Tujh Ko Manga Hai Khuda Se by Fozia Akbar Sana Novel20830

Forced Marriage | Misunderstanding | Emotional Romance | Love Triangle | Second Chance Love | Family Drama | Tragic Love Story

Short Description

تجھ کو مانگا ہے خدا سے فوزیہ اکبر ثناء کا ایک نہایت جذباتی اور رومانوی اردو ناول ہے، جس میں غلط فہمی، بچپن کے نکاح، بے لوث محبت، بیماری، قربانی، طلاق اور دوبارہ ملنے کی امید کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

Rabiya ki khamosh mohabbat, Rehan ki ghalat fehmiyan aur Zaid Rabbani ki be-loos wafadari mil kar aik dil ko chhoo lene wali kahani paida karti hain.

Tujh Ko Manga Hai Khuda Se Novel by Fozia Akbar Sana Complete Urdu Novel

خاموش محبت، غلط فہمیوں اور قربانی سے گزرتی ایک دل ہلا دینے والی داستان۔

کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟” وہ بنا کسی تمہید کے یکدم پوچھ بیٹھا تھا اور وہ اس سوال کی توقع کر رہی تھی مگر یوں اچانک اور اتنے کھلے الفاظ میں پوچھے گئے سوال نے درحقیقت اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔ وہ آنکھیں پھاڑے بے چینی سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ جب وہ اس کی آنکھوں کی جامد پوزیشن کو بدلنے کی خاطر اس کی آنکھوں کے آگے اپنا ہاتھ لہراتا ہوا پوچھ بیٹھا:
“کیا آپ کو میرا سوال برا لگا؟ کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں؟” اس کے سوالوں کی ہر ہر کیفیت اس کی سچائی اور محبت کی انتہا کی گواہ تھی۔
“میرا نکاح ہو چکا ہے۔” اس نے بھی اسی کی طرح بنا کسی تمہید کے اچانک اظہار کر ڈالا تھا اور واقعی زید ربانی کے وجود اور دل و دماغ کے پرخچے اڑ گئے تھے۔
“کب؟” بڑی دقتوں سے کتنے ہی صدیوں کے لمحوں کے گزرنے کے بعد وہ پوچھنے کے قابل ہوا تھا۔ رابعہ بغور اس کی کیفیات کا جائزہ لے رہی تھی، وہ ایک پل میں ہی اجڑا اجڑا لگنے لگا تھا۔
“اس وقت جب میں اس لفظ کے مطلب سے بھی نا آشنا تھی۔” رابعہ کو جیسے اچانک ہی یہ احساس مل گیا تھا کہ اس کے سامنے بیٹھا یہ شخص اس کا مسیحا بن سکتا ہے۔ خضرِ راہ بھی، اور اس سے آگے وہ کچھ سوچنا نہ چاہتی تھی۔ نہ حق رکھتی تھی۔
“کیا مطلب؟ پلیز مجھ پر اعتبار کریں اور مجھے کچھ بتائیں، وہ سارے غم جو آپ کی آنکھوں میں نمی بن کر ٹھہر گئے ہیں، جو آپ کے لبوں پر افسردگی بن کر چھائے رہتے ہیں، جنہوں نے آپ کے چہرے کو بے رنگ اور زرد کر دیا ہے اور آپ کے وجود سے سارے رنگ چھین کر آپ کی زندگی کو بے رنگ بنا دیا ہے، پلیز رابعہ! پلیز!” وہ گویا اس کے اندر کے دکھ سے آشنائی حاصل کرنے کو، اس کے درد کو محسوس کرتا ہوا تڑپ ہی گیا تھا۔
اور رابعہ شاہ پہلی بار اس کے سامنے اپنی زندگی کی کتاب کو کھول بیٹھی اور اس کو اپنے اندر کا حال سناتی ہوئی جب خاموش ہوئی تو زید ربانی کو لگا جیسے اگر جو اس نے اب بھی اس پاگل سی دیوانی محبتوں کی اسیر لڑکی کو نہ تھاما تو یہ مر جائے گی۔ وہ اب بھی اس کے حال پہ جی رہی ہے اور اس کے اندر کے دکھوں کی اموات نے اس کے جسم کو بھی بس بہت جلد موت سے ہم کنار کر دیا ہے۔ وہ گنگ سا، حیران و بے چین سا رابعہ شاہ کو دیکھے جا رہا تھا جس کی آنکھیں آج بھی خشک تھیں، جو اندر ہی اندر آنسوؤں کا اک طوفان سموئے ہوئے اپنے ہی آنسوؤں کے سمندر میں ڈوب کر مر جانے والی تھی۔
“کیا آپ کو زندگی سے پیار نہیں ہے رابعہ؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ آپ بھی ایک خوش و خرم اور بھرپور زندگی گزاریں؟ میں آپ کے جذبوں کی توہین نہیں کر رہا، آپ کی محبت، آپ کی ریاضتیں اور مسافتیں واقعی قابلِ ستائش ہیں مگر آپ نے خود پر خوشیاں کیوں حرام کر لی ہیں؟ ایک شخص نے پلٹ کر آپ کی خبر نہ لی، وہ اپنی دنیا میں مگن ہو گیا ہے اور ایک مکمل اور بھرپور زندگی کے رنگوں سے بھری زندگی گزار رہا ہے جو آپ سے محبت بھی یقیناً کرتا ہوگا مگر کیا آپ نے خود ہی اس کے پیروں سے اپنی محبت کی بیڑیاں نہیں اتار لیں۔ وہ اب کسی اور کا ہو گیا ہے تو کیا آپ اسے ہمیشہ ایک ادھورے وجود رکھنے کی تمنائی ہیں؟ اپنے احساسِ تنہائی کو اس کے بھرے پورے دل اور زندگی میں سمو دینا چاہتی ہیں؟ آپ اس کو آزاد کیوں نہیں کر دیتیں اپنی محبتوں کی قید سے؟ اس کو اپنی یادوں میں کیوں ڈبو کر رکھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ خود تو اذیت میں رہے ہی، ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی اذیت ناک بنا رہے؟ سوچیں جب وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس نہ ہوتا ہوگا تب اس پر کیا بیتی ہوگی؟ رابعہ! آپ نے بہت سنگین غلطیاں کی ہیں، جب آپ کو ریحان احمد اپنی محبتوں کا امین سونپ چکا تھا تو آپ نے تب ہی اسے کیوں اپنے اور اس کے بیچ موجود رشتے سے آگاہ نہیں کیا اور کیوں ان کی والدہ کے دھمکانے میں آگئیں؟ اور جب دیکھا کہ ریحان احمد اب بھی بے خبری میں کسی اور کے ہونے جا رہے ہیں تو تب بھی انہیں سچ نہ بتا سکیں اور پھر جب وہ کسی کے ہو گئے اور سنجیدگی سے اس کے ہونے لگے تو آپ نے انہیں پورا سچ لکھ بھیجا۔ یاد رکھیں رابعہ! پورا سچ بھی وہیں امرت بنتا ہے جہاں ساری کشتیاں جلائی نہ جا چکی ہوں اور اگر سب کچھ جل جانے کے بعد بھی پورا سچ آپ پا جائیں تو وہ پورا سچ زہرِ ہلاہل ثابت ہوتا ہے۔ آپ نے محبت ضرور کی مگر آدابِ محبت سے نا آشنا ہی رہیں۔ آپ یہ بھول گئیں کہ محبت کی معراج محبوب کا سکھ، اس کی خوشیاں ہوتی ہیں۔ آپ نے ریحان احمد کو اپنے اور سفینہ جی کے درمیان آدھا آدھا بانٹ لیا ہے۔ سفینہ جی اور ان کے والدین کا بھی تو کوئی قصور نہیں ہے ناں۔ وہ بھی سچائی سے ناواقف ہی ہیں، اگر وہ سچائی جاننے کے بعد بھی ریحان احمد کو آپ سے چھیننے کی کوشش کرتے تب تو وہ سزا کے مستحق ہوتے مگر آپ نے اپنی ممانی جان کی غلط فہمی کی سزا انہیں بھی دی ہے۔ آپ نے ریحان احمد کو بانٹ کر نہ اپنا رہنے دیا ہے، نہ سفینہ کا۔ نہ ہی ان کے بچوں کا۔ وہ اپنی والدہ سے بدگمان ہو گئے ہوں گے تو کسی اور رشتے پر اعتبار کیونکر کرتے ہوں گے؟ ابھی بھی وقت ہے آپ اس تعلق، اس نام نہاد بندھن کو ختم کر دیں۔ اس سے پہلے کہ پورے سچ کا زہر بہت سے لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دے، اس بیچ کو ہی مٹا ڈالیں۔ پلیز اس مشورے کو میری کسی ذاتی غرضی کا نتیجہ نہ سمجھیے گا مگر رابعہ! پلیز آپ خود سوچیں کہ کیا آپ یہ سب ٹھیک کر رہی ہیں؟ یہ دنیا تیاگ کر دینا اور زندگی کی خوشیوں سے منہ موڑ لینا کیا یہ صحیح ہے؟ اس طرح آپ لوگوں کے لیے خود موضوعِ گفتگو بن رہی ہیں۔ آپ کے اسی جوگ پر لوگ کیسی کیسی عامیانہ گفتگو کرتے ہیں اور کتنے من گھڑت افسانے بنا لیتے ہیں۔ آپ کیا جانیں؟ سنیں، آپ اب اپنے نام کے ساتھ ریحان احمد کا نام لگا کر بھی لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتیں بلکہ اپنے لیے آپ نے اول روز سے ہی پریشانیوں اور الجھنوں کا انتخاب کر لیا ہے۔ مگر پلیز خود کو اس عذاب سے اب بچا لیجیے اور ریحان احمد کی والدہ کو صدقِ دل سے معاف کر کے ریحان احمد سے خود کو ہمیشہ کے لیے الگ کر لیجیے، ورنہ ریحان احمد کو زندگی بھر آپ کی بے رنگ اور کربناک زندگی کا غم حقیقی خوشیوں سے دور رکھے گا۔ وہ کبھی خود کو معاف نہ کر سکے گا۔ وہ بکھر جائے گا اور بکھرے ہوئے لوگ بکھری ہوئی نسلوں کی پرورش کرتے ہیں۔ آپ ریحان احمد کی خوشیوں کو انہیں لوٹا دیں بنا کسی خلش اور کسک کے۔ انہیں ان کی زندگی جینے کا حق دے دیں اور اپنے حصے کی خوشیاں لمحے لمحے کشید کر لیں۔ خود بھی اپنی نئی دنیا بسا لیں اور خوشیوں سے منہ نہ موڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی امانتاً ہمارے سپرد کی ہے اور اسی زندگی کو یوں تباہ کرنے کا، رب کی سونپی امانت میں خیانت کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ وہ ہمارے ایک ایک عضو سے حساب لے گا۔ آپ کا یہ جوگ، یہ بے رنگ اور بے پناہ وجود اور تنہا زندگی مذہب بھی جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مقدر میں خوشیاں رکھی ہوں گی مگر آپ خود ہی خوشیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ آپ کیا پوری زندگی یوں گزار لیں گی رابعہ؟ بولیں، جواب دیں۔”
زید ربانی رابعہ شاہ کے سب حالات سن کر بولتا چلا گیا۔ رابعہ کا پل پل رنگ بدلتا چہرہ اور اضطراب، جو اس کے انگ انگ سے چھلک رہا تھا، اس بات کا گواہ تھا کہ وہ اس کی باتوں کو نہ صرف سن رہی ہے بلکہ قائل بھی ہو رہی ہے۔
“میری زندگی، میری زندگی، میری خوشیاں تو اب۔۔۔ میں کیا کروں؟ ڈاکٹر تو کہتا ہے کہ وہ۔۔۔” اچانک بولتے بولتے خاموش ہو گئی تھی اور اس کے اسی ذہنی کیفیت کو عیاں کر کے ٹوٹے پھوٹے سے جملے نے زید ربانی کے اندر خطرے کے سائرن بجا دیے تھے، وہ بری طرح ٹھٹکا تھا۔ چونکا تھا۔
“جواب دو، کیا کہتا ہے ڈاکٹر رابعہ؟ کیا ہوا ہے تمہیں؟ بولو۔” وہ بری طرح گھبرا کر اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ رابعہ پر ایک نظر اس کی آنکھوں میں اتری، جہاں اس کے لیے اب بھی بے پناہ پریشانی اور تشویش دکھائی دے رہی تھی۔ تب وہ ہاری ہوئی لڑکی مکمل ہار گئی اور ڈاکٹر کی رپورٹ والی فائل اس کی جانب بڑھا دی، جسے تھامتے ہوئے زید ربانی کے ہاتھ ایک پل کو کانپنے لگے تھے اور چہرہ زرد پڑنے لگا تھا۔ اس نے بغور رابعہ کا چہرہ جانچا تھا اور فائل کو ڈیش بورڈ پر رکھ کر، رابعہ کی حیرانی اور بے یقینی کو اس نے پڑھنے کی کوشش بھی نہ کی تھی، محسوس کرنے کے باوجود کچھ کیے بنا کار اسٹارٹ کر دی تھی۔ اس کے دل کی دنیا زلزلوں کی زد میں تھی۔ دماغ الگ شل ہو رہا تھا۔ وہ بمشکل ڈرائیو کر رہا تھا۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں؟” رابعہ انجانے راستوں کو دیکھ کر چونکی تھی، یہ راستہ اس کے گھر کی جانب تو نہیں جاتا تھا پھر؟
“اپنے گھر۔” پرمختصر جواب دیا تھا اس نے۔ اس کے لہجے میں ایسی کوئی بات ضرور تھی کہ رابعہ کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔
“آئیے!” ربانی پیلس کے پورچ میں کار روک کر اس نے رابعہ شاہ کو اترنے کا اشارہ کیا اور وہ خاموشی سے بنا کوئی سوال جواب کیے کار سے اتر آئی۔ اسے یقین تھا کہ گھر پر ربانی صاحب اور مسز ربانی ضرور موجود ہوں گی اور زید اسے کسی غلط مقصد کے تحت ہرگز نہیں لایا اور واقعی اس کا یہ یقین غلط نہ تھا۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تھی۔
“مما! کھانا لگوائیں، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔” وہ جو ایک مرتبہ پھر سے اپنے خیالوں میں کھو گئی تھی، زید کی آواز پر چونک گئی۔ جو اس کے سامنے صوفے پر براجمان تھا۔ ربانی صاحب دوسرے صوفے پر بیٹھے تھے اور رقیہ بیگم (مسز ربانی) زید کے واویلے پر کھانا لگوانے کا کہنے چلی گئی تھیں اور زید اس پر ایک نظر ڈال کر اس کی رپورٹ پڑھنے لگا تھا، جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے اس کا رنگ زرد اور چہرہ بے یقینی اور صدمے کا تاثر دینے لگا تھا۔ رابعہ اس کو بغور دیکھ رہی تھی اور اس کی بگڑتی حالت نے رابعہ شاہ کے دل کو ریحان احمد کے بعد کسی اور کے لیے ریحان کی تڑپ سے زیادہ تڑپا دیا تھا۔
“رابعہ! یہ نہیں ہو سکتا، ایسا بالکل نہیں ہو سکتا، یہ جھوٹ ہے میں نہیں مانتا، اس میڈیکل رپورٹ کو، غلط ہے یہ رپورٹ، بالکل غلط ہے!” اچانک ہی وہ ہسٹریائی انداز میں چلا اٹھا تھا اور اس کے یوں چلانے پر ربانی صاحب سمیت رقیہ بیگم، جو ابھی ابھی واپس آئی تھیں، بری طرح تڑپ کر پریشانی میں اس کی جانب بڑھی تھیں، جو وحشت زدہ سا ٹک ٹک دیوانگی کے عالم میں سامنے بیٹھی رابعہ کو دیکھے جا رہا تھا۔
“لڑکے! کیا ہوا بیٹے؟ کیا ہوا؟” اور جب زید نے فائل ربانی صاحب کی جانب بڑھائی تو اسے پڑھنے کے بعد ان کی حالت بھی بگڑنے لگی۔ رقیہ بیگم نے شوہر اور بیٹے کی حالت دیکھی تو فائل جھپٹ لی اور پھر وہ بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہو گئیں۔
“شاید سارے محبت کرنے والے اس خبر پر ایسے ہی کرب اور بے یقینی سے پتھر بن جاتے ہوں؟” رابعہ سوچ کر رہ گئی۔
“کیا یہ سب سچ ہے بیٹا؟” مسز ربانی کی شکستہ، دکھ کی شدت سے بوجھل آواز نے رابعہ کے بے حس وجود کو زندہ کر دیا۔
“جی۔۔۔ جی یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے زندگی میں پہلی بار ہار جانے کے دکھ کی اذیت کے بعد سب سے بڑی شکست سے دو چار کر دیا ہے کہ میں اور اس۔۔۔” اس سے آگے اس کی آواز اس کے اندر ہی گھٹ کر رہ گئی تھی۔ وہ مسز ربانی کی بانہوں میں سمٹ کر بری طرح بکھر گئی تھی، تڑپ تڑپ کر رو دی تھی۔
اس کا ایک ایک آنسو زید ربانی کے دل میں شگاف ڈال رہا تھا۔ رقیہ بیگم اور ربانی صاحب بھی تڑپ گئے تھے۔ وہ سب اسے سمیٹنے کی کوشش میں بے حال ہو رہے تھے، مگر وہ تھی کہ سمٹنے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔
اور جب رات گئے وہ بہت سی دعاؤں کے محبتوں کے حصار میں گھری زید ربانی کے ساتھ اپنے گھر آئی تو پورچ میں کھڑی ریڈ کرولا کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
“کون ہو سکتا ہے؟” خود زید ربانی بھی کسی غیر معمولی بات کے ہونے کا احساس پا کر اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوا تھا اور لاؤنج میں داخل ہوتے ہی دہلیز پر ٹھٹک کر رک گیا تھا۔
“ریحان!” رابعہ کے لبوں پر آئے نام کی بازگشت نے اس کے وجود کو پتھر بنا دیا تھا۔ وہ جو اپنے سامنے قہر اور جنون کے تاثرات چہرے پر لیے ریحان احمد کو ٹک ٹک دیکھے جا رہی تھی، اچانک چونک گئی۔
“تم کہتی تھیں، ہمیشہ تمہاری رہوں گی، بڑی پارسا بنی پھرتی تھیں میرے سامنے۔ اماں خوامخواہ مجھے مجبور کر رہی تھیں کہ جا کر رابعہ کو لے آؤ، وہ بڑی دکھی ہے۔ اس کی دنیا تو میں نے اس سے چھین لی ہے۔ میں اس سے معافی مانگوں گا تو مجھے چین آئے گا۔ وہ مجھے ضرور معاف کر دے گی، ریحان! اس کے دل کی دنیا آباد کر دے۔ مگر اماں معصوم کو کیا خبر کہ ان کی بے چاری رابعہ صاحبہ ادھر عیاشیاں کرتی پھر رہی ہیں۔ غیر مردوں کے ساتھ راتوں کو دیر تک باہر پھرتی ہیں، اوپر سے نوکروں کو یہ سبق پڑھاتی ہیں کہ اگر کوئی پوچھے تو کہنا آج پہلی بار دیر ہوئی ہے۔ واہ خوب رابعہ بیگم! تم تو بڑی اچھی ڈرامہ باز اور اداکارہ ہو، کیسے کیسے جذباتی الفاظ ہوتے ہیں تمہارے پاس دوسروں کو احساسِ محبت اور جرم میں مبتلا کرنے کو، مگر آج میں تمہارے سحر سے خود کو آزاد کرتا ہوں۔ تمہیں سمجھ ہی نہ سکا کہ تم نے کیوں مجھ سے طلاق لینے سے انکار کیا، درحقیقت تمہاری نظر میری دولت پر تھی ناں؟ اور میں اپنی باوفا، با عصمت اور محبت کرنے والی بیوی سفینہ سے صرف تمہاری وجہ سے دور رہا کہ تمہارے ساتھ زیادتی کر دینے کے احساس نے مجھے ہمیشہ تڑپائے رکھا، مگر میں سمجھا ہی نہیں تمہاری چال! مگر آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ تم اس قابل ہو ہی نہیں کہ میں تمہیں چاہوں، میں ہمیشہ کے لیے تمہیں اپنی زندگی سے نکال رہا ہوں رابعہ اور اپنا اب اپنی تمام تر محبتیں سفینہ کو سونپنے جا رہا ہوں۔ تمہیں طلاق دیتا ہوں! میں طلاق دیتا ہوں! تمہیں طلاق دیتا ہوں! تمہیں بہت جلد طلاق نامہ تمہیں مل جائے گا۔ آج کے بعد جو مرضی کرنا، بے شک کھلے عام بے حیائی کے مظاہرے کرنا، خبردار کبھی پلٹ کر واپس نہ آنا، نہ ہی ہم سے یہ توقع رکھنا کہ ہم تمہارے لوٹنے پر تمہیں پناہ دیں گے۔”

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

تجھ کو مانگا ہے خدا سے ایک درد بھری محبت، قربانی، غلط فیصلوں اور تقدیر کے کڑے امتحانوں پر مبنی اردو ناول ہے جس کی مرکزی کردار رابعہ شاہ ہے۔

رابعہ بچپن ہی میں ایک ایسے نکاح کے بندھن میں بندھ جاتی ہے جس سے وہ خود بھی ناواقف رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ریحان احمد سے سچی محبت کرنے لگتی ہے، مگر خاندانی غلط فہمیاں، بزرگوں کے فیصلے اور خاموشیاں دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہیں۔ ریحان حقیقت جانے بغیر کسی اور سے شادی کر لیتا ہے جبکہ رابعہ اپنی محبت اور وفاداری کو خاموشی سے نبھاتی رہتی ہے۔

دوسری طرف زید ربانی رابعہ کی خاموش طبیعت، پاکیزہ کردار اور بے لوث محبت سے متاثر ہو کر اس سے شادی کی خواہش ظاہر کرتا ہے، مگر رابعہ اسے اپنے بچپن کے نکاح، اپنی محبت اور اپنی ٹوٹی ہوئی زندگی کی پوری حقیقت بتا دیتی ہے۔ زید اسے خود پر ترس کھانے کے بجائے زندگی کو دوبارہ اپنانے، ماضی سے نکلنے اور خوش رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔

اسی دوران ایک میڈیکل رپورٹ زید اور اس کے خاندان کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیتی ہے، کیونکہ رابعہ ایک ایسی جان لیوا بیماری کا شکار ہوتی ہے جو اس کی زندگی پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ ربانی خاندان رابعہ کو اپنی بیٹی کی طرح قبول کرتا ہے اور ہر ممکن سہارا دیتا ہے۔

دوسری جانب ریحان، جو پہلے ہی رابعہ کی خاموش محبت اور سچائی سے بے خبر تھا، جب اسے زید کے ساتھ دیکھتا ہے تو مزید غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ رابعہ پر بے وفائی، دولت کی لالچ اور منافقت کے الزامات لگا کر اسے طلاق دینے کا اعلان کر دیتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے تصور سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔

کیا ریحان کبھی حقیقت جان سکے گا؟ کیا رابعہ کی بیماری اس کی محبت سے بڑی ثابت ہوگی؟ کیا زید ربانی کی بے لوث محبت رابعہ کی زندگی بدل سکے گی؟ اور آخرکار رابعہ کے نصیب میں محبت، سکون اور عزت لکھی گئی ہے یا ہمیشہ کی جدائی؟ یہی سوال اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک نہایت جذباتی اور دل گرفتہ بنا دیتے ہیں۔

Tujh Ko Manga Hai Khuda Se, Tujh Ko Manga Hai Khuda Se Novel, Tujh Ko Manga Hai Khuda Se by Fozia Akbar Sana, Fozia Akbar Sana, Complete Urdu Novel, Emotional Romance, Childhood Nikah, Love Triangle, Misunderstanding Novel, Illness Based Novel, Tragic Love Story, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan

#TujhKoMangaHaiKhudaSe #FoziaAkbarSana #UrduNovel #CompleteUrduNovel #EmotionalNovel #LoveTriangle #ForcedMarriage #TragicLoveStory #RomanticNovel #Novelistan

FAQ

Tujh Ko Manga Hai Khuda Se kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional romantic aur family drama Urdu novel hai jismein misunderstandings, childhood nikah, sacrifice aur true love ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Is novel ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Fozia Akbar Sana hain.

Kya Tujh Ko Manga Hai Khuda Se complete novel hai?

Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai.

Is novel ke main characters kaun hain?

Is kahani ke markazi kirdar Rabiya Shah, Rehan Ahmed aur Zaid Rabbani hain.

Kya yeh love triangle novel hai?

Ji haan, kahani mein Rabiya, Rehan aur Zaid ke darmiyan jazbati aur dilchasp love triangle dekhne ko milta hai.

Kya is novel mein childhood nikah ka theme hai?

Ji haan, Rabiya ka bachpan ka nikah kahani ka bunyadi pehlu hai jo tamam waqiat ko mutasir karta hai.

Kya is novel mein heroine bemaar hoti hai?

Ji haan, Rabiya aik sangin bemari ka shikar hoti hai jo kahani ko mazeed emotional bana deti hai.

Kya Rehan Rabiya ko talaq deta hai?

Ji haan, ghalat fehmiyon ki wajah se Rehan Rabiya ko talaq dene ka faisla karta hai.

Tujh Ko Manga Hai Khuda Se online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Tujh Ko Manga Hai Khuda Se complete Urdu novel online parh sakte hain.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *