس طرح سب کے سامنے چھیڑ ا تھا۔۔۔۔

 حورین کے لیے یہ صرف ایک رشتہ نہیں تھا۔ یہ دس سال پرانا بوجھ تھا۔ ایک ایسا بوجھ جو اس نے بچپن سے اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ اور اس بوجھ کے ساتھ بے شمار تلخ یادیں بھی تھیں۔ دس سال پہلے۔۔۔۔۔" دادا جان! یہ نہیں ہو سکتا " نو سالہ حورین خوف سے روتی ہوئی اپنے دادا کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی ننھی انگلیاں اس کے دوپٹے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھیں۔ سامنے بیٹھے بزرگ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "بیٹا، میں تمہارا برا نہیں چاہتا۔ " "تو پھر مجھ سے یہ سب کیوں کروار ہے رہیں؟" حورین کی آواز روتے روتے ٹوٹ گئی۔ کمرے کے دوسرے کونے میں ایک دس سالہ لڑکا غصے سے کھڑا تھا۔۔۔۔

زاویار شاہ۔ وہ بھی اس نکاح کے خلاف تھا۔ "کیا یہ سب مزاق ہو رہا ہے ہماری زندگیوں کے ساتھ ؟ میں یہ شادی نہیں کروں گا!" اس نے غصے سے کہا۔ اس کے والد نے اسے ڈانٹنے کی کوشش کی۔ "زاویار ! " " نہیں ابو! میں نہیں کروں گا۔ مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں! ہم دونوں ابھی ان سب چیزوں کے لئے بہت چھوٹے ہیں اور اسے دیکھیں کتنی نا سمجھ ہے۔۔۔" زاویار نے غصے سے حورین کی طرف دیکھا۔ دادا جان نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، "تم ابھی بچے ہو، تمہیں سمجھ نہیں۔ یہ میں تم دونوں کی بھلائی کے لئے ہی کر رہا ہوں خاص طور پر حورین۔   " دادا کی آواز میں غم چھپا تھا جو زاویا کو ابھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔

" مجھے اتنا ضرور سمجھ آرہا ہے کہ میری مرضی کے بغیر میری زندگی کا فیصلہ کیا جارہا ہے! " زاویار کی آواز بلند ہوتی گئی۔ حورین ایک طرف کھڑی روتی رہی۔ اسے شادی کا مطلب تک معلوم نہیں تھا۔ وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ آج اسے خوب تیار کیا گیا ہے، بہت سے لوگ گھر میں جمع ہیں اور دادا جان بار بار اسے تسلی دے رہے ہیں۔ مگر وہ کیوں رورہی تھی؟ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ ننھی کلی جیسے رو رو کر مر جھائے جارہی تھی اسکی معصوم آنکھوں کے موٹے موٹے موتیوں جیسے آنسوں وہاں کوئی دیکھنے والے نہیں تھا۔ حورین کی ماں اس کی پیدائش کے وقت ہی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔ 

ماں کی ممتا سے محروم ہو جانے کے بعد ننھی حورین
کو اسکے ابو جی نے اسے دونوں کا پیار دیا ماں کی کمی کو پورا کرنے کی کو شش کرتے کرتے کب وہ سایہ بھی حورین سے قدرت نے چھین لیا اس معصوم کو خبر ہی نا ہوئی۔ وہ بھی اس وقت دنیا چھوڑ گیا جب حورین صرف آٹھ سال کی تھی۔ ایک سڑک حادثے نے اس سے اس کا آخری سہارا بھی چھین لیا تھا۔ تب سے اس دنیا میں اگر کوئی اس کا تھا تو وہ صرف اس کا دادا تھا۔ دادا جان نے اسے اپنی جان سے بڑھ کر پالا تھا۔ اس کی ہر خواہش پوری کی۔ اسے کبھی ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکھتا۔ دادا جان کی عمر بڑھ رہی تھی۔۔۔۔

 اور شاید یہی خوف ان کے دل میں گھر کر گیا تھا کہ اگر وہ بھی چلے گئے تو حورین کا کیا ہوگا؟ اسی خوف نے انہیں ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جس نے کئی زندگیاں بدل دیں۔ دادا جان کے بڑے بیٹے شجاع شاہ برسوں سے بیرون ملک رہ رہے تھے۔ وہ اپنی بیوی نائلہ اور اکلوتے بیٹے زاویار کے ساتھ دوسرے شہر میں مقیم تھے۔ دادا جان نے انہیں فورفورا واپس بلایا۔ "شجاع! میں چاہتا ہوں تم سب واپس آجاؤ۔ '' ابو ، اچانک؟ " " ہاں۔" "خیریت ہے ؟" دادا جان نے کچھ لمحے خاموش رہ کر کہا، "میری
طبیعت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ " یہ سن کر شجاع پریشان ہو گیا۔۔۔۔

" ٹھیک ہے ابو ہم آتے ہیں۔" شجاع اپنے والد کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا۔ چند ہی دن بعد وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ آبائی حویلی پہنچ گیا۔ اور پھر وہ فیصلہ سامنے آیا جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ حورین اور زاویار کا نکاح۔ زاویار نے انکار کیا۔ نائلہ نے بھی مخالفت کی کافی ناگواری ظاہر کی۔ لیکن دادا جان اپنی ضد پر قائم رہے۔ " میں حورین کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ " " ابو ، وہ ابھی بچی ہے اور زاویار بھی! " شجاع نے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر دادا جان کے دل میں ایک ہی خوف تھا۔ "میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد یہ بچی کسی کے رحم و کرم پر ہو۔ " پھر دادا جان کی ضد کے آگے سب ہار گئے اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔۔۔۔

حورین کی آنکھوں سے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ اور زاویار اسکے چہرے پر غصہ تھا۔ نکاح کے فوراً بعد وہ اپنے والد کے پاس گیا۔ " میں یہاں ایک دن بھی نہیں رکوں گا۔ " شجاع نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ مگر زاویار نے صاف جواب دیا۔ " مجھے یہ شادی قبول نہیں۔ میں کل ہی واپس جا رہا ہوں۔" دادا جان نے اسے جانے دیا۔ شاید انہیں امید تھی کہ وقت سب کچھ بدل دے گا۔ مگر وقت نے صرف حورین کو بڑا کیا۔ زاویار کو اس کے دل سے نکال دیا۔ اور حورین کے دل میں اس کے لیے نفرت بھر دی۔ کیوں کہ وجہ صرف زاویار کا جانا نہیں تھا بلکہ اسکی تائی کے وہ ظلم تھے جو انہوں نے زاویار کے جانے کے بعد اس معصوم پر کئے جن کا پتہ دادا کو بھی نا چلا۔ دس سال بعد۔۔۔۔۔

 "طلاق چاہیے مجھے آپ سے، مسٹر!" حورین نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ زاویار نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اسے غور سے دیکھا۔ " دس سال مجھ سے دور رہیں تو اب بھی آنا نہیں بنا تھا آپ کا۔'' " تمہیں کیا معلوم میں کیوں گیا تھا؟" حورین تلخی سے مسکرائی۔ " مجھے جاننے کی ضرورت بھی نہیں۔ آپ گئے تھے ، بس کافی ہے۔ '' اور اگر میں طلاق نہ دوں؟ "تو میں عدالت جاؤں گی۔''اچھا؟'' " جی۔ '' اور اگر میں عدالت میں بھی نہ آیا؟ '' " پھر میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گی۔ " حویلی میں بیٹھی نائلہ کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہی نائلہ جو دس سال سے حورین کو اپنی بہو نہیں بلکہ بوجھ سمجھتی آئی تھی۔۔۔

حورین نے اسے دیکھا تو فوراً نگاہیں ہٹالیں۔ زاویار نے یہ سب نوٹ کیا۔ پھر وہ اچانک اپنے دادا کی طرف مڑا۔ " دادا جان ! '' ہاں؟'' آپ رخصتی کی تیاری کریں۔ " حورین کا دل دھک سے رہ گیا۔" کیا؟" زاویار نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سختی تھی۔ " یہ رخصتی مجھے اسی ہفتے کے اندر اندر چاہیے۔'' مگر "حورین کچھ کہتی اس سے پہلے زاویار نے اپنی بات مکمل کی۔ "کسی کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے۔۔۔۔ " وہ ایک لمحے کور کا۔ پھر اس کی نگاہ سیدھی حورین پر گئی۔ " اور بڑی شدت سے لگانا ہے۔ "حورین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔۔۔۔

 اس رات حورین دیر تک سو نہ سکی۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھتی رہی۔ دس سال۔ دس سال پہلے ایک اجنبی لڑکے نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ اور آج وہی اجنبی مرد بن کر اس کی زندگی میں واپس آگیا تھا۔ مگر مسئلہ صرف زاویار نہیں تھا۔ اصل مسئلہ نائلہ تھی۔ وہ عورت جس نے حورین کا ان دس سالوں میں جینا مشکل کر دیا تھا۔۔۔" یتیم بچی ہو، اس گھر میں احسان سمجھ کر ہو" یہ جملہ حورین نے نہ جانے کتنی بار سنا تھا۔ کبھی اس کے کپڑے چھپادیے جاتے۔ کبھی کھانا سب کے بعد ملتا۔ کبھی اسے گھر کے کام میں لگادیا جاتا۔۔۔

اور جب وہ پڑھنے بیٹھتی تو نائلہ کہتی، " تمہیں پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے؟ آخر کار کسی گھر کی بہو ہی بننا ہے۔ " حورین چپ رہتی۔ دادا جان جب سامنے ہوتے تو نائلہ اپنا لہجہ بدل لیتی۔ " میں تو حورین کی بھلائی چاہتی ہوں۔ " اور داداجان، جو اپنی پوتی کی آنکھوں میں چھپی تکلیف نہیں پڑھ پاتے تھے، اسے تسلی دے دیتے۔ "بیٹا، نائلہ کا دل برا نہیں۔ "حورین ہمیشہ سوچتی۔۔۔۔۔اگر دل بر انہیں تو تکلیف اتنی کیوں ہے؟ اگلے دن نائلہ نے حورین کو اپنے کمرے میں بلایا۔ "تمہیں رخصتی کا بہت شوق ہے؟ " حورین نے خاموشی سے اسے دیکھا۔ " میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔" "لیکن تم نے طلاق مانگی تھی نا؟" حورین نے حیرت سے اسے دیکھا۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFire

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

**عقدِ محبت از پی سی** ایک جذباتی اور خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں بچپن میں کیے گئے ایک جبری نکاح کے اثرات دس سال بعد بھی دو زندگیوں پر موجود ہیں۔

حورین ایک ایسی لڑکی تھی جس نے بہت کم عمری میں زندگی کے بڑے دکھ دیکھ لیے تھے۔

اس کی والدہ اس کی پیدائش کے وقت ہی دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں، جبکہ آٹھ سال کی عمر میں اس کے والد بھی ایک سڑک حادثے میں انتقال کر گئے۔

ماں باپ کے سائے سے محروم حورین کے لیے اس کے دادا جان ہی سب کچھ تھے۔

وہ اپنی پوتی سے بے حد محبت کرتے تھے، لیکن بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ انہیں اس کے مستقبل کی فکر ستانے لگی۔

انہیں ڈر تھا کہ ان کے بعد حورین کی دیکھ بھال کون کرے گا۔

اسی خوف نے انہیں ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جس نے حورین اور زاویار شاہ کی زندگیاں بدل دیں۔

دادا جان نے نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے کروانے کا فیصلہ کیا۔

زاویار ان کے بڑے بیٹے شجاع شاہ اور نائلہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔

دونوں بچے اس فیصلے کے خلاف تھے۔

حورین کو تو شادی کے معنی تک پوری طرح معلوم نہیں تھے، جبکہ زاویار اپنی مرضی کے بغیر زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کیے جانے پر شدید ناراض تھا۔

اس نے صاف الفاظ میں نکاح سے انکار کیا، لیکن دادا جان اپنی ضد پر قائم رہے۔

بالآخر دونوں کا نکاح ہو گیا۔

زاویار نے نکاح کے فوراً بعد گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

وہ اس رشتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور اگلے ہی دن واپس چلا گیا۔

دادا جان کو امید تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدل جائیں گے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

زاویار کی غیرموجودگی میں حورین کی زندگی مزید مشکل ہو گئی۔

اس کی تائی نائلہ اسے اپنی بہو کے بجائے گھر پر بوجھ سمجھتی تھی۔

وہ حورین کو یتیم ہونے کے طعنے دیتی، کبھی اس کے کپڑے چھپا دیتی اور کبھی اسے گھر کے کاموں میں الجھا دیتی۔

حورین کو کئی مرتبہ سب کے بعد کھانا ملتا اور پڑھائی کے وقت بھی اسے پریشان کیا جاتا۔

لیکن دادا جان کے سامنے نائلہ اپنا رویہ بدل لیتی تھی۔

حورین اپنی تکلیف کسی کو بتانے کے بجائے خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔

دس سال گزر گئے۔

وہ نو سالہ معصوم بچی اب ایک خوبصورت، باوقار اور خوددار نوجوان لڑکی بن چکی تھی۔

اس کے دل میں زاویار کے لیے محبت کے بجائے ناراضی اور تلخی پیدا ہو چکی تھی۔

پھر ایک دن زاویار شاہ واپس آ گیا۔

حورین نے اسے دیکھتے ہی سب کے سامنے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ جب زاویار نے دس سال پہلے اسے چھوڑ دیا تھا تو اب اسے اس رشتے سے آزاد بھی کر دینا چاہیے۔

زاویار اس کے مطالبے پر حیران ہوا۔

دس سال بعد اس کے سامنے کھڑی حورین اس بچی سے بالکل مختلف تھی جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔

حورین نے واضح کر دیا کہ اگر اسے طلاق نہ ملی تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

مگر زاویار نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس کی حورین کو توقع نہیں تھی۔

اس نے دادا جان کو حکم دیا کہ اسی ہفتے اس کی رخصتی کی تیاری کی جائے۔

زاویار کے سرد لہجے اور سخت الفاظ نے حورین کو خوفزدہ کر دیا۔

وہ جس شخص سے آزادی مانگ رہی تھی، وہی اب اسے اپنے ساتھ لے جانے پر بضد تھا۔

دوسری طرف نائلہ کی موجودگی حورین کے لیے مزید پریشانی کا باعث تھی۔

آخر زاویار نے طلاق دینے کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا؟

کیا اسے حورین کے ساتھ گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی ناانصافیوں کا علم ہو سکے گا؟

اور کیا حورین اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر پائے گی؟

**عقدِ محبت** بچپن کے جبری نکاح، دس سال کی جدائی، خاندانی ناانصافی، خودداری اور ایک مشکل ازدواجی رشتے کی کہانی ہے۔

Summary — Urdu

**عقدِ محبت** حورین اور زاویار شاہ کی کہانی ہے، جن کا نکاح بچپن میں ان کی مرضی کے خلاف کر دیا جاتا ہے۔

حورین اپنی والدہ کو پیدائش کے وقت اور والد کو آٹھ سال کی عمر میں کھو چکی ہوتی ہے۔

اس کے دادا جان اسے بہت محبت سے پالتے ہیں، مگر انہیں فکر ہوتی ہے کہ ان کی وفات کے بعد حورین کا کیا ہوگا۔

اسی فکر کے باعث وہ نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

زاویار اور حورین دونوں اس فیصلے کے خلاف ہوتے ہیں، لیکن دادا جان کی ضد کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔

نکاح کے بعد زاویار ناراض ہو کر گھر چھوڑ دیتا ہے۔

اس کے جانے کے بعد حورین کو اپنی تائی نائلہ کے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نائلہ اسے یتیم ہونے کے طعنے دیتی ہے، گھر کے کام کرواتی ہے اور اس کی پڑھائی میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔

دادا جان کے سامنے وہ اپنا رویہ بدل لیتی ہے، اس لیے حورین کی تکلیف ان سے پوشیدہ رہتی ہے۔

دس سال بعد زاویار شاہ واپس آتا ہے تو حورین اب ایک خوددار نوجوان لڑکی بن چکی ہوتی ہے۔

وہ زاویار سے طلاق مانگتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ وہ اس رشتے کو مزید برقرار نہیں رکھنا چاہتی۔

لیکن زاویار اسے طلاق دینے کے بجائے دادا جان کو اسی ہفتے رخصتی کی تیاری کرنے کا کہتا ہے۔

اس کے غیرمتوقع فیصلے سے حورین پریشان ہو جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ زاویار نے اپنا ارادہ کیوں بدلا؟

کیا وہ حورین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو جان سکے گا؟

اور کیا دس سال پہلے قائم کیا گیا یہ رشتہ دونوں کی مرضی اور اعتماد حاصل کر پائے گا؟

Related Keywords

Aqd e Muhabbat Novel21040 Novel, Aqd e Muhabbat Novel21040 Urdu Novel, Aqd e Muhabbat Novel21040 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Aqd e Muhabbat Novel21040 — PC?

Aqd e Muhabbat Novel21040 — PC is written by PC.

Is Aqd e Muhabbat Novel21040 — PC complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under After Marriage and Childhood Nikah.

Where can I read Aqd e Muhabbat Novel21040 — PC?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *