Mohabbat To Samundar Hai by Najma Jabeen Novel20828

Forced Marriage Based | Revenge Marriage | Possessive Hero | Hate to Love | Family Drama | Strong Heroine | Emotional Romance

Short Description

محبت تو سمندر ہے نجمہ جبین کا ایک جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے جو روشنہ جہانگیر اور اسجد کے جبری نکاح، خاندانی دشمنی، انتقام، بداعتمادی، مردانہ انا اور نفرت سے محبت تک پہنچنے والے پیچیدہ سفر کی داستان پیش کرتا ہے۔

Forced marriage, revenge, possessive hero, strong heroine aur hate to love romance par mabni aik intense complete Urdu novel.

Mohabbat To Samundar Hai Novel by Najma Jabeen Complete Urdu Novel

جبر، انا اور نفرت کے درمیان جنم لیتی ایک گہری محبت کی داستان۔

کس کو فون کر رہی تھیں؟” پوچھنے کا انداز مشکوک تھا۔ پہلے تو وہ گڑبڑائی، پھر جانے کیسے خود اعتمادی لوٹ آئی۔ “مما سے بات کرنی تھی۔” “کیوں؟” اسجد نے ریسیور اس کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے سخت لہجے میں سوال کیا۔ “بس میری مرضی۔” اس کے بے نیاز انداز پر وہ جیسے سلگ اٹھا۔ “یہاں آپ کی کوئی مرضی نہیں چل سکتی، محترمہ! کان کھول کر سن لیں، میری اجازت کے بغیر کوئی من مانی نہیں کر سکتیں تم۔” چبا چبا کر روشنی سے کہتے ہوئے اس نے لمحے کی تاخیر کیے بنا فون لاک کر دیا۔ “تم ایسا نہیں کرو گے، مجھے مما سے بات کرنی ہے، لاک کھولیں۔” غصے کی شدت سے پاگل ہوتی روشنی اس پر جھپٹی اور ریسیور چھیننے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کی اس جرات اور یوں الجھنے پر اسجد کی آنکھوں میں شرارے سلگ اٹھے۔ مارے غیظ و غضب کے ریسیور کریڈل پر پھینکا اور چیختی چلاتی روشنی کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا بیڈ روم میں لے آیا، اور انتہائی جنونی انداز میں اسے بیڈ پر دھکیل کر کمرے کو اندر سے لاک کر دیا۔ غصے کی شدت سے کھولتے ہوئے وہ دوبارہ اس کی طرف پلٹا، تو بیڈ پر گری روشنی اس کی آنکھوں میں وحشتیں امڈتی دیکھ کر ساری بہادری اور دلیری بھلا کر اندر ہی اندر لرز گئی۔ جانے وہ اب اس کے ساتھ کیا رویہ روا رکھے، اس تنہا کمرے کی چار دیواری میں وہ ایک کمزور اور بے بس لڑکی اس سنگدل کے رحم و کرم پر تھی۔ “ہوں، اب بتاؤ کیا چاہتی ہو تم؟ میرے منع کرنے کے باوجود فون کو تم نے ہاتھ کیوں لگایا؟” وہ ایک دم اپنی ساری کوفت اور غصہ بھول کر ڈری سمٹی روشنی کو دلچسپی سے دیکھنے لگا، جو اس اکیلے کمرے میں اس کی موجودگی سے بے حد خائف اور ہراساں دکھائی دے رہی تھی۔ کہاں گئی تھی ساری تیزی و طراری اور دلیری؟ جانے اس وقت کہاں چھپ گئی تھی۔ اس کی اڑی اڑی سی رنگت، گھبرائے گھبرائے سندر چہرے پر پھیلا خوف و ہراس، وہ جیسے اپنا آپ بھلائے ایک ٹک اسے دیکھتا چلا گیا۔ جانے کب اور کیسے ایک لرزتے لمحے کی زد میں آ کر دل کے دریچے وا ہوئے اور وہ اکھڑی، بے نیاز لڑکی دل میں مقید ہوتی چلی گئی۔ کیا محبت اس کو کہتے ہیں؟ آگہی کا سحر انگیز لمس اسے پل بھر کو بے چین کر گیا۔ “تم مجھے اس حبسِ بے جا میں نہیں رکھ سکتے۔ میں مما کو فون کر کے تمہارے اس کارنامے سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں، وہ میرے لیے اپ سیٹ اور بے حد پریشان ہوں گی۔” اسے یوں ایک ٹک اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور فون کرنے کا جواز بتانے لگی کہ شاید اس پر کوئی اثر ہو جائے۔ “کیوں، کس کی اجازت سے تم اپنی والدہ محترمہ کو فون کر رہی تھیں؟ اچھا ہے وہ اپ سیٹ اور پریشان ہوں، انہیں پتا چلے کہ اپنوں سے جدا رہ کر کیسے جیا جاتا ہے۔ جہاں تک حبسِ بے جا کی بات ہے تو روشنی بیگم! تم بھول رہی ہو کہ تمہارا اور میرا کیا تعلق ہے۔ منکوحہ ہو میری، جس کا سب سے بڑا ثبوت نکاح نامہ ہے۔ چاہے اس کی تم ساری دنیا میں تشہیر کر دو، مجھے پروا نہیں۔ میں نے تو صرف اپنا قانونی اور شرعی حق استعمال کیا ہے۔” اسجد نے قریب آ کر بلا جھجک انداز میں اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے خوفی سے اپنے حق کا دفاع کیا۔ اس کے چبھتے انداز میں بے رحمی، لاپرواہی اور بے نیازی بھی تھی، جسے محسوس کر کے روشنی سرتاپا کھول اٹھی۔ “خوش فہمی ہے تمہاری، میں ایسے کسی تعلق کو نہیں مانتی جس میں میری ذاتی مرضی اور رضا شامل نہ ہو۔” اس نے تنک کر اپنا آپ اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی۔ “جانتا ہوں، تم وہی قدم اٹھانا چاہو گی جو تمہاری ماں نے اٹھایا تھا۔ جن عورتوں کو گھر اور شوہر سے محبت نہ ہو وہ ایسی ہی ہوتی ہیں، مگر تم بھی ذہن نشین کر لو روشنہ جہانگیر! کہ میں تمہاری دل کی خواہش کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچاؤں گا۔ جو تم چاہتی ہو وہ نہیں ہونے دوں گا، تم میری بیوی ہو اور دنیا کا کوئی فرد اس سچائی کو نہیں جھٹلا سکتا۔” اس کی شعلہ صفت نگاہوں میں بے حسی سمٹ آئی تھی، لہجہ پرعزم اور چٹانوں جیسا مضبوط تھا۔ وہ اس کے بے حد قریب کھڑی تھی، اتنی قریب کہ اس کی قربت روشنی کے وجود کو پگھلانے لگی تھی، مگر وہ اپنے طور پر کسی طرح بھی کمزور پڑ کر اس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتی تھی، تب ہی تو اس کی بات پر بھڑک اٹھی۔ “میری ماں کا نام لینے اور ان پر کیچڑ اچھالنے کا تمہیں کوئی حق نہیں، اسجد صاحب! مجھ پر زیادتی کر کے اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم فاتح بن گئے ہو تو یہ تمہاری بھول ہے۔ جبر اور ستم کے ذریعے تم جسمانی طور پر تو مجھے توڑ سکتے ہو، مگر میرے دل تک تو شاید کبھی رسائی حاصل نہ کر سکو گے، یہ آپ بھی یاد رکھیں۔” اپنا آپ ایک جھٹکے سے اس کی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے اس نے تحقیرانہ انداز میں گویا نشتر زنی کی “یہ مت بھولو روشنہ جہانگیر کہ اس وقت تم میرے رحم و کرم پر اور میری دسترس میں ہو، تم بار بار میری مردانگی کو مت آزماؤ، کہ کسی مرد کے لیے عورت کو زیر کرنا مشکل نہیں، جس کا ثبوت میں شبِ اول دے چکا ہوں، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ سبق دینے کے لیے وہ سزا کافی ہے، اب یہ تعلق، یہ رشتہ تب پروان چڑھے گا جب تم خود سارے فاصلے مٹا کر میری طرف بڑھو گی

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

محبت تو سمندر ہے ایک جذباتی، رومانوی اور خاندانی اردو ناول ہے جس میں جبری نکاح، انتقام، خاندانی نفرت، مردانہ حاکمیت، عورت کی خودداری اور بدلتے جذبات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

کہانی کی مرکزی کردار روشنہ جہانگیر ایک خوددار، بے باک اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والی لڑکی ہے۔ وہ ایسے کسی رشتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں اس کی مرضی اور رضامندی شامل نہ ہو۔ مگر خاندانی حالات اور ماضی کے تنازعات اسے اسجد کے ساتھ ایک ایسے نکاح میں باندھ دیتے ہیں جسے وہ دل سے تسلیم نہیں کرتی۔

اسجد ایک سخت مزاج، بااختیار اور شدید انا رکھنے والا مرد ہے۔ وہ روشنہ کو اپنی منکوحہ سمجھتے ہوئے اس کی زندگی کے تمام فیصلوں پر اپنا حق جتاتا ہے۔ اسے گھر والوں سے رابطہ کرنے، اپنی مرضی سے کہیں جانے اور آزادانہ فیصلہ کرنے سے روکتا ہے۔ اس کے نزدیک نکاح نامہ اس تعلق کی سب سے بڑی حقیقت ہے، جبکہ روشنہ کے لیے کسی رشتے کی اصل بنیاد دل کی رضا، عزت اور باہمی احترام ہے۔

روشنہ اپنی ماں سے رابطہ کرنا چاہتی ہے، مگر اسجد اسے روک دیتا ہے۔ دونوں کے درمیان ہونے والی شدید بحث ان کے رشتے میں چھپی نفرت، خاندانی تلخی اور بداعتمادی کو مزید واضح کر دیتی ہے۔ اسجد روشنہ کی ماں کے ماضی کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ روشنہ اس کے جبر، سخت رویے اور مردانہ غرور کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتی ہے۔

اسجد روشنہ کو جسمانی طور پر اپنے قریب رکھ سکتا ہے، مگر وہ اس کے دل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔ روشنہ اسے صاف بتا دیتی ہے کہ جبر کے ذریعے کسی عورت کے وجود کو تو توڑا جا سکتا ہے، مگر اس کی محبت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہی بات اسجد کے اندر ایک نئی بے چینی اور کشمکش پیدا کرتی ہے۔

وقت کے ساتھ روشنہ کی بے خوفی، خودداری اور مضبوط مزاج اسجد کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ محسوس کرتا ہے کہ جس لڑکی کو وہ صرف انتقام، ضد اور اپنے حق کی علامت سمجھ رہا تھا، وہ آہستہ آہستہ اس کے دل میں جگہ بناتی جا رہی ہے۔

مگر ماضی کے زخم، خاندانی راز، روشنہ کی ماں سے وابستہ تلخیاں اور اسجد کی اپنی غلطیاں اس رشتے کو آسانی سے محبت میں بدلنے نہیں دیتیں۔ ایک طرف روشنہ کا زخمی اعتماد ہے، دوسری طرف اسجد کی انا، احساسِ ملکیت اور ابھرتی ہوئی محبت۔

کیا اسجد روشنہ پر جبر کرنے کے بجائے اس کا اعتماد جیت سکے گا؟ کیا روشنہ اس شخص کو کبھی دل سے قبول کر پائے گی جس نے اس کی آزادی چھینی؟ کیا خاندانی نفرت اور انتقام کے بیچ یہ نکاح حقیقی محبت میں بدل سکے گا؟ یہی سوال محبت تو سمندر ہے کو ایک گہرا، جذباتی اور دل چسپ ناول بناتے ہیں۔

Mohabbat To Samundar Hai, Mohabbat To Samundar Hai Novel, Mohabbat To Samundar Hai by Najma Jabeen, Najma Jabeen, Complete Urdu Novel, Forced Marriage, Revenge Marriage, Possessive Hero, Strong Heroine, Hate to Love, Family Drama, Emotional Romance, Controlling Husband, Marriage Conflict, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan

#MohabbatToSamundarHai #NajmaJabeen #UrduNovel #CompleteUrduNovel #ForcedMarriage #RevengeMarriage #PossessiveHero #HateToLove #StrongHeroine #Novelistan

FAQ

Mohabbat To Samundar Hai kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein forced marriage, revenge, family conflict, possessive hero aur hate to love theme ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Mohabbat To Samundar Hai ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Najma Jabeen hain.

Kya Mohabbat To Samundar Hai complete novel hai?

Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.

Is novel ke main characters kaun hain?

Is kahani ke markazi kirdar Roshna Jahangir aur Asjad hain.

Kya yeh forced marriage based novel hai?

Ji haan, Roshna aur Asjad ka rishta Roshna ki dil ki raza ke baghair tay hota hai, jo kahani ke bunyadi conflict ka sabab banta hai.

Kya Asjad possessive hero hai?

Ji haan, Asjad sakht mizaj, controlling aur possessive hero hai jo Roshna par apna haq jatata hai, lekin waqt ke sath us ke andar mohabbat aur emotional change paida hota hai.

Kya heroine strong character hai?

Ji haan, Roshna aik khud-dar, bebaak aur mazboot larki hai jo jabr aur zulm ke samne jhukne ke bajaye apne haq aur azadi ke liye awaaz uthati hai.

Kya yeh hate to love novel hai?

Ji haan, kahani ki ibtida nafrat, jabr aur badgumani se hoti hai, jo waqt ke sath gehre jazbaat aur mohabbat mein tabdeel hone lagti ہے۔

Mohabbat To Samundar Hai online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Mohabbat To Samundar Hai complete Urdu novel online parh sakte hain.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *