Tumhare Waste Jana by Nasreen Nikhat Sabzwari Novel20831
Tumhare Waste Jana by Nasreen Nikhat Sabzwari Novel20831
Age Gap Romance | Marriage of Convenience | Protective Hero | Emotional Romance | Social Issues | Mature Hero | Orphan Heroine
Short Description
تمہارے واسطے جاناں نسرین نکہت سبزواری کا ایک جذباتی اور دل کو چھو لینے والا اردو ناول ہے جو دعا اور رحمان صاحب کے درمیان عمر کے فرق، تحفظ، اعتماد، نکاح اور خاموش محبت کے خوب صورت سفر کو بیان کرتا ہے۔
Dua ke liye yeh nikah sirf aik mehfooz chhat nahi tha, balki izzat aur apnayat ki pehli umeed bhi tha. Parhiye Nasreen Nikhat Sabzwari ka complete romantic Urdu novel Tumhare Waste Jana.

تحفظ، اعتماد اور عمر کے فاصلے کے درمیان جنم لیتی ایک خاموش محبت کی خوب صورت داستان۔
ہم دونوں نکاح کر لیں گے اور دنیا کی نظروں میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہیں گے، لیکن حقیقت میں نہیں، آپ میرے ہاں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کریں گی اور جب چاہیں گی مجھ سے کنارہ کش ہو جائیں گی۔ ’تو رحمان صاحب، آپ نے بھی ظاہر کر دیا کہ آپ مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتے۔ عمر کا تو محض بہانہ ہے۔ ظاہر ہے ایک سرمایہ دار اور ذی حیثیت شخص ایک تہی دست اور بے نام و نشان، بے مایہ لڑکی سے ساری عمر کے لیے ناتا کیسے جوڑ سکتا ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ وہ اسے اتنا بڑا سہارا دے رہے ہیں، کچھ عرصے کے لیے ہی سہی ❤️❤️❤️ ”دعا، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آپ ایک آئیڈیل لڑکی ہیں، کوئی بھی سمجھدار آدمی آپ کو اپنانے میں فخر محسوس کرے گا۔ یقین کیجیے یہ بات میں دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں، لیکن قباحت یہ ہے کہ میری اور آپ کی عمروں میں فرق بہت زیادہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ لڑکیاں ہمیشہ نوجوان اور ہینڈسم جیون ساتھی کے خواب دیکھتی ہیں اور میں نہ ہینڈسم ہوں اور نہ نوجوان، لیکن پھر بھی میں نے میڈم شبنم کے چیلنج کو قبول کر لیا ہے تاکہ میں دکھا سکوں کہ آپ واقعی ایک بہترین لڑکی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے دعا کہ میں بحیثیت ایک دوست اور خیر خواہ کے آپ کو دوبارہ حالات کے حوالے نہیں کر سکتا۔ کیا کیا جائے، ہمارا معاشرہ ہی اس قابل نہیں ہے۔ اب ان دونوں مسائل کا ایک درمیانہ حل میرے پاس موجود ہے۔“ وہ سر جھکائے ان کی باتیں سن رہی تھی اور آنکھوں سے چپ چاپ آنسو بہہ رہے تھے۔ رحمان صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنی بات شروع کی۔ ”وہ حل یہ ہے کہ ہم دونوں نکاح کر لیں گے اور دنیا کی نظروں میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہیں گے، لیکن حقیقت میں نہیں، آپ میرے ہاں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کریں گی اور جب چاہیں گی مجھ سے کنارہ کش ہو جائیں گی۔ میرے گھر میں اہل خانہ نہیں ہیں لیکن مخلص اور ہمدرد ملازم بہت ہیں، خاص طور سے ہوا نصیبن کی موجودگی میں آپ تنہائی محسوس نہیں کریں گی۔“ رحمان صاحب نے بات ختم کر کے یوں گہرا سانس لیا جیسے اب تک سانس سینے میں اٹکا ہوا تھا۔ دعا نے اب بھی کچھ نہ کہا، وہ سوچ رہی تھی۔ ’تو رحمان صاحب، آپ نے بھی ظاہر کر دیا کہ آپ مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتے۔ عمر کا تو محض بہانہ ہے۔ ظاہر ہے ایک سرمایہ دار اور ذی حیثیت شخص ایک تہی دست اور بے نام و نشان، بے مایہ لڑکی سے ساری عمر کے لیے ناتا کیسے جوڑ سکتا ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ وہ اسے اتنا بڑا سہارا دے رہے ہیں، کچھ عرصے کے لیے ہی سہی، وہ معاشرے میں معتبر ہو جائے گی، ایک محفوظ چھت مل جائے گی، زمانے کے سرد گرم سے پناہ مل جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہو گا، جو قسمت دکھائے گی دیکھ لوں گی، اگر تعلیم مکمل ہو گئی تو شاید زندگی کچھ بااعتبار ہو جائے۔‘ رحمان صاحب نے اس کی جھکی ہوئی گردن کو دیکھا۔ ”لیکن بخدا یہ صرف اور صرف آپ کی مرضی پر رہے گا، آپ کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہو گا۔ اگر آپ مجھے ایک شریف انسان سمجھتی ہیں تو یقین رکھیے گا جب تک آپ اس گھر میں رہیں گی، آپ کی عزت و ناموس پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ ہم ایک چھت کے نیچے رہیں گے لیکن صرف دو دوستوں کی طرح، اور جو کچھ آپ چاہیں گی وہی ہو گا، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، میں آپ کی زندگی میں ہرگز مداخلت نہیں کروں گا۔“ دعا اب بھی خاموش تھی۔ ”آپ اچھی طرح سوچ لیجیے۔ میں کل پھر آؤں گا اور جو بھی فیصلہ آپ کریں گی وہی حرفِ آخر ہو گا، کوئی بات ناگوارِ خاطر گزری ہو تو معافی چاہتا ہوں اور ہاں، رات کو آپ کی حفاظت کے لیے ایک چوکیدار آ جائے گا۔“ یہ کہہ کر وہ جانے لگے لیکن دعا نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک لیا۔ ”رحمان صاحب، آپ جیسے عظیم اور ہمدرد دوست کی بات کو میں رد کیسے کر سکتی ہوں، جبکہ اس میں نقصان سراسر آپ کا ہے۔ آپ ایک باعزت اور ذی حیثیت انسان ہیں، میرا کیا ہے، دنیا کی ٹھکرائی ہوئی ایک بے نام سی لڑکی ہوں، آج مر جاؤں تو کل کسی کو میرا نام یاد بھی نہیں رہے گا، پھر بھی میری ایک چھوٹی سی شرط ہے، اگر آپ کو ناگوار نہ گزرے تو…“ رحمان صاحب رک گئے۔ ”اپنے آپ کو ایسا نہ کہیے دعا، آپ میری نظروں میں کسی باعزت اور باوقار لڑکی سے کسی طرح کم نہیں۔ برائی تو ان لوگوں میں ہے جنہیں انسان کی پرکھ کا سلیقہ ہی نہیں ہے۔ خیر، آپ اپنی شرط بتائیے۔“ ”شرط نہیں اسے التجا سمجھ لیجیے کہ یہ نکاح صرف دکھاوے کے لیے نہیں ہو گا، باقی سب کچھ مجھے منظور ہے اور علیحدگی پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا، مجھے کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے، مجھے آپ پر مکمل بھروسہ ہے۔“ وہ ایک ہی سانس میں جلدی جلدی کہہ گئی، فرطِ حیا سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ نامعلوم کیوں ایک ہلکی سی مسکراہٹ رحمان صاحب کے لبوں پر ابھری اور معدوم ہو گئی اور چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ ”مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔“ وہ دھیرے سے کہہ کر باہر نکل گئے، دعا اپنی سوچوں میں گھری بیٹھی رہ گئی، پھر اس کے ہاتھ اٹھے اور ہونٹوں پر ایک خاموش دعا لرزنے لگی۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
تمہارے واسطے جاناں ایک نرم، جذباتی اور رومانوی اردو ناول ہے جس میں زندگی کی ٹھوکروں سے زخمی ایک بے سہارا لڑکی اور ایک باوقار، ہمدرد اور ذمہ دار مرد کے درمیان قائم ہونے والے غیر معمولی رشتے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
کہانی کی مرکزی کردار دعا ہے، جو حالات کی ستم ظریفی، معاشرتی بے حسی اور اپنوں کی بے اعتنائی کے باعث خود کو دنیا میں تنہا محسوس کرتی ہے۔ اس کے پاس نہ محفوظ چھت ہے، نہ مضبوط سہارا اور نہ ہی ایسا خاندان جو اس کی تعلیم اور مستقبل کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس کے باوجود دعا ایک باوقار، خوددار اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی لڑکی ہے۔
رحمان صاحب ایک صاحبِ حیثیت، سنجیدہ، شریف اور ہمدرد انسان ہیں۔ وہ دعا کی ذہانت، خودداری اور کردار سے متاثر ہوتے ہیں، مگر دونوں کی عمروں میں نمایاں فرق انہیں اس رشتے کے بارے میں محتاط رکھتا ہے۔ وہ دعا کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اسے تحفظ، تعلیم اور بہتر مستقبل فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
رحمان صاحب دعا کے سامنے ایک ایسے نکاح کی تجویز رکھتے ہیں جس کے تحت دونوں دنیا کے سامنے میاں بیوی ہوں گے، مگر وہ دعا کی آزادی، تعلیم اور مرضی کا مکمل احترام کریں گے۔ ان کا مقصد دعا کو صرف ایک محفوظ حیثیت دینا اور معاشرے کی بری نگاہوں سے بچانا ہوتا ہے۔
دعا اس پیشکش کو سہارا سمجھ کر قبول تو کر لیتی ہے، مگر وہ اس نکاح کو محض دکھاوے کا بندھن نہیں بنانا چاہتی۔ اس کی شرط ہوتی ہے کہ نکاح حقیقی ہو، چاہے باقی زندگی دونوں باہمی رضامندی اور احترام کے ساتھ گزاریں۔ دعا کے اس فیصلے میں اعتماد، خودداری، تحفظ کی خواہش اور شاید ایک ان کہی محبت کی پہلی جھلک بھی چھپی ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ یہ باہمی سمجھوتا جذباتی قربت میں بدلنے لگتا ہے۔ دعا رحمان صاحب کے تحفظ، احترام اور خلوص کو محسوس کرتی ہے، جبکہ رحمان صاحب اس کی معصومیت، ذہانت اور سچی وابستگی سے متاثر ہوتے جاتے ہیں۔ عمر کا فرق، معاشرتی اعتراضات، طبقاتی تفاوت اور دل میں چھپے خدشات دونوں کے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
کیا یہ نکاح صرف ایک ذمہ داری اور تحفظ کا معاہدہ رہے گا، یا دعا اور رحمان صاحب کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکنے لگیں گے؟ کیا دعا کو وہ گھر، عزت اور محبت مل سکے گی جس کی وہ ہمیشہ سے حقدار تھی؟ یہی سوال اس ناول کو ایک خوب صورت، پُرسکون اور جذباتی محبت کی داستان بنا دیتے ہیں۔
Tumhare Waste Jana, Tumhare Waste Jana Novel, Tumhare Waste Jana by Nasreen Nikhat Sabzwari, Nasreen Nikhat Sabzwari, Complete Urdu Novel, Age Gap Romance, Marriage of Convenience, Protective Hero, Mature Hero, Orphan Heroine, Emotional Romance, Social Issues, Trust Based Love Story, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan
#TumhareWasteJana #NasreenNikhatSabzwari #UrduNovel #CompleteUrduNovel #AgeGapRomance #MarriageOfConvenience #ProtectiveHero #EmotionalNovel #RomanticNovel #Novelistan
FAQ
Tumhare Waste Jana kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein age gap romance, marriage of convenience, protective hero, trust aur social issues ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Tumhare Waste Jana ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Nasreen Nikhat Sabzwari hain.
Kya Tumhare Waste Jana complete novel hai?
Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.
Is novel ke main characters kaun hain?
Is kahani ke markazi kirdar Dua aur Rehman Sahib hain.
Rehman Sahib Dua se nikah kyun karte hain?
Rehman Sahib Dua ko mehfooz mustaqbil, izzat, taleem aur samaji tahaffuz dene ke liye us se nikah ki tajweez rakhte hain.
Kya yeh age gap romance novel hai?
Ji haan, Rehman Sahib aur Dua ki umron mein khaasa farq hai, jo kahani ka aik aham jazbati aur samaji pehlu hai.
Kya yeh marriage of convenience based novel hai?
Ji haan, shuru mein yeh nikah Dua ko protection aur taleem dene ke liye aik samjhotay ke taur par tay hota hai, magar waqt ke sath is rishte mein gehre jazbaat paida hone lagte hain.
Kya heroine orphan ya be-sahara hai?
Dua aik be-sahara aur mushkil halaat ka samna karne wali larki hai, jise Rehman Sahib izzat aur tahaffuz dena chahte hain.
Tumhare Waste Jana online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Tumhare Waste Jana complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕