Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya by Hina Malik Novel20829
Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya by Hina Malik Novel20829
Revenge-Based | Teacher-Student Romance | Age Gap Romance | Childhood Nikah| Misunderstanding Based | Family Secrets | Emotional Romance | Strong Hero
Short Description
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ حنا ملک کا ایک جذباتی، سنسنی خیز اور انتقام پر مبنی اردو ناول ہے جو ماہا، زعیم حسن اور رمنا درانی کے درمیان ماضی کے راز، عمر کے فرق، استاد اور طالبہ کی محبت اور مکافاتِ عمل کی پیچیدہ کہانی بیان کرتا ہے۔۔
Revenge, teacher student romance, age gap aur family secrets par mabni aik intense emotional complete Urdu novel.

خاموش محبت، غلط فہمیوں اور قربانی سے گزرتی ایک دل ہلا دینے والی داستان۔
سر!۔۔۔ مما میری شادی کرنا چاہتی ہیں۔“ افسردہ سے لہجے میں کہتی سیدھی دل میں اتر گئی۔ ”میں۔۔۔ میں ایسا نہیں چاہتی۔“ یک دم وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی۔ زعیم حسن نے نچلا لب دانتوں تلے دبا کر ایک گہری نگاہ روتی ہوئی ماہا پر ڈالی۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر وہ چند ثانیے اسے یوں ہی دیکھتا رہا۔ پھر اٹھ کر اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔ ”رونے والے بزدل ہوتے ہیں ماہا۔“ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ گویا ہوا۔ ”م۔۔۔ مجھے بتائیے سر! میں۔۔۔ میں کیا کروں؟ مما تو اسی ہفتے میرا نکاح کر رہی ہیں۔“ ”تم صاف انکار کر دو۔“ ”جی۔۔۔“ ماہا نے روتے روتے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ ”مگر کیسے؟“ ”صاف کہہ دو کہ تم کسی اور کو پسند کرتی ہو۔“ ”کیا آپ۔۔۔ نہیں کرتیں؟“ لہجہ اتنا مضبوط تھا کہ ماہا بے اختیار نظریں جھکا کر رہ گئی۔ ”مما مجھے جان سے مار دیں گی۔“ ”محبت تو انسان کو نڈر بناتی ہے جبکہ آپ ابھی سے حوصلہ ہار گئیں۔“ زعیم حسن نے کہا۔ ”آپ بے خوف ہو کر اپنی مما سے بات کیجیے۔ وہ ماں ہیں آپ کی۔ جان سے نہیں ماریں گی۔ یہ گارنٹی میں دیتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کچھ خفگی وغیرہ دکھائیں مگر وہ بالآخر مان جائیں گی۔“ وہ کہہ رہا تھا۔ کن اکھیوں سے ماہا کی طرف دیکھا جو سر جھکائے لب کاٹتی تذبذب کا شکار لگ رہی تھی۔ ”آپ بے فکر ہو کر جائیے ماہا! میں ہوں ناں پھر کاہے کا ڈر؟“ اسے شانوں سے تھام کر مقابل کرتے ہوئے تسلی دی۔ ”آپ کی مما ضرور مان جائیں گی۔ ریلیکس۔“ ”تھینک یو سر!“ آنکھوں میں چمک لوٹ آئی تھی اور لبوں پر دھیمی سی مسکان بکھر گئی تھی۔ وہ کمرے سے نکل گئی۔ زعیم نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں دیکھنی کوئی تصویر ماہا!“ مما کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ وہ تو اس قدر بدتمیزی پر کھول کر رہ گئی تھیں۔ ”یہ کیا بیہودگی ہے ماہا؟“ ”جب سب کچھ آپ طے کر چکی ہیں تو پھر مجھے تصویر دکھانے کی فارمیلٹی کیوں نبھا رہی ہیں؟“ ماہا نے اس طرح پہلے بھی بات نہیں کی تھی۔ مسز درانی نے بڑی شدت سے اس کے بے خوف لہجے کو محسوس کیا تھا۔ درپردہ کوئی اور تھا جو ماہا کی ہمت بڑھا رہا تھا۔ جس کی شہہ پر ماہا آج ان کے سامنے اس طرح بول رہی تھی۔ وہ لڑکی جو کل تک اپنی کسی فرینڈ کے گھر جانے سے پہلے یا کوئی ڈریس خریدنے سے پہلے مما سے سو بار پوچھتی تھی، آج اتنی خودسر ہو گئی تھی کہ ماں کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ ”کون ہے وہ؟“ مما تھکے تھکے سے انداز میں کہتی صوفے پر بیٹھ گئیں۔ ”جی؟“ ماہا نے چونک کر دیکھا۔ ”اتنی انجان مت بنو۔ وہی جس کی شہہ پر آج اپنی ماں کے منہ آ رہی ہو۔“ ”زعیم حسن۔“ ماہا نے سر جھکا کر گویا اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ ”تمہارے ساتھ پڑھتا ہے؟“ ”نہیں۔“ ”تو پھر۔۔۔“ ”میرے ٹیچر ہیں۔“ ”واٹ؟ وہی جو اس روز تمہیں چھوڑنے آئے تھے؟“ ”جی۔“ ”تمہارا ٹیچر ہے! کیا عمر ہے؟ دیکھنے میں تو ینگ ہیں ؟ ٹیچر ہے تو عمر میں تو تم سے تو اوپر کا ہی ہوگا۔“ ”شاید۔۔۔“ وہ مسلسل سر جھکائے کھڑی تھی۔ ”تمہیں شرم نہیں آئی ماہا! اپنے سے اتنی بڑی عمر کے شخص کے ساتھ؟ تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا۔“ وہ ایک دم بھڑک اٹھی تھیں۔ ”محبت عمروں سے مشروط نہیں ہوتی۔“ جی کڑا کر کے کہہ ڈالا۔ ”شٹ اپ۔ میں نے تمہیں یہاں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔ محبت پیار کے چکروں میں پڑنے کو نہیں۔“ ”آپ کچھ بھی کہیں۔ میں شادی کروں گی تو صرف زعیم حسن سے۔“ اس کا انداز ہٹ دھرم تھا۔ ہمیشہ فیصلے سنا کر ان پر مہرِ ثبت کرنے والی مما آج بے بس نظر آ رہی تھیں۔ ”اس سے کہو مجھ سے آ کر ملے۔“ وہ کمرے سے نکلنے لگی تھی جب اس نے مما کی آواز سنی تھی۔ ”تھینک یو مما! تھینک یو سو مچ!“ مما کے سامنے دو زانو بیٹھ کر ان کے ہاتھ تھام کر کہا۔ لنچ کے بعد مما کو کسی میٹنگ کے لیے جانا تھا۔ مما کے جانے کے بعد وہ زعیم حسن سے ملنے چل پڑی تھی۔ ’پتہ نہیں گھر پر ہوں گے بھی یا نہیں۔‘ اس کے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھتے ہوئے سوچا۔ تین بار بیل بجانے کے بعد دروازہ کھل گیا۔ بلیک پینٹ اور بلیک لائنوں والی گرے کلر شرٹ میں وہ بلا کا جاذبِ نظر لگ رہا تھا۔ یا شاید ماہا کو آج وہ کچھ زیادہ ہی اچھا لگ رہا تھا۔ ”ہم۔۔۔ کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے؟“ زعیم حسن کے کہنے پر وہ شرمندہ سی ہو گئی۔ زعیم نے ایک طرف ہو کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔ ”سب خیریت رہی؟“ کھوجتی ہوئی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ ”مما اتنی آسانی سے مان جائیں گی، میں نے تو سوچا بھی نہ تھا۔“ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ زعیم کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ ”مما آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔“ صرف نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔ ”کیوں؟“ زعیم کے ’کیوں‘ پر ماہا نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔ ”کیا آپ نہیں جانتے؟“ لہجے میں ہلکی سی ناراضگی در آئی۔ ”جانتا ہوں اور میں تو خود ان سے ملنے کو بے قرار ہوں۔“ ماہا کے چہرے پر جھولتی لٹ کو بائیں ہاتھ سے کان کے پیچھے اڑسا تھا۔ ماہا جھجک کر پیچھے ہوئی۔ جھجکنے اور سمٹنے کے انداز شوق کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ زعیم حسن کی شخصیت پرت در پرت کھل رہی تھی۔ بلا کی سنجیدگی اب بے تکلفی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے بھلا یہ سب پہلے کہاں دیکھا تھا۔ کسی مرد سے راہ و رسم کا بالکل پہلا تجربہ تھا۔ وہ گھبرا سی گئی۔ وہ بہت قریب بیٹھے تھے۔ ”آپ بتائیں کب ملوا رہی ہیں اپنی مما سے؟“ ”جب آپ کہیں۔“ ”تو پھر ایسا ہے کہ کل ہی یہ نیک کام کر لیتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ کر مجھے بتا دیجیے گا کہ وہ کہاں ملنا پسند کریں گی۔“ ”۔۔۔ میں اب چلتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگی تو زعیم نے وہی بازو اس کے کندھوں پر رکھ دیا جو صوفے کی بیک پر دھرا تھا۔ ”اتنی جلدی؟“ ماہا پوری جان سے لرز گئی۔ زعیم حسن تو آج اسے حیران کرنے پر تلے تھے۔ ”وہ۔۔۔ مما۔۔۔“ الفاظ حلق میں اٹکنے لگے تھے۔ ”کیا بہت خوفناک ہیں آپ کی مما؟“ ”ن۔۔۔ نہیں تو۔“ ”آپ کے انداز سے تو یہی لگتا ہے۔ لگتا ہے کل مجھے خوب تیاری کر کے ان سے ملنا پڑے گا۔ کیوں، ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟“ اس سے تائید چاہی تو وہ محض مسکرا کر رہ گئی۔ ”مما کو کس طرح امپریس کرنا ہے۔ یہ سوچنا اب آپ کا کام ہے۔“ ”جب بیٹی کو امپریس کر لیا تو مما کیا چیز ہیں۔“ وہ مسکرایا تو ماہا بھی مسکرا دی۔ ”میں جاؤں؟“ ماہا نے فون کر کے زعیم کو گھر بلایا تھا۔ دوپہر کے تین بجے وہ آیا تھا۔ زعیم کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر وہ مما کو بلانے دوڑی تھی۔ ”تم یہی رکو۔ جب ضرورت ہوگی میں بلوا لوں گی۔“ مما نے اسے اپنے کمرے میں رکنے کا کہا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی۔ مما جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں تو زعیم کی اس کی طرف پشت تھی۔ وہ دیوار پر لگی پینٹنگ دیکھنے میں محو تھا۔ مسز درانی نے کھنکھار کر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ زعیم حسن چونک کر پلٹا۔ ”تم۔۔۔“ زعیم حسن کے چہرے پر نظر پڑتے ہی مسز درانی کے منہ سے نکلا تھا۔ ”یادداشت تو ابھی بھی کمال کی ہے آپ کی۔“ اس کے برعکس وہ بے حد پرسکون تھا۔ کوئی دھچکا نہیں لگا تھا۔ ”تم۔۔۔“ الفاظ حلق میں اٹک گئے تھے۔ ”ناچیز کو ہی زعیم حسن کہتے ہیں۔“ ”گیٹ لاسٹ فرام ہیئر ۔“ یکلخت وہ چلائی تھیں۔ زعیم کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ ”اتنا غصہ؟“ ”تم گھٹیا، کمینے انسان، تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کی طرف دیکھنے کی؟“ مسز درانی کے چلانے پر وہ اسی پرسکون سے انداز میں مسکرا دیا۔ ”بہت تکلیف ہو رہی ہے رمنا بیگم؟ تم نے تو کہا تھا کہ تم مجھ جیسے کم ذات اور تمہارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والے انسان پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتیں، مگر دیکھو آج اسی کم ذات کو تمہاری بیٹی نے بطور جیون ساتھی پسند کیا ہے۔“ ”اس کا مطلب۔۔۔ تم۔۔۔ تم جانتے تھے کہ ماہا میری بیٹی ہے۔“ ”بہت پہلے سے۔“ ”اوہ تم فراڈیئے! تم نے جان بوجھ کر میری بیٹی کے ساتھ یہ کھیل کھیلا؟“ ”یہی سمجھ لو۔“ ”میں۔۔۔ میں اسے سب کچھ بتا دوں گی۔ تمہارا اصلی چہرہ دکھاؤں گی۔ اسے۔۔۔“ ”پھر تو تم کہیں کی بھی نہیں رہوگی رمنا درانی! جانتی ہو خود اپنی بھی نہیں۔“ وہ بہت پرسکون انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ رمنا سخت بے قراری کے عالم میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں۔ ”سوچو! کیا بیتے گی اس پر یہ جان کر کہ اس کی ماں کتنی گھٹیا عورت ہے۔“ ”بلیک میل کر رہے ہو مجھے؟“ ”میری مجال؟ یہ تو مکافاتِ عمل ہے۔“ ”میں۔۔۔ میں مر کر بھی ماہا کی شادی تم سے نہیں کروں گی۔“ ”چیلنج کر رہی ہو؟“ اس کا انداز ایسا تھا کہ رمنا تڑپ کر رہ گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ زعیم حسن بدلے کی آگ میں جھلس رہا تھا۔ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ”تمہیں شرم نہیں، اپنے سے بیس برس چھوٹی لڑکی کو پھنساتے ہوئے۔“ ”تمہیں شرم آئی تھی خود سے چھ برس چھوٹے لڑکے کو پھنساتے ہوئے؟ میں تو پھر مرد ہوں۔“ وہ بدو بدو بولا تھا۔ ”میں۔۔۔ میں تمہیں کبھی جیتنے نہیں دوں گی۔“ ”عرصہ ہوا ہار جیت کا کھیل چھوڑ دیا۔ ہم تو صرف ایک ہی کھیل کھیلا کرتے ہیں۔ بدلے کا کھیل، انتقام کا کھیل۔“ وہ ہنوز پرسکون تھا۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ ایک جذباتی، رومانوی اور انتقامی اردو ناول ہے جس میں محبت، دھوکا، ماضی کے زخم، طبقاتی فرق، عمر کا فاصلہ اور مکافاتِ عمل جیسے موضوعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
کہانی کی مرکزی کردار ماہا ایک حساس، معصوم اور اپنی ماں کی فرمانبردار لڑکی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے ہمیشہ اپنی والدہ رمنا درانی کی مرضی سے کرتی آئی ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ اپنے استاد زعیم حسن کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔
زعیم حسن ماہا کے لیے صرف استاد نہیں رہتا بلکہ اس کی زندگی میں اعتماد، حوصلے اور تحفظ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جب ماہا کی والدہ اس کی شادی کسی اور شخص سے طے کرنے لگتی ہیں تو وہ زعیم کے سامنے اپنی پریشانی رکھتی ہے۔ زعیم اسے اپنی محبت کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہونے اور اپنی والدہ سے صاف بات کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
ماہا پہلی مرتبہ اپنی ماں کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کرتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ وہ شادی کرے گی تو صرف زعیم حسن سے۔ رمنا درانی بیٹی کے اچانک بدلے ہوئے رویے اور اس کی ضد سے چونک جاتی ہیں، مگر آخرکار زعیم سے ملاقات پر رضامند ہو جاتی ہیں۔
مگر اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب زعیم حسن رمنا درانی کے سامنے آتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ماضی کا ایک نہایت تلخ اور خوفناک راز چھپا ہوتا ہے۔ زعیم ماہا سے اتفاقاً نہیں ملا بلکہ وہ شروع ہی سے جانتا تھا کہ وہ رمنا درانی کی بیٹی ہے۔
کئی برس پہلے رمنا نے زعیم کو اس کی غربت، کم حیثیتی اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے ذلیل کیا تھا۔ ان کے تکبر، بے وفائی اور توہین نے زعیم کے اندر انتقام کی ایسی آگ بھڑکا دی جو وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتی گئی۔ اب وہ اسی عورت کی بیٹی کو اپنی زندگی میں لا کر ماضی کا حساب چکانا چاہتا ہے۔
رمنا درانی اپنی بیٹی کو زعیم کے اصل ارادوں سے بچانا چاہتی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ اگر انہوں نے ماضی کا پورا سچ کھول دیا تو ان کی اپنی عزت، ماہا کا اعتماد اور ماں بیٹی کا رشتہ سب کچھ بکھر سکتا ہے۔ دوسری طرف زعیم نہایت پرسکون انداز میں اسے باور کراتا ہے کہ یہ محبت کا نہیں بلکہ انتقام اور مکافاتِ عمل کا کھیل ہے۔
ماہا اس تمام حقیقت سے بے خبر زعیم کو اپنی محبت اور مستقبل سمجھ رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے زعیم ایک باوقار، مہربان اور حوصلہ دینے والا شخص ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ماضی کے زخموں سے بھرا ہوا ایسا مرد ہے جو رمنا کو اسی درد سے گزارنا چاہتا ہے جو کبھی اس نے اسے دیا تھا۔
کیا زعیم ماہا سے واقعی محبت کرتا ہے یا وہ صرف انتقام کا ایک ذریعہ ہے؟ کیا رمنا درانی اپنی بیٹی کو ماضی کی سزا سے بچا سکے گی؟ کیا ماہا حقیقت جاننے کے بعد زعیم کو معاف کر پائے گی؟ اور کیا انتقام کی آگ میں شروع ہونے والا یہ رشتہ کبھی سچی محبت، تحفظ اور گھنے سائے میں بدل سکے گا؟ یہی سوال اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک دلچسپ، سنسنی خیز اور جذباتی بنائے رکھتے ہیں۔
hoop Tum Ghana Saya by Hina Malik, Hina Malik, Complete Urdu Novel, Revenge Based Novel, Teacher Student Romance, Age Gap Romance, Family Secrets, Psychological Romance, Emotional Family Drama, Cruel Hero, Innocent Heroine, Misunderstanding Based Novel, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan
#ZindagiDhoopTumGhanaSaya #HinaMalik #UrduNovel #CompleteUrduNovel #RevengeRomance #TeacherStudentRomance #AgeGapRomance #EmotionalNovel #FamilyDrama #Novelistan
FAQ
Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional, romantic aur revenge based Urdu novel hai jismein teacher student romance, age gap, family secrets aur psychological conflict ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Hina Malik hain.
Kya Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya complete novel hai?
Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.
Is novel ke main characters kaun hain?
Is kahani ke markazi kirdar Maaha, Zaeem Hassan aur Ramna Durrani hain.
Kya Zaeem Hassan Maaha ka teacher hai?
Ji haan, Zaeem Hassan Maaha ka teacher hota hai aur waqt ke sath Maaha us se mohabbat karne lagti hai.
Kya yeh age gap romance novel hai?
Ji haan, Zaeem Hassan aur Maaha ki umron mein khaasa farq hai jo kahani ka aik aham jazbati aur samaji pehlu hai.
Kya Zaeem Maaha se sachchi mohabbat karta hai?
Zaeem Maaha ki zindagi mein maazi ke inteqam ke iraday se dakhil hota hai, lekin kahani ke sath us ke asal jazbaat aur mohabbat ki haqeeqat samne aati hai.
Zaeem Hassan Ramna Durrani se badla kyun lena chahta hai?
Ramna Durrani ne maazi mein Zaeem ko us ki kam haisiyati, ghurbat aur khandani pas-e-manzar ki wajah se zaleel kiya tha. Isi tauheen aur dhokay ki wajah se Zaeem us se inteqam lena chahta hai.
Kya Maaha ko Zaeem aur us ki maa ke maazi ka pata hota hai?
Shuru mein Maaha is haqeeqat se bilkul anjaan hoti hai. Woh Zaeem ko apni sachchi mohabbat samajhti hai aur maazi ke inteqami khel سے بے خبر رہتی ہے۔
Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Zindagi Dhoop Tum Ghana Saya complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕