Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
Childhood Nikah | Cousin Romance | Hate to Love | Emotional Romance | Forced Marriage | Family Drama | Marriage of Convenience | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
Short Description
Teri Ulfat Me Sanam Rubina Nadeem ka ek beinteha emotional Urdu novel hai jo childhood nikah, family pressure, ego clashes, forced marriage, misunderstandings aur hate-to-love romance ki dil ko choo lene wali kahani pesh karta hai.

بچپن کے نکاح، انا، غلط فہمیاں اور نفرت سے محبت تک کے سفر پر مبنی دل کو چھو لینے والا اردو ناول۔
تم نے تو مجھے کہا تھا تم کبھی رخصتی کے لیے نہیں مانو گی، ساری زندگی مجھے انتظار کرواؤ گی، بہت جلد ہار مان لی تم نے تو۔” وہ گیلے بالوں کو ٹاول سے خشک کرتے اسے دیکھنے لگا تھا جو مایوں کے زرد لباس میں اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ گئی تھی۔
“میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ جرمنی…” وہ جیسے ہی رکی تھی، سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے بات شروع کرے۔
“تو تم مجھ سے یہ پوچھنے آئی ہو کہ میں جرمنی کیوں گیا تھا؟” اس نے ٹاول بستر پر اچھالا
مجھے معلوم ہے آپ یہ شادی کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے جرمنی بھاگ گئے تھے مگر پھر بڑے ماموں کے ڈانٹنے پر واپس آئے۔”
“بھاگ گیا!” یہ لفظ اس کے دل میں تیر کی طرح چبھا تھا، “بہت غلط خبر دی ہے کسی نے تمہیں” وہ بالوں میں برش کرتا ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں بغور اس کے چہرے کی ملائمت کو دیکھ رہا تھا۔
“غلط نہیں، بالکل درست خبر ہے کیونکہ جب بڑے ماموں فون پر آپ کو ڈانٹ رہے تھے، میں ان کے کمرے کے باہر ہی کھڑی سب کچھ سن رہی تھی۔”
“اوہو! تو تم چوروں کی طرح لوگوں کی باتیں بھی سنتی ہو، یہ تو بہت بری عادت ہے۔” وہ یکدم ایڑیوں کے بل اس کی طرف گھوم گیا، اس کی بات پر وہ بری طرح کلس کر رہ گئی تھی، اسی لیے غصے سے بولی:
“مجھے ضرورت نہیں ہے کسی کی باتیں چھپ کر سننے کی، مجھے تو وہاں ثمینہ بھابھی کھڑا کر کے گئی تھیں کیونکہ حنا اور اشعر کی مایوں کی آخری رسم چل رہی تھی، ان کے بعد ثمینہ بھابھی مجھے مایوں بٹھانے کے لیے اسٹیج پر لے جانے والی تھیں، کھڑکی سے بڑے ماموں کی آوازیں آ رہی تھیں۔”
“اچھا تو تمہیں اس بات پر غصہ آ رہا ہے کہ مایوں کے وقت جس طرح اشعر حنا کے ساتھ تھا، میں تمہارے ساتھ نہیں تھا؟” وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص پر اعتماد انداز میں ہنس رہا تھا، اس کے انداز اور مسکراہٹ نے اسے آگ لگا دی تھی، وہ اندر ہی اندر جلنے لگی تھی۔
“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں، میں آپ کی غلط فہمی دور کرنے آئی ہوں، یہ لیں۔” اس نے سفید چار تہہ کیا کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا۔
“یہ کیا ہے؟” وہ کاغذ کو تھامتا حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“کبھی آپ نے مجھ سے کہا تھا نا میں نے ہار کیوں مان لی، تو یہ ہماری مشرقی لڑکیوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کے والدین ان کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے، یہ تک نہیں پوچھتے کہ ہمیں جس کھونٹے سے باندھ رہے ہیں وہ ہمیں پسند بھی ہے یا نہیں۔”
وصی کو محسوس ہونے لگا تھا جیسے نمی نے اسے جلتے شعلوں میں جھونک دیا ہو، اپنے وجود کی توہین پر وہ بری طرح سلگ گیا تھا۔
“میرا جب آپ سے نکاح ہوا تو میں جانتی ہی نہیں تھی نکاح کس چڑیا کا نام ہے، اس لیے مجبور ہوں، نہ چاہتے ہوئے بھی اس رخصتی کو روک نہیں سکتی۔ ہاں، اگر اب میرا نکاح آپ سے کیا جاتا تو میں ضرور بغاوت کرتی، ہرگز آپ سے شادی نہیں کرتی۔”
اس کے الفاظ تھے کہ ایٹم بم، جو اس کے وجود کے پرخچے اڑا گئے تھے، اس کے سارے وجود میں انگارے سے دہکنے لگے تھے۔
“یہ آپ کی دوسری شادی کا اجازت نامہ ہے، آپ جس سے چاہیں شادی کر لیں، میرا آپ سے نہ کل کوئی تعلق تھا نہ اس رخصتی کے بعد کوئی رشتہ ہو گا۔”
“وٹ!” اس کے چہرے پر غصے سے شکنیں پڑ گئی تھیں، اس کا جی چاہا کہ سامنے کھڑی لڑکی کو شوٹ کر دے، اس نے قہر آلود نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
“جسٹ شٹ اپ نمی! بکواس بند کرو، تم کون ہوتی ہو مجھے اجازت دینے اور نہ دینے والی؟” وہ بل کھا کر بری طرح پھنکارا تھا۔
“بہت درد محسوس ہو رہا ہے نا وصی احمر، اپنے رد کیے جانے پر؟”
“میرے ساتھ اس طرح کی گفتگو مت کرنا نمی، ورنہ اٹھا کر تمہیں کمرے سے باہر پھینک دوں گا۔” اس کے کڑوے الفاظ سیسے کی طرح اس کے روم روم میں آگ لگا رہے تھے۔
“بہت غصہ آ رہا ہے نا، مجھے بھی آیا تھا جب میں نے بڑے ماموں کے منہ سے سنا تھا کہ آپ یہ شادی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔”
“میں تمہیں کوئی صفائی نہیں دوں گا اور میں اپنی ذات پر بے جا ترف گیری قطعی برداشت نہیں کرتا، اس لیے دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے۔” اس نے ہاتھ کے اشارے سے باہر کا راستہ دکھایا۔
“برداشت تو کرنا پڑے گا وصی احمر صاحب! دوسروں کی ذات کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں آپ، اپنی ذات پر آنچ آنا پسند نہیں؟ کل تک آپ مجھے دھتکارتے رہے، آج میں آپ کو دھتکارتی ہوں”
“کیا کہا تم نے؟” وہ غضبناک ہو کر اس کی طرف بڑھا تھا، احساسِ ذلت کے سبب اس پر تو جیسے خون سوار ہو گیا تھا، اس کو کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑ ڈالا تھا، “تم… تم ٹھکراؤ گی مجھے؟ تمہیں یاد نہیں رہا میرا سلوک، میں نے دھتکارا تھا تمہیں، اور یہ جو بہت گھمنڈ اور غرور آ گیا ہے نا تم میں، تو اسے بھی اپنے قدموں تلے روند ڈالوں گا۔ تم کیا ٹھکراؤ گی مجھے، شادی کے بعد میں خود تمہیں ڈائیورس پیپرز تمہارے ہاتھ میں نہ تھمائے تو میرا نام بھی وصی احمر نہیں۔” وہ یکدم شدید اشتعال میں آ کر جو منہ میں آیا بغیر سوچے سمجھے بول گیا تھا۔
اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکلے تھے، ایک آتش فشاں تھا جو نمی کے کمزور اعصاب پر پھٹا تھا اور اس کی ہستی کا سہارا، غرور اور مان بہا لے گیا تھا، اس کے الفاظ اسے عرش سے فرش پر لے آئے تھے۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Teri Ulfat Me Sanam Rubina Nadeem ka ek emotional romantic Urdu novel hai jismein bachpan ke nikah, family traditions, ego, misunderstandings aur mohabbat ke khoobsurat safar ko bohot dilchasp andaaz mein bayan kiya gaya hai.
Novel ka hero Wasi Ahmer bachpan mein apni cousin Nami se nikah kar leta hai, lekin waqt ke saath woh is rishte ko kabhi dil se qabool nahi karta. Germany chale jana aur rukhsati se bachne ki koshish uski isi na-pasand ka izhar hota hai. Dusri taraf Nami bhi dheere dheere uski haqeeqat jaan leti hai aur uski be-rukhi uski khuddari ko jaga deti hai.
Rukhsati se pehle dono ke darmiyan ek aisa takraar bhara muqabla hota hai jahan mohabbat ki jagah ego aur zidd nazar aati hai. Nami Wasi ko dusri shadi ki ijazat tak de deti hai aur uski baaton se Wasi ka ghuroor buri tarah zakhmi ho jata hai. Isi lamhe se dono ki zindagi ek naye imtehan ka safar shuru karti hai.
Kahani mein family emotions, misunderstandings, self-respect, emotional pain aur dheere dheere ubharne wali mohabbat ko bohot khoobsurti se pesh kiya gaya hai. Har chapter naye twists aur jazbati mod se bharpoor hai jo qari ko aakhir tak apne saath baandhe rakhta hai.
Agar aap hate-to-love, cousin marriage aur emotional family romance par mabni Urdu novels pasand karte hain to Teri Ulfat Me Sanam zaroor pasand aayega.
Teri Ulfat Me Sanam Novel, Teri Ulfat Me Sanam By Rubina Nadeem, Rubina Nadeem Novels, Cousin Romance Novel, Childhood Nikah Novel, Hate To Love Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Family Drama Novel, Complete Urdu Novel
FAQs
Q: Teri Ulfat Me Sanam kis genre ka novel hai?
A: Yeh Childhood Nikah, Cousin Romance, Hate to Love, Emotional Romance aur Family Drama par mabni Urdu novel hai.
Q: Teri Ulfat Me Sanam ki writer kaun hain?
A: Is novel ki musannifa Rubina Nadeem hain.
Q: Kya is novel mein happy ending hai?
A: Ji haan, tamam ghalat fehmiyon aur jazbati imtehanat ke baad kahani ek tasalli bakhsh anjaam tak pohanchti hai.
Q: Kya yeh complete Urdu novel hai?
A: Ji haan, yeh ek complete Urdu novel hai.
#TeriUlfatMeSanam #RubinaNadeem #UrduNovel #CompleteNovel #ChildhoodNikah #CousinRomance #HateToLove #EmotionalRomance #FamilyDrama #NovelLovers
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕