Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
Hum Haar Gaye Novel20845
Forced Marriage | Hate to Love | Emotional Romance | Marriage of Convenience | Family Drama | Revenge & Redemption | Misunderstanding | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
Short Description
Hum Haar Gaye Fozia Akbar Sana ka ek beinteha emotional Urdu novel hai jo nafrat, ghalat fehmiyon, forced marriage, family honour, sacrifice aur healing ki dil ko choo lene wali kahani pesh karta hai.

نفرت، غلط فہمیاں، قربانی اور محبت کے سفر پر مبنی ایک درد بھرا اردو ناول۔
سنو تم کسی خوش فہمی میں ہرگز مبتلا مت ہونا۔ میں نے صرف اور صرف بھیا کے کہنے پر تم سے شادی کرنے کے لیے حامی بھری ہے کہ ان حالات میں جو تم نے خود پیدا کیے ہیں، بھیا کے نزدیک تمہاری جان کو خطرہ ہے۔ اسی لیے اپنے نام کی پناہ میں لے لیا ہے۔ ورنہ تم جیسی لڑکی سے کون شادی کرتا، ہونہہ! میں نے تو ترس کھایا ہے تمہاری معصوم بے گناہ بہنوں پر، تمہارے بے بس اور شریف والدین پر جن کی نیک نامی پر تمہارے کرتوتوں کا سایہ پڑ جائے تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ تم جو بظاہر بڑی معصوم اور خوبصورت دکھائی دیتی ہو، تمہارے اس حسین چہرے کے پیچھے جو بھیانک خوفناک ناگن ہے وہ ہنستے بستے لوگوں کو اجاڑنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اس سے میں اچھی طرح آشنا ہوں، تم دوسروں کو اپنے ڈھونگ اور شرافت کے مظاہروں سے متاثر کر سکتی ہو مگر مجھے ہرگز نہیں ہرا سکتیں۔ بھیا کا حکم نہ ہوتا تو… خیر جیسے ہی حالات کنٹرول میں آ گئے، تمہاری بڑی دونوں بہنوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی بہن کی بھی شادی ہوتے ہی میں تم سے اپنے نام کی پناہ چھین لوں گا۔ یقیناً اس بات کا تم جیسی لڑکی کو کوئی افسوس نہیں ہوگا کہ بہت سے نامراد عاشقوں کے گھروں اور دلوں کے دروازے تمہیں کھلے ملیں گے ورنہ نئے نئے عاشق ڈھونڈنے میں تو تم…
کتنا زہر بھرا تھا اس کے اندر۔ وہ جو دلوں میں بستا تھا، کس بے دردی سے اک معصوم سی لڑکی کا دل زہریلے تیروں سے چھلنی کیے دے رہا تھا کہ اس کی رگوں میں دوڑتا بھاگتا لہو زہر ہونے لگا تھا۔ اس نے رونمائی میں گھونگٹ الٹنے کی رسم نبھانے کی زحمت، آنچل گھسیٹ کر کارپیٹ پر پھینکتے ہوئے ادا کی تھی، ان لمحوں کو اس کے لیے اذیت ناک حد تک ناقابل برداشت بنا دیا تھا کہ وہ اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں سے اسے دیکھتی چلی گئی تھی۔ اس وقت ان دو آنکھوں میں درد و اذیت، کرب و ملال، وحشت و بے چینی، صدمے اور دکھ کے رنگ پھیل گئے تھے۔ آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگ کر خوف اور ذلت کے بے پناہ احساس سے زرد پڑ جانے والے رخساروں پر بکھرتے چلے گئے تھے۔ مگر وہ بے رحم جلاد بنا اس کی روح پر پے در پے چرکے لگاتا ہوا، اس کے چہرے کی جانب دیکھے بنا، اس کے کارپیٹ پر پڑے سرخ زرتار آنچل کو اپنے قدموں تلے بے دردی سے روندتا ہوا، اپنے دل میں آئی ہر بات کہنے کے بعد واش روم میں بند ہو گیا تھا اور وہ زخمی نگاہوں سے واش روم کے بند دروازے کو دیکھتی ہوئی اپنے بھاری بھرکم شرارے کو سنبھالتی، موتیے اور چنبیلی کے پھولوں سے سجائی گئی مہیب سیڈ (بیڈ) سے نیچے اتر آئی تھی۔ ایسے میں اس کے زیورات نے کمرے کی وحشت میں مدھم سا ارتعاش پیدا کیا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے اونچے آئینے میں دکھائی دینے والے اپنے عکس کو زیورات اتارنا بھول کر دیکھتی ہوئی وہ کھو گئی تھی۔ اپنے حسین عکس کے پیچھے چھپے خوفناک مقدر کے مکڑی کی طرح پھیلائے ہوئے جال کے شکنجے میں، جس سے بچ کر نکلنے کی کوئی راہ اسے دکھائی نہ دے رہی تھی، آئینے میں دیکھ رہی تھی۔
ٹپ ٹپ کئی قطرے اس کی پلکوں کی باڑ پھلانگ کر رخساروں پر بکھرے تھے۔ اپنے عکس کو دیکھتی ہوئی وہ ماضی میں پہنچ گئی تھی، اسے خبر ہی نہ ہوئی تھی کہ اس طرح کھوئے ہوئے اس کو کتنا وقت گزر گیا ہے اور شہیم احمد کب کا ہاتھ دھو کر، وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس، نکھرا نکھرا سا واش روم سے باہر آ چکا ہے اور اس کی کھوئی کھوئی کیفیت اور آنسوؤں کی روانی کو ناگواری سے دیکھ رہا ہے۔ آنکھوں کی ناگواری میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ غصہ اور جنون ابھرنے لگا تھا۔ وہ نفرت اور غصے میں بھرا ہوا سا شو ریک (Shoe Rack) کی جانب بڑھا تھا اور کالی پالش کی ڈبیا اٹھا کر اس کا ڈھکن کھول کر درِ نجف کی جانب پلٹا تھا۔ اس کی ناگواری اور جنون کے ساتھ ساتھ عجیب سی درندگی وحشت بن کر ابھری تھی۔
“اللہ! میں کیا کروں، مجھے معاف کر دے میرے مالک۔” درِ نجف کے لب کانپے تھے اور اک دعا اس کے لبوں کی قید سے آزاد ہو کر آسمانوں کی جانب پرواز کر گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ پلکیں کھول کر حال میں واپس لوٹتی، شہیم احمد نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ٹشو پیپر باکس میں سے تیزی سے دو تین ٹشو نکالے اور پالش کی ڈبیا میں سے ڈھیر ساری پالش نکال کر درِ نجف کے چہرے پر بے دردی سے، اپنی نفرت کا شدت سے اظہار کرتے ہوئے مل دی اور ڈبیا پھینک دی۔
“امی!” درِ نجف تڑپی تھی، آنکھیں کھول کر آئینے میں دیکھتے ہوئے وہ ماہیٔ بے آب کی مانند مچل اٹھی تھی۔
“یہ ہے تمہاری اوقات اور یہ ہے تمہارا اصل!” شہیم احمد کے اس انتہائی عمل نے درِ نجف کے جنون کو آواز دے دی تھی۔ وہ جو اس کی احسان مند تھی کہ اس نے اپنے نام کی پناہ میں لے کر اس کو زمانے سے بچا لیا ہے، اور اس کے گھر والوں نے اس کے گھر والوں کو پناہ دی ہے، مگر اس اندازِ بے عزتی نے درِ نجف کی نسوانی انا پر ضرب لگائی تھی۔ وہ تیزی سے پلٹی تھی اور شہیم احمد کا گریبان پکڑ کر چلا اٹھی تھی، ایک ہاتھ سے اپنے چہرے پر لگی پالش اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے اسی ہاتھ کو شہیم احمد کے منہ پر مل کر اس کو بھی سیاہ کر گئی تھی۔
“تم… تم… تمہاری اوقات بھی یہی ہے گھٹیا انسان! تم بھی گرے ہوئے ہو، اگر میں بری ہوں تو تم مجھ سے بھی زیادہ برے ہو، تم…”
اس کے الفاظ نے شہیم احمد کو پاگل کر دیا تھا۔ اس کی جرات مندی پر وہ جو چند لمحوں کے لیے دنگ رہ گیا تھا، زخمی شیر کی مانند دھاڑا تھا اور چٹاخ چٹاخ چٹاخ، کئی طمانچے اس کے پھول جیسے گال پر مارتا چلا گیا تھا۔
“ایک کال گرل مجھے میری اوقات بتائے گی؟” صرف اسی پر بس نہیں کیا تھا اس نے، وہ طمانچوں سمیت مکے، گھونسے اور اس کے زمین پر گر جانے کے بعد پیروں کی زبردست ٹھوکروں سے اس کو اپنی نفرت کا یقین دلاتا چلا گیا تھا۔ اس کے اندر کا نرم دل و نرم مزاج شہیم احمد جانے کب سو گیا تھا، اور جو اس وقت اس میں جاگا تھا وہ ایک جلاد صفت پولیس آفیسر تھا، جو یہ بھلا بیٹھا تھا کہ اس کے طاقت کے مظاہرے کسی عادی مجرم کو نہیں، ایک نازک سی لڑکی کو موت کے منہ میں بھی دھکیل سکتے ہیں کہ
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Hum Haar Gaye Novel, Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana, Fozia Akbar Sana Novels, Forced Marriage Novel, Hate To Love Novel, Emotional Romance Urdu Novel, Family Drama Novel, Complete Urdu Novel
#HumHaarGaye #FoziaAkbarSana #UrduNovel #CompleteNovel #ForcedMarriage #HateToLove #EmotionalRomance #FamilyDrama #PakistaniNovels #NovelLovers
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕