Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan
Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan
By Zoni
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
Sneak
"ویکس کرواتے اتنی چیخیں ماری تم نے۔۔ رات کو کیا حال ہو گا تمہارا۔۔۔" بیوٹیشن کے مذاق پر سیرت کا چہرہ لال ہوا۔ اسکی شادی اپنے کزن کے ساتھ طے ہوئی تھی لیکن عین نکاح کے وقت ہال میں کہرام برپا ہوگیا۔ کسی نے اسکی نازیبہ تصویریں وائرل کر دیں۔ " ہم اس بد چلن کو بہو نہیں بنائیں گے۔" تائی جان غصے سے بارات واپس لے گئیں۔ تبھی احمر کا ظمی اپنے گارڈز کے ساتھ وہاں پہنچا۔ " متین صاحب۔۔ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دیں۔ اسے ہر آسائش دوں گا بدلے میں مجھے صرف ایک بچہ چاہیے۔" وہ لوگ بدنامی کے خوف سے مان گئے۔ " سر مجھے تھوڑا وقت چاہیے۔ میں اس سب کیلئے تیار نہیں۔۔۔" اسکا وجود خوف سے کانپ رہا تھا مگر وہ اس کے پیچھے بیٹھتے اسکے بلاؤز کی ڈوریاں کھول گیا۔ " ریڈ برا۔۔ نائس! لگتا ہے لو میرج تھی؟۔۔"۔۔۔ سیرت چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ سجائے اندر داخل ہوئی اس کی آنکھوں میں شادی کے خواب چمک رہے تھے دل بے حد خوش تھا پھر جیسے ہی پارلر والی نے فل باڈی ویکس کا ذکر کیا اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے قدم وہیں رک گئے ۔سیرت نے دھیمی آواز میں کہا۔ " یہ سب کروانا ضروری ہے کیا۔۔؟؟؟" مریم ہنسی روکنے کی کوشش کرتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ مریم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ضروری ہے میری بہادر دلہن کچھ نہیں ہوتا چھ مہینے پہلے میری بھی تو شادی ہوئی تھی میں نے بھی سب کچھ کروایا تھا اب اتنا بھی مت ڈرو۔۔۔۔" سیرت نے پریشان لہجے میں کہا۔ " تم آسانی سے بول رہی ہو برداشت تو مجھے کرنا ہے میرا دل ابھی سے گھبرا رہا ہے۔۔۔" مریم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ " بس چند منٹ کی بات ہے پھر خود ہی ہنسو گی۔۔۔" سیرت نے ایک گہرا سانس لیا اور اندر چلی گئی دروازہ بند ہوا اور مریم باہر کرسی پر بیٹھ گئی چند لمحے سکون سے گزرے پھر اچانک اندر سے ایک زور دار چیخ سنائی دی۔۔۔۔ سیرت کی آواز آئی۔ " آہ اللہ یہ کیا کر دیا۔۔ پارلر میں موجود لڑکیاں ہنسی دبانے لگیں مریم نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔ مریم نے ہنستے ہوئے کہا۔ " ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔" کچھ لمحے بعد ایک دوسری چیخ سنائی دی۔ سیرت نے زور سے کہا۔ " بس اب نہیں ہو رہا۔" مریم اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے دوہری ہوگئی کافی دیر بعد دروازہ آہستہ سے کھلا سیرت باہر نکلی چہرہ سرخ تھا آنکھوں میں پانی بھرا ہوا تھا چلنے کا انداز ایسا تھا جیسے ہر قدم بہت مشکل سے اٹھ رہا ہو مریم نے اسے اوپر نیچے دیکھا پھر زور سے ہنس پڑی۔۔۔ مریم نے ہنستے ہوئے کہا۔ " اندر تو میری سہیلی گئی تھی یہ پینگوئن کی طرح کون چلتا ہوا آرہا ہے۔۔۔" سیرت نے منہ بنا کر کہا۔ " ہنس لو جتنا ہنسنا ہے تمہیں تو سب یاد ہونا چاہیے تمبھی چھ مہینے پہلے یہی سب برداشت کر چکی ہو۔۔۔۔" مریم نے شرارتی انداز میں کہا۔ " یہ سب تو کچھ بھی نہیں جو ابھی تم نے اتنی چینخیں ماری ہیں شادی والی رات تمہارا کیا حال ہوگا۔" مریم اپنی ہی بات پر ہنسنے لگی۔۔۔ سیرت نے شرماتے ہوئے کہا۔ " بس اب چلو یہاں سے ایک لفظ بھی مت بولنا ۔۔۔۔" مریم نے چھیڑتے ہوئے کہا۔ " میں تو ابھی سے سوچ رہی ہوں شہزاد بھائی کتنے حیران ہوں گے..." سیرت نے جلدی کہا۔ " خاموش رہو کوئی سن لے گا۔۔۔" پارلر سے نکلتے ہی دونوں شاپنگ مال کی طرف چل پڑیں دلہن کے جوڑے جوتے جیولری مہندی کاسامان میک اپ کی چیزیں ایک ایک کرکے خریدتی رہیں۔۔۔ ہر نئی چیز دیکھ کر سیرت کے چہرے کی خوشی بڑھتی جا رہی تھی ہر لمحہ اسے یہی احساس دلا رہا تھا کہ اس کے خواب حقیقت بننے والے ہیں رات گئے وہ سارا سامان لے کر گھر پہنچی کمرے میں آتے ہی بستر پر بیٹھی موبائل ہاتھ میں لیا اسکرین روشن ہوئی شہزاد کے کئی پیغامات موجود تھے سیرت کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ شہزاد نے لکھا۔ " کہاں غائب تھیں پورا دن انتظار کرتا رہا؟؟؟ " سیرت نے لکھا۔ " آج دلہن بننے کی تیاری چل رہی تھی بہت ظلم ہوا میرے ساتھ۔۔"شہزاد نے لکھا۔ " اتنی تکلیف ہوئی۔۔۔۔" سیرت نے لکھا۔ " مت پوچھو آج مجھے لگا میں بچ نہیں پاؤں گی۔۔۔"شہزاد نے لکھا۔ " اب اتنی بھی ڈرامے باز مت بنو۔۔۔۔" سیرت نے لکھا۔ " تمہیں ہنسی آرہی ہے یہاں میری جان نکل گئی تھی۔۔۔" شہزاد نے لکھا۔۔۔ " بدلے میں آئس کریم کھلا دوں گا۔۔۔" سیرت نے لکھا۔ "صرف آئس کریم سے کام نہیں چلے گا۔۔۔" شہزاد نے لکھا۔"جو حکم میری ہونے والی بیگم۔۔" یہ جملہ پڑھتے ہی سیرت کے گال سرخ ہوگئے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی وہ موبائل سینے سے لگا کر مسکرادی اس کے دل میں واقعی لڈو پھوٹ رہے تھے کیونکہ بچپن سے جس کزن کو وہ خاموشی سے پسند کرتی آئی تھی چند ہی دن بعد وہ ہمیشہ کے لیے اس کا ہونے والا تھا۔ شادی میں صرف چار دن باقی رہ گئے تھے پورا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا ہر طرف کپڑوں کے ڈبے تحفوں کے تھیلے مہندی کی خوشبو رشتے داروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔ سیرت کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی کیونکہ اس کے دل میں ایک ہی خوشی تھی وہ اس شخص کی دلہن بننے والی تھی جسے وہ برسوں سے خاموشی کے ساتھ چاہتی تھی سیرت روز رات کو شہزاد سے بات کرتی تھی دونوں جانتے تھے کہ ان کے خاندان میں پسند کی شادی کا کوئی رواج نہیں تھا اسی لیے انہوں نے اپنی محبت کو کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا ہر قدم بہت احتیاط سے اٹھایا ہر بات ایسے کی جیسے یہ رشتہ صرف بڑوں کی پسند سے طے ہوا ہو کسی کو زرہ برابر شک نہ ہوا۔۔۔۔۔ شہر کے سب سے بڑے شادی ہال کو روشنیوں سے سجا دیا گیا تھا سنہری جھومر چمک رہے تھے پھولوں کی خوشبو پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی چار سو پانچ سو مہمان ہال میں موجود تھے ہر طرف مبارک بادوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔ متین صاحب پہنچ چکے تھے نکاح کی تیاریاں مکمل تھیں دونوں خاندان خوش تھے مہمان مسکرا رہے تھے کسی کو ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند لمحوں میں ایسا کچھ ہونے والا تھا جو اس خوشیوں بھرے ماحول کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔ شادی ہال کی روشنیاں پہلے کی طرح جگمگا رہی تھیں مہمان اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔ بچوں کی ہلکی ہلکی آوازیں پھولوں کی خوشبو برتنوں کی کھنک سب کچھ ایک خوبصورت تقریب کا احساس دلا رہا تھا اسٹیج کے قریب قاضی صاحب اپنی جگہ پر بیٹھے نکاح نامہ ترتیب دے رہے تھے خاندان کے بزرگ آہستہ آہستہ ان کے گرد جمع ہو رہے تھے۔ قاضی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ " اگر سب لوگ تیار ہیں تو نکاح کی کارروائی شروع کر لیتے ہیں۔" دونوں خاندان کے بزرگ اثبات میں سر ہلانے لگے اسی دوران ہال کے پچھلے حصے میں دو نوجوان اپنے موبائل کی اسکرین کو حیرت سے دیکھنے لگے پھر دونوں نے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہا ان کے چہروں کی مسکراہٹ چند لمحوں میں غائب ہو گئی چند قدم کے فاصلے پر کھڑے ایک اور شخص کے موبائل پر بھی اطلاع آئی۔۔۔۔۔ اس نے اسکرین دیکھی پھر فوراً نظریں جھکا لیں جیسے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا ہو ہال میں ابھی تک موسیقی کی مدھم آواز چل رہی تھی مہمان ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے مگر اب سرگوشیوں کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا ۔ ایک شخص نے دھیمی آواز میں کہا۔ "یہ کیا بھیجا ہے؟؟۔۔۔۔ " دوسرے نے حیرانی سے کہا۔۔۔۔ " نہیں آ رہا۔۔۔ " پہلے نے کہا۔ " کسی اور کو بھی آیا ہے۔۔۔۔ " چند لمحوں میں کئی موبائل ایک ساتھ بجنے لگے ہر طرف لوگ اپنی اسکرینوں کی طرف دیکھنے لگے کسی کے چہرے پر حیرت کسی کے چہرے پر بے یقینی کسی کی پیشانی پر خلتیں ابھر آئیں سرگوشیاں ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے لگیں۔۔۔۔ کچھ لوگوں نے اسکرین دیکھتے ہی موبائل بند کر دیا۔۔۔ ایک خاتون نے گھبرا کر کہا۔ "توبہ توبہ۔۔۔ "دوسری نے کہا۔ " یہ کیا مصیبت آگئی۔۔۔۔" ایک بزرگ نے کہا۔ " میں ایسی چیز دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔" رفتہ رفتہ وہی تصاویر مختلف لوگوں کے موبائلوں تک پہنچنے لگیں جن میں سیرت جیسی نظر آنے والی ایک لڑکی انتہائی نامناسب لباس میں دکھائی دے رہی تھی ساتھ چند مختصر ویڈیوز بھی گردش کر رہی تھیں کسی کو یہ نہیں تھا کہ یہ حقیقت تھی یا کسی کی گھٹیا سازش مگر دیکھنے والوں کے چہروں پر معلوم حیرت صاف نظر آ رہی تھی.... کچھ لوگ بغیر کچھ کہے موبائل آگے بڑھا دیتے کچھ دیکھنے سے ہی انکار کر دیتے سرگوشیاں اب واضح جملوں میں بدلنے لگی تھیں.. ایک آدمی نے کہا۔ " یہ تو دلہن لگ رہی ہے۔۔۔ " دوسرے نے کہا۔ "اللہ خیر کرے۔۔۔۔۔" تیسرے نے کہا۔ " اگر یہ سچ ہوا پھر؟؟؟۔۔۔۔ " بات آہستہ آہستہ شہزاد کے والد تک بھی پہنچ گئی انہوں نے حیرت سے موبائل لیا اسکرین پر نظر ڈالی پھر ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا انہوں نے فوراً موبائل اپنی اہلیہ کی طرف بڑھا دیا شہزاد کی والدہ نے جیسے ہی دیکھا ان کے ہاتھ کانپنے لگے۔انہوں نے غصے بھرے لہجے میں کہا۔" یہ کیا دیکھ رہی ہوں میں۔۔۔" ان کے ارد گرد کھڑے رشتے دار بھی پریشان ہو گئے چند لمحوں بعد وہی مواد شہزاد کے موبائل پر بھی آ پہنچا۔۔۔۔ اس نے اسکرین کھولی چند سیکنڈ تک خاموش رہا اس کے چہرے سے ساری رونق غائب ہو گئی اس نے دوبارہ غور سے دیکھا پھر جیسے اس کی سانس ہی رک گئی دلہن کے کمرے میں ابھی تک سیرت اپنی سہیلیوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی وہ آنے والے خوبصورت لمحوں کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر اچانک اس نے محسوس کیا کہ باہر کا شور بڑھنے لگا ہے پہلے ہلکی آوازیں آئیں پھر کئی لوگوں کے ایک ساتھ بولنے کی آواز پھر کسی کے غصے سے بلند ہونے والے جملے مریم نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**مان جاؤ پیا از زونی** ایک جذباتی، رومانی اور ازدواجی زندگی کے پیچیدہ فیصلوں پر مبنی اردو ناول ہے، جس میں ایک لڑکی کے برسوں پرانے خواب اس کی شادی کے دن اچانک بکھرنے لگتے ہیں۔
سیرت ایک خوبصورت اور معصوم لڑکی تھی جو اپنے کزن شہزاد سے بچپن ہی سے محبت کرتی آئی تھی۔
اس کی خوش قسمتی تھی کہ جس شخص کو وہ دل ہی دل میں چاہتی تھی، اسی سے اس کی شادی طے ہو گئی۔
دونوں خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور سیرت اپنی نئی زندگی کے خواب سجائے بیٹھی تھی۔
شادی سے چند دن پہلے وہ اپنی سہیلی مریم کے ساتھ بیوٹی پارلر گئی، جہاں اس کی گھبراہٹ اور مریم کی شرارتوں نے ماحول کو ہنسی مذاق سے بھر دیا۔
پھر دونوں نے دلہن کے کپڑے، زیورات اور دوسری ضروری چیزوں کی خریداری کی۔
سیرت کے لیے ہر نئی چیز اس خوشی کا احساس تھی کہ اب وہ جلد شہزاد کی دلہن بننے والی ہے۔
رات کو شہزاد کے محبت بھرے پیغامات پڑھ کر اس کی خوشی مزید بڑھ جاتی۔
دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، مگر خاندان میں پسند کی شادی کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی محبت کو دوسروں سے چھپا رکھا تھا۔
انہیں یقین تھا کہ اب ان کے خواب حقیقت بننے والے ہیں۔
بالآخر شادی کا دن آ پہنچا۔
شہر کے ایک بڑے شادی ہال کو روشنیوں، پھولوں اور خوبصورت سجاوٹ سے آراستہ کیا گیا تھا۔
سینکڑوں مہمان تقریب میں موجود تھے اور نکاح کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔
قاضی صاحب نکاح کی کارروائی شروع کرنے والے تھے کہ اچانک ہال میں موجود لوگوں کے موبائل فون پر کچھ تصاویر اور ویڈیوز موصول ہونے لگیں۔
ان تصاویر میں ایک ایسی لڑکی دکھائی دے رہی تھی جو سیرت جیسی نظر آتی تھی۔
تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلتے ہی مہمانوں میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ مواد حقیقی ہے یا کسی کی سازش، لیکن لوگوں نے حقیقت جانے بغیر باتیں بنانا شروع کر دیں۔
معاملہ شہزاد اور اس کے والدین تک بھی پہنچ گیا۔
شہزاد کے چہرے سے خوشی غائب ہو گئی، جبکہ اس کی والدہ شدید غصے میں آ گئیں۔
دوسری طرف دلہن کے کمرے میں بیٹھی سیرت کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔
وہ اپنی شادی کے خوبصورت لمحوں کا انتظار کر رہی تھی، لیکن اچانک ہال میں بڑھتے ہوئے شور نے اسے پریشان کر دیا۔
کہانی کے ابتدائی منظر کے مطابق شہزاد کے گھر والے اس واقعے کے بعد سیرت کو بہو بنانے سے انکار کر دیتے ہیں اور بارات واپس لے جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
سیرت کی عزت اور مستقبل پر ایک سنگین سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔
اسی نازک وقت میں احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے۔
وہ سیرت کے والد متین صاحب کے سامنے ایک غیرمتوقع پیشکش رکھتا ہے۔
احمر سیرت سے نکاح کرنے اور اسے زندگی کی تمام آسائشیں فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھتا ہے۔
بدنامی کے خوف سے گھر والے اس پیشکش پر رضامند ہو جاتے ہیں۔
مگر سیرت کے لیے یہ سب ناقابلِ یقین تھا۔
وہ اس اچانک بدلے ہوئے رشتے اور احمر کی شرط کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔
اس کے سامنے ایک ایسی زندگی کا دروازہ کھل رہا تھا جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
آخر سیرت کی تصاویر کس نے پھیلائیں؟
کیا یہ کسی کی سوچی سمجھی سازش تھی؟
احمر کاظمی نے اسی موقع پر نکاح کی پیشکش کیوں کی؟
اور کیا سیرت کی مرضی اور جذبات کو اس نئے فیصلے میں اہمیت مل سکے گی؟
**مان جاؤ پیا** محبت، بدنامی، خاندانی دباؤ، غیرمتوقع نکاح اور ایک لڑکی کے مشکل حالات پر مبنی جذباتی کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**مان جاؤ پیا** سیرت کی کہانی ہے، جو اپنے کزن شہزاد سے بچپن سے محبت کرتی ہے اور اسی سے شادی کے خواب دیکھتی ہے۔
دونوں کی شادی طے ہو جاتی ہے اور گھر میں خوشیوں بھری تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔
سیرت اپنی سہیلی مریم کے ساتھ شادی کی خریداری کرتی ہے اور شہزاد کے محبت بھرے پیغامات پڑھ کر اپنے آنے والے مستقبل کے بارے میں خوش ہوتی ہے۔
بالآخر شادی کا دن آتا ہے اور نکاح کی تقریب شروع ہونے والی ہوتی ہے۔
اسی دوران مہمانوں کے موبائل فون پر سیرت سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیلنے لگتی ہیں۔
کسی کو ان کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی، مگر شادی ہال میں سرگوشیاں اور الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔
شہزاد اور اس کے والدین تک بھی یہ مواد پہنچ جاتا ہے۔
کہانی کے ابتدائی منظر کے مطابق شہزاد کی والدہ سیرت کو بہو بنانے سے انکار کر دیتی ہیں اور بارات واپس لے جانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔
اس مشکل وقت میں احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ پہنچتا ہے۔
وہ سیرت کے والد متین صاحب سے سیرت کا نکاح اپنے ساتھ کرنے کی درخواست کرتا ہے اور اسے تمام آسائشیں فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
لیکن اس کی پیشکش کے ساتھ ایک بچے کی شرط بھی ہوتی ہے۔
بدنامی کے خوف سے سیرت کے گھر والے اس رشتے پر رضامند ہو جاتے ہیں۔
سیرت اس غیرمتوقع صورتحال سے خوفزدہ ہوتی ہے اور خود کو اس نئی زندگی کے لیے تیار نہیں پاتی۔
اب سوال یہ ہے کہ سیرت کے خلاف پھیلایا گیا مواد کس کی سازش تھی؟
احمر کاظمی کی اس اچانک پیشکش کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
اور سیرت اپنی زندگی کے اس مشکل فیصلے کا سامنا کیسے کرے گی؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan?
Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan is written by Zoni.
Is Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan complete or ongoing?
The recorded status of this novel is Complete.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Contract marriage.
Where can I read Man Jao Piya Novel21043 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.