Tag Archives: Emotional Romance
Tumhen Wafa Pukare Novel By Muqadas Mishal Novel20909
غربت نے اسے مجرم بنا دیا... اور ایک غلط فیصلے نے ایک معصوم لڑکی کی پوری زندگی بدل دی۔
جسے تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا، وہ خود قسمت کی ماری نکلی۔ پھر ایک ایسا راز کھلا جس نے اغوا کو رشتے میں بدل دیا، مگر اصل امتحان تو نکاح کے بعد شروع ہوا۔
برسوں کی جدائی، پردیس کی اذیت، بدلتے حالات اور ایک ایسا حیران کن لمحہ... جب واپسی پر صرف وقت ہی نہیں، زندگیاں بھی بدل چکی تھیں۔
کیا محبت واقعی ہر فاصلے کو مٹا سکتی ہے؟ یا کچھ زخم وقت بھی نہیں بھر سکتا؟
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔
Ab Sawal ye hai keh By Asia Razzaqi Novel20891
"کبھی کبھی قسمت ایک ہی لمحے میں زندگی کا رخ بدل دیتی ہے..."
سمن نے ماں کی وفات کے بعد ہمیشہ اپنوں کی بے رخی، سوتیلی ماں کے ظلم اور ادھورے خوابوں کا بوجھ اٹھایا۔ وہ اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکی، مگر اس کی پھوپھی نے ہار نہ مانی اور اسے دوبارہ کالج پہنچا دیا۔ دوسری طرف عادل کے لیے بھی قسمت ایک نیا امتحان لے کر آئی۔ جب ایک زبردستی کا رشتہ اس پر مسلط کرنے کی کوشش ہوئی اور انکار کی قیمت اس کی بہن کا بسا بسایا گھر بننے لگی، تو اس کی ماں نے لمحہ بھر میں ایسا فیصلہ کر دیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ایک اچانک نکاح نے کئی زندگیاں بدل دیں... مگر کیا یہ رشتہ محبت میں ڈھلے گا، یا خاندانی رنجشیں، حسد اور مجبوریوں کے درمیان ٹوٹ کر بکھر جائے گا؟
Inteqam e Ask by Rani Mujahid Novel20877
بنش نے محبت کی خاطر اپنا گھر، اپنے ماں باپ اور اپنی پوری دنیا چھوڑ دی، مگر جس شخص کے لیے اس نے سب کچھ قربان کیا، اسی نے چند دن بعد اس کے ہاتھ میں طلاق کے کاغذ تھما دیے۔ دلاور کی محبت ایک ایسا دھوکہ نکلی جس نے اس کی زندگی برباد کر دی۔ تنہائی، ذلت اور بے بسی کے اس سفر میں بنش نے ہر لمحہ خود کو ٹوٹتے دیکھا، لیکن قسمت ابھی اس کے لیے ایک اور بھیانک موڑ سنبھالے بیٹھی تھی۔ برسوں بعد جب دلاور کا سامنا ایک حاملہ عورت سے ہوا، تو اس کے قدموں تلے زمین اس وقت نکل گئی جب اسے معلوم ہوا کہ وہ عورت اس کی سابقہ بیوی بنش ہے… اور اس کے بطن میں پلنے والا بچہ اسی کا اپنا خون ہے۔ محبت، انتقام اور پچھتاوے کی یہ کہانی ہر موڑ پر دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
Kashtiyan Jala Di Hain by Samra Bukhari Novel20868
فطینہ نے ہمیشہ دوسروں کو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا، مگر ایک دن اسی کی قیمت اسے اپنی پوری زندگی سے چکانی پڑی۔ ایک لڑکی کی خودکشی کا الزام اس پر ڈال دیا گیا، اور محبت کے نام پر اس کے گرد انتقام کا ایسا جال بچھایا گیا جسے وہ پہچان نہ سکی۔
جس شخص کو اس نے اپنا شریکِ سفر سمجھا، اس نے محبت، نکاح اور آنے والے بچے کی خوشی تک کو اپنے بدلے کا ہتھیار بنا لیا۔ حقیقت سامنے آئی تو وہ حاملہ فطینہ کو تنہا چھوڑ کر چلا گیا، اور وہ اپنے بچے، خوابوں اور زندگی کے کئی قیمتی سال کھو بیٹھی۔
برسوں بعد وہی شخص اس کے سامنے ٹوٹا ہوا لوٹا۔ کیا فطینہ اس انسان کو معاف کر سکے گی جس نے اس کی پوری زندگی انتقام کی آگ میں جلا دی؟
Dair Andher Novel by Asia Razzaqi Novel20867
عمر بھر شوخ، شرارتی اور بے فکر رہنے والی ہیروئن نے اپنا بچپن ہنسی مذاق اور اپنے کزنز کے ساتھ خوشیوں میں گزارا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن اس کی زندگی ایسا رخ اختیار کرے گی جہاں ہر مسکراہٹ چھن جائے گی۔
اس کی پھپھو، جو ہمیشہ سے اسے ناپسند کرتی تھی، اولاد نہ ہونے پر اپنی ازدواجی زندگی بچانے کے لیے اسے اپنے ہی شوہر کی دوسری بیوی بنا کر گھر لے آئی۔ مگر یہ قربانی دینے کے باوجود وہ کبھی اسے اپنی سوتن سے بڑھ کر نہ دیکھ سکی۔
شادی کے بعد ہیروئن کی زندگی ظلم اور اذیت کا دوسرا نام بن گئی۔ جب حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو اس کا کزن اسے اس جہنم سے نکالنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا، اور یہی فیصلہ محبت، قربانی اور خاندانی رنجشوں سے بھرے ایک نئے سفر کی ابتدا بن گیا۔
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
رخصتی سے چند لمحے پہلے نمی وصی احمر کے کمرے میں صرف ایک سوال لے کر جاتی ہے، مگر بات سوال سے بڑھ کر انا، غرور اور دل توڑ دینے والے الفاظ تک جا پہنچتی ہے۔ وصی کے جرمنی چلے جانے اور شادی سے فرار کی حقیقت جان کر نمی اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ اگر آج اس سے دوبارہ پوچھا جاتا تو وہ کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔ وہ اسے دوسری شادی کی تحریری اجازت بھی دے دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک رسمی رشتہ ہے۔ نمی کے یہ الفاظ وصی کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوتے ہیں۔ غصے میں وہ اعلان کر دیتا ہے کہ شادی کے بعد وہ خود اسے طلاق دے گا۔ دونوں ایک دوسرے کو ٹھکرا کر الگ ہونا چاہتے ہیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک بالکل مختلف کہانی لکھ چکی ہوتی ہے۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔