Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan
Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan
By Mahira
عنایہ شاہ نے یونیورسٹی سے واپسی پر ایک ٹیکسی لی، مگر کچھ دیر بعد اسے اندازہ ہوا کہ ڈرائیور اسے غلط راستے پر لے جا رہا ہے۔ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے غصے میں اس کے بال پکڑ کر گاڑی روکنے کا مطالبہ کرنے لگی۔ ڈرائیور کے روپ میں موجود حاتم شاہ اس کے ردعمل سے حیران رہ گیا۔ وہ تو دادا جان کے حکم پر اپنی معصوم سمجھی جانے والی کزن کو حویلی لانے آیا تھا، مگر عنایہ نے اس کے لیے یہ کام مشکل بنا دیا۔ آخرکار حاتم اسے بے ہوش کر کے حویلی لے آیا۔ وہاں دادا جان کے سامنے عنایہ کو ہوش آیا تو اس نے فوراً حاتم کو پہچان کر سب کے سامنے اپنے اغوا کا سوال اٹھا دیا۔ اب حویلی میں اس نڈر لڑکی کی آمد کیا ہنگامہ کھڑا کرنے والی تھی؟
Sneak
"آج تو گنجا کر دوں گی۔گاڑی روک کمینے۔" وہ کیب ڈرائیور کو گاڑی غلط سمت لے جاتے دیکھ اس کے بال دبوچ چکی تھی۔ جب کہ حاتم شاہ جو اپنے دادا کے حکم پر ان کی باغی پوتی کو اغواء کرنے شہر آیا تھا اس کی یہ کاروائی دیکھ دنگ رہ گیا تھا۔اس نے تو آج تک صرف سہمی گھبرائی لڑکیاں دیکھی تھی۔ جب کہ دادا نے تو اس لڑکی کا یتیم مسکین اور معصوم سا نقشہ کھینچا تھا۔ "جاہل لڑکی۔۔۔میرے بال چھوڑو ۔ تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا۔" اپنے بال چھڑانے کی تگ و دو میں حاتم اس کے بال پکڑ چکا تھا۔جب اگلے پل حاتم نے اس کے منہ پر زبردستی کلوروفارم لگا رومال رکھا تھا وہ ہوش کھوتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر گری۔ ایک غصے بھری نگاہ اس پر ڈالتے جب نگاہ اس کے ہاتھوں میں پڑی تو اپنے بال اس کے ہاتھوں میں دیکھ۔۔۔ عنایہ شاہ بہت عام سے حلیے میں کندھے پر بیگ لٹکائے سڑک کنارے کھڑی تھی وہ بار بار سڑک کی ایک جانب نظریں دوڑا رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ ہر تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ میں پکڑے فون پر بھی کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھی۔۔ اس وقت دوپہر کا وقت تھا اور وہ اپنی یونی ورسٹی سے نکلتی کافی دور آتے ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس روڈ پر آسانی سے کیب وغیرہ مل جایا کرتی تھی۔ ہر طرف چلچلاتی دھوپ تھی جس کی بدولت عنایہ پسینے میں بھیگتی بے چین سی تھی اسی لیے جیسے ہی اس کی نظر سامنے سے آتی کیب پر پڑی اس نے سکون کا گہرا سانس بھرا اور جلدی سے ہاتھ ہلائے اسے روکنے کا اشارہ کر گئی۔ "کہاں جانا ہے ؟" کیب ڈرائیور کے سوال پر عنایہ اسے اپنی منزل کا بتاتی جلدی سے کیب میں بیٹھی تھی۔ عنایہ کا چونکہ یہ روز کا معمول تھا اسی لیے وہ اب بغیر ادھر ادھر دھیان دیے اپنے فون میں مگن ہو چکی تھی مگر جب دس منٹ کے بعد اس نے اپنی عادت کے مطابق سیل فون بند کرتے گاڑی سے باہر نظر دوڑائی تو وہ ہکا بکا رہ گئی تھی کیونکہ یہ راستہ تو اس کے گھر تک نہیں جاتا تھا وہ بری طرح سے ہڑبڑاتے ہوئے کیب ڈرائیور کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔ "یہ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔ کیونکہ یہ راستہ تو میرے بتائے پتے تک نہیں جاتا۔" عنایہ اب بہت سنبھل کر بیٹھتی سختی بھرے لہجے میں ڈرائیور سے پوچھنے لگی۔ آگے کچھ دیر خاموشی رہی تھی مگر پھر ڈرائیور بول پڑا ۔ "وہ میڈم یہ شارٹ کٹ راستہ ہے ۔۔۔۔ بس ابھی آپ کی منزل تک پہنچنے والے ہیں۔" ڈرائیور نے عنایہ کو باتوں میں الجھایا تھا۔۔ مگر عنایہ کا ماتھا ٹھنک چکا تھا اس نے اپنے بیگ اور سیل فون کو سنبھالتے ایک غصیلی نظر ڈرائیور کی سیٹ کی پشت پر ڈالی اور پھر وہ اپنے جارحانہ انداز میں اس پر جھپٹی تھی۔ "آج تو تمہیں گنجا کر دوں گی ۔۔۔ گاڑی روک کمینے۔" کیب ڈرائیور کو غلط سمت میں گاڑی آگے ہی آگے بڑھائے چلے جانے پر وہ اس کے بال دونوں ہاتھوں میں دبوچ چکی تھی۔ جبکہ حاتم شاہ جو ایک ٹیکسی ڈرائیور کا روپ دھارے اپنے دادا کے حکم پر اپنی اس باغی کزن کو اغوا کرنے شہر آیا تھا اس کی یہ کاروائی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا کیونکہ اس نے تو اپنے اردگرد موجود لڑکیوں کو ہمیشہ ڈرا سہما ہی دیکھا تھا اور پھر اس کے دادا کے مطابق ان کی یہ پوتی تو یتیم ، مسکین اور معصوم سی تھی تو حاتم شاہ ویسا ہی اس لڑکی کا نقشہ دماغ میں بنائے یہاں آیا تھا ۔۔۔ مگر یہ لڑکی اپنے عمل سے حاتم شاہ کا دماغ الٹ چکی تھی۔۔ نا چاہ کر بھی حاتم شاہ نے گاڑی روکی تھی۔۔۔ وہ اپنے چہرے کا رخ پیچھے کی جانب کر چکا تھا۔ "جاہل لڑکی بال چھوڑو میرے ورنہ ہاتھ توڑ دوں گا تمہارے۔" حاتم شاہ نے غصے سے اپنے بال چھڑانے کی تگ و دو کی تھی مگر مقابل دھان پان سی نظر آنے والی لڑکی میں بلا کی طاقت تھی۔۔ اپنے بال اس ظالم لڑکی کی گرفت سے نا نکال پانے پر حاتم شاہ نے بھی جواباً اپنے لمبے بازو بڑھائے عنایہ کے بالوں کو جکڑا تھا۔ مگر اب دونوں طرف مقابلہ شروع ہو چکا تھا ان کی خونخوار نظریں ایکدوسرے پر مرکوز تھیں۔ یہ لڑکی اب بھی پیچھے نا ہٹی تو حاتم شاہ نے مجبوراً اپنی پینٹ کی جیب میں موجود کلوروفارم سے بھیگا رومال اس کے چہرے پر رکھا تو وہ اب حاتم شاہ کے بال چھوڑے رومال دور کرنے کے لیے جھٹپٹائی مگر حاتم شاہ کے ہاتھ کی مضبوطی اسے اگلے ہی لمحے ہوش و حواس سے بیگانہ کر چکی تھی ۔۔۔ وہ ہوش کھوتی گاڑی کی سیٹ پر گرتی چلی گئی تو حاتم شاہ نے غصے سے اسے گھورا تھا اور جب اس کی نظر اس کے ہاتھوں میں موجود اپنے بالوں پر پڑی تو وہ تیش سے بھرا دانت پر دانت جمائے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔۔۔ حاتم شاہ نے اپنے گھنے سلکی بالوں میں ہاتھ چلایا تھا اس کے پورے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اس لڑکی نے اسے گنجا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔ پھر اسی طرح بگڑے تاثرات کے ساتھ وہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوتا گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھا گیا تھا کیونکہ اسے اس لڑکی کے ہوش میں آنے سے پہلے اپنے گاؤں حویلی پہنچنا تھا۔ یہاں پر اس کے دادا بے صبری سے اپنے خیالی تصورات میں اپنی مظلوم پوتی کا خاکہ بنائے انتظار کر رہے تھے۔ گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکی تھی اور پھر فراٹے بھرتی حویلی کے بڑے سے گیٹ کے سامنے جا رکی تو ملازم کے گیتٹ کھولتے ہی حاتم شاہ گاڑی ایک لمبی سی راہداری عبور کرتا حویلی کے داخلی دروازے تک گاڑی لے آیا تھا۔ گاڑی سے باہر نکلتے حاتم شاہ نے چہرے پر ناگواری سجائے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور وہاں بے ہوش پڑی عنایہ کو وہ بغیر کسی تاثر کے اپنی بانہوں میں اٹھائے حویلی کے اندر داخل ہوا تو وہاں موجود ملازم اور گھر والے حیران پریشان سے حاتم شاہ اور اس کے بازؤں میں موجود ایک صنفِ نازک کو تکتے ساکت ہوئے تھے مگر فل وقت حاتم شاہ سب کی نظروں سے بے نیاز بنتا اپنا رخ دادا جی کے کمرے کی طرف کر گیا تھا وہ بس جلد از جلد اس سوئی ہوئی آفت کی پرکالہ کو ان کے پاس پہنچاتے اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا آگے وہ جانے اور ان کی یہ نام نہاد معصوم پوتی ۔۔۔۔ حاتم شاہ چہرے کے مختلف زاویے بناتے بگاڑتے بغیر عنایہ کی طرف دیکھے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ دن بعد یہ مصیبت ہمیشہ کے لیے اس کے گلے پڑنے والی تھی اور یہ مصیبت وہ ہنسی خوشی اپنے سر لینے والا تھا یا پھر رو دھو کر یہ تو آنے والے وقت نے ہی بتانا تھا۔ حاتم شاہ دروازہ کھولے جیسے ہی دادا جی کے کمرے میں داخل ہوا انہوں نے کافی بے تابی سے اپنی نگاہیں اس سمت اٹھائی تھیں۔ وہ اس وقت سفید کرتا شلوار میں ملبوس اپنے چہرے پر ازلی رعب و دبدبہ لیے ہوئے تھے۔ "حاتم شاہ یہ؟۔۔۔" دادا جی نے حیرانگی سے کچھ کہنا چاہا تھا۔ "دادا جان سنبھالیں اپنی امانت جس کا میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔" حاتم شاہ نے کسی چیز کی طرح عنایہ کے وجود کو کمرے میں موجود صوفے پر ہی لٹا دیا تھا۔ دادا جی جو ہاتھ اپنی لاٹھی پر ٹکائے بیڈ کے پاس کھڑے تھے اب ناچاہتے ہوئے بھی ان کے قدم صوفے کی طرف بڑھے یہاں ان کے ضدی بیٹے کا خون موجود تھا جس سے وہ اب تک غافل رہے تھے۔ عنایہ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی کچھ دیر کے لیے وہ سوگواری کی لپیٹ میں آئے تھے۔وہ ہو بہو ان کے چھوٹے بیٹے جیسی تھی۔ "حاتم شاہ اسے کیا ہوا ہے؟ " دادا جی کی آواز میں تھوڑا سا پریشانی کا عنصر موجود تھا۔ وہ اپنے جذبات پر ہمیشہ قابو پا کر رکھنے والے انسان تھے مگر اب عمر ڈھلتے اکثر ان کے اندر کے جذبات عیاں ہو جایا کرتے تھے۔ "میں تو محترمہ کو بڑی عزت سے لے کر آ رہا تھا بقول آپ کے بچاری سی ہے آپ کی پوتی مگر اس نے تو مجھ پر ایک جنگلی بلی کی طرح حملہ ہی کر دیا تھا ۔ اگر میرے پاس دوسرا بندوبست نا ہوتا تو یہ مجھے لازمی اب تک گنجا کر چکی ہوتی۔" حاتم شاہ نے ایک گھوری عنایہ پر ڈالتے خفگی بھرے انداز میں جواب دیا تو دادا جی اب پلٹتے بغور حاتم شاہ کی طرف دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔ اور تبھی ان کی نگاہ گھر کے باقی افراد پر بھی پڑی جو تجسس کے مارے ان کے کمرے تک پہنچ چکے تھے۔ "حاتم میرے بیٹے یہ کیا ہوا تمہیں؟ تمہارے بال اور چہرے پر خراشیں کہاں سے آئیں؟ اور پھر یہ لڑکی ؟ کیا کرتے پھر رہے ہو؟" حاتم شاہ کی ماں ثمرہ بیگم کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ تیزی سے اس کے پاس آتے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے فکر مندی سے پوچھنے لگیں۔ "کچھ نہیں ہوا ماں جی۔" حاتم شاہ سچ بولنے کی بجائے جھنجھلائے انداز میں جواب دیتا دوبارہ سے اپنے بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتا انہیں سنوارنے کی کوشش کرنے لگا وہ کسی صورت سب کے سامنے یہ بتانے کے حق میں نہیں تھا کہ وہ ایک لڑکی کے سامنے کمزور پڑ گیا تھا ۔۔۔ "اور رہی اس لڑکی کی بات تو دادا جان سے پوچھ لیں۔ میں نے بہت لمبی ڈرائیو کی ہے اسی لیے میں بہت تھک گیا ہوں۔" حاتم شاہ نے جان چھڑاتے کمرے سے جانا چاہا مگر اسی دوران بے ہوش پڑی عنایہ نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔ وہ نا سمجھی سے پہلے کمرے کی چھت اور پھر گردن موڑے اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش میں ہی تھی جب اس کی آنکھیں حاتم کے چہرے پر جا رکیں تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی اسے سب کچھ یاد آتا چلا گیا تھا۔۔ "تم ۔۔۔۔ تم نے مجھے اغوا کیا ہے؟" عنایہ چٹختے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔ وہیں وہاں موجود سب افراد ہکا بکا سے اب کبھی حاتم شاہ کو دیکھ رہے تھے تو کبھی عنایہ کو۔۔۔
Download Novel PDF
Read Novel Online
Description — Urdu
**قرضِ محبت از ماہرہ** ایک دلچسپ، مزاحیہ اور خاندانی رشتوں پر مبنی رومانی اردو ناول ہے، جس میں ایک بے خوف لڑکی اور غصے والے نوجوان کی غیرمتوقع ملاقات ایک عجیب و غریب واقعے سے شروع ہوتی ہے۔
عنایہ شاہ ایک نڈر، خوددار اور باغی مزاج یونیورسٹی طالبہ تھی۔
وہ عام لڑکیوں کی طرح خطرے کے سامنے گھبرا کر خاموش ہو جانے والی نہیں تھی بلکہ مشکل صورتحال میں بھی مقابلہ کرنا جانتی تھی۔
ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سڑک کنارے ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی۔
دوپہر کی شدید گرمی نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔
جب ایک کیب اس کے سامنے آ کر رکی تو اس نے ڈرائیور کو اپنی منزل بتائی اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
عنایہ کے لیے ٹیکسی میں سفر کرنا کوئی نئی بات نہیں تھی، اس لیے وہ بے فکری سے اپنے موبائل فون میں مصروف ہو گئی۔
لیکن تقریباً دس منٹ بعد جب اس نے باہر دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ گاڑی اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں جا رہی۔
اس نے فوراً ڈرائیور سے سوال کیا۔
ڈرائیور نے اسے بتایا کہ یہ ایک مختصر راستہ ہے، مگر عنایہ کو اس کی بات پر یقین نہ آیا۔
وہ خطرہ محسوس کرتے ہی غصے میں آگئی۔
اگلے ہی لمحے اس نے ڈرائیور کے بال دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیے اور اسے گاڑی روکنے کا حکم دیا۔
مگر وہ ڈرائیور کوئی عام شخص نہیں تھا۔
وہ حاتم شاہ تھا، جو اپنے دادا جان کے حکم پر اپنی باغی کزن عنایہ کو شہر سے حویلی لے جانے آیا تھا۔
حاتم نے ٹیکسی ڈرائیور کا روپ دھارا ہوا تھا تاکہ عنایہ اسے پہچان نہ سکے۔
دادا جان نے حاتم کے سامنے عنایہ کا ایک معصوم، یتیم اور بے بس لڑکی جیسا تصور پیش کیا تھا۔
حاتم بھی یہی سمجھ کر آیا تھا کہ اسے ایک سہمی ہوئی لڑکی کو حویلی لے جانا ہوگا۔
لیکن عنایہ نے اس کی ساری توقعات غلط ثابت کر دیں۔
وہ حاتم کے بال پکڑ کر اسے گنجا کرنے کی دھمکی دے رہی تھی۔
حاتم اپنے بال چھڑانے کی کوشش کرتا رہا، مگر عنایہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھی۔
دونوں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔
حاتم نے غصے میں عنایہ کے بال پکڑ لیے، لیکن وہ پھر بھی مقابلہ کرتی رہی۔
آخرکار حاتم نے کلوروفارم میں بھیگا رومال اس کے چہرے پر رکھ کر اسے بے ہوش کر دیا۔
عنایہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر گر گئی۔
جب حاتم کی نظر عنایہ کے ہاتھوں میں پھنسے اپنے بالوں پر پڑی تو اس کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
وہ کسی طرح اس مصیبت سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔
اس نے گاڑی گاؤں کی طرف موڑ دی تاکہ عنایہ کے ہوش میں آنے سے پہلے حویلی پہنچ سکے۔
حویلی میں دادا جان اپنی پوتی کے انتظار میں تھے۔
وہ اپنی مرحوم یا دور ہو چکی اولاد کی یادوں اور خاندانی رشتوں کے جذبات سے وابستہ تھے، مگر عنایہ کی حقیقی شخصیت سے ابھی پوری طرح واقف نہیں تھے۔
جب حاتم بے ہوش عنایہ کو اٹھائے حویلی میں داخل ہوا تو گھر کے تمام افراد حیران رہ گئے۔
وہ سیدھا دادا جان کے کمرے میں پہنچا اور عنایہ کو صوفے پر لٹا دیا۔
حاتم نے دادا جان سے شکایت کی کہ جس لڑکی کو وہ معصوم اور بے بس سمجھ رہے تھے، اس نے تو اس کے بال نوچ ڈالے تھے۔
دادا جان عنایہ کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے۔
اس کا چہرہ انہیں اپنے چھوٹے بیٹے کی یاد دلا رہا تھا۔
اسی دوران حاتم کی والدہ ثمرہ بیگم بھی وہاں پہنچ گئیں۔
انہوں نے حاتم کے بکھرے بال اور چہرے پر خراشیں دیکھ کر پریشانی ظاہر کی۔
حاتم سب کے سامنے اپنی حالت کی اصل وجہ بتانے سے گریز کرتا رہا۔
وہ ابھی وہاں سے نکلنے ہی والا تھا کہ عنایہ کو ہوش آ گیا۔
اس نے آنکھیں کھول کر اجنبی کمرے کا جائزہ لیا اور جیسے ہی حاتم کو دیکھا، اسے سارا واقعہ یاد آ گیا۔
وہ فوراً اٹھ بیٹھی اور حاتم پر اپنے اغوا کا الزام لگا دیا۔
اس کے الفاظ سن کر حویلی میں موجود تمام افراد حیران رہ گئے۔
اب سوال یہ تھا کہ دادا جان اپنی اس نڈر اور باغی پوتی کو کیسے سنبھالیں گے؟
حاتم شاہ اور عنایہ کے درمیان شروع ہونے والی یہ تکرار آگے کیا رخ اختیار کرے گی؟
اور کیا عنایہ اپنی مرضی کے خلاف حویلی لائے جانے کو قبول کرے گی؟
**قرضِ محبت** خاندانی رشتوں، اغوا، حویلی کے ماحول، مزاحیہ تکرار اور ایک بے خوف لڑکی کی دلچسپ کہانی ہے۔
Summary — Urdu
**قرضِ محبت** عنایہ شاہ اور حاتم شاہ کی کہانی ہے، جن کی ملاقات ایک غیرمتوقع اغوا اور دلچسپ تکرار سے شروع ہوتی ہے۔
عنایہ ایک نڈر اور باغی یونیورسٹی طالبہ ہے۔
اس کے دادا جان اپنے پوتے حاتم شاہ کو شہر بھیجتے ہیں تاکہ وہ عنایہ کو حویلی لے آئے۔
حاتم ٹیکسی ڈرائیور کا روپ دھار کر عنایہ کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیتا ہے۔
شروع میں عنایہ کو اس کی حقیقت کا علم نہیں ہوتا، لیکن جب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ گاڑی غلط راستے پر جا رہی ہے تو وہ فوراً ڈرائیور سے سوال کرتی ہے۔
حاتم اسے مختصر راستے کا بہانہ بناتا ہے، مگر عنایہ اس کی باتوں میں نہیں آتی۔
وہ غصے میں حاتم کے بال پکڑ لیتی ہے اور اسے گاڑی روکنے کا حکم دیتی ہے۔
حاتم اس کے غیرمتوقع ردعمل سے حیران رہ جاتا ہے کیونکہ دادا جان نے اسے عنایہ کے بارے میں بالکل مختلف تاثر دیا تھا۔
دونوں کے درمیان شدید تکرار ہوتی ہے۔
آخرکار حاتم عنایہ کو بے ہوش کر کے حویلی لے آتا ہے۔
حویلی پہنچ کر وہ اسے دادا جان کے کمرے میں صوفے پر لٹا دیتا ہے اور شکایت کرتا ہے کہ عنایہ نے اس کے بال نوچ ڈالے ہیں۔
دادا جان عنایہ کو دیکھ کر جذباتی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کے چھوٹے بیٹے سے مشابہت رکھتی ہے۔
حاتم کی والدہ ثمرہ بیگم بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہیں۔
اسی دوران عنایہ کو ہوش آ جاتا ہے۔
وہ حاتم کو دیکھتے ہی پہچان لیتی ہے اور سب کے سامنے پوچھتی ہے کہ کیا اسی نے اسے اغوا کیا ہے۔
اس سوال پر حویلی کے تمام افراد حیران رہ جاتے ہیں۔
اب عنایہ اپنی مرضی کے خلاف حویلی لائے جانے پر کیا ردعمل ظاہر کرے گی؟
اور حاتم شاہ اپنی اس نڈر کزن کا سامنا کیسے کرے گا؟
Related Keywords
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Frequently asked questions
Who wrote Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan?
Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan is written by Mahira.
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Complete Urdu Novel and Cousin Marriage Based.
Where can I read Qarz e Muhabbat Novel21042 — Novelistan?
The reading content is available in the Read online section of this page.